میں نے ‘سرکی’ ڈوبتے دیکھا
یہ ذکر ہے 1992 ء کا، ستمبر کا مہینا، گزشتہ ماہ اگست میں ہی راقم السطور کی عمر کے 8 سال پورے ہوئے تھے۔ اوچ شریف میں مقیم ہمارے ابا جان نے چند ہفتے قبل ہی ہمیں اپنے گاؤں ٹبہ برڑہ میں بڑی اماں اور بھائی جان شبیر احمد ناز کے پاس ان کی خدمت اور پڑھائی کے لیے بھیجا تھا۔ اس وقت ہم جماعت سوئم کے طالب علم تھے اور اوچ شریف میں اپنے گھر کے قریب ماسٹر احسان انجم صاحب کے سکول میں پڑھنے جایا کرتے تھے۔ البتہ ’سرکاری طور پر‘ پر ہمارا نام درگاہ محبوب سبحانی کے احاطے میں قائم گورنمنٹ عریبک سنٹر پرائمری سکول میں داخل تھا جہاں ماسٹر احسان صاحب کے والد بزرگوار ماسٹر مرید صاحب بطور مدرس تعینات تھے۔
تعلیم میں ہماری ’خستہ حالی‘ اور دن بدن بڑھتی شرارتوں سے تنگ آ کر ابا جان ہمیں گاؤں میں ’جلاوطن‘ کرنے کے لیے سوچنے لگے تھے، اپنی بے پایاں صحافتی مصروفیات کے باعث شاید ان کو فیصلہ کرنے میں دیر لگتی، اسی دوران گاؤں سے بھائی جان شبیر پی ٹی سی کا امتحان دینے اوچ شریف آئے۔ امتحانی سنٹر گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں قائم کیا گیا تھا۔ ’موٹر نیوران‘ کے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث وہ جسمانی طور پر اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے سے معذور تھے، سب سے بڑا بیٹا ہونے اور مسلسل علالت کی وجہ سے ابا جی ان کی دلداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے اور ان سے بے حد محبت کرتے تھے۔
پرچوں کے بعد جب بھائی جان نے گاؤں واپسی کا قصد کیا تو ابا جی سے کہا کہ میں نے علاقے کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے سرکی اڈے پر ’شان اکیڈمی‘ کے نام سے ایک چھوٹا سا سکول کھولا ہے، آپ نومی کو میرے ساتھ بھیج دیں، میں اسے پڑھاؤں گا، گھر میں کوئی بچہ وغیرہ بھی نہیں ہے چلیں اس کی وجہ سے رونق بھی لگی رہے گی اور چھوٹے موٹے کام بھی ہوتے رہیں گے۔ بھائی جان کی بات ابا جان کے لیے تو ”میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے“ والا معاملہ تھا سو انہوں نے جھٹ ہامی بھر لی۔ اور دو دن بعد ہم بھائی جان کے ساتھ ’نواز شریف‘ والی ’پیلی ٹیکسی‘ میں بیٹھے گاؤں کی طرف رواں دواں تھے۔
مذکورہ بالا پس منظر کے ساتھ ٹبہ برڑہ میں آئے ہمیں چند ہفتے ہوئے تھے، صبح ناشتے کے بعد ٹبہ برڑہ گھر سے بھائی جان شبیر کے ساتھ ان کی وہیل چیئر کو دھکیلتے ہم سرکی اڈے آتے، اس وقت ’شان اکیڈمی‘ موجودہ جگہ پر محض ایک چھپر کے نیچے دو تین صفوں کی صورت میں قائم تھی، فرنٹ پر برلب سڑک اختر بھائی کی دکان تھی، وہ ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ مکینک تھے، ”انصاف ریڈیو سروس“ کے نام سے ان کی اس دکان میں پرانے ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ کی مرمت کے علاوہ آڈیو کیسٹس میں انڈین و فوک گانوں کی ریکارڈنگ، نئی آڈیو کیسٹس کی فروخت، ویلڈنگ اور بیٹریوں کی چارجنگ کا کام ہوتا تھا۔
