پی آئی اے: کیسی بلندی، کیسی پستی


70 کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے، دنیا میں ایک ایسی فضائی کمپنی موجود تھی جس کا کوئی نہ کوئی ہوائی جہاز ہر چھ منٹ بعد یا تو دنیا کے کسی ہوائے اڈے کی زمین کو چھو رہا ہوتا تھا یا کسی ہوائی اڈے سے فضا میں بلند ہو رہا ہوتا تھا۔ اس فضائی کمپنی کے ذریعے 1979 میں پوری دنیا میں 35 لاکھ افراد نے سفر کیا تھا اور اسی ایک سال میں دنیا کے مختلف مقامات پر، اس فضائی کمپنی نے 85 ہزار ٹن سے زیادہ وزن کا سامان مختلف منزلوں پر پہنچایا تھا۔ 90 کی دہائی کے آتے آتے اس کے ہوائی جہاز دنیا کے 75 مقامات سے اڑان بھر رہے تھے۔ اس فضائی کمپنی نے اپنا اسٹیٹ آف آرٹ، تربیتی مرکز قائم کیا ہوا تھا۔ جہاں دنیا کی دوسری 30 سے زیادہ فضائی کمپنیاں اپنے ہوا بازوں کو تربیت دلوانے کے لیے بھیجتی تھیں۔ اس مرکز میں دنیا کے بہترین تربیت یافتہ ماہرین مختلف قومیتوں کے ہوا بازوں کو تربیت دینے کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے تھے۔ یہ فضائی کمپنی اتنی ترقی پسند اور جدید خطوط پر چلائی جاتی تھی کہ اپنی فضائی میزبانوں کی یونیفارم کی ڈیزائننگ پیرس کے مشہور عالم مہنگے ترین فیشن ڈیزائنر پریرے کارڈن pierre cardin سے کراتی تھی۔ اس فضائی کمپنی کی انتظامیہ اپنے مسافروں کی سہولت کو سب سے زیادہ ملحوظ خاطر رکھتی تھی۔ اس فضائی کمپنی نے 1966 میں کینیڈا کے کمپنی کے تکنیکی تعاون سے مرغیوں کی افزائش کا پہلا جدید فارم قائم کیا۔ اس فارم کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ فضائی کمپنی ہمہ وقت اپنے ملکی اور غیر ملکی مسافروں کو دوران پرواز مرغی کا تازہ، صحت مند اور عمدہ گوشت سے تیار کردہ کھانے فراہم کر سکے۔ اس فضائی کمپنی نے اپنا ایک مکمل انجینئرنگ اور مرمتی کمپلیکس بھی قائم کیا ہوا تھا جس میں نہ صرف طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کی جاتی تھی بلکہ ایرو اسپیس انڈسٹری اور متعدد دیگر صنعتوں کے لیے اعلی درستی کے پرزے بھی تیار کرتا تھا۔ پوری دنیا میں اس کی مصنوعات ہر روز آسمانوں پر جاتی تھیں۔ یہ کمپنی امریکہ کی جنرل الیکٹرک امریکی طیارہ ساز ادارے بوئنگ اور یورپ کی ائر بس انڈسٹریز کو اپنے کارخانے کے تیار کردہ پرزے سپلائی کرتی تھی۔ صاحبو! یہ امریکہ یورپ یا چین کی بات نہیں ہو رہی یہ اپنے ملک پاکستان کی قومی پرچم بردار فضائی کمپنی ”پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز“ کے ماضی قریب کا ذکر ہے۔

بانی پاکستان کا قائد اعظم محمد علی جناح کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ 1947 تک انگریز نے ہندوستان چھوڑ جائے گا اور برصغیر میں مسلمانوں کے نیا وطن پاکستان وجود میں آ جائے گا لیکن وہ اس حقیقت کو جانتے ہوئے فکر مند تھے کہ مملکت پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گی۔ جو ایک دوسرے سے ہزار میل سے بھی زیادہ فاصلے پر ہوں گے اور درمیان میں آزاد ہندوستان کا علاقہ حائل ہو گا اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ جدید تقاضوں کے مطابق اس نوزائیدہ ملک کو اپنے جغرافیائی حقائق کے پیش نظر ایک فضائی کمپنی کی اشد ضرورت ہوگی۔ حالانکہ 1945 تک متحدہ ہندوستان میں 7 سے زیادہ نجی فضائی کمپنیاں وجود میں آ چکی تھیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان تمام فضائی کمپنیوں کے مالکان اور انتظامیہ ہندوؤں پر مشتمل تھیں اور ان تمام کے دفاتر بھی مجوزہ پاکستان کے کسی علاقے میں قائم نہیں تھے۔ حالانکہ ایک فضائی کمپنی جس کا نام ”دکن ائر ویز“ تھا۔ اس کے مالک حیدرآباد دکن کے مسلمان نواب میر عثمان علی تھے۔ لیکن ان کی ریاست بھی پاکستان میں شامل نہیں ہو رہی تھی۔ ایسی صورت میں قائد اعظم نے مسلمان تاجروں اور صنعتی گروپوں سے درخواست کی کہ وہ سب مل جل کر ایک فضائی کمپنی قائم کرنے کا بیڑا اٹھائیں۔ ان کی آواز پر مرزا احمد اصفہانی نے لبیک کہا اور فضائی کمپنی قائم کرنے کے لئے آدم جی کے اشتراک سے ایک فضائی کمپنی کی بنیاد 29 اکتوبر 1946 کو کلکتہ میں رکھی۔ 1947 میں پاکستان بننے کے بعد کمپنی کا صدر دفتر کراچی منتقل کر دیا گیا۔ اس طرح یہ پاکستان کی پہلی فضائی کمپنی بن گئی۔

