خاک ہو جائیں بھرے شہر میں عزت والے
چشم تخیل، آلہ انعکاس کے بغیر، خیال کے مسرح پہ وہ نقش بناتی ہے جو طبعی بصارت سے پرے ہو، جہاں بینائی کی رسائی ممکن نہ ہو۔ ایسی ہی تخیلاتی طلسم سے تخلیق کا ظہور ہوتا ہے جسے دیکھ کر ہم ایسے انگشت بہ دنداں ہیں کہ تخلیق کار کی ذہانت کو تحسین کی مالا کیسے پہنائیں؟ خیال کی بنتر سے، قرطاس پہ روشنائی بکھیرتے ہوئے، رجائیت کی ندی میں ڈوبی صدف کی کوکھ سے جوہر کی کشیدکاری سے امید کا اکتشاف، تخلیق کار کو ہی زیبا ہے۔ ہر دور کو ایسے انسان میسر ہوتے ہیں جو انبوہ کی جلوت سے گریز کرتے ہوئے، خلوت کو دانستہ ہم رکاب کرتے ہوئے، کسی وادی کو کوچ کرتے ہیں اور پھر کسی کہسار کی اوٹ میں، آبشار سے گرتے موتیوں کو تخیل کے کینوس پہ یوں اتارتے ہیں گویا تخلیق کے ہنر سے، خواب کی تمثیل پیش کر رہے ہوں۔ جب بستیوں کو لوٹتے ہیں تو معصوم عن الخطا کے چہروں پہ پھیلی باپ کی غربت پہ ٹھہری ہوئی استقامت کی نقش کاری یوں کرتے ہیں کہ سینے میں چھپا ہوا دل دہک جائے، آدم خاکی پہ انجم شرما جائے اور شرف آدمیت پہ پردہ گر جائے۔ ایسے گراں باری ایام کو شیرینی فردا میں مبدل کرنے کا خواب سجائے، شاعر، فرد کے حق کو پاپوش سے مکتی دلانے کا عزم کرتا ہے اور عشرت کدوں کے بَھوَن کے کھوپڑیوں سے چنے میناروں پہ حقارت و استخفاف کا ایک باب قلم کے سپرد کرتا ہے۔ اس مضمون کا مستعار عنوان بھی ایک شاعر کا خواب ہے۔
آج وطن عزیز کے مسکنت خذلان کی حیات سے دریوزہ گری منتہا کو پہنچ چکی ہے۔ نگر نگر فریاد و شیون کی جرس کے نقارے بج رہے ہیں، مگر صاحب اثرونفوذ امید کے دریوزہ گروں پہ نفرین کی چادر لپیٹ رہے ہیں۔ نوے کی دہائی میں دنیائے رنگ و بو میں آنکھ کھولنے والوں نے ہوش کی چشم میں، آنجہانی آمر کے دور بے اماں میں حیرت اور دریافت کا زمانہ گزار دیا۔ رجائیت کے ملگجے میں رخت سفر باندھا تو کچھ دیر کے سفر کے بعد احساس کی لہر دوڑی کہ یہ رجعت قہقری ہے۔ عالمگیریت افق پہ نمودار ہوئی تو جدید آلات کو دیہاتوں تک پہنچا دیا۔ اسی سے اس نسل کے متعدد اذہان معاشرت اور سیاست میں منطق کے ہم رکاب ہوئے مگر دشنام کے ساکن ٹھہرے۔
اپنے بقا کے مناقشے سے نبردآزما، اس نسل کا گناہ مسائل کی توجیہات کی دریافت کا سفر ہے۔ آج یہ شوریدہ سر سوال پوچھ رہے ہیں مگر جواب دینے والوں پہ کلام گراں گزرتا ہے کہ طبع خاموش پائی ہے۔
روزگار کی تلاش میں سرگرداں، یہ نوجوان، انسانی سمگلروں کے ہاتھوں میں خود کو سونپنے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ سمندر پار کرنے کی خواہش میں بحر میں مخفی مخلوق کا لقمہ بن رہے ہیں۔ جہاں بیروزگاری کی معراج ہو، جہاں قریبا 37 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی کی سانسیں کھینچ رہی ہو، وہاں انسانی سمگلروں کے دھندے کی ترقی کے زینے طے کرنے کی منطق، نوشتہ دیوار ہوتی ہے۔
ملک عزیز کی گورننس پالیسی کے ابعاد ثلاثہ پہ رپورٹ مرتب کرتے متفرق اعشاریے، رفتگان کی کھودی گہری خندق پہ ماتم کناں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ اب انسانی ترقی کو ہی لے لیجیے، جس میں اقوام متحدہ کی انسانی ترقی کی رپورٹ میں پاکستان گراوٹ کا شکار ہو کر 192 ممالک میں سے 161 پہ آن کھڑا ہوا ہے۔ مٹی کو چھوڑنے کی خواہش کا جواز ایک بہتر طرز زندگی کے حصول کی سعی سے عبارت ہے۔ اس مقصد کی خاطر، نوجوانوں کی ہجرت کے اعداد کا شناور بننا ہو، پلڈاٹ اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف اکنامک ڈیولپمنٹ کے سروے دیکھ لیجیے۔ گردش لیل و نہار، نوجوان نسل کا تعارف بن گئے ہیں۔ اسیران خواب ملول ہیں کہ خواب بکھر گئے ہیں اور ان کی کرچیاں، معاشی اقلیت کی، بدیسی موٹروں کے پہیوں کے نیچے دب گئی ہیں، ایسے میں لوگ بلند آواز میں کیوں نہ شہزاد صاحب کے الفاظ میں یہ خواہش کریں، خاک ہو جائیں بھرے شہر میں عزت والے/ اور روندی ہوئی مخلوق تماشہ دیکھے۔

