خوبصورت انسان!


اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بلکہ یوں کہیں کہ قبل از بلوغت سے لے کر 47 سال تک کی عمر دشت سیاست میں گزری ہے، آپ جس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں یقیناً آپ کی سوچ کا محور اسی شعبے کے نشیب و فراز ہوں گے، تحریر ہو یا گفتگو، وہی شعبہ موضوع سخن ٹھہرے گا، جب لکھنا شروع کیا تو سیاست ہی تحریر کا زیب داستاں ہوا کرتا تھا، بلکہ اب بھی ہے، اس لیے کہ سیاست انسانی زندگی بلکہ انسان کی اجتماعی نظم کی خوبصورتی یا اس کے بگاڑ میں بنیادی محرک ہے، سیاست درست ہے تو نظام حیات دلکش و فرحت بخش ہوتا ہے، سیاست بیمار ہے تو معاشرتی زندگی جہنم کے کسی گوشے کی دنیاوی تعبیر بن جاتی ہے۔

لیکن آج سیاست کی بجائے خوبصورت انسان پر بات کریں گے کہ خوبصورت انسان کون ہوتا ہے۔

انسانی زندگی ہمہ جہت ہے، انسان چند لمحوں میں کئی کیفیتوں سے گزرتا ہے، ایک ہی دن میں انسانی مزاج کئی موسموں کے اتار چھڑاؤ دیکھتا ہے، خاموش رہتے ہوئے بھی اس کے چہرے سے ان موسموں کا احوال پڑھا جاسکتا ہے، دانا لوگ جب کسی کے پاس جاتے ہیں تو پہلے چہرے پر موسموں کا احوال پڑھ کر پھر گفتگو کا آغاز کرتے ہیں، انہیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ مزاج کی کیفیت کس نوعیت کی گفتگو کا متقاضی ہے، بسا اوقات یہ دانا لوگ اپنا اصل مدعا تک بیان کیے بغیر واپس پلٹتے ہیں کہ یہ موقع اس گفتگو کا نہیں جو میرا مطمح نظر ہے۔

یہ بات ہر ذی شعور انسان محسوس کر رہا ہو گا کہ ہماری سماجی جمالیات کا چہرہ بری طرح مسخ ہو گیا ہے، تلاش بسیار کے باوجود خوبصورت انسان ملنا مشکل ہو گیا ہے، بقول شاعر۔

ڈھونڈو اب انہیں چراغ رخ زیبا لے کر !

اب تو شاید ہم یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ خوبصورت انسان کی پہچان کیا ہوتی ہے، اس لیے کہ جب بونا ہونا معیار بلندی ٹھہرتا ہے تو پھر وہاں قدآور رہنا محال ہوجاتا ہے، بونا پن ہی مرکز نگاہ بن جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ہم اپنے ارد گرد خوبصورت انسان تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔

خوبصورت انسان کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پاس ایک خوبصورت دل اور تعمیری دماغ ہوتا ہے، اس کا دل محبت سے لبریز اور دماغ تعمیر انسانیت کے افکار کا پیکر ہوتا ہے، خوبصورت انسان کا دل کسی کی تکلیف پر ایسے غمزدہ ہوتا ہے جیسے کہ وہ خود اس تکلیف سے گزر رہا ہو، کسی کی خوشی میں ایسے مچلتا ہے جیسے کہ اس کے آنگن میں چراغاں ہو رہا ہو، خوبصورت انسان وہ ہے، جس سے آپ بلا جھجک اپنے دل کی بات کہہ سکتے ہیں، اپنے اشک اس کے دامن کے کسی پہلو سے باندھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ خوشی خوشی وقت گزار سکتے ہیں، ہنس سکتے ہیں، رو سکتے ہیں، مسکرا سکتے ہیں اور قہقہے بلند کر سکتے ہیں۔

خوبصورت انسان، ہمدردی کا حسین پیکر ہوتا ہے، اسے یہ غرض نہیں ہوتا کہ کس کے پاس کتنی دولت ہے، کتنی عشرت ہے، اور کس کی چھت سے کتنی غربت ٹپکتی ہے، اور گریبان سے کتنی عسرت دکھتی ہے، خوبصورت انسان کا مرکز نگاہ بس انسان ہی ہوتا ہے، اس کے دکھ سانجھے ہوتے ہیں اور خوشی اپنے ہوتے ہیں، خوبصورت انسان فن کار نہیں ہوتا، اس کے چہرے پر کئی چہرے نہیں ہوتے، وہ آپ کے لیے وہی بہتر سمجھتا ہے جو خود کے لیے منتخب کرتا ہے، خوبصورت انسان وہ ہوتا ہے کہ جس کا خیال آتے ہی آپ اپنے داخلی وجود میں خوشی کی لہر دوڑتی محسوس کریں، اس کے ہوتے ہوئے اکیلے پن کا تاثر ختم ہو جائے، اس کے ساتھ ہوتے ہوئے خود اعتمادی لوٹ آئے، اس کے ملنے سے بہار آئے اور بچھڑنے سے خزاں چھا جائے۔

