جھینگر کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے


جھینگر کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
قیصر کا یہ پیارا ہے، اسے توپ پہ کھینچو

بات بس اتنی سی تھی کہ سابقہ مضمون میں کتوں کی تدفین میں شوقین مالکوں کا اپنے کتوں کو اپنے عشق کا اعتبار دلانے کے لئے آٹھ دس ہزار ڈالر تک کے خرچہ کا ذکر کرتے کہیں لاشعور یا تحت الشعور میں بہت بچپن سے مدفون اوپر عنوان میں مذکور شعر کھڑاک سے جلوہ دکھا گیا۔ ہم نے قلم بند بھی کر دیا۔ قیام پاکستان سے ایک دو برس قبل یہ شعر کچھ اتنا زبان زد عام تھا کہ پانچ چھ برس کے بچے ہوتے بھی اس کا ترنم بڑے بھائیوں سے سیکھ دوستوں کے ہمراہ باجماعت دوہراتے۔

اب افتاد یہ آن پڑی کہ ایک دو نہیں اس مضمون کے چار پانچ قاری یہ سوال داغ گئے کہ یہ شعر لکھا تو اب اس کا سیاق و سباق بھی بتائیں جی۔ اب ہمیں اس وقت اتنا شعور کہاں۔ سب سے پہلے تو چنیوٹ کی گلیوں میں ڈگڈگی بجاتے ایک ہاتھ میں ریچھ اور بندر کی رسی اور ایک کندھے پہ کپڑے کا جھولا اور دوسرے پہ طوطے کا پنجرہ لٹکائے مداری کا ہم بچوں کو پیچھے لگاتے کسی کھلی جگہ پہ ڈیرہ لگا مجمع لگانا یاد آیا۔ کافی دیر ڈگڈگی بجتی رہتی اور تماشائی مجمع بناتے جاتے۔ اسی بندر تماشے میں طوطے کو ایک چھوٹی سی توپ کو کھینچ کے آگے لاتے اور پھر سامنے بیٹھے بندر کو نشانہ بنا کر توپ چلاتے دیکھا تھا۔ ذرا سا پٹاخہ چلتا سنائی دیتا اور سامنے بیٹھا بندر مرنے کی ایکٹنگ کرتا۔ یا پھر لاہور میں بھنگیوں کی مشہور توپ کا دیدار کر رکھا تھا۔ (جنگ والی توپ ہمارا موضوع نہیں۔)

سکول کی عمر میں کہانیاں، ناول، تاریخ پڑھتے اتنا پتہ چل چکا تھا کہ توپ ایجاد ہونے کے بعد جب انصاف پسند بادشاہ کسی بہت ہی معتوب شخص پہ رحم کرتے تو انہیں توپ کے آگے باندھ توپ داغ دینے کا حکم فرماتے تاکہ اس کی جان آسانی سے بھی نکلے اور روح کے آسمان تک کا فاصلہ بھی کم ہو جائے۔ اسی کو توپ پہ کھینچنا کہا جاتا۔ لہٰذا یہی تصور تھا۔ اتفاقاً چند روز قبل ہی ملکہ برطانیہ کی پہلی برسی پر تدفین کے مناظر نظر آئے تو جنازے کے جلوس میں جنازہ توپ کے اوپر بنے خصوصی تختے پہ رکھا نظر آیا۔ اسے بحریہ کے جوان ہاتھوں سے کھینچتے لے جا رہے تھے۔ اب تو اس توپ پہ کھینچے جانے کا پس منظر ڈھونڈنا پڑا۔ تب پھر اپنے پیاروں، انٹر نیٹ، گوگل، وکی پیڈیا کی منتیں شروع کیں۔

توپ کی ایجاد کے ساتھ ہی (آج کل کے سٹیٹس سمبل قیمتی موبائل فون ہاتھ میں ہونے) کی طرح بادشاہ اور اعلی مراتب مشاہیر کی پر تعظیم تدفین کے لئے لے جانے والے جلوس میں توپ کا استعمال شروع ہوا۔ اپنی اونٹ گاڑی کی طرح کے تختے توپ کے اوپر لگائے جاتے اور اس توپ کو سدھائے گھوڑے حسب مرتبہ مختلف تعداد (آٹھ دس بارہ وغیرہ) کھینچ کے جلوس کی شکل میں قبرستان پہنچاتے جبکہ دونوں طرف کھڑے لوگ محبت اور سوگ کا اظہار کرتے۔

