سن 1930 کی دہائی کا سرکی شہر کیسا تھا؟
پانچ دریاؤں والے پنجند سے ذرا آگے جہاں سندھ، چناب کا ہاتھ پکڑتا ہے، سیت پور کا صدیوں پرانا قصبہ موجود ہے۔ مزید تھوڑا آگے بڑھیں تو دو دریاؤں کے بازوئی حصار میں موضع سرکی ہے جو آدھا یہاں اور آدھا اندر ہے یعنی دریا برد ہو چکا ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کا قصبہ سرکی اپنی قدامت اور تاریخی عوامل کے حوالے سے مسلمہ حیثیت کا حامل ہے۔ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی تہذیب کا ہم عصر یہ قصبہ اس قدیم گزرگاہ پر واقع ہے جو ایک طرف سے ٹھٹھہ، سکھر، سرکی، سیت پور اور ملتان سے ہوتی ہوئی پشاور اور آگے سینٹرل ایشیا تک چلی جاتی ہے تو دوسری طرف ملتان، ڈیرہ غازی خان اور دوسرے شمالی علاقوں کو راجستھان اور جنوبی ہندوستان سے ملاتی ہے۔ یہ قصبہ قدیم آبی گزرگاہ کے کنارے پر بھی واقع ہے۔
بزرگوں کی صدری روایت کے مطابق جب سکندر اعظم نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اس نے یا تو یہاں پڑاؤ کیا یا یہاں سے گزرا۔ محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کے وقت قصبہ سرکی سندھ کی مملکت کا حصہ تھا اور اس نے اوچ اور ملتان کو اسی راستے سے گزر کر فتح کیا، اس علاقے کے گرد کھجور کے پرانے درختوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اس کی فوج نے یہاں قیام بھی کیا۔
خان گڑھ ڈوئمہ، خان پور نہڑکا، بنڈہ اسحاق، خان گڑھ ڈوئمہ، کندائی، گبر ارائیں اور گھاگھری سے لے کر ڈھاکا اور گرد و نواح کے کئی مواضعات کا صدر مقام سرکی شہر عرصہ ہوا تغیرات زمانہ کی نذر ہو کر دریا میں غرق ہو چکا۔ اس کا قدیم بازار اس علاقے کی رونق اور کاروباری سرگرمیوں کا منبع تھا۔ یہ اس قدر کشادہ تھا کہ ٹرک اور اونٹ ریڑھے مال لے کے با آسانی آ جاتے، گو کہ اس بازار میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو دھرم کے لوگوں کی بھی دکانیں تھیں لیکن سب محبت اور امن و آشتی کے ساتھ رہتے۔
معروف صحافی اور ادیب رسول بخش نسیم برڑہ نے اپنی خود نوشت سوانح حیات ”پردے میں رہنے دو“ میں سن تیس، چالیس اور پچاس کی دہائیوں کے سرکی شہر کی رونقوں اور اس دور کے سماجی حالات، شخصیات اور جغرافیہ کا ذکر کیا ہے، ان کی یہ خودنوشت داستان حیات نوے کی دہائی میں اوچ شریف سے شائع ہونے والے سہ ماہی میگزین ”جہاں گشت“ اور بعد ازاں 2010 ء کی دہائی میں راقم الحرف کے زیر ارادت شائع ہونے والے پندرہ روزہ اخبار ”نوائے اوچ“ میں سلسلہ وار چھپتی رہی۔ رسول بخش نسیم کی پیدائش بھی اسی علاقے کی تھی، ان کا بچپن اور لڑکپن بھی اسی قصبے کی گلیوں، پگڈنڈیوں اور جنگلوں میں گزرا، دسمبر 2000 ء میں اوچ شریف میں وفات کے بعد آپ کو اسی علاقے کے آبائی قبرستان ٹبہ برڑہ میں دفن کیا گیا۔
رسول بخش نسیم سرکی قصبے کے حوالے سے اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ ”سرکی کا شہر بہت پرانا ہے، اس کا بازار بڑا پررونق ہے، یہاں اونچی اونچی ماڑیاں ہیں اور یہ شہر ان اونچی عمارتوں اور برگد کے ایک بڑے درخت سے دور سے پہنچانا جاتا ہے، یہ شہر ذیل داری کا صدر مقام ہے، جام سونا سرکی اس کے ذیلدار ہیں جن کے تحت سات مواضعات ہیں۔“
