ٹھوکر پر پڑی دستاریں!


اقوام ہوں یا افراد، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی معاشرتی رہن سہن، اس میں اقدار کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، انسانی زندگی میں جن چیزوں پر فخر کیا جاتا ہے ان میں سے ایک چیز ان کی روایات ہیں، جو انسانی زندگی کی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔

ڈیجیٹل دور نے جہاں انسانی زندگی کے لیے بے شمار نئی راہیں تلاش کی ہیں، مادی اسباب مہیا کیے ہیں، آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس نے انسانی اقدار پر شدید ضرب لگائی ہے، گفتگو سے لے کر تعلقات تک، تنقید سے لے کر الفاظ کے چناؤ تک، اخلاق باختگی کے وہ مظاہر دیکھنے کو ملیں گے، کہ الامان و الحفیظ

تہذیبی روایات کی خوبصورت شے اخلاقی اقدار ہیں، جو ہم سے چھن گئے ہیں، معاشرتی زندگی میں کچھ درجہ بندیاں ہوا کرتی تھیں، عمر کی درجہ بندی، علم کی درجہ بندی، مزاجوں کی درجہ کی بندی۔ ان درجہ بندیوں کی رعایت کرتے ہوئے میل ملاپ، اور طرز سخن کا انتخاب کیا جاتا تھا،

ڈیجیٹل دور نے ان درجہ بندیوں کا یکسر خاتمہ کیا ہے، کوئی باعلم باعلم نہیں رہا، کوئی کم علم کم علم نہیں رہا، کوئی بڑا بڑا نہیں رہا، کوئی چھوٹا چھوٹا نہ رہا، جو گفتگو جی، جناب سے شروع ہوتی تھی اب اسی گفتگو کا آغاز ابے اوئے سے ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا نے انسانوں کو ایک مجلس میں اکٹھے کیا ہے، کمنٹس بکس گفتگو کی مجلس ہوتی ہے، جس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں، جیسے ہی آپ کی کوئی بات گراں گزرے تو کمنٹس بکس میں اختلاف رائے کی بجائے سطحی جملے بازی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ بسا اوقات اس تھڑے پن کا اظہار ان کی طرف سے بھی ہوتا ہے جنہیں آپ نے شرفاء اور باوقار افراد کی فہرست میں رکھا ہے۔

زبان کے ہلکے پن کے یہ نظارے ماضی میں نہ ہونے کے برابر تھے، مگر اب کسی بات کا آپ کی زبان سے نکلنے کی دیر ہوتی ہے، کہ اپ کی خاطر تواضع کے لیے نازیبا لفظوں کے تیر کمان چھوڑ دیتے ہیں، یہاں لفظ آپ کے ہونٹوں سے پھسلے ہی ہیں وہاں تمیز اور اخلاقیات اپنا سر پیٹ رہے ہوتے ہیں۔

دلیل، وقار، شائستگی اور آداب گفتگو قصہ پارینہ بن رہے ہیں، بردباری، حلم، رواداری ہمارے گلی محلوں سے اپنا بوریا بستر اٹھا کر کوچ کر رہے ہیں، اب کوئی بھی یہ استحقاق رکھتا ہے کہ کسی بھی وقت کسی کی بھی دستار اتارے، یا کوئی بھی کسی کا چاک گریباں کردے، پشت پر دوچار اور لوگ تالیاں بجا کر اسے داد دے رہے ہوتے ہیں، کسی کی گفتگو سمجھ نہ آئے یا پسند نہ آئے تو فوراً پیشانی پر تھوک دیتے ہیں، یہی آج کا سکہ رائج الوقت ہے، اور اسی کو عرف عام میں رائے اظہار آزادی بھی کہا جاتا ہے، اس اظہار آزادی کی ٹھوکر میں کسی کی ناک آ رہی ہو یا کسی کی دستار، وہ اس ڈیجیٹل دور کا درد سر نہیں ہے، اس لیے کہ ہمارے بچے ہم سے زیادہ جاننے لگے ہیں، کبھی کبھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیوں نہ یہ عہد اپنے بچوں کو ہی دے دیا جائے، ایک تو وہ زیادہ جاننے لگے ہیں دوسری دستار کی مٹی بھی پلید ہونے سے محفوظ رہے گی۔