سکول سے آدھی چھٹی ملتی تو ہم بھائی جان شبیر اور اختر بھائی کے لیے دوپہر کا کھانا لینے گھر چلے جاتے، ایک گھنٹے بعد دوبارہ واپسی ہوتی، چھٹی کے بعد کا وقت اختر بھائی کی دکان پر شرارتیں کرتے گزرتا۔ جونہی سورج غروب ہونے لگتا، ہم سب گھر واپسی کی راہ لیتے۔ دن بے فکری سے گزر رہے تھے۔ گاؤں میں بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ صرف ریڈیو تھا، مقامی خبروں کے علاوہ بی بی سی اردو کے پروگرام ’سیربین‘ کے ذریعے ملکی و بین الاقوامی حالات و واقعات سے آگاہی ہو جاتی البتہ ہمارا ننھا سا ذہن ان واقعات کے تانے بانے سمجھنے سے قاصر تھا۔
انہی دنوں اگست کے اوائل میں تحصیل علی پور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 12 اگست کو کراچی سمیت پورے سندھ میں طوفانی بارشوں سے 112 افراد جاں بحق ہو گئے اور 29 اگست کو حکومت نے پورے سندھ کو آفت زدہ قرار دے دیا۔ 9 ستمبر کو پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر میں قیامت خیز بارشوں سے 154 افراد جاں بحق ہو گئے، 10 ستمبر کو دریائے جہلم، دریائے چناب اور دریائے ستلج میں آنے والے شدید سیلاب سے پنجاب، سرحد (خیبر پختونخوا) اور آزاد کشمیر میں سیکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور جاں بحق افراد کی تعداد دو ہزار تک جا پہنچی۔
وہ ستمبر کی ایک اداس، خموش رات تھی جب ریڈیو پر بی بی سی اردو سروس کے ذریعے وقار احمد کی زبانی معلوم ہوا کہ سیلابی پانی کے حد سے زیادہ دباؤ کی وجہ سے منگلا ڈیم کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ہنگامی طور پر اس کے تمام دروازے کھول دیے گئے جس سے 9 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا جہلم شہر کی چھتوں کے اوپر سے گزرتا اور تباہی مچاتا چلا گیا ہے۔ بھائی جان شبیر اور اختر بھائی کی باتوں سے پتہ چلا کہ یہ ایک پریشان کن صورتحال ہے، سندھ اور چناب کے دریاؤں میں طغیانی کے باعث سرکی کے علاوہ ٹبہ برڑہ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسرے دن سرکی اڈے پہنچے تو ہر فرد پریشان نظر آیا، کچھ مقامی لوگ بھائی جان شبیر کے پاس بھی سیلاب کی معلومات اور تازہ خبریں لینے آئے، اس دن سکول سے چھٹی کے بعد ہم اختر بھائی کی دکان پر گئے تو ریڈیو پر سیلاب کی صورتحال بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا جا رہا تھا کہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر اس وقت اخراج آٹھ لاکھ کیوسک ہے۔ یہ دونوں انتہائی بڑے سیلابی پانی ضلع جھنگ میں تریموں کے مقام پر اکٹھے ہوں گے۔ اختر بھائی پریشانی کے عالم میں یہ خبر بھائی جان شبیر کو سنانے نکلے۔ وہ دعا کر رہے تھے کہ دونوں سیلابی ریلے آگے پیچھے اس سنگم پر پہنچیں ورنہ صورتحال اس مقام سے آگے کسی کے بس میں نہیں رہے گی۔
بھائی جان کہہ رہے تھے کہ دریا کی قدرتی گزرگاہ اوچ شریف والی سائیڈ ہے، یہ مقام دریا کی قدیم گزر گاہ تھا، جب دریا اچ شریف کے کناروں کو چھوتا ہوا بہتا تھا۔ سال 1925 سے 1929 میں ہیڈ پنجند بناتے وقت دریا کے بہاؤ کو موڑ کر موجودہ گزر گاہ میں لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طوفانی موج میں آیا ہوا دریا کسی بھی وقت اپنی قدیمی گزر گاہ کا رخ کر سکتا ہے۔ بھائی جان نے ہماری معلومات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اگست 1973 کے بڑے سیلاب میں دریائے چناب کا بایاں پشتہ ٹوٹ گیا تھا اور سیلابی ریلہ اوچ شریف شہر کو نقصان پہنچاتا ہوا 120 کلومیٹر دور رحیم یار خان تک چلا گیا تھا۔