آگے چل کر رسول بخش نسیم لکھتے ہیں کہ ”سرکی کے چاروں اطراف جنگل ہی جنگل ہے، لیکن راہ چلتے مسافت کھجور، کیکر اور لائیوں کے درختوں کی وجہ سے دور سے ہی اپنی منزل کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔“
رسول بخش نسیم نے سرکی کے حوالے سے اپنے بچپن کی یادوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ”جمعۃ المبارک کے روز اردگرد کے علاقوں اور دریا پار بستیوں کے لوگ گروہ در گروہ سرکی میں نماز جمعہ ادا کرنے آیا کرتے تھے، ابو جان (غلام رسول برڑہ) مجھے اپنے کندھے پر بٹھا کر ہر جمعہ سرکی لے جاتے، وہاں ہندو برادری کے عالی شان گھر تھے، خوبصورت بازار تھا، ایک سرکاری سکول بھی تھا، اس سکول پر پیپل کے ایک بڑے سے درخت نے چھاؤں کر رکھی تھی، سکول کے ساتھ ہندو برادری کے لوگوں کی وسیع و عریض چوپال تھی، جہاں ان کا مکھیا ان کے سماجی و عائلی معاملات کے حوالے سے فیصلے کرتا، پیپل کے درخت کی گھنی چھتر سایا تلے تھکے ہارے کسان اور مسافر آرام کرتے، بچے اس کی مضبوط ٹہنیوں پر جھولے جھول کر خوش ہوتے، چڑیاں، توتے اور کوے وغیرہ اس درخت میں اپنے مساکن بنا کر چین اور سکون کی بنسی بجاتے تھے، قصبے کا یہ مرکزی مقام ذیلدار جام سونا سرکی کے ڈیرے کے سامنے تھا جہاں ہر سال عاشورہ محرم کے موقع پر تعزیہ بھی نکلتا تھا، قصبے کے جنوب میں راستے سے ذرا ہٹ کر ہندوؤں کا شمشان گھاٹ تھا جہاں ان کے مرنے والوں کا اگنی سنسکار کیا جاتا۔“
رسول بخش نسیم اپنی خود نوشت میں کئی جگہوں پر سرکی قصبے کا مختلف ادوار کے عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں جائزہ لیتے اور مذہبی آزادیوں کے حوالے سے بات کرتے ہیں، ایک جگہ لکھا کہ ”انگریز کے دور میں ہندوستان غلام سہی لیکن سرکی شہر میں تو مکمل مذہبی آزادی تھی، ہندو مسلمان، شیعہ سنی، سب ایک دوسرے کے تہواروں اور دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔“
رسول بخش نسیم کا آبائی گھر سرکی سے کچھ فاصلے پر واقع بستی ٹبہ برڑہ میں تھا، اپنی بستی سے وہ پیدل سرکی کے سکول میں پڑھنے کے لیے جایا کرتے، اپنی خود نوشت میں اپنی مادر علمی اور استاد صاحب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ”ہماری بستی سے لے کر سرکی شہر تک گھنا جنگل تھا، بازار کے آخری سرے پر ہمارا سکول تھا، پیپل کی مہربان گھنی چھاؤں نے سکول کے احاطے کو مکمل ڈھانپ رکھا تھا، سکول کے واحد کمرے کا دروازہ شہر کی طرف کھلتا تھا اور اس کی کھڑکی مغرب کی سمت کھلتی تھی، جس کے پیچھے جنگل بیلے کا وسیع سلسلہ شروع ہو جاتا، ہمارے سکول کے استاد جی کا نام دیومل صاحب تھا، ان کے سر پر ایک چوٹی تھی اور وہ دھوتی باندھتے تھے، اپنی جسامت کے لحاظ سے وہ دیوہیکل شخص تھے، ایک آنکھ سے کورے تھے، ہمیں پڑھانے کے علاوہ ان کا بہترین مشغلہ پیپل کے نیچے کسانوں کی منڈلی سجا کر تاش کھیلنا تھا، وہ خان گڑھ ڈوئمہ کے رہائشی تھے۔“
سرکی کے سکول کے حوالے سے رسول بخش نسیم نے مزید لکھا کہ ”سکول میں پیپل کے درخت کے درخت کے نیچے ایک کنواں بھی تھا جہاں شہر کی ہندو خواتین اپنے کپڑے دھوتیں اور اشنان کرتیں، سکول کے آگے ایک گلی جنوب کی طرف جنگل میں گم ہو کر دریا کے پتن پر جاتی جس کے دوسرے کنارے ایک اور گاؤں خان پور نہڑکا واقع تھا، دوسری گلی شمال کی طرف سرکی کے بازار میں گم ہو جاتی، سرکی کا بازار مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوا تھا۔“
سرکی شہر کے حوالے سے رسول بخش نسیم نے اپنی خود نوشت میں جو یاد نگاری کی، اسے پڑھنے کے بعد قاری اسی زمانے میں چلا جاتا ہے، البتہ نوے کی دہائی کے اوائل میں ہم نے اس بازار کو اپنی کم سنی میں اس وقت دیکھا تھا جب اشیائے خور و نوش وغیرہ خریدنے کے لیے ہمارے بڑے بھائی ہمیں سائیکل پر اپنے ساتھ لے گئے تھے، اس وقت یہ بازار ابھی مکمل طور پر دریا برد نہیں ہوا تھا، پرانے دور کے طرز تعمیر کی دکانوں اور نانک شاہی اینٹوں سے بنی اونچی ماڑیوں نے ہمیں مبہوت کر دیا تھا۔
13 دسمبر 1992 ء کو ہمارے بھائی جان شبیر احمد ناز نے پسماندگی، جاہلیت، سیلاب کی تباہ کاریوں کے شکار اپنے علاقے میں اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت سرکی میں ایک چھپر بنا کر اس کے نیچے بستی کے بچوں کو مفت تعلیم دینا شروع کی، یہ چھپر سکول بعد ازاں ”شان اکیڈمی“ کے نام سے مشہور ہوا جسے اس علاقے کے اولین سکول ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ ہمیں سکول کے طالب علموں کے پہلے ”بیج“ میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
ہمارے اسی چھپر سکول کے پہلو میں چاچا عزیز مہاجر کی قدیم دکان تھی، اس دکان میں وہ پارچات کے علاوہ وہ اسٹیشنری اور اشیائے خور و نوش کی چیزیں فروخت کرتے تھے، البتہ ان کے سخت رویے اور زائد المیعاد چیزیں رکھنے کی وجہ سے کوئی بھی ان کی دکان کا رخ نہ کرتا، کوئی قسمت کا مارا ان کے پاس ادھار کھاتہ کھلوانے آتا تو وہ اپنے قدیم رجسٹر پر اصل قیمت سے زیادہ نرخ لکھ کر اسے ناک سے لکیریں نکالنے پر مجبور کر دیتے تھے۔
لکڑی کے تختے والے دروازے پر مشتمل ان کی دکان اسی پرانے طرز تعمیر کی تھی جیسے سرکی بازار میں دیگر دکانیں تھیں، چاچا عزیزان کی وفات کے بعد ان کے ورثا یہ دکان اور گھر بیچ کر علی پور شفٹ ہو گئے، اس جگہ آج کل ہانبھی کا چائے خانہ قائم ہے، اس چائے خانہ میں لکڑی کی آگ پر بنی خالص دودھ والی چائے کا ذائقہ کئی دنوں تک زبان سے چپکا رہتا ہے۔
دو دریاؤں کی آڑی ترچھی سلوٹوں کے درمیان گھرا سرکی عہد رفتہ کے پررونق شہر سے اب ایک چھوٹے سے موضع میں تبدیل ہو چکا ہے، دریاؤں کے حسین سنگم پر موجود ہونے کے علاوہ اپنی تاریخی حیثیت، زرخیزی، شادابی، محل وقوع اور پتن کے باعث یہ ایک بہترین سیاحتی مقام بن سکتا ہے، یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور کھیتی باڑی سے وابستہ ہے، 1992 ء سے 2014 ء تک کے دوران آنے والے شدید سیلابوں نے جہاں اس علاقے کے مکینوں کی معاشی طور پر کمر توڑ دی، وہاں آمدورفت کے راستے بھی متاثر ہوئے، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنی محنت کا صحیح منافع حاصل نہیں کر پاتے، جب کہ اسی وجہ سے یہ علاقہ بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل اور گم نام ہے۔
سرکی کے مقام پر اگر پل تعمیر کر کے اسے سی پیک سے منسلک کر دیا جائے تو تین اضلاع راجن پور، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کی معاشی و اقتصادی طور پر قسمت بدل سکتی ہے، اس منصوبے سے نہ صرف آمدورفت میں اضافہ ہو گا بلکہ زرعی اور صنعتی شعبے میں بھی انقلاب برپا ہو گا۔