سننے والے فناء ہو رہے ہیں، ہرطرف بولنے والوں کی لمبی لمبی قطاریں ہیں، جو نباص وقت ہیں، جنہوں نے وقت کی خاک چھانی ہے، جو گرم سرد چشیدہ ہیں، اب انہیں خاموش رہ کر سننا چاہیے، کیونکہ ان کے بچے اب ان سے زیادہ جاننے لگے ہیں۔

اخلاقیات کی تباہی کا سفر الیکڑانک میڈیا کے ٹاک شوز سے شروع ہوا تھا، پارٹیوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر اخلاقی گفتگو سے عاری افراد کو مدعو کیا جاتا تھا، ( اب بھی اکثر یہی معمول ہے ) اور ٹاک شوز کا ماحول ایسے دکھتا جیسے مرغوں کی لڑائی ہو، اس نے سماجی اخلاقیات کی قدروں پر تیشے چلائے، اس ماحول نے عام لوگوں کے اذہان پر دستک دی، نئی نسل انہی ٹاک شوز کو دیکھ کر جوان ہوئی، ”راہنماؤں“ کے انداز گفتگو ان کے لیے آئیڈیل بنا۔

راہنما استاد ہوتے ہیں، سیاسی تنظیمیں تربیت گاہ کا درجہ رکھتی ہیں، گفتگو کا حسن پر تو پہلے ہی خزاں کے آثار دکھ رہے تھے، لہجوں کی مٹھاس پر کڑواہٹ کا زہر بھی اپنا اثر ڈال رہا تھا، کہ اسی اثناء میں تبدیلی کا سفر شروع ہوا، اس سفر میں گفتگو کے وہ ”اعلی معیار“ طے ہوئے اور لہجوں کا وہ ”بانکپن“ سامنے آیا کہ شرفاء کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملی، نسل نو کی نفسیاتی تشکیل میں تبدیلی کے سفر کے طرز سخن کا بھی بڑا کردار ہے، اور یہ نفسیات دہائیوں تک ہماری معاشرتی زندگی کے دامن سے الجھتی رہے گی۔

اختلاف رائے کا حسن دیکھنے کو اب ہم ترسیں گے، اب آپ سے کوئی اختلاف رائے نہیں رکھتا ہے، آپ کا عمل، آپ کی گفتگو مخاطب کے مزاج سے میل نہ کھائے، یا اسے گفتگو کے معنی سمجھنے میں دشواری ہو، یا گفتگو کا معیار اس کی ذہنی سطح سے اونچا ہو، تو جان بخشی بلکہ عزت بخشی کا کوئی راستہ نہیں بچتا ہے، 14 سال کا نوخیز ساٹھ سال کے بزرگ کو وضاحت کا موقع دیے بغیر گھسیٹنے میں کوئی تاخیر نہیں کرے گا، عمر کی کمی بیشی کے بغیر بھی جب آپ کسی کے لیے ناپسندیدہ ہیں تو سمجھ لیں کہ پہلا مکا سیدھا آپ کی ناک پر ہی آئے گا۔

ڈیجٹل دور کا ایک کمال یہ بھی ہے، کہ یہ روز ہیرو بناتا ہے، اپنے کمبل میں لیٹ کر ہی بس ایک خوبصورت سطر لکھ دیں، آپ ڈیجیٹل ہیرو بننے کے اعزاز سے نوازے جائیں گے، یہاں وہ لوگ بھی عظیم المرتبت گردانے جاتے ہیں جن کے ہمسائے انہیں دیکھ کر ان کی شر سے بچنے کے لیے راستہ بدل دیتے ہیں۔

اب سوشل میڈیا آیا ہے، تو اس کے کمالات و انوارات کی بارش لمحہ لمحہ برستی ہے، اس پلیٹ فارم پر اخلاق باختہ گفتگو کرنے کے لیے کسی کو دعوت دینے کی ضرورت نہیں پڑتی، اب سوشل میڈیا ہے، اور شرفاء کی دستاریں ہیں، ایک کی انگلیاں ہیں اور اس پر ناچتی کسی کی عزت نفس ہے، نہ کچھ کہا جاسکتا ہے، نہ کچھ کیا جاسکتا ہے۔

بس اب یہی کیا جاسکتا ہے کہ یہ عہد ان کے حوالے کیا جائے جن کی ٹھوکر میں ہماری دستاریں اچھلتی ہیں۔

Facebook Comments HS