ایک پراسرار کائنات: کیا خداپانسہ (ڈائس)کھیلتا ہے؟


کوانٹم مکینکس کی پیشن گوئیاں اتنی حیران کن اور ناقابل یقین ہیں جنہوں نے البرٹ آئن سٹائن جیسے عظیم سائنسدان اور کوانٹم مکینکس کے بانی کو اس حد تک غیر مطمئن کر دیا کہ انہیں کہنا پڑا :

”کوانٹم مکینکس یقیناً ایک متاثر کن تھیوری ہے۔ لیکن ایک اندرونی آواز مجھے بتاتی ہے کہ یہ ابھی تک مکمل تھیوری نہیں ہے۔ یہ نظریہ بہت کامیاب ہے لیکن ہمیں اصل حقیقت کے قریب نہیں لاتا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ (خدا) پانسہ نہیں کھیل رہا ہے۔“

وہ کیا عوامل تھے جن کی بدولت آئن سٹائن کو کہنا پڑا کہ خدا پانسہ نہیں کھیلتا۔ یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔

بیسویں صدی کے شروع تک سائنس کی بنیاد اس مفروضے پر قائم تھی کہ کسی بھی ذرے کی حرکت کی پیشن گوئی مکمل طور پر کی جا سکتی ہے۔ 1926 میں کوانٹم میکانکس کی آمد نے یہ تصور پاش پاش کر دیا۔ اس مضمون کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ ایسا کیسے ہوا کہ صدیوں پرانے تصورات چند سالوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے، اور ان کی جگہ ایسے تصورات نے لی جو ایک صدی گزرنے کے باوجود ناقابل فہم نظر آتے ہیں۔

کوانٹم میکانکس کا سب سے مشہور اور زیر بحث پہلو اس کی پیشن گوئیوں کی امکانی نوعیت ہے۔

سترہویں صدی کے آخر میں نیوٹن نے پہلی دفعہ حرکت کے قوانین وضع کیے۔ ان قوانین کے تحت فزکس میں trajectory ایک مرکزی تصور ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی گیند کسی دیوار کی طرف پھینکی جائے، تو کسی بھی لمحے میں اس کی پوزیشن کا مکمل تعین نیوٹن کے دریافت کردہ حرکت کے قوانین کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ گیند دیوار پر کس مقام پر ٹکرائے گی اس کی بھی انتہائی درستگی کے ساتھ پیشن گوئی کی جا سکتی ہے۔ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ اگر کسی ذرہ پر عمل کرتی ہوئی تمام قوتوں کا ادراک ہو تو اس ذرہ کی حرکت مکمل طور پر متعین ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں۔

ایک حیرت انگیز نتیجہ یہ ہے کہ کوانٹم میکانکس کے قوانین کے مطابق ذرہ کی حرکت کا مکمل تعین ناممکن ہے۔ ہم قطعی یقین کے ساتھ یہ پیشین گوئی نہیں کر سکتے کہ ایک مقررہ وقت کے بعد گیند کہاں ہو گی اور ہم قطعی طور پر یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ گیند دیوار پر کہاں ٹکرائے گی۔ ہم صرف ایک امکانی جواب دے سکتے ہیں جیسے ’99 فیصد امکان ہے کہ گیند ایک خاص اونچائی پر دیوار سے ٹکرائے گی۔ یہ امکان 100 فیصد (جیسے 99.9999 فیصد) کے بہت قریب ہو سکتا ہے لیکن کبھی بھی 100 فیصد کے برابر نہیں ہو سکتا۔

یہ بہت حیران کن ہے، اور ہمارے ان عام مشاہدات کے برعکس ہے جن کی وضاحت نیوٹن کے قوانین کے ذریعہ مکمل طور پر تسلی بخش انداز میں کی جا سکتی ہے۔

ایک سوال یہ ہے کہ سائنس دان اس انتہائی حیران کن نتیجے تک کیسے پہنچے۔ تقریباً تیس سال پر پھیلی ہوئی یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔

