ایشین گیمز کی تاریخ (1)


ایشین گیمز ایک کثیر الجہتی کھیلوں کا ایونٹ ہے جو ہر چار سال میں ایک بار منعقد ہوتا ہے۔ تمام ایشیائی ممالک کے ایتھلیٹس کو اس ایونٹ میں شرکت کے لئے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ایشین گیمز کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ اولمپکس کے بعد دوسرا سب سے بڑا ملٹی اسپورٹس ایونٹ ہے۔ ایشین گیمز کو 1951 سے 1978 تک ایشین گیمز فیڈریشن نے ریگولیٹ کیا تھا۔ 1982 سے اولمپک کونسل آف ایشیا اب ایشین گیمز کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ اب تک نو ممالک ایشین گیمز کی میزبانی کر چکے ہیں اور 46 ممالک نے کھیلوں میں حصہ لیا ہے۔

ایشین گیمز کا آغاز 1951 میں ہوا۔ یہ گیمز ایشین گیمز اولمپکس کونسل آف ایشیا کے کیلینڈر میں سب سے قدیم اور سب سے با وقار سرگرمی ہے۔ ایشین گیمز بالکل اولمپک مقابلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان میں ایتھلیٹکس اور تیراکی بنیادی کھیلوں کے طور پر شامل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کھیلوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے جو بر اعظموں کی متنوع ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں مثلاً جنوب مشرقی ایشیا کا سیپک ٹاکرو، جنوبی ایشیا کا کھیل کبڈی اور مشرقی ایشیا کا ووشو۔

1951 میں دہلی سے آغاز ہونے والے یہ کھیل 1954 میں منیلا، 1658 میں ٹوکیو، 1962 میں جکارتہ، 1966 اور 1970 میں بینکاک، 1974 میں تہران، 1978 میں ایک بار پھر بینکاک، 1982 میں ایک بار پھر نئی دہلی، 1986 میں سیؤل، 1990 میں بیجنگ، 1994 میں ہیروشیما، ا 998 میں چوتھی بار بینکاک، 2002 میں بوسن، 2006 میں دوحہ، 2010 میں گوانگ چو، 2014 میں انچیون، اور جکارتہ اور پالیم بانگ، انڈونیشیا میں 2018 کے ایشین گیمز کا 18 واں ایڈیشن منعقد ہوا۔

ایشین گیمز کا پہلا ایڈیشن مارچ 1951 میں بھارت کے شہر نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ جاپان کو لندن میں 1948 کے اولمپکس سے روک دیا گیا تھا اور 1949 میں ایشین گیمز فیڈریشن کے بانی اجلاس میں مدعو بھی نہیں کیا گیا تھا لیکن اسے افتتاحی ایشین گیمز میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، جنوبی کوریا نے کوریائی جنگ کی وجہ سے حصہ نہیں لیا، جو 1950 میں شروع ہوئی تھی اور 1953 تک جاری ر ہی۔ نئی دہلی میں ہونے والے ان مقابلوں میں 11 قومی اولمپک کمیٹیوں کے کل 489 کھلاڑیوں نے 12 کھیلوں میں حصہ لیا جس میں جاپان 24 طلائی، 21 چاندی اور 15 کانسی کے تمغوں کے ساتھ تمغوں کی فہرست میں سرفہرست رہا۔ ان مقابلوں میں مجموعی طور پر 169 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا دوسرا ایڈیشن مئی 1954 میں فلپائن کے شہر منیلا میں ہوا۔ 19 قومی اولمپک کمیٹیوں کے کل 970 کھلاڑیوں نے آٹھ کھیلوں میں حصہ لیا اور اس بار بھی جاپان 38 گولڈ، 36 سلور اور 24 کانسی کے تمغوں کے ساتھ میڈلز ٹیبل پر سرفہرست رہا۔ ان مقابلوں میں مجموعی طور پر 218 تمغے دیے گئے۔

ٹارچ ریلے، جو اب اولمپکس اور دولت مشترکہ دونوں مقابلوں کی تیاری میں ایک نمایاں پہلو ہے، ٹوکیو میں 1958 کے ایشین گیمز کی ایک نئی روایت کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ ریلے کا آغاز منیلا میں گزشتہ کھیلوں کے مرکزی مقام سے ہوا اور اسے جاپان میں امریکہ کے زیر قبضہ اوکیناوا جزیرے سے کیوشو کے جزیرے کاگوشیما پریفیکچر لے جایا گیا تاکہ یہ جاپانی جزیرے سے گزر سکے۔ ان ایشین گیمز میں 16 ممالک کے 1820 ایتھلیٹس نے 13 کھیلوں میں حصہ لیا۔