خوبصورت انسان کے من کی دنیا روشن ہوتی ہے، اس کی روح میں کائنات ہوتی ہے، نگاہ بلند اور سوچ آفاقی ہوتی ہے، وہ سماج کی تعمیر کا خوگر ہوتا ہے، وہ اجتماعی مفاد کو معاشرے کا حسن گردانتا ہے، ذاتی غرض سے بے پرواہ کوئی نہیں ہو سکتا اور ہونا بھی نہیں چاہیے لیکن خوبصورت انسان کی ذاتی غرض کبھی بھی اجتماعی مفاد کا گلا نہیں گھونٹتی ہے بلکہ ذاتی غرض اجتماعی مفاد پر قربان ہونے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔

اب آئیں اپنے پس و پیش دیکھیں، کہ ہمارے ارد گرد کتنے خوبصورت انسان ہیں، ہمارا واسطہ روز درجنوں کبھی سینکڑوں لوگوں سے پڑتا ہے، میل جول ہوتا ہے، معاملات ہوتے ہیں، دوستانہ تعلقات ہوتے ہیں، خانگی رشتے ہوتے ہیں، آنا جانا لگا رہتا ہے، محفلیں سجتی ہیں، بزم آرائیاں ہوتی ہیں، مصافحے و معانقے ہوتے ہیں، بظاہر اخلاقیات کا ہر تقاضا پورا ہوتا نظر آتا ہے، لیکن پھر بھی خوبصورت انسان کی تلاش مشکل سے ہوتی ہے، یہ نسل ناپید ہوتی جا رہی ہے، اور اب تو

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ ہو چکی ہے۔

کیوں؟

اس لیے کہ ہم نے مل کر یہ طے کر دیا ہے کہ ہمارا سماج تھیٹر ہے، ہماری زندگی اسٹیج ہے، تھیٹر میں فنکار پلتے ہیں اور اسٹیج پر ڈرامے سجتے ہیں، تھیٹر جتنا بڑا ہو گا فنکار کی افزائش نسل اس قدر زیادہ ہوگی، بچہ ہوش سنبھالتے ہی سمجھ جاتا ہے کہ میں ایک تھیٹر میں ہوں، اگر فنکارانہ اطوار سے ہٹ کر زندگی کا اسٹیج سجانے کی کوشش کی تو زندگی اجیرن ہو سکتی ہے، ہر شخص قدآور ہونا چاہتا ہے، ہر انسان کامیاب بننا چاہتا ہے، جب سب دیکھتے ہیں کہ ناک کٹا ہونا قدآور ہونے دلیل ہے تو پھر ہر انسان ہوش سنبھالتے ہی اپنی ناک کاٹ کر قد آوروں کی صفوں میں شامل ہو کر کامیاب انسان بننا چاہتا ہے، ہمارے سماج کو کامیاب انسانوں کی ضرورت ہے، خوبصورت انسانوں کی نہیں، سو کامیاب ہونے کی جو دوڑ لگی ہوئی ہے اس میں دوڑنا شرط ہے، دوڑتے دوڑتے یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ کتنے گرے وجود آپ کے پیروں تلے روندے جا رہے ہیں، کتنی آہیں، کتنی سسکیاں آپ کی پنڈلی سے لپٹ رہی ہیں، کتنی فریادیں آپ کے گھٹنے پکڑ پکڑ کر آپ سے ٹھہرنے کی بھیک مانگ رہی ہیں تاکہ وہ روندے جانے سے بچ سکیں، لیکن جب ہم نے مل کر یہ طے کر دیا کہ کامیابی کے لیے بس دوڑنا شرط ہے اور ٹھہرنا موت ہے، تو پھر کیسی آہیں، کس کی سسکیاں اور کون سی فریادیں۔ یہ سب کچھ بے معنی ہیں۔

خوبصورت انسان کی کمی اب شدت سے محسوس ہوتی ہے، اجتماعی نظم کے جو اصول زندگی طے ہوچکے ہیں اگر ان میں ایک آدھا خوبصورت انسان نکل بھی آئے تو اس کی اپنی زندگی مثال عبرت ہوگی، اس کا اپنا وجود بھی کسی کے پیروں تلے روندا جا رہا ہو گا۔

خوبصورت انسان کی نسل کے خاتمے کے بعد سماج آب رواں سے جوہڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

چھوڑیں یہ کتابی باتیں، آئیں کامیابی کے لیے دوڑ لگائیں، یہ سوچے بغیر اور دیکھے بغیر کہ ہمارے پیروں کے نیچے کتنی حسرتیں ماتم کناں ہیں اور کتنی سسکیاں نوحہ زن ہیں۔

Facebook Comments HS