شُکر میں پوشیدہ سکون


خاندانی زمین و وراثت میں وہ بہت بڑا حصے دار تھا۔ پیدائشی ذہنی معذور تھا یا بعد میں حالات نے اسے عام انسان سے ابنارمل بنا دیا، اس بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔ لیکن ایک حقیقت بہت دلچسپ ہے کہ آپ جیسے ہی کسی پریشانی میں مبتلا ہوں، وہ کسی نا کسی کونے سے نمودار ہوتا ہے اور آپ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ آپ ایک روپیہ ہاتھ پہ رکھیں یا سو روپے، خاموشی سے مسکراتے ہوئے اگلی منزل پہ روانہ ہو جاتا ہے۔ منزل بھی کیا پورا دن گاؤں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک محو سفر رہتا ہے۔ اور پھر واپسی۔ دن ہو یا رات، بارش ہے یا خشکی، سردی ہے یا گرمی، اس کے حوالے سے کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب آرام کرے گا اور کب سفر کی مشقت دوبارہ سے شروع کر دے گا۔

موجودہ حالات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ پریشانیاں بڑھ رہی ہیں۔ مضبوط اعصاب کے مالک افراد بھی پریشانیوں کی ایسی گھمن گھیری میں گرتے جا رہے ہیں کہ بے بس ہو رہے ہیں۔ نامساعد حالات، ناکافی وسائل، اور مہنگائی کا بڑھتا ہوا بوجھ ہم میں سے ہر ایک کو جکڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں پریشان حال افراد کے پاس کوئی چارہ نہیں بچ رہا کہ وہ خوشحالی کی کوئی سبیل کریں۔ حیران کن امر بھی یہ ہے کہ ان مشکل ترین حالات میں بھی قدرت ہمیں شکر کا کوئی نا کوئی موقع لازمی فراہم کرتی ہے۔ اگر حواس قابو میں رکھتے ہوئے اس موقعے سے فائدہ اٹھائیں تو نا صرف مشکل حالات سے نکلنا ممکن ہو جاتا ہے بلکہ ذہنی، قلبی اور روحانی سکون کی منازل بھی ہم طے کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اور اگر ہم شکر کی اس منزل کو پہچان نا پائیں تو مشکلات ہمیں مزید بھنور میں ڈال دیتی ہیں۔ اور ہم نا چاہتے ہوئے بھی ڈپریشن، انزائٹی یا بلڈ پریشر کے عارضے کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ شکر کے لمحے کو پہچاننا، ہمیں بیماری میں بھی صحت سے نواز دیتا ہے۔

واپس آتے ہیں اس دلچسپ کردار کی جانب، جس کا نام ہم شاہد ہی تصور کر لیتے ہیں (اصل نام ظاہر نا کرنے کی وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ایک ابنارمل شخص بھی اتنا ہی عزت و تکریم کا مستحق ہے جتنا ایک عام مکمل صحت مند انسان) ۔ شاہد کے کردار کا تعارف آپ سے ہو چکا ہے۔ راقم الحروف کی حقیقی زندگی کچھ نامساعد حالات کی وجہ سے نا صرف مشکلات کا شکار ہوئی بلکہ ذہنی کرب میں اضافے کی وجہ سے صحت بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی جا رہی تھی۔ اچانک ایک دن نمازِ مغرب کی ادائیگی سے چند ساعتیں قبل، جب اقامت کی پکار بلند ہو چکی تھی کہ شاہد اچانک مسجد میں نمودار ہوا۔ اور ہاتھ پھیلا دیا۔

شومئی قسمت کے چند موجود نمازیوں میں سے صرف راقم الحروف کی منہ چڑاتی جیب کے کسی کونے میں چند روپے موجود تھے۔ وہی شاہد کو دے دیے اور وہ چپکے سے واپس چلا گیا۔ ایک دن، دو دن، تین دن۔ مسلسل تین دن اس کی یہ روش برقرار رہی۔ حالات مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود اسے ایک اتفاق گردانیے یا قدرت کا انتظام، کہ مسلسل تین دن راقم الحروف کے ہاتھوں سے اللہ کریم نے شاہد کو کچھ نا کچھ دینے کی ہمت عطا کیے رکھی۔ اس کی مسکراہٹ، میلے کپڑوں، اور نا سمجھ آنے والے الفاظ، ان سب نے مل کر تین دن میں ہی ایک ایسا سکون عطا کرنا شروع کر دیا کہ وسائل کی کم مائیگی، تنگ دستی، مسائل اور پریشانیوں سے توجہ ہٹنا شروع ہو گئی۔