بھائی جان کی بات سن کر ہمیں اوچ شریف میں موجود اپنے امی ابو اور بہن بھائیوں کا خیال آ گیا۔ ہماری پریشانی بھانپتے ہوئے بھائی جان نے تسلی دی کہ بیس سال پہلے کی تباہ کاریوں کے بعد حفاظتی بند کو بہت اونچا، چوڑا اور مضبوط کیا گیا ہے اور خاص طور پر اس جگہ پر پتھروں کی مضبوط بھرائی کی گئی ہے۔ چند سال پہلے ابوظہبی کے مالی تعاون سے ہیڈ پنجند سے ایک اضافی نہر عباسیہ لنک نکالی گئی تھی جو تاحال چلی تو نہیں تھی لیکن اوچ شریف شہر کے لیے ایک طرح کا حفاظتی حصار بن گئی تھی۔ بھائی جان شبیر نے کہا کہ سیلاب سے نہ ہی سرکی کو خطرہ ہے اور نہ اوچ شریف کو۔
بھائی جان کی تسلی اپنی جگہ، لیکن گاؤں میں کچھ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہاں کے مکین ممکنہ سیلاب کے پیش نظر اپنے قیمتی ساز و سامان اور مویشیوں کے انخلا کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکے ہیں۔ ایک دو روز بعد جب سرکی کے ہسپتال اور ٹبہ برڑہ کے پرائمری سکول میں سرکاری اہل کاروں کی نقل و حرکت نظر آئی اور فلڈ کیمپوں کا انتظام ہونے لگا تو صورتحال واضح طور پر سامنے آئی۔ گاؤں میں محکمہ مال کی تشہیر و منادی سے پتہ چلا کہ دریائے جہلم کا بلند ترین سیلاب اگلے ضلع منڈی بہا الدین میں بھی انہی تباہ کاریوں میں مصروف ہے جب کہ دریائے چناب کا بلند ترین سیلاب اب گوجرانوالہ اور گجرات کے اضلاع میں مار دھاڑ کر رہا ہے، ممکنہ طور پر سیلابی ریلے کو ہمارے گاؤں آنے میں کم از کم ایک ہفتہ درکار ہے، لہذا لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا بندوبست کریں۔
ان ہنگامی اور پریشان کن حالات میں ریڈیو پر خبرناموں کا زیادہ وقت بھی سیلاب سے متعلقہ خبروں پر صرف ہو رہا تھا۔ اب دونوں دریاؤں کی بپھری ہوئی طغیانی ایک طرف سرگودھا اور خوشاب اور دوسری طرف سرگودھا اور حافظ آباد کے اضلاع میں قیامت ڈھا رہی تھی۔ عامتہ الناس اور سرکاری لوگوں کو صورتحال کی سنگینی کا بخوبی ادراک ہو رہا تھا۔ خبروں سے معلوم ہوا کہ ہیڈ پنجند پر محکمہ انہار کے سینئر افسران کے عارضی دفتر کا انتظام کر دیا گیا ہے جہاں وہ اوپر سے آنے والے پانچوں دریاؤں کی فلڈ ڈسچارج رپورٹ بہت باقاعدگی سے لے رہے ہیں۔
سیلابی خوف کے انہی ایام میں نسیم بھائی اچانک گاؤں آ گئے، وہ پاک فوج کی انجینئرز بٹالین کے جوان تھے اور کچھ عرصہ پہلے ہی ابا جان نے انہیں فوج میں بھرتی کروایا تھا۔ گاؤں میں خوفناک سیلاب کے آنے کی خبریں سن کر وہ اپنی یونٹ سے چھٹی لے کر یہاں پہنچے تھے اور اخبارات کا پلندا بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔ انہی اخبارات کے ذریعے بھائی جان کی زبانی ہمیں یہ جانکاری بھی حاصل ہوئی کہ ہیڈ پنجند کی تنصیبات کو ہر قیمت پر بچانے کے لیے انتظامیہ متحرک ہو چکی تھی۔