قیصرہ ہند ملکہ برطانیہ ملکہ وکٹوریہ کے لئے اٹھارہ سو چھیانوے میں ہی بحریہ کے توپ خانے کی جدید توپ علیحدہ کر اس کی تزئین کر دی گئی تھی۔ اتفاقاً ملکہ کی وفات انتہائی سرد دنوں میں ہوئی۔ مسئلہ یہ اٹھا کہ شدید سردی اور متوقع طور پر عوام کے بے پناہ ہجوم کے باعث گھوڑے جواب نہ دے جائیں یا بدک نہ جائیں۔ کیپٹن پرنس بیٹن برگ، جو بعد میں برطانوی بحریہ کے پہلے سی لارڈ کے عہدہ پر متمکن ہوئے، (یہ لفظ امیر البحر کا صحیح انگریزی ترجمہ ہے۔) کی تجویز پر بجائے گھوڑوں کے بحریہ ہی کے جوانوں کے ہاتھوں اس توپ گاڑی کو کھینچ آخری رسومات والے گرجے تک لایا گیا جس کے اوپر میت والا صندوق پورے شاہی طمطراق و اعزاز یعنی پروٹوکول کے ساتھ رکھا تھا۔ ہنگامی طور پہیوں پر ربڑ چڑھایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے آج تک یہی توپ بحریہ کے خاص موسمی اثرات سے محفوظ کمرے میں بند رکھی جاتی ہے اور باقاعدگی سے اس کی پالش اور دیکھ بھال ہوتی رہتی ہے۔ انیس سو آٹھ میں شاہ برطانیہ اور قیصر ہند ایڈورڈ ہفتم، انیس سو چھتیس میں جارج پنجم، انیس سو باون میں جارج ششم، انیس سو پینسٹھ میں ونسٹن چرچل اور پھر انیس سو اناسی میں اپنے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے جنازے کے صندوق بھی اسی توپ پہ بحریہ ہی کے جوان کھینچ کے لائے۔ (شاید کوئی اور بھی ہو) سب سے زیادہ اور سب سے پر جوش شائقین، سوگوار اور چاہنے والے شہزادی ڈیانا کی میت شاہی توپ گاڑی پہ جاتے دیکھنے والے تھے یعنی دس لاکھ سے زائد۔

گزشتہ برس انیس ستمبر ملکہ کا تابوت لئے اسی چھپن سو پاؤنڈ وزنی، ایک سو تئیس سال پرانی شاہی توپ گاڑی کو بحریہ کے اٹھانوے جوان ویسٹ منسٹر سے ویسٹ منسٹر ایبے تک کھینچ کے لائے جب کہ چالیس جوان پیچھے بریک لگانے پہ مامور تھے۔

نوٹ۔ نسبتاً غیر اہم یا شاہی خاندان سے براہ راست نہ تعلق رکھنے والے اعلی معززین کے لئے بھی اسی توپ گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے مگر بجائے شاہی توپ گاڑی کے محض تقریباتی، علامتی یا رسمی توپ گاڑی جلوس کا نام دیا جاتا ہے۔ مثلاً ملکہ الزبتھ کی والدہ، مارگریٹ تھیچر، بیرونس تھیچر اور شہزادہ فلپ وغیرہ۔ یوں توپ پہ کھینچے کی سمجھ آئی ورنہ میت والا صندوق ”گن کیریج“ پہ لانے کا تو پتہ تھا۔

جب سوال جھینگر اور قیصر سے اس کے تعلق کا اٹھا تو اب اردو میں انٹرنیٹ کا سہارا لینا پڑا۔ شعر پورا لکھا بھی نہ تھا کہ نیچے یہ شعر لئے بے شمار پوسٹیں نظر آ گئیں۔ لطف یہ کہ سب پوسٹوں پہ اسی شعر کے نیچے خواجہ حسن نظامی مرحوم کا انشائیہ درج تھا۔ اور سب سے پہلا ہمارا منہ چڑا رہا تھا کہ ”ہم سب“ میں اسی گزشتہ مارچ میں شائع کر کے خواجہ کے انشائیہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔ اور ہماری نظروں سے نہ گزرا تھا۔

تو دوستو۔ خواجہ حسن نظامی مرحوم اپنے کتب خانے میں ایک جھینگر کو دیکھ اسی بہانے علم اور مطالعہ کی بے قدری کا رونا اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں روتے ہیں اس سے مکالمہ کرتے سوال کے جواب میں اس کی اکڑ کو قیصر ولیم کی طرح کی مونچھیں پھیلانے سے تشبیہ دیتے ہیں اور یوں اس کا قیصر کے پیارے ہونے کا بیانیہ بناتے ہیں اور پھر جب اسی جھینگر کے مردہ جسم کو بے شمار کالی چیونٹیاں دیوار پر گھسیٹتی لکیر چھوڑتی ہیں تو ان کی ظرافت کہلواتی ہے کہ یہ تو قیصر کا پیارا ہے۔ اس کے جنازے کو بجائے چیونٹیوں کے حوالے ہونے کے قیصر کی طرح توپ پہ کھینچا جانا چاہیے تھا۔

اب ذرا اور نیچے دیکھا تو ملک لوٹنے والوں کے ہاتھوں تباہ ہوتے کراچی کے لئے اخبار جسارت میں، ”کراچی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے“ اور زبان اردو کی بے قدری کا رونا رئیس امروہوی کے ”اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔“ جیسے دکھڑے اسی شعر کا سہارا لیتے نظر آئے۔