انیسویں صدی کے اخر میں سمجھا جا نے لگا کہ تمام قوانین فطرت کی دریافت مکمل ہو چکی اور فزکس اپنے اختتام کو پہنچ چکی۔ بس ایک معمولی سا مسئلہ تھا جس کو ان قوانین کے ذریعے حل کرنا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جب کسی دھات کو بہت گرم کیا جاتا ہے تو اس کا رنگ تبدیل ہونے لگتا ہے۔ پہلے سرخ، پھر نارنجی، اور اگر ٹمپریچر مزید بڑھایا جائے، تو نیلا ہو نے لگتا ہے۔ مسئلہ یہ تھا، کہ کسی خاص ٹمپریچر پر دھات کے کون سے رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ 1857 میں پیش کیا گیا تھا مگر چالیس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود، اس وقت کے قوانین کے مطابق اس کو حل نہیں کیا جا سکا تھا۔

یہ انیسویں صدی کے آخری دن تھے جب دسمبر 1900 میں یونیورسٹی اف برلن کے پروفیسر میکس پلانک نے اس مسئلہ کا حل بالآخر پیش کیا، لیکن اس کے لئے ان کو ایک بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ ان کو یہ فرض کرنا پڑا تھا، کہ دھات کے اندر ذرات کی توانائی پیکٹ کی شکل میں ہوتی ہے۔ ایک پیکٹ، دو پیکٹ، ۔ اس مفروضے کے تحت ڈیڑھ یا ڈھائی پیکٹ کے مساوی توانائی ممکن نہیں۔ یہ اس تصور کے برعکس تھا کہ توانائی لہروں کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کی کوئی بھی مقدار ہو سکتی ہے۔ یہ مفروضہ کوانٹم مکینکس کی طرف پہلا قدم تھا۔

اگلا اہم قدم 1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے اٹھایا جب انہوں نے فوٹو الیکٹرک اثر کی وضاحت کے لیے فوٹون کا تصور پیش کیا۔ اورپھر 1913 میں نیلز بوہر نے ایک ماڈل کے ذریعے ہائیڈروجن ایٹم سے نکلنے والی شعاؤں کی کامیابی کے ساتھ وضاحت کی۔ ان کی تفصیل میں اپنے پچھلے مضامین میں پیش کر چکا ہوں۔

یہ واضح تھا کہ نیوٹن کے قوانین ان مظاہر کی وضاحت کرنے میں بری طرح ناکام تھے۔

1900 اور 1925 کے درمیان کا عرصہ طبیعیات کی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا دور تھا۔ پرانی بنیادیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں لیکن نیوٹن کے حرکت کے قوانین کی جگہ لینے کے لیے کوئی نیا نظریہ موجود نہیں تھا، جو ان اور ان جیسے دوسرے مظاہر کی وضاحت کر سکے۔ نئے قوانین کی تلاش تھی جو نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کی جگہ لے سکیں۔

قوانین فطرت کے بارے میں ہماری سمجھ میں سب سے اہم موڑ جنوری 1926 میں آیا جب ایرون شروڈنگر نے کوانٹم میکانکس کی تھیوری وضع کی اور وہ مساوات (equation) لکھی جو شروڈنگر مساوات کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب ہمارے لیے کائنات کو سمجھنے کے لیے نئے قوانین وضع ہوئے۔

اس مساوات نے نیوٹن کے قوانین کی جگہ لی۔ شروڈنگر مساوات کی بڑی کامیابی یہ تھی کہ یہ ہائیڈروجن اور دوسرے ایٹموں سے نکلنے والی توانائی کی صحیح پیشن گوئی کر سکتی تھی۔

لیکن عجیب بات یہ تھی کہ جب کہ نیوٹن کے قوانین کا مقصد تو ایک ذرہ کی حرکت سے وابستہ پوزیشن اور رفتار کا تعین کرنا تھا، شروڈنگر کا مقصد ذرہ سے وابستہ ایک عجیب و غریب مقدار کو معلوم کرنا تھا جس کو انہوں نے wave function کا نام دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خود شروڈنگر تک کو نہیں معلوم تھا کہ اس مقدار کی کیا اہمیت ہے اور یہ کس طرح کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات میں انقلابی تبدیلی لائے گی۔

