ادبی ”ہلکے“ اور قومی مزاج


ہمارا تعلق ایک غیر ادبی گھرانے سے ہے۔ بچپن میں گھر میں کبھی مشاعرہ تو درکنار، بیت بازی کا چھوٹا موٹا مقابلہ بھی نہیں ہوا۔ تعلیم تقریباً انگریزی میڈیم حاصل کی۔ والدین سادہ طبیعت، تصنع سے عاری اساتذہ تھے لہٰذا کتب بینی کا شوق ان سے وراثت میں ملا۔

والدہ کا اردو لب و لہجہ بے حد خوبصورت اور شستہ تھا، کم و بیش وہی تمام بہن بھائیوں میں راسخ ہوا۔ طبیعت میں موزونیت فطری طور پر تھی۔ تک بندی ہوجاتی تھی۔ کالج اور جامعہ کے دور میں شعر گوئی کا شوق بھی پروان چڑھا۔ تو آدھے پونے شاعر کے طور پر بدنامی ہوئی۔ لیکن طبیعیات جیسا پیچیدہ، منطقی اور فلسفیانہ مضمون پڑھتے اور پڑھاتے ما بعد الطبیعیات کا رجحان بھی پنپتا رہا اور مذہب سے لگاؤ نے وہ چند آخری میخیں بھی ٹھونک بجا کر شخصیت کو اس قالب میں ڈھال دیا کہ

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔

تو جب ہم مسلسل فرمائشی مصرع طرح پہ عشقیہ غزل کہنے میں ناکام رہے (سمجھ تو آپ گئے ہوں گے ) تو محسوس ہوا کہ ادبی تربیت اور زرخیزی کی کمی ہے، چند ایک ادبی تنظیموں سے جڑنے کی کوشش کی۔ ابتدا میں یقیناً رنگینی و نو بہار دیکھ کر اچھا محسوس ہوا، پھر یکسانیت پیدا ہو گئی۔ ایک تو زیادہ تر بابے قسم کے خواتین و حضرات، یا پھر کم عمر جذباتی نوجوانان گرامی۔ ہماری دونوں سے نہ بنتی۔ پھر ایک عجیب روش اور چلن کہ

”وفا کرو گے وفا کریں گے،“ کے مصداق تم ”واہ کرو گے تو ہم واہ کریں گے“ ورنہ اپنی غزل لے کے کہیں اور نکلو میاں ہمارے پاس یہی سکہ چلتا پے۔ اگرچہ بقول اس عاجزہ کے

شاعروں ادیبوں کے لفظ گم جو ہو جائیں
ان پری جمالوں کے پاس پھر بچے گا کیا

”خواہش پذیرائی گر نکال دیں دل سے
خلق کرنے والوں کے پاس پھر بچے گا کیا

اس بات کا مکمل شعور اور ادراک ہمیں ہے کہ فیس بک کے اکثر تعلقات ”میوچوئل واہ واہ“ پر ہی قائم ہوتے ہیں لیکن جس قسم کے تعلقات ان ادبی ”ہلکوں“ میں رائج ہیں وہ ہم سے نہ ہو پایا۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام تنظیمیں اور تمام احباب ایسے ہی ہیں۔ اس دوران بہت سے باوقار اور باعمل خواتین و حضرات سے بھی ٹاکرا ہوا لیکن شعراء اور شعر و ادب کے دلدادہ اکثر لوگوں کو مالیخولیا کا شکار ہی پایا۔ جیسے ہر بات کرنے والے میں ایک ”پوٹینشل محبوب یا محبوبہ“ ڈھونڈ رہے ہوں۔ اور جو محبوب نہیں تلاشتے وہ پرستار تو خیر ڈھونڈتے ہی ہیں۔

اسی طرح کے ایک بابے نے ہمیں دوست بنانے کی درخواست بھیجی جو ہم نے ان کی رو پہلی زلفیں اور بھاری بھرکم نام دیکھ کر قبول کرلی۔ قبول کرتے ہی ٹھک سے پیغام بھی آیا کہ اپنا تعارف کروائیں۔ ہم نے ایک عاجزانہ اور منکسر المزاجی سے بھرپور تعارف کروا دیا۔ کچھ دن بعد فرمائش آئی کہ پروفائل پر شاعری لائک کریں۔ ہم نے جی ضرور کہہ کر جان چھڑائی۔ ہر کچھ عرصے بعد ایک اسٹیٹس لگا دیتے کہ لائک اور کمنٹ کریں ورنہ پروفائل نکالا دیا جائے گا۔ اور آخر فراغت کی انتہا یہ بھی دیکھی گئی کہ نوے سال کی عمر میں آپ نے جو بیس سالہ جذبات کی نمائندہ نظم کہی تھی اس پر لائک یا کمنٹ نہ کرنے کے جرم میں پروفائل سے دیس نکالا بھی دیا گیا۔ اور تو اور پچھلے ایک سال میں بارہا پیغام بھیج بھیج کر جو لائک اور کمنٹ کرنے کے منتیں ترلے کیے گئے تھے وہ بھی ”اَن سینڈ“ کر دیے۔ اب ہم اس سوچ میں غوطہ زن، کہ ہماری تو نہ ہوئی اَن بَن، پھر اَن سینڈ کیوں ہوا؟ ہم تو غمِ دوراں اور اس کے گنجلک عملی مسائل میں ایسے ہلکان ہوئے کہ ہمیں آپ کی شاعری پڑھ کر کسی معصوم دوشیزہ پری کی آنکھوں پر ذرہ برابر پیار نہ آیا تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ ہمیں کیوں نکالا؟ اور اگر نکالنا ہی تھا تو دوست بنانے کی درخواست کیوں بھیجی تھی۔ جو کہ ہم نے اس لیے قبول کرلی کہ روپہلی زلفیں گواہی دے رہی تھیں کہ عمر کے کار زار میں کچھ تو بردباری سیکھی ہوگی۔

ان سے سیکھی نہ گئی ہم سے سکھائی نہ گئی
بات یوں بگڑی کہ پھر ہم سے بنائی نہ گئی

تو تمام صورتحال کا بارہا سامنا کرنے کے بعد یہ شدت سے محسوس ہوا کہ ہر ادبی حلقہ شامل ہونے کے لائق نہیں ہوتا اور شاعرات کو خصوصاً علم و ادب میں اپنا سکہ جمانے کے لیے مرد حضرات سے کہیں زیادہ محنت اور صبر و برداشت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ نیز ہر شاعر ادبی حلقے کا حصہ بنے یہ ضروری بھی نہیں۔

مذاق برطرف لیکن کسی بھی خطے کا ادب وہاں کے لوگوں کی ترجیحات کا عکاس ہوتا ہے۔ اگرچہ میں ادب برائے ادب کے بالکل خلاف نہیں، اور کلاسیکی شاعری کی پرستار بھی ہوں۔ میر صاحب اور داغ دہلوی کے عشوہ و غمزہ طراز محبوب سے متاثر بھی ہوتی ہوں تو حسرت اور ناصر کی غزلیں گنگنا بھی لیتی ہوں اور ادب برائے زندگی کے بھی حق میں ہوں، لیکن ہمارے یہاں کے ادبا و شعرا اب تک جس شدت کے ساتھ پرانے موضوعات کو سینے سے لگا کر بیٹھے ہیں اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جمود اور گراوٹ ابھی کچھ اور عرصے تک ہمارا مقدر رہیں گے۔ کہ یہی ہمارا قومی مزاج ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور تدبر کا بوجھ ہم نے فی الحال دوسری اقوام پر ڈال رکھا ہے۔

Facebook Comments HS