اب ہمیں ”مونچھوں“ کے ذکر نے الجھن میں ڈالا۔ ساٹھ ستر کی دہائی والے پاکستانیوں پر تو نواب آف کالا باغ مرحوم ملک امیر محمد خاں کی ہمیشہ تازہ تاؤ دی گئی مونچھوں کا رعب چھایا رہا اور اس کے بعد کی نسلیں ”مونچھیں ہوں تو نتھو رام جیسی“ کے سحر میں ہی ہیں۔ مگر خواجہ حسن نظامی تو ان کی پیدائش کے زمانے میں پروشیا اور جرمنی کے شہنشاہ رہے قیصر ولیم کی مونچھوں کے دیوانے نکلے جب کہ ان کی جوانی اور ادھیڑ عمری میں قیصر ہند جارج پنجم (وفات انیس سو چھتیس) اور جارج ششم (وفات انیس سو باون) کی (جوانی میں صفا چٹ چہرے) اپنی حکمرانی کے آخری سالوں والی مونچھیں کوئی کم نہ تھیں۔

جانے کیوں ذہن میں ایک الجھن سی تھی کہ ایسے موضوعاتی پر تفنن شعر پر کسی اور پرانے شعر یا بیان کی چھاپ یا سایہ نظر آیا کرتا ہے۔ ممکن ہے خواجہ حسن نظامی کے لکھے اس شعر کا محرک بھی کچھ ہو۔

اب ”اکھ پٹ کے دھیان جدوں ماریا“ تو شیشۂ ادب میں ایک اور شعر نظر پڑ گیا۔

ٹک ساتھ ہو حسرت دلِ مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

ذرا چھان بین کی تو یہ شعر بھی نقاد اور محقق بزرگوں کی نظر کرم کا شکار اور عرفیت کے جھگڑوں والا نکلا۔ پہلے تو پہلے مصرعہ کے پہلے الفاظ ”چل ساتھ“ کے ”ہو ساتھ“ یا ٹک ہو ساتھ ”یا“ ساتھ ہو ”ہونے کی بحث چلی۔ اور ہر بزرگ نے اپنی مونچھوں کی لاج رکھنے کو دلائل پیش یا رد کیے۔ پھر کچھ محقق اسے فدوی لاہوری کا شعر مانتے ہیں مگر زیادہ فدوی دہلوی جو بعد میں فدوی عظیم آبادی کہلائے اور عرف عام میں شاید بجؔو میاں کہلاتے، کے اس شعر کا خالق ہونے دعوی فرماتے ہیں۔ بہر حال ہم اس جھگڑے والے جھینگر کو بھی توپ پہ کھنچواتے صرف اپنے مطلب کی بات پہ آتے ہیں فدوی عظیم آبادی کا انتقال 1795 میں ہوا تھا۔ اور خواجہ حسن نظامی کی پیدائش 1878 اور وفات 1955 کی ہے۔ لہذا اغلب ہے کہ“ عاشق کا جنازہ ”ہی“ جھینگر کے جنازے کو دھوم سے نکلوانے کا محرک ہوا۔

تو اے ہمارے پیارے مرزا صاحب، راجہ جی۔ پراچہ صاحب اور بلوچ صاحب۔

” کر چکے ہم ادا اپنا فرض دوستو۔“ کہ اس شعر کا پس منظر کیا ہے۔ ہمیں تین چار روز مصروف رکھنے کا شکریہ۔

ویسے خواجہ حسن نظامی کا کتب خانہ کھا جانے والے قیصر کے پیارے جھینگر اب ترقی کرتے روپ بدل چکے۔ ملک چاٹنے والے جھینگر بن چکے۔ اور قیصر بننے کے دعویدار بھی زیادہ ہو گئے۔ اور یہ جھینگر کبھی اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے کمروں میں براجمان قیصر کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں اور کبھی انہی کو کسی دوسرے کو پیارا بناتے دیکھ منہ میں جھاگ بھر انہی پر شعلے اگلتے نظر آتے ہیں۔ اور اب کھینچا جانا متروک ہوا، اٹھائے جانے کا دور آ چکا۔ ہر شعبے اور طبقے میں جھینگروں اور ان کے سرپرست قیصروں کا راج ہے۔ عوام کے دم توڑتے جھینگروں کو کالی چیونٹیاں اپنی خوراک بنانے کھینچتی لئے جا رہی ہیں۔ اس کھینچا تانی کی لکیر ہی باقی رہے شاید۔ یا شاید توپ کے رکھوالے کو پالش کرنے کے فرض کی یاد اور قیصر کو مونچھوں کی لاج آ جائے۔

ورنہ خواجہ حسن نظامی کے ہی ایک دوست اور ہم عصر کا یہ شعر تو نوشتۂ دیوار کو پڑھاتا چلا آ رہا ہے۔

کیوں قعر مذلت میں گرتے نہ چلے جاتے
جب بوم کے سائے کو، تم ظل ہما سمجھے

Facebook Comments HS