ادب کی کہکشاں کا ایک ستارہ: صائمہ زیدی

(یہ مضمون جرمنی میں مقیم منفرد شاعرہ صائمہ زیدی کے لیے ٹورنٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ پذیرائی میں پڑھا گیا)
خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار،
حقیقت یہ ہے کہ میری حالت اِن دنوں اُس شتر مرغ کی سی ہے جو ریت میں سر چھپائے کسی محاورے میں بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔
اس کی وجہ؟
وجہ جاننے کے لیے آپ کو ایک بار پھر میرے ساتھ لاہور کی سیر کرنا ہوگی جب فلیٹیز ہوٹل میں اشرف جاوید صاحب کے اوّلین شعری مجموعہ ”نخلِ نوا“ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی تھی۔ سٹیج پراس دور کے کتنے ہی سینئر لکھاری رونق افروز تھے جبکہ صدرِ تقریب ڈاکٹر خواجہ زکریا صاحب تھے۔ مضمون نگاروں میں خالد احمد، نجیب احمد، قائم نقوی، اعجاز رضوی اور یہ بندہ عاجز بھی شامل تھا۔ ہم سب دوستوں نے اشرف جاوید صاحب کی خوب خوب حوصلہ افزائی کی اور ان کے اشعار میں میرو غالب سے لے کر شکیب و فراز تک کے تمام اہم شعرا کی خوبیاں تلاش کر ڈالیں اور حاضرین سے داد و تحسین وصول کر کے اپنے تئیں خوب پھول شُول گئے۔ ہمارے اس تحسینی غبارے میں سے ہوا تو تب نکلی جب صدرِ تقریب نے اپنے خطاب میں ”نخلِ نوا“ کی پذیرائی کم اور ہماری دُھلائی زیادہ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان شاعر کا پہلا مجموعہ ہے اور ابھی سے اس کے دوستوں کا اسے غیرحقیقی اعزازت سے نوازنا اسے گم راہ کرنا ہے اور اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو خوبیوں کے ساتھ ساتھ دوست کی خامیوں کی بھی نشان دہی کرے تاکہ وہ بہتر سے بہتر کہہ سکے۔ اُن کی بات بہت کڑوی لگی ہمیں۔ لگنی بھی چاہیے تھی، سچی جو تھی۔
خیر، شاید خواجہ زکریا صاحب کی اُس تقریر ہی کا کچھ اثر ہو گا کہ گزشتہ دنوں میں نے پاکستان میں ایک شاعر دوست کے ایک شعر میں جو انھوں نے فیس بک پر شیئر کیا تھا اپنی رائے ان باکس کی اور عرض کیا کہ ازراہِ کرم اپنے شعر پر نظر ثانی کر لیجیے۔ سوچا ابتدائی دنوں کا شعر ہو گا جو انھوں نے شیئر کر لیا۔
جواب آیا: ”کیا تکلیف ہے؟ کیوں پھر سے دیکھوں شعر کو؟“
میں نے ادب سے لکھا کہ شعر میں شتر گُربہ پایا جاتا ہے۔ ایک مصرع میں آپ نے اپنے محبوب کو تم کہہ کر مخاطب کیا ہے اور دو میں تُو سے۔ تو اساتذہ اسے شتر یعنی اونٹ اور گُربہ یعنی بلی کو ملانا کہتے ہیں۔
پتہ نہیں انھیں میرا ان کی محبوبہ کو اونٹ کہنا برا لگا یا بلی کہنا مگر صاحب اس کے بعد انھوں نے جو میری شتر گربگی کی ہے۔ بس کچھ نہ پوچھیے۔ ریت میں سر چھپاتے ہی بنی۔ یہ تو فیملی آف دی ہارٹ کے درویش پرندوں کی صدائیں تھیں کہ جنھوں نے مجھے ریت سے سر نکالنے پر مجبور کیا اور یہ خوش گوار خبر سنائی کہ عہدِ حاضر کی جانی پہچانی شاعرہ صائمہ زیدی ٹورانٹو تشریف لا رہی ہیں۔ صائمہ صاحبہ کو خوش آمدید کہنے کا اعزاز حاصل کرنا ضروری تھا کہ وہ نہایت عمدہ شاعرہ بھی ہیں اور پھر میرے پرانے مسکن جرمنی سے تشریف لا رہی تھیں۔ جرمنی میں میں نے تین برس سے اوپر کا عرصہ گزارا جہاں ریڈیو دوئچے ویلے کولون میں بطور ایڈیٹر یا پروڈیوسر کل وقتی پیشہ ورانہ خدمات کے ساتھ ساتھ ادبی فضا کو ذرا سا تحرک دینے کی کوششیں کیں۔ حلقہ ارباب ذوق جرمنی کی بنیاد رکھی اور پہلا سیکرٹری بھی مقرر ہوا۔ ریڈیو دوئچے ویلے کی طرف سے شاید اب تک کا واحد عالمی مشاعرہ منعقد کیا جس میں جرمنی کے علاوہ پاکستان، یوکے، آسٹریا اور نیدر لینڈ سے شعرا نے شرکت کی۔ لیکن آج یہ لکھ رہا ہوں تو لگتا ہے کہ کسی اور ہی عہد کی بات ہے۔ بہت پرانی۔ بہت پہلے کی۔ وہاں کتنے ہی ادبی دوستوں سے ملاقاتیں رہیں۔ لیاقت علی عاصم کے الفاظ میں کہوں تو :
ہم تم ستارہ وار، ملے تھے زمیں پر
لیکن یہ آسمان سے پہلے کی بات ہے
صائمہ زیدی صاحبہ غالباً اُن دنوں جرمنی کی فضاؤں میں اُتریں جب میں وہاں سے پرواز بھرنے کو تھا۔ سو، بالمشافہ ملاقات سے محروم رہا۔ جب وہ مہکتی جرمن فضاؤں سے یہ کہہ کر تعارفی مصافحہ کر رہی تھیں کہ:
مِری محبت پہ آیتِ دل اتر رہی ہے
کسے خبر تھی یہ اہتمامِ وصال ِ نو ہے
یہ بندہِ عاجز یہ مصرعے گنگناتے ہوئے اپنے شہرِ کولون کو خدا حافظ کہہ رہا تھا:
جانِ جاں، کولون میرے
جانِ جاں، ہم پھر ملیں گے
وقت کی دہلیز پر یا خواہشوں کے پار
لیکن غم نہ کرنا
خط لکھوں گا میں تجھے ہر خواب کے ساحل سے
رائین میں یہ ڈھلتی شام
میں نے قطرہ قطرہ چن لیا ہے یاد کا موسم
ادھر سانسوں میں کوئی کہہ رہا ہے پھر ملیں گے ہم
مہکتے جھلملاتے منظروں میں پھر کِھلیں گے ہم
ابھی تو بادباں خاموش ہیں
لیکن ذرا سی دیر میں
ہجرت کا لنگر اٹھنے والا ہے۔
سو، وقت کے جبر اور زندگی کے سفر کے باعث صائمہ زیدی صاحبہ سے جرمنی میں ملاقات نہ ہو سکی۔ تاہم وہ میرے لیے اجنبی کبھی نہ تھیں۔
ان کی دل کش شاعری ذرائع ابلاغ کے برقی اوراق کی وساطت سے نظر نواز ہوتی رہی۔ ان کی شعری تخلیقات نے میرے ذہن افق پر ان کا جو تصور قائم کیا وہ نہایت تاب دار اور روشن ہے۔ وہ نسبی اور اکتسابی ہر دو حوالوں سے محترم ادبی خانوادے کی رُکن ہیں۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کا موقر ادبی جریدہ ”فنون“ بھی ان کی شاعری کی دل پذیری کا گواہ ہے۔ صائمہ صاحبہ کے اشعار اور مصرعوں میں بکھری تخلیقی کائنات پر سرسری نگاہ کرنے سے ہی قاری پر چاند، ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں سے منور اور شب و روز کی طرح روشن ایک آسمان کا حُسن فروزاں ہونے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیے :
پھر اُس کے بعد سے یہ دل ہے داغ داغ
بس ایک رات چاند پر رہی تھی میں
بہت ملال سے کہتی ہیں اب تِری آنکھیں
یہ کیسے چاند کو ہم نے شبانِ غم کو دیا
ابھی ابھی تو دھنک کے نم نے چھوا تھا مجھ میں
ابھی ابھی تو میں نیند میں بات کر رہی تھی
مِرے طواف میں تھی ساری کائنات
کہ جب ترا طواف کر رہی تھی میں
طلوع ہو کر تری جبیں نے کہا کہ آؤ
میں پاؤں رکھتے ہوئے ستاروں پہ ڈر رہی تھی
کبھی ملے نہ طلب پر تری اداسی بھی
کبھی یہ ثابت و سیّار بے طلب مل جائیں
وہ جو سنہری دھند سی دیکھتے ہو سرِ اُفق
تم سے ملیں گے ہم وہیں عرصہِ جسم و جاں کے بعد
