اشاروں کی زبان اور معذور افراد


جب بھی اشاروں کے متعلق بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے لوگوں کا خیال ٹریفک سگنلز جنھیں اشارے کہتے ہیں اس کی جانب جاتا ہے یا پھر ان اشاروں کی طرف فوری خیال جاتا ہے جنھیں گندے اشارے کہا جاتا ہے مثلاً منچلے آوارہ لڑکوں کے راہ جاتی اکیلی لڑکیوں کو سیٹی یا آنکھ مارنے جیسے اشارے، اسی طرح پاکستانی یا انڈین ڈراموں میں ساس بہو کے اشارے بھی بڑے مشہور ہیں لیکن حقیقت میں اشاروں کی زبان جن افراد (قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد) کے لئے مخصوص ہے ان کا ذکر کرنا بھی کوئی مناسب نہیں سمجھتا۔ اشاروں کا ذکر قدیم کتابوں میں بھی ملتا ہے کیونکہ انسان کو لفظوں کا شعور ملنے سے قبل اشاروں کے ذریعے ہی ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھانی پڑتی تھی۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال پرانے دور کی خاموش فلموں کا بھی تھا جس میں فلم بینوں کو اداکاروں کے اشارے یا پلے کارڈ جن پر ڈائیلاگ لکھے ہوتے تھے ان کو پڑھ کر فلم کے سین کو سمجھنا پڑتا تھا۔

چارلی چپلن کو خاموش فلموں کے دور کا سب سے بڑا کامیڈی ہیرو مانا جاتا ہے۔ چپلن کی فلموں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اشاروں کے ذریعے ایسی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا تھا کہ دیکھنے والوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتا اور جب چپلن اشاروں کے ذریعے کوئی ٹریجڈی سین کرتا تو شائقین دھاڑیں مار کر رو بھی دیتے تھے۔ چپلن کا یہ کیسا عجیب اور انوکھا ٹیلنٹ تھا کہ وہ ڈائیلاگ بولے بغیر لوگوں کو ہنسا بھی دیتا تھا اور رلا بھی دیتا تھا دراصل اس کے اشارے ہی اس کی زبان تھے اور انہی اشاروں کی بدولت چارلی چپلن کو اتنی عزت ملی کہ جب وہ سن 1972 میں آسکر ایوارڈ لینے اسٹیج پر پہنچا تو ہال میں موجود تمام افراد کھڑے ہو گئے اور چارلی چپلن کی باکمال اداکاری کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مسلسل بارہ منٹ تک تالیاں بجاتے رہے جبکہ یہ منظر دیکھ کر مسکراہٹیں بکھیرنے وال اچپلن آبدیدہ ہو گیا، اس سے قبل کسی نے چارلی کو یوں آنسو بہاتے نہیں دیکھا تھا۔ ایک مرتبہ اپنے ایک انٹرویو میں چارلی نے کہا تھا کہ ”مجھے بارش میں چلنا بہت پسند ہے کیونکہ کوئی میرے آنسو نہیں دیکھ سکتا۔“ آسکر ایوارڈ تقریب میں کسی اداکار کے لئے سامعین کا یوں کھڑے ہو کر مسلسل بارہ منٹ تک تالیاں بجانا نہ صرف ایک بڑے اعزاز کی بات تھی بلکہ یہ ایک ریکارڈ بھی مانا جاتا ہے شاید اسی لئے چارلی اپنے آنسو ضبط نہ کر سکا۔ چارلی چپلن کی وفات کو 45 سال سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں بہت سے لوگ چارلی کے اشاروں کا ٹیلنٹ کاپی کر کے اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اشاروں کی زبان کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ اشاروں کی زبان فطری زبان کہلاتی ہے جو ساختی طور پر بولی جانے زبان سے بالکل الگ ہے۔ قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد اشاروں کی زبان کاہی سہارا لیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لئے اشاروں کی زبان کو فروغ دینے کے لئے ہر سال 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ورلڈ فیڈریشن آف ڈیف کے زیراہتمام گزشتہ تین برسوں سے ”گلوبل لیڈرز چیلنج“ نام سے ایک مہم شروع کی گئی ہے جس میں عالمی سربراہان ممالک کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اشاروں کی زبان کو فروغ دینے کے لئے متحد ہو کر کوششیں کریں۔ اسی فیڈریشن کی جانب سے دنیا بھر کی تمام عوامی اور سرکاری عمارات کو نیلی روشنیوں سے جگمگانے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ اشاروں کی زبان کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ سماعت سے محروم افراد کی عالمی فیڈریشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 70 ملین سے زائد افراد سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔ دنیا بھر میں سات ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ سماعت سے محروم افراد بھی مجموعی طور پر 300 سے زیادہ اشاروں کی مختلف زبانیں استعمال کرتے ہیں۔ اشاروں کی زبان سیکھنا اور سکھانا ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ ایک طرف اشاروں کی زبان سکھانے والے پروفیشنل ٹیچرز بہت کم ہیں تو دوسری جانب سماعت سے محروم افراد کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ باقاعدہ کسی ادارے سے اشاروں کی زبان کو سیکھ سکیں ان محرومیوں کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کو معاشرے میں زندہ رہنے کے لئے بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔

پاکستان میں قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کو صحت، تعلیم اور روزگار کو مواقع مہیا کیے جا رہے ہیں۔ صدر عارف علوی نے پچھلے سال بہرے افراد کو میڈیا تک رسائی دینے کے ایکٹ 2022 کی منظوری دی تھی جس کے تحت کسی بھی سرکاری و نجی الیکٹرانک میڈیا، ٹی وی چینل یا کیبل ٹی وی پر سائن لینگوئج ترجمان کے بغیر کوئی بھی پروگرام، انٹرٹینمنٹ، اشتہار، ٹاک شو، ڈرامہ، فلم یا کسی قسم کا تصویری پروگرام ٹیلی کاسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کے ساتھ ہر شہری کو بنیادی اشاروں کی زبان کا جاننا بہت ضروری ہے تاکہ ان کے ساتھ روزمرہ بات چیت میں آسانی ہو سکے۔

Facebook Comments HS