بلوچستان میں بریس پروگرام کا سفر، ایک جائزہ
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ غربت، سیاسی انتشار، اور سیکورٹی چیلنجز کے باعث بلوچستان ترقی کی شرح میں باقی صوبوں سے بہت پیچھے ہے۔ بلوچستان کا معاشی، معاشرتی اور سیاسی منظرنامہ پاکستان کے باقی صوبوں سے انتہائی منفرد ہے۔ پاکستان کے باقی تین صوبوں کے موازنے میں بلوچستان میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔ PSLM 2019/20 کے مطابق بلوچستان میں 58 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے۔ بلوچستان میں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے صوبہ میں دوران زچگی شرح اموات باقی صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔ بلوچستان میں شرح خواندگی % 46 ہے۔ بلوچستان میں قدرتی آفات، جیسے زلزلے، سیلاب اور خشک سالی لوگوں کی معاشی بدحالی اور غربت میں اضافے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کا با اختیار نا ہونا بھی بلوچستان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشی امور میں خواتین کی شمولیت بہت کم ہے۔ صوبہ بھر میں تعلیم کی کمی، ناخواندگی، محدود نقل و حرکت، سماجی اور مذہبی طریقوں کے ساتھ میڈیا تک ناقص رسائی کی وجہ سے لوگ اپنے حقوق سے ناواقف ہیں۔ حکومت بلوچستان پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے صوبہ میں ترقی اور غربت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔
بلوچستان رورل ڈیویلپمنٹ اینڈ کمیونٹی امپاورمنٹ پروگرام ( بریس BRACE ) اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بلوچستان میں غربت اور محرومی کی طویل تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے بریس پروگرام یورپی یونین کے تعاون سے شروع کیا گیا ایک چھ سالہ پروگرام ہے جو گورنمنٹ آف بلوچستان کی رہنمائی میں بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام اور رورل سپورٹ پروگرام نیٹ ورک کی شراکت سے بلوچستان کے دس اضلاع (چمن، دکی، جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، کیچ، خضدار، لورالائی، پشین، واشک، ژوب) کی نہی دیہی یونین کونسلوں میں کام کر رہا ہے۔ بریس پروگرام کو رورل سپورٹ پروگرامز کی سوشل موبلائزیشن کے اصولوں پر مرتب کیا گیا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد مقامی لوگوں کو با اختیار بنانا، بنیادی سہولیات تک رسائی کو بڑھانا، ذرائع معاش کو بہتر بنانا، لوگوں کی اقتصادی بہتری اور خواتین کو با اختیار بنانا شامل تھے۔
بریس پروگرام کے ذریعے لوگوں کو سماجی طور پر متحرک کرنے کے لیے اس پروگرام نے 290,000 دیہی گھرانوں کو محلہ، گاؤں اور یونین کونسل کی سطح پر منظم کیا تاکہ لوگ ایک ساتھ مل بیٹھ کر اپنی ضروریات اور مسائل پر بات چیت کریں۔ پروگرام کی وجہ سے تنظیموں نے سرکاری لائن ڈپارٹمنٹس اور مقامی سیاست دانوں کے ساتھ روابط بڑھائے جو کہ ان کی ضروریات اور مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی اور خود مختاری کے فروغ کے لیے پروگرام کے تحت مرد اور خواتین کو مختلف نوعیت کی ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ تقریباً 14000 انتہائی غریب گھرانوں کی 50000 روپے فی گھرانا تک کی مالی امداد کی گئی۔ اس کے علاوہ کمیونٹی انوسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے 14,714 غریب گھرانوں کوفی گھر اوسط 30,163 روپے کا بلا سود اور آسان اقساط پر قرضہ دیا گیا ہے، جن میں سے 62 فیصد خواتین ہیں، تاکہ لوگ غربت کے چکر کو توڑ سکیں۔ ایک سروے کے مطابق ان رقوم کو لوگوں نے اپنے تجربے کی مناسبت سے زراعت، لائیوسٹاک اور مختلف اقسام کے کاروبار میں خرچ کیا جس سے تقریباً 45 سے 51 فیصد لوگ انتہائی غربت کے درجہ سے نکل آئے۔
معاشی خود مختاری کے ساتھ ساتھ بنیادی انفراسٹرکچر تک رسائی اور صنفی مساوات پروگرام کے اہم اجزا ہیں۔ دیہی علاقوں میں معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے پروگرام کے تحت گاؤں کی سطح پر 357 ترقیاتی سکیمیں دی گئیں۔ ان سکیموں میں اسکولوں کی تعمیر، سیلاب سے بچاؤ کے لیے حفاظتی بند، سڑکیں، اور صاف پانی کے ذرائع قابل ذکر ہیں۔ یہ نہ صرف حالاتِ زندگی کو بہتر کرتی ہے بلکہ دور دراز علاقوں کو منڈیوں سے جوڑ کر معاشی ترقی کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں کی خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر خود مختیار بنانے میں بریس پروگرام کا کردار قابل تعریف رہا ہے۔ پروگرام کی وجہ سے اب خواتین گھر کے فیصلوں سے لے کر کاروبار اور کمیونٹی کی معاملات میں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہوتی ہیں۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں اکثر رکاوٹیں ناقابل تسخیر نظر آتی ہیں، کمیونٹیز کو با اختیار بنا کر، معاشی ترقی اور صنفی مساوات کو فروغ دے کر، یورپی یونین کا بریس پروگرام بلوچستان کے لیے خوشحالی کے سفر کا آغاز کرچکا ہے۔ یہ کامیابیاں چھوٹے پیمانے پر سہی لیکن ایک نمونہ ہیں کہ لوگوں کے ساتھ مل کر، ان کی مشاورت کے ساتھ ہی ان کی ترقی کا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹرسلمان اعجاز ماہر ِسماجیات ہیں اور رورل سپورٹ پروگرامز نیٹ ورک میں ریسرچ کوارڈنیٹر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے ہیں

