بچوں کا غصہ: وجوہات اور تدارک
غصہ ایک فطری عمل ہے، یوں تو ہر وقت غصے میں رہنے والوں سے لوگ دوری اختیار کرتے ہے اور دوسرا یہ صحت کے لیے بھی مضر ہے اور کوۂی شخص ہمیشہ غصے میں رہنا بھی نہیں چاہتا ہے لیکن پھر بھی یہ انسانی فطری عمل ہے جو انسان کے بس میں نہیں اور نہ چاہتی ہویا بھی انسان کو غصہ آ جاتا ہے ۔
غصہ اور بے جا الجھن کا شکار صرف جوان یا بزرگ نہیں بلکہ آج کل کے بچے بھی ہیں، فرق اتنا ہے کہ کوۂی بچوں کے غصے اور چڑچڑے پن کی طرف توجہ نہیں دیتے اور یہ ان کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑ دیتا ہے، بچوں میں غصے کی اہم وجہ ان کے ماں باپ کا کردار ہے، یہ بچوں کی شخصیت کی تشکیل اور ان کی جذباتی اتار چڑھاؤ کا خیال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہے، اگر والدین کی طرف سے کوۂی کمی رہ جائے تربیت میں تو بچوں میں غصے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر، جو بچے اکثر اپنے والدین کی طرف سے بلاجواز ڈانٹ ڈپٹ کا تجربہ کرتے ہیں وہ چڑچڑا پن پیدا کرنے کے لیے زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور غلطی جو والدین عمومی طور پر کرتے ہیں، وہ بچے کی ہر ضد کو پوری کرنا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب والدین بچوں کی ضد پوری کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لیکن چونکہ بچے کو اس بات کی عادت ہو گئی تھی اور اب اچانک سے والدین کے منع کرنے پر اس کے اندر چڑچڑا پن پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے
ان سب باتوں میں ایک بات یہ بھی اہم ہے کہ والدین آپس کے رشتے کو بھی اچھا رکھے وہ ماں باپ کو آپس میں بات بات پر لڑتے جھگڑتی ہے ان کی بچوں میں غصہ اور چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہیں۔
بچوں میں ان جذبات کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اور اہم عنصر ارد گرد کا ماحول ہے۔ بچوں کے اساتذہ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی شمولیت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر بچوں کو ان افراد کی وجہ سے پیدا ہونے والی کسی منفی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ غصے اور چڑچڑے پن کے جذبات کا تجربہ کرنے لگیں گے۔ ان کے کام میں مداخلت کرنا، ان کی غلطیوں کا مذاق اڑانا، انہیں چھیڑنا یا ہراساں کرنا، یا بچوں پر جسمانی تشدد کا سہارا لینا وغیرہ جیسے واقعات مثال کے طور پر کام کر سکتے ہیں
درج ذیل اقدامات پر عمل کر کے بچوں سے ان منفی جذبات کا خاتمہ ممکن ہے۔
ابتدائی طور پر، والدین اور بڑوں کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ غصہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا تجربہ بچوں اور بڑوں دونوں کو ہوتا ہے۔ ایک بار جب یہ سمجھ آ جائے گی تو غصے پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔
والدین کے اختلافات کی تعداد سے قطع نظر، انہیں اپنے بچوں کی موجودگی میں تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ رویہ بچوں میں انتہائی نقصان دہ جذبات کو جنم دیتا ہے، جو بالآخر ان کی زندگی کے دورانیے کے لیے ان کے کردار کو تشکیل دیتے ہیں۔ کیا آپ واقعی اپنے بچوں کی زندگی بھر کے مزاج پر منفی اثر ڈالنے کے لیے اپنی مختصر تکرار یا ذاتی فتح کی خواہش رکھتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ آج سے احتیاط کریں۔
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے مزاج اور اپنے بچوں کی پرورش دونوں میں اعتدال کو ترجیح دیں۔ مثال کے طور پر، آپ کے اپنے بارے میں اور ان کے بارے میں کچھ عقائد ہیں۔ شروع سے ہی، بچے کی ہر جائز خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرنے کا اصول قائم کریں، کسی بھی نامناسب اعتراض کو شفقت اور ہمدردی کے ساتھ نمٹائیں۔
غور کرنے کا تیسرا پہلو بچوں کے ماحول اور ان کے مزاج کی نگرانی کرنا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اپنے اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ باقاعدگی سے مشغول رہیں، اور کسی بھی اچانک تبدیلی کے لیے اپنے بچے کی عادات پر گہری نظر رکھیں۔ اگر کوئی تبدیلی آتی ہے تو، معاملے کو حل کرنے کے لیے اپنے بچے کے ساتھ دوستانہ گفتگو کریں۔
یاد رکھیں کہ زندگی کے ابتدائی سالوں میں والدین اور بڑوں کو اچھی تربیت فراہم کرنا بچوں کی مستقبل کی کامیابی کو یقینی بناتا ہے۔