ہیڈ پنجند ساڑھے چھ لاکھ کیوسک پانی گزارنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور ہر خطرہ مول لے کر سات لاکھ کیوسک تک پانی گزارا جا سکتا تھا جب کہ اس وقت ہیڈ پنجند کو اپنے ڈیزائن سے دگنے سے بھی زیادہ پانی کے خطرے کا سامنا تھا۔ ہیڈ پنجند کی تنصیبات اور مشینری کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ انہار کے سینئر افسروں کے ساتھ ساتھ مظفر گڑھ اور بہاول پور کے ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پی صاحبان بھی وہاں تعینات کر دیے گئے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق بالائی اضلاع میں شدید نقصان کرنے کے بعد اب دونوں دریاؤں کی طغیانی ضلع جھنگ میں اپنے مقام اتصال پر حشر برپا کر رہی تھی، دونوں سیلابی ریلے اکٹھے تو وہاں نہیں پہنچے لیکن ان کی تند خو موجیں حفاظتی بندوں کو توڑ کر دیہات میں دور دراز تک پھیلتی چلی گئیں، اس طرح سترہ لاکھ کیوسک کے ابتدائی خدشے سے گھٹ کر اب یہاں پر طغیانی کی بلند ترین سطح بارہ لاکھ کیوسک پر آ گئی تھی۔ اب اس بارہ لاکھ کا سامنا تن تنہا ہیڈ تریموں کو کرنا تھا۔
لہٰذا اس کو بچانے کے لیے دونوں اطراف کے بند توڑ دیے گئے۔ جس کے نتیجے میں ضلع جھنگ ایک جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔ دریائے چناب اب اپنے بارہ لاکھ کیوسک کے ریلے کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا اور اپنے کناروں پر دور دور تک دیہاتی اور شہری آبادیوں کو ملیامیٹ کرتا چلا آ رہا تھا۔ سدھنائی سے دریائے راوی نے دو لاکھ سے زائد کیوسک کے ساتھ اور بہاول پور سے دریائے ستلج نے بھی اتنے ہی پانی کے ساتھ اس طوفان کو اور بڑھاوا دینا تھا۔ ہیڈ پنجند تک ان طغیانیوں کو پہنچنے میں اب صرف تین یا چار روز لگنے تھے۔
اگلے دن اوچ شریف سے سلیم بھائی گاؤں آئے تو انہوں نے یہ روح فرسا خبر سنائی کہ پنجاب حکومت نے اوچ شریف شہر کو خالی کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ بیسیوں قسم کی گاڑیاں، کاریں، جیپیں، ٹرک، بسیں، ویگنیں، ٹریکٹر ٹرالیاں، تانگے ریڑھے، گدھا گاڑیاں، سائیکل، موٹر سائیکل، پیدل لوگ سروں پر گٹھڑیاں اٹھائے اوچ شریف کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ سلیم بھائی کے بقول محلہ شمس کالونی میں تو کئی لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتیں تک اکھاڑ لیں اور ٹی آر، گارڈر، لکڑی کے ستون، اینٹیں وغیرہ بھی لاد کر ساتھ لے جا رہے ہیں۔
تمام بینک اور سرکاری دفاتر خالی کرا لیے گئے ہیں، ڈپٹی کمشنر بہاول پور جاوید اقبال اعوان، ایس ایس پی شاہد اقبال، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منظر حیات اور چیف انجینئر انہار میاں حفیظ اللہ خود اوچ شریف کے کینال ریسٹ ہاؤس میں رک کر حکومتی احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سلیم بھائی نے بھائی جان کو یہ بھی بتایا کہ ابو نے تو گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ اوچ رہ کر حالات کی رپورٹنگ کریں گے، البتہ امی اور چھوٹے بہن بھائیوں کو محلہ بخاری میں دادا خشیندے خان کے گھر بھیج دیا ہے کہ وہ علاقہ کچھ اونچائی پر ہے، وہاں سیلاب کا خطرہ کم ہے۔
سلیم بھائی کی باتوں سے ہماری پریشانی مزید بڑھ گئی۔ اوچ میں اہل خانہ کی طرف سے تو تسلی تھی کہ وہ محلہ بخاری میں خیریت سے ہیں البتہ ابو کی طرف سے پریشانی تھی کہ انہوں نے حکومتی اعلانات کے باوجود گھر چھوڑنے اور سامان کی منتقلی سے انکار کر دیا تھا۔ ہمیں اپنے ابا جی کی صحافیانہ ’ہیرو پنتی‘ پر پورا اعتماد تھا لیکن پریشانی مسلسل بڑھتی جا رہی تھی، ان سے رابطے کا واحد ذریعہ صرف خط تھا، جس کا ان تک پہنچنا بھی اس لیے ناممکن تھا کہ سیلاب کے خطرے کی وجہ سے سرکی اور اوچ شریف کے پوسٹ آفس بند کر دیے گئے تھے۔
