کیا پشتون ثقافت محض پگڑی اور شلوار قمیض کا نام ہے؟
ہر سال 23 ستمبر ”پشتون کلچر ڈے“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ یقیناً ایک صحتمند اور خوشگوار عمل کہلایا جاسکتا ہے کہ کوئی قوم اپنے کلچر کے ساتھ وابستگی اور اس کے فروغ کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس موقع پر پگڑی، شلوار قمیص، اتن وغیرہ جیسے کلچر کے مردانہ اور سراسر مادی مظاہر کا یک روزہ اظہار زور و شور سے کیا جاتا ہے جو منفی سماجی روایات اور تباہ کن رجحانات پر کسی تنقیدی اور سنجیدہ غور و فکر اور تعمیری مکالمے کا باعث نہیں بنتا اور 23 ستمبر کے بعد سماج حسب معمول اپنے ٹریک پر گامزن ہوجاتا ہے۔
کلچر کے مٹیرئیل پہلو کو اجاگر کرنے والے اس تمام تر سوشل میڈیائی مشق اور ظاہری چمک دھمک پر مبنی وقتی کاسمیٹک جوش و خروش کے باوجود چند سوالات ایسے ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر اور اپنے دائرہ کار میں موثر کردار کی ادائیگی سے کلچر کے مجرد پہلو پر عملدرآمد کا موقع میسر آ سکتا ہے جو دوررس اور مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
1۔ پشتون عورت صنفی امتیاز اور انفرادی شناخت کے بحران کا کب تک شکار رہے گی؟
یو این ڈی پی سمیت دیگر ملکی اور غیر ملکی تحقیقی و رفاہی اداروں کے رپورٹس کے مطابق افریقہ سمیت دیگر علاقوں میں پوسٹ کانفلیکٹ دور میں تعلیم و صحت اور روزگار کے حوالے سے موجود جنسی امتیاز پر مبنی رجحانات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے جبکہ افغانستان اور پاکستان کے پشتون بیلٹ میں یہ رجحان یکسر مخالف سمت میں گامزن رہا ہے۔ اس رجحان میں خواتین کے متحرک سماجی کردار کے حوالے سے جہاں سلفی ازم سے متاثر مذہبی تعبیرات اور تشریحات کا عمل دخل کارفرما ہے وہاں صنفی امتیاز پر مبنی پشتون روایات اور مردانہ ذہنیت بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ مثلاً جمہوریت کے ساتھ اپنی تمام تر وابستگی کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پشتون قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے اندرونی شورائی نظام میں خواتین کی نمائندگی موجود نہیں ہے۔ انتخابات میں خواتین کی پولنگ کی حوصلہ شکنی کے واقعات عام ہیں۔
2۔ پشتون بچی کو اپنی مرضی کے مطابق تعلیم، صحت، روزگار اور تفریح کے یکساں مواقع کب میسر ہوں گے؟
شہری ثقافت میں عورت کے محدود پیمانے پر متحرک کردار کو پورے پشتون سماج کا آئینہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ پشتونوں کی اکثریت دیہاتوں میں سکونت پذیر ہے۔ پشتون علاقوں کے رورل سماج میں یا تو سرے سے تعلیم و صحت اور روزگار کے معیاری مواقع موجود ہی نہیں ہیں یا پھر تعلیم و روزگار کے حوالے سے ترجیحات کا تعین خالصتاً مردانہ ذہنیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے جس میں کسی بچی یا خاتون کی مرضی کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں ایک دلچسپ مشاہدہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ منبر و محراب سے جدید تعلیم کو مغربی تہذیب کے ساتھ جوڑنے کے نتیجے میں جدید تعلیم کی طرف خواتین کا رجحان کم ہو رہا ہے اور خواتین کے مدارس کی تعداد بڑھ رہی ہے جو سوائے فرقہ وارانہ تعلیم کے کسی وسیع سماجی خیر اور معاشی بہتری کا سبب نہیں بنتی۔
خواتین کے حوالے سے صنفی امتیاز سے پاک رجحان چترال کے اسماعیلی کمیونٹی اور کسی حد تک پاڑا چنار کی شیعہ کمیونٹی کے ہاں ملتا ہے جہاں خواتین تعلیم و صحت سمیت دیگر غیر روایتی شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
خواتین کی تفریح کے حق کے بارے میں مردانہ ترجیحات اور رجحانات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بڑے شہروں کے علاوہ پورے صوبے میں خواتین کے لئے مختص پارک یا کسی اور تفریحی مقام کے قیام کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اس کے برعکس لکی مروت، بنوں اور باجوڑ سمیت کئی علاقوں میں ایسے واقعات پیش آئے جہاں مذہبی طبقے نے خواتین پارکس کے قیام کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا اور ایسے کسی بھی منصوبے میں رکاوٹ بننے کا دیرینہ عزم دہرایا۔
3۔ ”عورت پرائے گھر کی چیز ہے“ اور ”عورت پاؤں کی جوتی ہے“ وغیرہ جیسی ظالمانہ اور غیر انسانی سوچ کا خاتمہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
یہ غیر انسانی اور مردانہ ذہنیت نہ صرف روزمرہ کا مستقل حصہ بن چکا ہے بلکہ پشتو لٹریچر میں ایسی غیر منصفانہ اور صنفی امتیاز پر مبنی محاورات اور خیالات کی بھرمار ہے۔ خوشحال خان خٹک کی شاعری میں ایسی کئی مثالیں جابجا موجود ہیں جو ادب و تہذیب کے تقاضوں کے پیش نظر بیان نہیں کیے جا سکتے۔ پشتون معاشرے میں خواتین معیاری لٹریچر تخلیق کرنے میں حصہ ڈال رہی ہیں لیکن انہیں کبھی ادبی محافل میں کماحقہ نمائندگی اور پذیرائی نہیں ملتی۔
4۔ وراثت و جائیداد میں عورت/بچی کے جائز شرعی و قانونی شیئر کی ادائیگی کے لئے مشران کی ذہن سازی کن خطوط پر کی جا سکتی ہے؟
اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی ہو چکی ہے لیکن چونکہ پورا نظام مردانہ ذہنیت کے مطابق روبہ عمل ہے اس وجہ سے قانون حسب معمول موم کی ناک بنا دی جاتی ہے۔ قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاح اور آگاہی بھی ضروری ہے۔ پشتون سماج میں مذہبی طبقہ افغانستان، کشمیر اور فلسطین کے غم میں تو ہلکان ہوتا ہے، یہودی سازشوں کی خبر رکھتا اور انہیں ناکام بنانے کی سعی تو کرتا ہے لیکن سماج کے زندہ مسائل کے حوالے سے اپنے کردار کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا ہے۔
سوالات کا ڈھیر ہے لیکن فی الحال اس بارے میں غور و فکر کیجیئے کہ ثقافت کے تخلیقی پہلو سے عورت کا کردار یکسر غائب کیوں ہے؟ یقین کیجیئے بیشتر مسائل کا تعلق محض ذہن سازی ہے۔ آگے بڑھیے اور اپنا کردار ادا کیجیئے۔