1955 میں حکومت پاکستان نے اورینٹ ایئر ویز سے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت حکومت پاکستان نے اورینٹ ایئر ویز کا تمام انتظام و انصرام سنبھال لیا لیکن فضائی کمپنی کے چیئرمین مرزا احمد اصفہانی ہی رہے۔ فضائی کمپنی کا نام تبدیل کر کے ”پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن“ رکھ دیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان امریکا کا نیلی آنکھوں والا لڑکا Blue Eyed Boy بنا ہوا تھا قرضوں اور امداد کی شکل میں ڈالروں کی بھرمار تھی۔ حکومت کی ایما پر امریکا اور یورپ کے طیارے بنانے والے ادارے پی آئی اے کے واری صدقے تھے دوسری طرف دنیا کی سیاسی صورتحال کچھ ایسی تھی کہ ویتنام کی جنگ کی وجہ سے پورا مشرق بعید خوفزدہ تھا۔ مشرق وسطی میں عرب اسرائیل تنازع زوروں پر تھا۔ پورا وسط ایشا روس کے زیر نگیں تھا۔ ہندوستان کی حکومتی پالیسی بھی سوشلزم پر مبنی تھی ایسے طیارے بھی نہیں بنے تھے جو ایک ہی اڑان میں بغیر ایندھن لیے امریکا سے آسٹریلیا پہنچ سکیں اس لیے کراچی کے ہوائی اڈے کی بھی ایک الگ ہی اہمیت تھی۔ پاکستان خود بھی دو صوبوں پر مشتمل ایک ملک تھا دونوں صوبوں کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا۔ ایک صوبہ مشرقی پاکستان کہلاتا تھا دوسرا مغربی پاکستان۔ دونوں کے درمیان بھارت کی سرزمین حائل تھی۔ فضائی سفر سب سے آسان ذریعہ تھا۔ پی آئی اے کے طیارے ہمہ وقت دونوں صوبوں کے درمیان پرواز کرتے رہتے تھے اور مسافروں کو اپنی منزلوں پر پہنچاتے رہتے تھے۔ ان تمام موافق حالات اور بہتر انتظامیہ کے ذریعہ فضائی کمپنی مستقل منافع کماتی رہی۔

1971 میں مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں پی آئی اے نے اپنے کاروبار کا بہت بڑا حصہ کھو دیا اور کمپنی کو پہلا بہت بڑا مالی جھٹکا لگا۔ 1971 اور 1980 کے دوران افغانستان میں پہلے روس کا قبضہ ہو گیا پھر مجاہدین اور طالبان کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ آخر میں امریکہ، افغانستان کی جنگ میں کود پڑا۔ ان تمام حالات نے پی آئی اے پر بہت منفی اثرات مرتب کیے۔ یہاں تک کہ 1981 میں حکومت پاکستان کو ائر لائن کو مزید چلانے کے لیے 6 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم بطور امداد دینی پڑی۔ 1991 میں خلیج کی جنگ نے ائر لائن کی مالی حالت مزید خراب کر دی اور سنہ 2000 کے آتے آتے ائر لائن پھر معاشی بستر مرگ پر پہنچ گئی اور حکومت نے ادارے کو 20 ارب روپے بطور امداد فراہم کیے اور 2018 میں اس ادارے کو مزید 25 ارب روپے ادا کیے گئے۔ ایک دفعہ پھر اپریل 2023 میں حکومت پاکستان نے پی آئی اے کو 15 ارب سے زیادہ کی امدادی رقم دی۔