اسی دوران ریڈیو کے مقامی نیوز بلیٹن پر بتایا گیا کہ سیلابی پانی ضلع بہاول پور کی حدود میں پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ ہیڈ پنجند کے اوپر اور نیچے کے دیہات سے انخلاء کی مہم تیز تر کر دی گئی ہے۔ جب کہ ہیڈ پنجند کی تنصیبات کو بچانے کے لیے اس سے نکلنے والی دونوں نہروں کو بند کر دیا گیا ہے۔ کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل جہانگیر کرامت، کمشنر بہاول پور ڈویژن مرتضٰی برلاس اور ڈی آئی جی بہاول پور ریجن رفیق حیدر نے ہیڈ پنجند کا دورہ کیا، چیف انجینئر انہار بہاول پور میاں حفیظ اللہ نے انہیں سیلاب کی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی۔ ہیڈ پنجند کی حفاظت اور امدادی کاموں پر مامور فوجی یونٹ پوری طرح فعال تھا۔
بی بی سی اردو کا پروگرام ’سیربین‘ تو مکمل طور پر سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے خبروں اور خصوصی رپورٹس پر مشتمل ہوتا۔ اسی کی زبانی پتہ چلا کہ ملتان شہر اور دریا پر ریل اور سڑک کے پلوں کو بچانے کے لیے دائیں کنارے پر مظفر گڑھ ضلع کے بند کو کئی جگہ سے توڑ دیا گیا، جس سے سیلابی پانی مظفر گڑھ شہر میں داخل ہو گیا اور وہاں کا ڈپٹی کمشنر ہاؤس بھی مکمل طور پر ڈوب گیا۔ ہیڈ پنجند کے مقام پر بھی سیلابی لہریں حفاظتی بند کو چھوتی ہوئی چل رہی تھیں۔ تین اطراف میں لگی گیج پر خطرے کے نشانات ڈوبنے شروع ہوئے تو انتظامیہ نے بند کے دائیں پشتے کو توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
17 اور 18 ستمبر کی درمیانی شب سرکی کے ساتھ ساتھ ٹبہ برڑہ کے مکینوں پر بھی بہت بھاری گزر رہی تھی، افواہیں گرم تھیں کہ آج رات کسی بھی وقت سات لاکھ کیوسک سیلابی پانی کا ریلا چھوڑ دیا جائے گا، اس رات گاؤں میں بستر پر لیٹ کر خبریں سنتے ہمارا ننھا سا ذہن مستقبل کے اندیشوں اور بے یقینی سے الجھا ہوا تھا۔ طاق میں دھری لالٹین کی ملگجی روشنی خاموش رات کی اداسی اور ہیبت میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ گھر کے باہر بستی کے کچھ جوشیلے نوجوان اور بڑے بوڑھے ڈیرے پر ٹھٹھا مخول جمائے بیٹھے تھے اور اپنے تئیں بستی کو سیلاب سے بچانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
بعض بزرگوں کی صدری روایات کے مطابق ستمبر 1973 کے سیلاب کے دوران اس وقت کے گورنر پنجاب غلام مصطفٰی کھر اور تحصیل علی پور کے بڑے زمینداروں نے مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر اپنے مکانات اور فصلیں بچانے کے لیے ہنگامی نکاس کی طے شدہ سکیم روبہ عمل نہ ہونے دی تھی اور سیلاب کا رخ تحصیل احمد پور شرقیہ کی طرف موڑ دیا تھا، اب ستمبر 1992 ء میں میاں محمد نواز شریف ملک کے وزیر اعظم تھے اور غلام حیدر وائیں پنجاب کے وزیر اعلٰی، امیر آف بہاول پور نواب صلاح الدین عباسی قومی اسمبلی کے حلقہ 141 (موجودہ حلقہ این اے 174 ) سے مسلم لیگ (ن) کے ’لاڈلے‘ ایم این اے تھے، سو تحصیل علی پور کو دریا برد کرنا وقت کا اہم تقاضا ٹھہرا۔