یہ پیش رفت میکس بورن کے کام سے ہوئی جنہیں کوانٹم مکینکس کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جون 1926 میں، انہوں نے wave function کی تشریح پیش کی جس کے مطابق کسی بھی نقطہ پر یہ مقدار، اس مقام پر ذرہ کو تلاش کرنے کے امکان سے وابستہ ہے۔ میکس بورن کی اس توجیہ نے احساس یقینی کے اس ڈھائی صدیوں پر محیط دور کو ختم کر دیا جس کی بنیاد نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین حرکت پر رکھی گئی تھی۔

لہٰذا، جب کہ نیوٹن سے وابستہ مکینکس کی بنیاد پر، ہم یقین کے ساتھ یہ پیشین گوئی کر سکتے ہیں کہ گیند دیوار پر کہاں ٹکرائے گی، کوانٹم مکینکس کے مطابق ایسا ناممکن ہے۔ کوانٹم میکانکس کے قوانین ہمیں صرف اس بات کا امکان فراہم کرتے ہیں کہ گیند اسکرین پر کسی خاص نقطہ سے ٹکرائے گی۔

ایک ذاتی نوٹ یہ ہے کہ 1950 کے لگ بھگ ایک نوجوان، ایمل وولف، نے میکس بورن کے ریسرچ گروپ میں شمولیت اختیار کی، اور ان کے ساتھ آپٹکس کے موضوع پر بیسویں صدی کی سب سے مستند کتاب تحریر کی۔ 1975 میں ایمل وولف میرے پی ایچ ڈی کے ایڈوائزر بنے۔ اور میں نے ان کی زیر نگرانی 1978 میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔

شروڈنگر کی مساوات اور میکس بورن کی توجیہہ نے تعیینیت کے خاتمے اور امکانی کائنات کے دور کی پیدائش کا اعلان کیا۔ یہ کام آخرکار ایسے نتائج کا باعث بنا جو اتنے عجیب اور حیران کن تھے کہ نہ صرف آئن سٹائن جیسے عظیم سائنسدان کو بہت بے چین کر دیا بلکہ بعض حوالوں کے مطابق شروڈنگر کو بھی کوانٹم میکانکس کے بانی ہونے پر پچھتاوا ہوا۔ ان میں سے چند نتائج اگلے مضامین میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

سائنس میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہو چکا تھا جس کے نتائج نے بیسویں صدی کو انسانی تاریخ کی سب سے منفرد صدی بنا دیا۔ یہ انقلاب آج تک جاری ہے۔

کوانٹم میکانکس اور کلاسیکی میکانکس میں کسی ذرے کی حرکت کی نوعیت بہت مختلف ہے۔ نیوٹن کے قوانین حرکت اور شروڈنگر کے قوانین حرکت کے درمیان بظاہر کوئی مماثلت نہیں ہے۔ تو ہم دونوں کے درمیان تعلق کو کیسے سمجھیں؟

سوال یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں امکانی نوعیت کو کیوں نہیں دیکھتے، جو کہ کوانٹم میکانکس کا مرکزی نکتہ ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ ہمارے مشاہدات کی نیوٹن سے وابستہ قوانین بہت درست انداز میں وضاحت کر سکتے ہیں؟

ان سوالوں کا جواب دینے کے لیے، ہم حرکت کے سب سے آسان مسئلے پر غور کرتے ہیں اور نیوٹنین میکانکس اور کوانٹم میکانکس دونوں میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دونوں طریقوں میں بنیادی فرق کہاں آتا ہے۔ یہ سادہ سا مسئلہ یہ واضح کرنے میں بھی مدد کرتا ہے کہ بنیادی نظریہ کوانٹم میکانکس ہے اور نیوٹن کی میکانکس اس صورت میں ایک تخمینہ ہے، ایک قابل ذکر طور پر اچھا تخمینہ ہے، جب بڑی اشیاء پر غور کیا جائے۔