پچھلے ہفتے خبر آئی کہ پاکستان کی قومی ائر لائن پی۔ آئی۔ اے کے پانچ طیارے گراؤنڈ کر دیے گئے۔ اس وقت پی۔ آئی۔ اے کے پاس صرف 31 ہوائی جہاز ہیں اس میں سے پانچ گراؤنڈ ہو گئے تو 26 رہ گئے۔ 26 میں سے بھی مزید 10 اسپیئر پارٹس کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ لیکن اس وقت نہ تو ائر لائن کے پاس جہازوں میں ایندھن بھروانے کے لیے پیسے ہیں نہ ہی ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے رقم ہے۔ مرکزی حکومت کے خزانے کی نئی امین بیگم شمشاد اختر نے بھی ادارے کو کسی قسم کی مالی مدد فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ البتہ حکومت نے نجی بینکوں سے ایمرجنسی بنیادوں پر کچھ فنڈز کا انتظام کر دیا۔ ایک دفعہ پھر حکومت پاکستان کو پی ائی اے پر ترس آ گیا ہے اور شنید ہے کہ اس کے لیے مزید فنڈز کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ دسمبر 2022 کے کھاتوں کے مطابق پی آئی اے نے 743 ارب روپے کے قرضے لیے ہوئے ہیں۔ جو اس کے کل اثاثہ جات سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ اس دوران 86 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ان تمام قرضہ جات کو ادا کرنے کی ضمانتی ذمہ داری پاکستان کی وفاقی حکومت نے لے رکھی ہے اور حکومت پاکستان خود دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی ہے۔

پی آئی اے کی نج کاری کرنے کی بازگشت 1990 سے سنائی دے رہی ہے۔ جب پہلی دفعہ نواز شریف نے اس ملک کا اقتدار سنبھالا تھا لیکن میرے دیس میں کوئی سیدھا کام کرنے کے لیے بھی الٹا لٹکنا پڑتا ہے اور نواز شریف تو کئی دفعہ الٹے لٹکائے جا چکے ہیں۔ 90 کی دہائی کو بھی ربع صدی گزر گئی۔ اس دوران پی آئی اے کئی مرتبہ معاشی ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہوتی رہی اور دوسرے کئی بیمار اداروں کی طرح قومی خزانے کا ایک بہت بڑا حصہ نگلتی رہی۔ اب تو پورے ملک کی معیشت ہی آئی سی یو میں داخل ہے۔

پڑوسی ملک ہندوستان کی قومی فضائی کمپنی بھی کچھ ان ہی حالات کا شکار تھی۔ لیکن ہندوستان کی معیشت بہت تیزی سے ترقی کرتی رہی اور کر رہی ہے۔ ہندوستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) برطانیہ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور ہندوستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔ مارچ 2022 میں اس کی معیشت کا حجم 855 بلین ڈالر ہو چکا تھا۔ 1952 سے پہلے ائر انڈیا بھی نجی شعبے کی ملکیت تھی اور اس کا نام ٹاٹا ائر لائن تھا۔ 1952 میں اس کو قومیا لیا گیا اور اب 61 سال بعد 2022 میں حکومت ہندوستان اس نتیجے پر پہنچی کہ ائر انڈیا کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے۔ ان بیتے ہوئے 61 سالوں میں ٹاٹا گروپ کے مالکان نے اپنی محنت اور صلاحیتوں کی بدولت ایک دیو ہیکل صنعتی اور تجارتی ادارہ تخلیق کر لیا۔ جو چائے کی پتی سے لے کر کان کنی، فولاد کے کارخانے، آئی ٹی اور کئی قسم کی گاڑیاں بنانے کے اداروں کا مالک ہے اور آج اس گروپ کی ملکیت 300 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ قدرت کا نظام دیکھیے کہ حکومت وقت خود یہ ائر لائن اس گروپ کو واپس کرنے پر آمادہ ہو گئی۔ حالانکہ وقت گزرنے کے ساتھ ائر لائن کا حجم بھی بہت بڑا ہو گیا تھا۔ لیکن وہ مسلسل خسارے کا شکار تھی اور اس کو روزانہ کی بنیاد پر 20 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ جو جمع ہوتے ہوتے 61 لاکھ کروڑ تک پہنچ گیا تھا۔ ہندوستان کا ٹاٹا گروپ جس نے ائر انڈیا کو قائم کیا تھا آج دنیا کے بڑے کاروباری اداروں میں شامل ہے۔ اس لیے اس میں اتنی سکت تھی کہ اس نے ائر انڈیا کو خرید لیا لیکن پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کی بنیاد رکھنے والے اصفہانی اور آدم جی دونوں تجارتی ادارے پاکستان سے ہی معدوم ہو چکے ہیں۔ اب دیکھیے ہماری قومی فضائی کمپنی کس کی جھولی میں گرتی ہے۔

Facebook Comments HS