شاید 1973 ء کی طرح کا سیاسی دباؤ 1992 ء میں نہ ہو، تاہم مقامی لوگوں کی ممکنہ مزاحمت سے بچنے کے لیے 18 ستمبر 1992 ء کو فجر کی اذان سے ذرا پہلے بریچنگ سیکشن میں پہلے سے بھرے ہوئے بارود کے ذریعے پشتے کو بھک سے اڑا دیا گیا۔ علی پور بند میں ایک طویل و عریض شگاف پڑ گیا اور سیلابی پانی کا ایک بڑا ریلا ادھر سے نکلتا ہوا شگاف کو مزید وسیع کرتا ہوا اردگرد کے علاقے میں پھیلتا چلا گیا۔ اس اخراج کے راستے کی واحد رکاوٹ، پنجند علی پور روڈ، کو بھی کئی جگہوں سے توڑ دیا گیا تاکہ پانی کی مطلوبہ رفتار حاصل کر کے ہیڈ کو نقصان سے محفوظ کر لیا جائے۔ علی الصبح کھولے گئے ہنگامی راستے سے نکلنے والا سیلابی ریلا بستیاں تاراج کرتا ہوا سرکی اور ٹبہ برڑہ کے مقام پر پہنچا اور ان کو چہار اطراف سے اپنی زد میں لے لیا۔
صبح بڑی اماں نے ہمیں جھنجھوڑ کر اٹھایا تو ہم نے یہ سوچ کر کہ وہ سکول کے لیے اٹھا رہی ہیں، دوبارہ نحوست کی چادر اوڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگے، اسی دوران پھر ان کی آواز ہمارے کانوں میں گونجی کہ بستی میں سیلاب آ گیا ہے، ان کی بات سن کر ہم جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگے تو باہر کا منظر دیکھ کر ہماری آنکھیں پھٹنے کے قریب ہو گئیں۔ دریا کا پانی ہمارے گھر کی دہلیز کو چھو رہا تھا، ہمارے گھر کے بالکل سامنے برساتی ندی واقع ہے جہاں سارا سال پانی جمع رہتا ہے، ندی کی دوسری جانب کھیت اور پھر دریائے چناب۔
گھر کے کمرے کی کھڑکی سے دریائے چناب اور کھیت میں کام کرتے کسان ہمیں صاف نظر آتے۔ لیکن منہ زور سیلاب کے باعث اس وقت دریا کے اپنے کناروں کا کوئی اتا پتہ نہ تھا۔ اس وسیع بہاؤ کے کہیں درمیان میں ایک دھارا اپنی تندی اور اٹھان کی وجہ سے منجدھار کا پتہ دیتا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے برساتی ندی کے قریب آتے ہوئے یہ منجدھار اور بھی اونچی اور تند ہو جاتی تھی۔ پانی کا رنگ سرخی مائل ہو رہا تھا۔ لگتا تھا دریا کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے اور پوری طاقت سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ صرف پانی ہی پانی تھا، خوف ناک پانی۔ نہ ندی نظر آ رہی تھی اور نہ ہی کھیت۔ سب کچھ زیر آب تھا۔
ہماری بستی ٹبہ برڑہ اونچی جگہ پر آباد تھی، یہاں کے لوگوں کا سیلابوں سے نمٹنے کا صدیوں اور نسلوں کا تجربہ تھا اور یہ اپنا گاؤں چھوڑنے پر آسانی سے آمادہ نہ ہوتے تھے۔ چھوٹے موٹے سیلاب پر تو وہ باقاعدہ خوش ہوتے تھے کہ سیلاب کی چھوڑی ہوئی مٹی سے ان کے کھیتوں کی زرخیزی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کے کنوؤں اور ٹیوب ویلوں میں پانی کی سطح اوپر اور نزدیک آ جاتی ہے۔ اگلے دو روز میں پانی پانچ لاکھ اور پھر چھ لاکھ کیوسک سے اوپر چلا گیا۔
سیلاب کی اس خوفناک صورتحال میں سب سے پہلے ہماری مدد کو پہنچنے والے ہمارے فوجی جوان تھے جنہوں نے آبادی کا انخلاء کا عمل ممکن بنایا۔ نشیب کی بستیوں کے لوگ فوجی امدادی کشتیوں پر اور لڑکے بالے اپنی گائے بھینسوں کی دمیں پکڑ کر ان کے ساتھ تیر کر ہمارے گھر کے ساتھ واقع ڈیرے پر آ گئے اور ہزاروں لوگ اپنے گھر چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے۔ سینکڑوں لوگ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے قائم کیے جانے والے ریلیف کیمپوں میں آ گئے۔ فوج کے زیرنگرانی سیلاب زدگان کی امداد احسن طریقے روبہ عمل تھی۔ آئے روز پیلی کاپٹر پر فوج اور سول انتظامیہ کے اعلٰی حکام فضائی جائزہ لیتے اتر جاتے۔ ایک مرتبہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بھائی میاں محمد شہباز شریف امدادی سامان لے کر ہمارے گاؤں آئے۔
ادھر سیلاب کے ان ایام میں ٹبہ برڑہ کے قدیمی ڈیرے پر رات دن رونق جمی رہتی، پوری بستی چہار اطراف سے سیلاب کے پانی میں گھری ہوئی تھی، بہتے پانی کے شور اور ان پانیوں میں سے نکلنے والے حشرات الارض کے خوف کی وجہ سے راتوں کو ہر فرد سہما ہوا جاگ رہا ہوتا۔ مقامی لوگ امدادی کیمپوں پر کھانے پینے کا سامان لینے، مچھلیاں پکڑنے اور ’سیر و سیاحت‘ کے لیے ٹریکٹروں کی ٹیوبوں اور گڑ بنانے والے بڑے پھیلاؤ والے کڑاہوں کا استعمال کرتے۔ خوفناک سیلاب کے ان دنوں میں مصیبت کے مارے لوگوں کی مدد کے لیے مقامی زمینداروں نے بھی ایثار و اخوت کی عمدہ مثالیں قائم کیں۔ جام احمد علی سرکی سے لے کر جام علی برڑہ تک ان زمینداروں نے اپنے ڈیروں پر موجود متاثرین سیلاب کے انبوہ کے لیے دو وقت کھانے کا انتظام اپنے ذمے لے لیا۔
سیلاب کے ان ناقابل فراموش دنوں میں ہمارا وقت بھائیوں کے ساتھ اپنے گھر کی گری ہوئی بیٹھک کے ملبے پر بیٹھ کر سیلابی پانی میں کانٹے ڈالنا اور مچھلیاں پکڑنے کی مغز ماری کرنا ہوتا۔ مچھلی پکڑنے کی آس میں بڑے بڑے کھچوے کانٹے میں پھنس جاتے۔ ایک دو بار نسیم بھائی ہمیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر سیلابی پانی میں تیرتے ہوئے ہمیں سیر کرانے لے گئے تھے، پانی میں تیرتے سانپ اور انواع و اقسام کے حشرات کے خوف نے البتہ ہمیں دوبارہ ان کے ساتھ جانے سے باز رکھا۔
انہی دنوں بڑی بڑی کشتیاں سیلابی پانی میں تیرتے ہمارے سامنے سے گزر جاتیں یا ڈیرے پر لنگر انداز ہوتیں۔ ان دیو ہیکل کشتیوں پر ضروریات زندگی کی ہر چیز دستیاب ہوتی، مخصوص لباس میں ملبوس خواتین و مرد اور بچے اس پر سوار ہوتے، دریا کے باسی مور قبیلہ سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ اپنے مخصوص لباس، ثقافت اور زبان کے ساتھ توجہ کا مرکز ہوتے۔
آج 1992 ء کے اس قیامت خیز سیلاب کو 31 سال بیت گئے۔ اس کے بعد بھی گاؤں میں کئی مرتبہ سیلاب آئے، 2010 ء کا سیلاب بھی گاؤں میں تباہی کی کئی داستانیں رقم کر گیا، 2014 ء کے آنے والے سیلاب نے معاشی اور مالی طور پر گاؤں کے لوگوں کو برباد کر کے رکھ دیا، ہر سال آنے والے سیلاب کے نقصانات سے ’تنگ‘ آ کر اس وقت کے وزیر اعلٰی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے حفاظتی بند کے ذریعے علاقے کو محفوظ بنانے کا قدم اٹھایا، کروڑوں روپے مالیت سے حفاظتی بند کی تعمیر کا یہ منصوبہ علاقے میں تعمیر و ترقی کا اہم ذریعہ بنا۔ لیکن جن کاشت کاروں کی قیمتی اراضی اس حفاظتی بند کے منصوبے میں کام آئی، انہیں ایک دھیلہ تک نہیں ملا۔
ادھر ستمبر 1992 ء کے اس سیلاب کے چند ماہ بعد جب آمد و رفت کے راستے بحال ہوئے تو ہم نے گاؤں سے واپس اوچ جانے کی ٹھان لی اور ہماری مسلسل ضد اور ’دھاڑ پٹ‘ کے آگے ہار مانتے ہوئے بھائی جان نے ہمیں اوچ بھجوا ہی دیا۔ جہاں پھر ماسٹر احسان صاحب کا سکول اپنے اس ’چندرے‘ طالب علم کی راہ تک رہا تھا۔