ہم جس مسئلے پر غور کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک شے ایک مقررہ سمت میں مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ: ایک مخصوص ٹائم، مثلاً دو منٹ کے بعد ، یہ چیز کس مقام پر ہو گی؟

نیوٹن کی دریافت کردہ میکانکس میں اس سوال کا جواب سیدھا سادہ ہے۔ مثلاً اگر کوئی گیند 1 میٹر فی سیکنڈ کی یکساں رفتار سے حرکت کر رہی ہے تو یہ ایک منٹ کے بعد 60 میٹر، دو منٹ کے بعد 120 میٹر، تین منٹ کے بعد 180 میٹر وغیرہ کے فاصلے پر ہو گی۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم یقین سے بتا سکتے ہیں کس وقت گیند کہاں ہو گی۔ یہ نیوٹن سے وابستہ میکانکس کا طرہ امتیاز ہے۔

اب ہم اسی سوال کو کوانٹم میکانکس کے فریم ورک میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شروڈنگر مساوات کو حل کرنا ہو گا۔ یہ اتنا اسان نہیں ہے۔ اس کے لیے ریاضی کی جدید تکنیک کا علم درکار ہے۔ میں اس وقت کوانٹم میکانکس کے فریم ورک میں ذرے کی حرکت کا جائزہ لیتا ہوں۔ کوانٹم میکانکس، نیوٹن کی دریافت کردہ میکانکس کے بر عکس یہ نہیں بتا سکتی کہ وہ شے ایک یا دو منٹ کے بعد کہاں ہو گی، کوانٹم میکانکس صرف یہ بتا سکتی ہے کہ کسی مقررہ وقت پر اس شے کے کسی مقام پر پائے جانے کا کیا امکان ہے۔ یہ امکان شروع میں تو ایک مختصر جگہ تک محدود ہو گا، لیکن وقت کے ساتھ جیسے جیسے ذرہ حرکت کرتا ہے، پھیلتا جاتا ہے اور وہ خطہ جہاں اسے پایا جا سکتا ہے بڑھتا جاتا ہے۔ ذرہ کا سب سے ممکنہ مقام وہی ہے جہاں نیوٹن کے قانون حرکت کے تحت اسے ہونا چاہیے، لیکن وقت کے ساتھ یہ امکان بڑھتا جاتا ہے کہ یہ ذرہ اس مقام سے دور ملے جس کی پیشن گوئی نیوٹن سے وابستہ قوانین کرتے ہیں۔

یہ ایک چونکا دینے والا نتیجہ ہے جس پر ہماری عقل یقین کرنے سے قاصر ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جب اس ذرہ کو دیکھا جائے تو وہ مقررہ مقام سے ایک میٹر، دو میٹر، بلکہ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پایا جائے؟ اگرچہ اس بات کا امکان بہت کم ہے، تقریباً صفر کے برابر، مگر یہ صفر نہیں ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی حرکت پذیر شے کو ہمیشہ ایک اچھی طرح سے طے شدہ مقام پر پاتے ہیں۔ اور اس راستے سے کوئی انحراف نہیں دیکھا جاتا جس کی نیوٹن سے وابستہ میکانکس نے پیشن گوئی کی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

یہاں میں دو وجوہات پیش کرتا ہوں۔

پہلی بات یہ ہے کہ امکانی وضاحت صرف اس صورت میں درست ہے جب کسی چیز کو نہ دیکھا جائے، جب کہ ایک حرکت پذیر چیز، جیسے گیند، کو مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ مشاہدے کا عمل مسلسل wave function کو ایک مقامی نقطہ پر سمیٹتا ہے، اس طرح ہر لمحے اس چیز کوایک مخصوص مقام پر دیکھا جاتا ہے۔ اس طرح ذرہ کے حرکت کرنے کا راستہ نظر آ رہا ہوتا ہے اس طور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”راستہ“ تب ہی وجود میں آتا ہے جب ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ اگر شے کو نہ دیکھا جائے تب بھی امکانی بادل یا دھند کا پھیلاؤ انتہائی سست ہے۔ مثال کے طور پر ریت کے ذرے جیسی چھوٹی چیز کے لئے امکانات کے بادل کے قابل ذکر پھیلاؤ کے لئے کائنات کی عمر سے زیادہ طویل عرصہ درکار ہو گا۔ تاہم اس طرح کے پھیلاؤ کو ایٹم یا الیکٹرون کے سا‏ئز کی اشیاء کے لیے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