یوں تو متنوع عالمی شعری حوالوں سے آراستہ ایک مبسوط مقالہ بھی صائمہ صاحبہ کی شاعری پر رقم کیا جاسکتا تھا اور انھیں ان کے دل نشیں تخلیقی کارناموں کی روشنی میں غبارِ کہکشاں سے نمایاں ہوتا واحد تابدار ستارا قرار دیا جاسکتا تھا کہ یہ بہت آسان تھا۔ لیکن کیا کروں کہ صائمہ زیدی کی شاعری کے استعارے کہہ رہے ہیں کہ جدید تر حسیات کی ترجمان یہ شاعرہ اپنی شخصیت کی کشش اور تخلیق کی دل کشی کے باعث تنہا تو ہو ہی نہیں سکتیں۔ یہ تو وہ روشن ستارہ ہے جو روشن ستاروں کے جلو میں رہتا ہے۔ جو روایت کے آسمان سے وقار کی ضو جمع کرتا ہے، جدت کے مہ و خورشید سے تحیّر کی روشنی کشید کرتا ہے اور یوں فن کی عصری کائنات پر اُس کہکشاں کو روشن تر بنا دیتا ہے جس کے پہلو میں کتنے ہی چھوٹے بڑے، روشن اور نیم روشن ستارے آب و تاب دکھانے میں مگن ہیں۔ ان میں سے ہر ستارے کا تعارف ایک ستارے کی حیثیت میں بھی ہے اور ایک کہکشاں کے طور پر بھی۔ ایسے میں جی چاہتا ہے کہ شاعرہ سے استفسار کروں کہ:
تمھاری کہکشائیں کون سی دنیا کا پرتو ہیں؟
صائمہ کی شاعری مہ و مہر کی مثل نہیں جن کا سفر طلوع و غروب کے جبر سے مشروط ہو وہ تو اُس وسیع کہکشاں کا مستقل حصہ ہے جس کے بارے میں صائمہ کہتی ہیں :
کوئی پکارے مجھے کہکشاں کی وسعت سے۔
یہ وہ کہکشاں ہے جس کے تاب دار حُسن سے ماضی بھی مسحور ہوتا رہا۔ حال بھی حظ اٹھا رہا ہے اور فردا بھی یونہی جگمگاہٹیں سمیٹے گا۔ وہ اس کہکشاں سے آج متعارف نہیں ہوئیں۔ یہ تعلق ازل ابد کا ہے۔ وہ خود کہتی ہیں :
یہ مہر و مہ تو بہت بعد درمیاں آئے
کہ تیرا میرا تعلق تو ابتدا کا ہے
یہ فرد سے فرد ہی کے رشتے کی بات نہیں ایک تخلیق کار کے تخلیق سے تعلق کی داستان ہے۔
اگر سامعین میں بیگم بیٹھی دکھائی نہ دیتیں تو میں یہ راز کچھ بلند آواز میں افشا کر پاتا کہ تخلیق کار لاکھ رشتے استوار کر لے مگر اندر سے سگا وہ صرف اپنی تخلیق کا ہوتا ہے۔ وہ بظاہر ظاہری رشتوں سے مخاطب ہوتا ہے مگر بباطن اپنے حقیقی ہم۔ نفس سے مخاطب ہوتا ہے۔
اُس کا پہلا اور آخری سچا رشتہ حرف و اظہار سے ہوتا ہے اور میرے نزدیک اِسی ازلی ابدی تعلق کی بازیافت اور اس کے اظہار کی داستاں ہے صائمہ زیدی کی شاعری۔ وہ ہر باشعور لکھاری کی طرح بخوبی جانتی ہیں کہ شاعری ہی اُن کی ہم دم و رفیق ہے۔ جس کے بارے میں وہ کہہ رہی ہیں :
مِرے رفیق یہ اب منکشف ہوا مجھ پر
میں آئنوں سے نہیں تجھ سے ہم کلام رہی
تخلیق، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، انفرادی کوشش ہو کر بھی اجتماعی ثمرات کی حامل ہوتی ہے۔ یوں دیکھیں تو صائمہ زیدی کی شاعری ایک پھول کی نہیں، کسی ایک باغ کی نہیں بلکہ خوشبو کی کہانی ہے۔ خوشبو کا سفر جو سدا سے جاری و ساری ہے اور جس کے منتظر ہم سب ہیں :
میں کاٹ دوں پسِ دیوارِ باغ، عمر تمام
اگر مجھے تری خوشبو ہوا سے ملتی رہے
اور پھر یہ کہ:
خوشبو کے تسلسل کی روایت کے ہیں ہم لوگ
کب پھول سے ہم باغِ زمانہ میں نہیں تھے؟
تخلیقی خوشبو کے تسلسل کی روایت کی امین اِس خوب صورت شاعرہ کا شمالی امریکا، کینیڈا کی ادبی فضاؤں میں خیر مقدم ہے۔