شکر کا پہلا لمحہ یہ تھا کہ میرے خدا نے مجھ سے اگر نماز کی ادائیگی سے کچھ لمحے قبل، جائے نماز سے ہی، کسی کو کچھ دینے کی ہمت اور استقامت بخشی ہے تو یہ یقینی طور پر بہت اہم اور وحدہ لا شریک کی خصوصی عطا ہے۔ ہم تو راہ چلتے ہوئے ہزاروں مانگنے والے افراد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن یہاں تو خالقِ کائنات نے اپنے ہی گھر میں ہمارے سامنے ایک ایسے فرد کو سامنے لا کھڑا کیا جو اس فانی دنیا سے ہی بے نیاز ہو چکا ہے۔ اور سبب ایک ایسے شخص کو بنا دیا جو حالات کے ستم بہت مشکل سے سہ رہا ہے۔ فرق کیا پڑا؟ پہلے تین دن کے بعد وہ اب جب بھی مسجد میں آتا ہے تو موجود نمازی حضرات کا اشارہ بھی راقم الحروف کی طرف ہوتا ہے کہ شاہد آ گیا ہے اسے کچھ دو۔ یعنی اللہ نے اپنے گھر میں بیٹھ کر ناچیز کو خیرات کرنے جیسا عظیم کام سونپا۔ شب و روز گناہوں میں ڈوبے ہونے پہ بھی ایسا انعام مقامِ شکر نہیں تو اور کیا ہے؟

اس روش سے دوسرا فرق کیا پڑا؟ گناہ گار کو یہ سوچ اپنے خزانوں سے میرے مولا نے دی کہ اگر ایک بے ضرر سا انسان بھی ہنگامِ زندگی سے لڑ رہا ہے تو تمہیں تو اللہ نے ہر لحاظ سے مکمل بنایا ہے اور ہر صلاحیت سے بھی نوازا ہے۔ ذہن کی زحمت پہ سکون کی ایسی تہہ بچھنا شروع ہو گئی کہ پریشانیاں کم لگنے لگیں۔ مسائل کے حل دل و دماغ تجویز کرنے لگے۔ بڑھتا ہوا بلڈ پریشر متوازن ہونے لگا۔ دلِ ناتواں نے بھی ہمت پکڑ لی۔

یہ صرف ایک مقامِ شکر کا ادراک ہونے کا نتیجہ ہے۔ ہماری زندگی میں ہر روز ہمیں کئی مرتبہ ایسے مقامِ شکر ملتے ہیں جن کی پہچان ہو جائے تو ہم ہر پریشانی و مسلے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لیں۔ ہم شکر کے لمحات کو اپنے غصے، الجھن، ترشی اور نخوت کی وجہ سے جب کھو بیٹھتے ہیں تو مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم واٹس ایپ پہ ایک اداس سٹیٹس لگائیں اور ہمیں ایک منٹ سے بھی قبل لوگوں کے پیغامات آنا شروع ہو جائیں کہ مسئلہ کیا ہے تو کیا یہ نعمت سے کم ہے؟ آپ تنگدستی کا رونا رو رہے ہوں اور اللہ اپنے گھر میں ہی آپ کے ہاتھوں سے خیرات تقسیم کروانے کا آپ کو سبب بنا دے یہ کیا یہ مقامِ شکر نہیں؟ ہمیں اللہ مسائل کی گرداب عطا کر رہا ہے اس لیے کہ ہم گلے شکووں کے بجائے شکر کے آداب اپنا لیں تو کیا یہ خالقِ کائنات کا ہم پہ خصوصی کرم نہیں؟

ہمارے مسائل ہماری دانست میں بہت بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم اس حقیقت سے ہمیشہ نظریں چراتے ہیں کہ وہ بابرکت ذات ہم پہ اتنا ہی بوجھ ڈالتی ہے جتنا ہم سہ سکتے ہیں۔ وہ ہماری برداشت سے زیادہ کبھی ہمیں نہیں آزماتی۔ اور عارضی مسائل ہی ہمیں مقامِ شکر تک لاتے ہیں۔ ہم مقامِ شکر کو پہچان لیں تو فلاح منتظر ہوتی ہے، نا پہچان سکیں تو اذیت کچھ مزید طوالت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ زباں اہل زمیں ہے۔

Facebook Comments HS