گیند جیسی کسی بھی شے کی سادہ حرکت کے لیے جو حیرت انگیز تصویر ابھرتی ہے وہ درج ذیل ہے : کسی بھی وقت، گیند کو کسی ایسی شے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا جو ایک اچھی طرح سے متعین پوزیشن پر موجود ہو، اگر اس کی طرف نہ دیکھا جا رہا ہو۔ اس کے بجائے، اس چیز کو ایک بادل کے طور پر تصور کرنا چاہیے۔ کوانٹم مکینکس میں اس بادل کوwave function کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ بادل ایک بڑے علاقے میں پھیلا ہوا ہے لیکن یہ کوئی حقیقی چیز نہیں ہے۔ یہ بادل درمیان میں گھنا ہے لیکن مرکز سے فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ پتلا ہوتا جاتا ہے۔ جیسے جیسے گیند حرکت کرتی ہے، بادل کی کثافت آہستہ آہستہ حرکت کی سمت میں زیادہ پھیلتی جاتی ہے۔ یہ ارتقاء اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ بادل کو نہ دیکھا جائے یا اس کی پیمائش نہ کی جائے۔ جیسے ہی گیند پر نظر پڑتی ہے، ایک بڑے خطے پر پھیلا ہوا بادل فوراً ایک ہی جگہ پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ اس کے پائے جانے کا امکان اس مقام پر بادل کی کثافت کے متناسب ہے۔

اس ناقابل فہم تصویر میں بہت سے بنیادی سوالات جڑے ہوئے ہیں۔
دیکھنے سے پہلے گیند کہاں تھی؟
کیا پیمائش یا مشاہدے سے پہلے ایک حقیقی گیند موجود تھی؟
وہ کون سا لمحہ تھا جب بادل چھٹ گئے، اور گیند ایک نقطے پر مرکوز ہو گئی؟

اس سے پہلے کہ ہم گیند کو دیکھتے، ایک بڑے فاصلے پر (اصولی طور پر ایک میل دور) گیند کے ہونے کا امکان غیر صفر تھا۔ لیکن جب اس پر نظر ڈالی گئی تو یہ امکان فوراً ایک ہی نقطے پر مرکوز ہو گیا۔

کوانٹم میکانکس قابل مشاہدہ مقداروں سے متعلق ہے۔ پوزیشن اور رفتار جیسی قابل مشاہدہ خصوصیات صرف اس وقت معنی رکھتی ہیں جب ان کا مشاہدہ اور پیمائش کی جاتی ہے۔

لیکن ان مقداروں کا کیا ہو گا جن کی پیمائش نہیں کی جا سکتی؟
کیا ان کا کوئی مطلب یا حقیقت نہیں؟
مثال کے طور پر، کیا کسی ایٹم میں الیکٹران کے مدار جیسے تصورات کا کوئی وجود ہے؟

یہ اور دیگر سوالات نے فطرت کے بارے میں ہماری سمجھ کے بارے میں ایک بحث کو جنم دیا ہے جو آج تک جاری ہے جس کا کوئی قطعی جواب نہیں ہے۔ تاہم، کوانٹم مکینیکل مساوات کی امکانی پیشین گوئیوں کا ایک شاندار ریکارڈ ہے۔ آج تک کوانٹم میکانکس کی ایک بھی پیشین گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی ہے۔

کوانٹم میکانکس کی آمد کے ساتھ ایک متعین دنیا کا خاتمہ اس کائنات کے بارے میں ہمارے تصور میں ایک بہت بڑا فکری انقلاب ہے۔

(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔ )

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy