جی 20 کانفرنس اور ہر دیپ سنگھ ننجر
18 جون 2023 کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا شہر سرے کا موسم خوشگوار تھا۔ اس دن فادرز ڈے بھی تھا۔ ہردیپ سنگھ ننجر شہر کے واحد گرو نانک سکھ گردوارے سے بڑی عجلت میں باہر نکل رہا تھا کہ اس کے موبائل کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف اس کا 21 سالہ بیٹا بلراج سنگھ ننجر تھا۔ اس نے اپنے والد کو بتایا کہ پیزا تیار ہے اور امی نے آپ کی پسندیدہ میٹھی میٹھی کھیر، سویاں بھی تیار کر لیں ہیں۔ ہردیپ نے کہا! بس میں گھر پہنچ رہا ہوں۔ وہ تیزی سے گردوارے کے مرکزی دروازے سے باہر نکلا اور پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی میں جا بیٹھا۔ اسی اثناء میں تین ہٹے کٹے نقاب پوش جوان وہاں نمودار ہوئے اور بے دردی سے ہردیپ سنگھ ننجر پر گولیوں کی برسات کر دی اور ہردیپ سنگھ ننجر وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔ حملہ آور فوراً ہی اپنی سلور رنگ کی ٹویوٹا کیمری کار میں فرار ہو گئے۔ ہردیپ سنگھ ننجر گرو نانک سکھ گردوارے کے مرکزی کمیٹی کے صدر تھے۔ وہ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں سکھ برادری کے ایک ممتاز رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 45 سال تھی۔
ننجر 10 نومبر 1977 کو بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں بہار پور سنگھ پورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پیارا سنگھ پیشے کے اعتبار سے کسان تھے۔ 70 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں سکھوں نے اپنے الگ وطن ”خالصتان“ کے لیے تحریک چلانا شروع کر دی تھی۔ ہردیپ سنگھ اسی ماحول میں پل کر جوان ہوئے وہ بھی خالصتان کی تحریک میں شامل ہو گئے۔ 10 جون 1984 کو بھارتی حکومت نے خالصتان کی تحریک کے خلاف آپریشن ”بلیو اسٹار“ شروع کیا اور امرتسر میں واقع سکھوں کے سب سے بڑے مقدس مقام ”اکال تخت“ پر بھارتی فوج کے مسلح جوانوں نے دھاوا بول دیا۔ جس کے نتیجے میں وہاں پر موجود عسکریت پسند سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا مارے گئے۔
اس واقعہ کے چار مہینے بعد 31 اکتوبر 1984 کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ ذاتی محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد پورے بھارت میں ہندوؤں نے سکھوں پر حملے کرنا شروع کر دیے اور ان کی جائیدادوں کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ صرف چار دن کے اندر اندر 8 ہزار بے گناہ سکھ مارے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کر لیے گئے۔ ہردیپ سنگھ کے خاندان پر بھی قیامت ٹوٹ پڑی۔ گرفتار ہونے والوں میں بے گناہ ہردیپ سنگھ ننجر بھی شامل تھا۔ 90 کی دہائی کے وسط میں وہ کسی نہ کسی طرح ضمانت پر رہا ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اب اس کے وطن کی سرزمین اس پر تنگ کر دی گئی تھی تو اس نے بھارت سے راہ فرار اختیار کی اور 9 فروری 1997 کو کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا جا پہنچا۔
جلد ہی اس نے برٹش کولمبیا کی ایک خاتون سے شادی کر لی اور روزگار کی خاطر پلمبر کا پیشہ اختیار کر لیا۔ وہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ وہاں رہ رہا تھا اور اپنی پیشہ ور مصروفیت کے ساتھ ساتھ گرو نانک سکھ گردوارے کی انتظامی کمیٹی کی سربراہی بھی کر رہا تھا۔ اس قتل کے فوراً بعد کینیڈا کی تمام سکھ تنظیموں نے اس کا الزام بھارتی حکومت پر لگایا اور کینیڈا کی حکومت سے اس واقعہ کی حکومتی سطح پر بھرپور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تین ماہ کی تحقیقات کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر 18 ستمبر 2023 کو پارلیمنٹ میں بیان دیا کہ کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسی ان الزامات کا جائزہ لے رہی ہیں اور ساتھ ساتھ انہوں نے یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی کیا کہ جون میں برٹش کولمبیا میں سکھ برادری کے رہنما کے قتل میں ہندوستان کے سرکاری ایجنٹ ملوث تھے۔
جب وہ گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں گروپ آف 20 کے سربراہی اجلاس میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے قتل کا یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مودی پر واضح کر دیا ہے کہ کینیڈین سکھوں کے معاملے میں ہندوستانی حکومت کی کوئی بھی مداخلت ناقابل قبول ہوگی اور انہوں نے مودی سے تحقیقات میں تعاون کی درخواست بھی کی۔ لیکن اس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں خاصی تلخی آ گئی ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے ایک ایک سفارتکار کو ملک بدر کر دیا ہے اور اب حکومتی سطح پر ایک دوسرے کے ملکوں کے خلاف مختلف النوع الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
اس کو بھارت کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ ابھی نریندر مودی اپنے ملک میں جی 20 کی شاندار کانفرنس کروانے پر دنیا بھر سے داد وصول کر رہی رہے ہیں کہ یہ افتاد آن پڑی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی حکومت نے ہردیپ سنگھ ننجر کو دہشت گرد قرار دیا ہوا تھا اور اس کی ہندوستان میں موجود زرعی زمینوں اور اثاثہ جات کو بحق سرکار ضبط کر لیا تھا۔ مزید براں ہندوستانی حکومت نے اس کی سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کی ہوئی تھی۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس ہردیپ سنگھ ننجر کے خلاف کوئی ٹھوس اور واضح ثبوت نہیں تھے۔ جب ہی اس کو 1997 میں بھارتی عدالت کی جانب سے رہائی مل گئی تھی۔
ننجر کینیڈا میں بھی کسی ناپسندیدہ سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔ البتہ وہ کینیڈا میں چلنے والی خالصتان ریفرنڈم کی مہم کی قیادت کر رہے تھے۔ کینیڈین چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈم کے تحت یہ کوئی غیر قانونی عمل نہیں تھا۔ یہ چارٹر شہریوں کو پرامن اور صحیح طریقے سے اپنی سیاسی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت اور حق دیتا ہے اور یہی ایک جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ کینیڈا کی حکومت ایسے حقوق کا تحفظ کرنا اپنا پہلا فرض سمجھتی ہے اور یہ بات حکومت کینیڈا نے دنیا کی ”سب سے بڑی جمہوریت“ کو بھی اچھی طرح باور کروا دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان جس کے دل میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہونے کی خواہش بری طرح مچل رہی ہے۔ کس طرح ان ممالک کو اپنی معصومیت کا یقین دلاتا ہے۔


