ظالمو، نواز شریف آ رہا ہے


چار سال پہلے کا نواز شریف اور تھا اور آج کا نواز شریف بالکل اس فاسٹ باولر کی طرح گیند پھینک رہے ہیں جیسے فاسٹ باولر کی تیز گیندیں بیٹس مین کو سمجھ نہی آتی جب تک سمجھ آتی ہے تب تک بیٹس مین آؤٹ ہو چکا ہوتا ہے۔

اپ سب کو یاد ہو گا جب میاں نواز شریف صاحب پاکستان سے لندن تشریف لے کر گئے یہ اس وقت کی بات ہے جب میڈیا پر ڈاکٹرز کی رپورٹ سامنے آئیں۔ کہ میاں نواز شریف صاحب کی جان خطرے میں ہے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ مسلم لیگ نون کے قائد کو زہر دے دیا گیا ہے۔ بلکہ پاکستان میں ہر سیاسی شخص اس خبر پر بہت پریشان تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے مختلف بیانات بھی آئے، میاں نواز شریف کی تصویر بھی وائرل ہوئیں۔ تصاویر سے ایسے لگ رہا تھا کہ وہ واقع بہت کمزور ہو چکے تھے۔ نواز شریف کو میڈیکل بورڈ نے بیرون ملک روانگی علاج کی غرض سے ہوئی۔ جو کہ کئی سال علاج جاری رہا، متعدد بار مختلف ہسپتالوں کے چکر بھی لگائے، کئی میڈیکل رپورٹ سامنے آئیں۔ اس کے بعد میاں نواز شریف کی فیملی نے بھی لندن میں بہت بڑے دعوی کیا کہ ان کو زہر دیا گیا، لیکن سوالات پوچھنے پر نام لینے سے گریز کرتے رہے۔ آہستہ آہستہ حالات بدل گئے۔ لیکن زہر دینے کی کوئی مصدقہ کاغذات سامنے نہ آ سکا۔ البتہ آہستہ آہستہ مسلم لیگ نون زہر دینے والے بیانیے سے پیچھے ہوتی نظر آئی۔

نون لیگ کا ووٹرز میاں نواز شریف صاحب کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ پچھلے کئی برس سے علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں۔ جو کہ آج کی سیاسی صورتحال پر مسلم لیگ نون کے اپنے رہنما بہت زیادہ نالاں ہیں کیونکہ کئی سال سے نواز شریف صاحب کے وطن واپسی کیا انتظار کر رہے ہیں۔ بلکہ یہ بھی چہ مگوئیاں چل رہی ہیں کہ نواز شریف واپس نہی آئیں گے بلکہ یوں کہا جائے کہ تمام رہنما اس ایشو پر لاتعلق تھے۔ مسلم لیگ نون کے اندر بہت زیادہ مخالفت پائی جا رہی ہے یعنی مختلف سوچ کے دو طرح کے لوگ ہیں۔ جن میں خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل سر فہرست ہیں۔ کیونکہ وہ ان کے سب سے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں متعدد بار نیوز، سوشل میڈیا سمیت ان کے مخالفین یہ خبر پھیلانے میں سر فہرست ہیں لیکن نون لیگ ان چیزوں کو ماننے پر یقین نہیں رکھتی۔ یہاں اگر ہم بات کریں کہ میاں شہباز شریف جو پچھلے ایک ہفتے سے دو مرتبہ لندن آ چکے ہیں یعنی کہ 24 گھنٹوں بعد فوری لندن واپس میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے لیے پہنچنا یہ کافی سوالات جنم لیے ہیں۔ لیکن شہباز شریف نے بتا دیا کہ نواز شریف اپنے بتائے وقت پر واپس آئیں گے۔ یعنی مخالفین کے سیاسی بیان دفن ہو گئے۔

اب بات کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف نے احتساب کا بغل بجا دیا ہے۔ جو ججز اور جرنیلوں کے حساب کتاب کیا جانے کا مطالبہ ہے۔ جو نواز شریف کو اس دلدل میں پھنسانے والے ہیں۔ ان کا یہی کہنا ہے اور یہی مطالبہ لگ رہا ہے کہ ججز اور جرنیلوں کے حساب کتاب ہونے چاہیے اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے آنے والے کچھ ہفتوں میں یہ صورتحال واضح ہوتی نظر ارہی ہے اگر وہ اپنا بیانیہ عوامی نظر میں بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو لوگ شاید نون لیگ کو دوسروں کی نسبت زیادہ پسند کریں۔ اگر میاں نواز شریف صاحب کو رانا ثنا اللہ کے مطابق دس لاکھ لوگوں نے ویلکم نہ کیا تو پھر مسلم لیگ نون کوئی دوسرا لائے عمل اپنائے گی لیکن فی الحال لندن میں یہ بیٹھک بڑے عروج پر ہے لندن میں اہم مشاورت جاری ہے کہ کس طریقے سے میاں نواز شریف اقتدار میں آ کر ان جن کے وہ نام لے رہے ہیں کس طریقے سے احتساب کیا جائے۔ میاں نواز شریف اب سخت رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا پلان ہے کہ جنہوں نے نواز شریف کے ساتھ زیادتی کی ہے ان کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہیے، نون لیگ کے قائد کو لندن میں اوورسیز پاکستانیوں نے کافی ستایا ہوا تھا بلکہ آئے روز گالی گلوچ بلکہ متعدد بار ہاتھا پائی تک جا پہنچتی رہی۔

نواز شریف اکتوبر میں واپس آ رہے ہیں، روک سکو تو روک لو، ظالمو! نواز شریف آ رہا ہے۔ یہ سلوگن قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے لیے ہر دیوار پر لکھا ہوتا تھا۔ لیکن آج میں نواز شریف کے لیے لکھ رہا ہوں۔ کیونکہ نواز شریف اس بار فاسٹ باؤلنگ نہی فاسٹ بیٹنگ کریں گے۔ جو کہ وہ پلان ترتیب دے چکے ہیں۔ اگر پاکستان میں ان کی گرفتاری ہوتی ہے تو وہ زیادہ لمبی نہی ہو گی، چند دنوں کے بعد ضمانت ہو جائے گی۔ بلکہ بعض ذرائع کہتے ہیں کہ ہر چیز طے ہو چکی ہے۔ نواز شریف نے اپنے تمام اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لینے کے لیے مکمل رابطے میں ہیں۔ نواز شریف کو میڈیا پر دکھانے پر پابندی لگی لیکن پریشر کی وجہ سے مجبوراً اٹھانی پڑی، نواز شریف سیاسی لیڈر ہیں اسی لیے ان کے سیاسی مخالفین گھبرا جاتے ہیں۔ نواز شریف کے وطن واپسی اب طے ہو چکی ہے

Facebook Comments HS