افتتاحی تقریب میں ٹرپل جمپر میکیو اوڈا نے شمع روشن کی، جو تین دہائیاں قبل 1928 میں ایمسٹرڈیم میں سونے کا تمغہ جیت کر جاپان کے پہلے اولمپک چیمپیئن بنے تھے۔ جاپان ایک بار پھر 67 طلائی، 41 چاندی اور 30 کانسی کے تمغوں کے ساتھ تمغوں کی فہرست میں سرفہرست رہا اور ان مقابلوں میں مجموعی طور پر 302 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا چوتھا ایڈیشن 1962 میں جکارتہ میں منعقد ہوا۔ سیاست کا شکار ان کھیلوں میں 12 ممالک کے کل 1، 460 ایتھلیٹس نے حصہ لیا اور اس بار بھی جاپان 73 طلائی، 65 چاندی اور 23 کانسی کے تمغوں کے ساتھ میڈلز ٹیبل پر سرفہرست رہا۔ جکارتہ میں ہونے والے ان مقابلوں میں پہلی بار بیڈ منٹن کا شامل کیا گیا اور مجموعی طور پر 381 تمغے دیے گئے۔

پانچواں ایڈیشن دسمبر 1966 میں بینکاک میں منعقد ہوا اور 16 ممالک کے مجموعی طور پر 1، 945 ایتھلیٹس نے ایونٹ میں حصہ لیا۔ خواتین والی بال اس بار ان گیمز کا حصہ بنا۔ اس بار بھی جاپان 78 طلائی، 53 چاندی اور 33 کانسی کے تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل پر سرفہرست رہا اور مجموعی طور پر 454 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز 1970 میں بنکاک میں اس وقت دوبارہ شروع ہوئے جب اصل میزبان سیؤل نے شمالی کوریا کی جانب سے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر اپنی بولی منسوخ کردی۔ تھائی لینڈ نے جنوبی کوریا کے فنڈز کی مدد سے اگست اور ستمبر میں کھیلوں کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام میں 16 ممالک کے کل 2400 ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔ ایشن گیمز کی تاریخ میں چھٹی بار لگاتار جاپان 74 طلائی، 47 چاندی اور 23 کانسی کے تمغوں کے ساتھ ٹیبل میں سرفہرست رہا اور مجموعی طور پر 427 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا ساتواں ایڈیشن ستمبر 1974 میں تہران میں منعقد ہوا تھا۔ مشرق وسطی میں یہ ایونٹ پہلی بار منعقد ہو رہا تھا جس کے لیے تہران میں اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا گیا تھا۔ ان مقابلوں میں ایران کے دارالحکومت نے 19 مختلف ممالک سے آئے ریکارڈ 3010 کھلاڑیوں کی میزبانی کی۔ فینسنگ، جمناسٹک اور خواتین کے باسکٹ بال کو ان کھیلوں میں شامل کیا گیا اور اس پروگرام میں کل کھیلوں کی تعداد 16 ہو گئی۔ جاپان نے 75 طلائی، 49 چاندی اور 51 کانسی کے تمغوں کے ساتھ میڈلز ٹیبل پر اپنی حکمرانی جاری رکھی اور مجموعی طور ان کھیلوں میں 601 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا آٹھواں ایڈیشن دسمبر 1978 میں ایک بار پھر بینکاک میں منعقد ہوا۔ اصل میزبان سنگاپور نے مالی وجوہات کی بنا پر مقابلوں کے انعقاد سے معذرت کی جس کے بعد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو ان کھیلوں کے لیے منتخب کیا گیا تھا لیکن بنگلہ دیش اور بھارت کی مخالفت کی وجہ سے اس اقدام کو واپس لے لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں بنکاک نے دوبارہ کھیلوں کی میزبانی کی۔ 19 ممالک کے 3,842 ایتھلیٹس نے 19 کھیلوں میں حصہ لیا۔ تیر اندازی اور بولنگ کو ان مقابلوں میں شامل کیا گیا۔ ایک بار پھر جاپان 70 طلائی، 58 چاندی اور 49 کانسی کے تمغوں کے ساتھ سرفہرست رہا اور

مجموعی طور پر 625 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا نواں ایڈیشن نومبر اور دسمبر 1982 میں نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ ان گیمز سے نئی دہلی میں ایشین گیمز کی 1951 میں کھیلوں کے افتتاحی ایڈیشن کی میزبانی کے بعد واپسی ہوئی۔ 1982 کا ایڈیشن پہلے ایشین گیمز تھے جسے اولمپک کونسل آف ایشیا کی حمایت حاصل تھی۔ ایشین گیمز فیڈریشن کو جس کے دائرہ اختیار میں پہلے آٹھ ایشین گیمز منعقد ہوئے تھے، تحلیل کر دیا گیا تھا۔ 21 کھیلوں میں 23 ممالک کے 3,411 ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔

نئی دہلی 1982 میں تمغوں کی درجہ بندی میں چین کے غلبے کا آغاز ہوا، جس نے کھیلوں کے پچھلے تمام ایڈیشنز میں مجموعی طور پر کامیابی حاصل کرنے کی جاپان کی بالادستی کا خاتمہ کیا چین نے 61 طلائی، 51 چاندی اور 41 کانسی کے تمغے جیتے۔

کھیلوں کی نشریات کے لیے ہندوستان میں رنگین ٹیلی ویژن متعارف کرایا گیا تھا اور کھیلوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نشر کرنے کے قابل بنایا گیا تھا۔ یہ کھیل ایک اور وجہ سے بھی یادگار تھے۔ یہ پہلے ایشین گیمز تھے جس میں میسکوٹ متعارف کرایا گیا تھا، جس میں ایک ہاتھی اپو کا انتخاب کیا گیا تھا جس کے بارے میں بھارتی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ وفاداری، دانشمندی اور طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔

ایشین گیمز کا دسواں ایڈیشن ستمبر اور اکتوبر 1986 میں سیؤل میں منعقد ہوا۔ مقامات اور سہولیات انتہائی متاثر کن تھیں کیونکہ جنوبی کوریا کا دارالحکومت 1988 کے اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں کی میزبانی کرنے جا رہا تھا اور ان گیمز کو اولمپکس کے لئے ایک ٹیسٹ ایونٹ سمجھا جا رہا تھا۔ ، 22 ممالک کے کل 4، 839 ایتھلیٹس نے 25 کھیلوں میں حصہ لیا۔ ان گیمز میں جاپانی ہیمر تھرور شیگینوبو موروفوشی نے مسلسل پانچویں بار ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا۔ ہودوری 1986 کے ایشین گیمز اور 1988 کے اولمپکس دونوں کے آفیشل ماسکٹ تھے۔ لیکن 1986 میں سیؤل کی اسٹار بھارت کی پی ٹی اوشا تھیں جنہوں نے چار گولڈ میڈل اور ایک سلور میڈل جیت کر گیمز میں سب سے کامیاب ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ کا ٹائیٹل حاصل کیا۔

دس سوشلسٹ ممالک افغانستان، برونائی، کمبوڈیا، لاؤس، منگولیا، میانمار، شمالی کوریا، جنوبی یمن، شام اور ویتنام نے سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ان کھیلوں کا بائیکاٹ کیا۔ چین لگاتار دوسری بار 94 گولڈ، 82 سلور اور 46 کانسی کے تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل پر سرفہرست رہا جبکہ جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر رہا۔ ان ایشین گیمز میں مجموعی طور پر 837 تمغے دیے گئے۔

ایشین گیمز کا گیارہواں ایڈیشن ستمبر اور اکتوبر 1990 میں بیجنگ میں منعقد ہوا۔ یہ چین کی میزبانی میں بڑے پیمانے پر بین الاقوامی کھیلوں کا پہلا ایونٹ تھا۔ 27 کھیلوں میں 36 ممالک کے 6,122 ایتھلیٹس نے ان میں حصہ لیا۔ ان گیمز میں جو کھیل پہلی بار ایشین گیمز میں شامل ہوئے ان میں کینوئنگ، کبڈی، سیپک ٹاکرو، سافٹ بال اور ووشو شامل تھے۔ بیس بال اور سافٹ ٹینس نمائشی کھیل تھے۔ پین پین نامی ایک پانڈا یادگار ماسکٹ کے طور پر نمایاں رہا۔

ان گیمز میں تیر اندازی میں چھ اور سائیکلنگ میں ایک ریکارڈ سمیت سات عالمی ریکارڈ قائم ہوئے اور 89 ایشیائی ریکارڈ ٹوٹے جبکہ ایک عالمی ریکارڈ اور 11 ایشیائی ریکارڈ برابر ہوئے۔ یہ ایشین گیمز، کھیلوں کے میدان میں چین کی مستقبل کی ترقی کے پیش خیمہ ثابت ہوئے کیونکہ اس کے بعد چین نے 2000 اور پھر 2008 کے اولمپکس کے لئے کامیاب بولی لگائی۔ بیجنگ 1990 کا باضابطہ افتتاح چینی صدر یانگ شانگ کن نے ورکرز اسٹیڈیم میں کیا۔ شوٹنگ، غوطہ خوری اور والی بال میں حصہ لینے والے چینی ایتھلیٹس سو ہائی فینگ، گاؤ من اور ژانگ رونگ فانگ نے کولڈرون کو روشن کیا۔ چین 183 طلائی، 107 چاندی اور 51 کانسی کے تمغوں کے ساتھ لگاتار تیسری بار سرفہرست رہا۔ اور مجموعی طور پر ان گیمز میں 976 تمغے دیے گئے۔

Facebook Comments HS