سیاسی صنعت کی مصنوعات ؛ ”ہیروازم اور پاپولزم“


”تیسری دنیا“ میں سیاست ایک نفع بخش کاروبار، بلکہ صنعت کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے نمایاں، مشہور و معروف کردار انجام کار سیاست کے میدان میں اپنی تقدیر آزماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

سرمایہ دار طبقات پہلے سے ہی سیاسی دنگل میں پنجہ آزما ہوتے ہیں جب کہ انہی کی دیکھا دیکھی نو دولتیے شہرت، ساکھ اور خود نمائی کی خاطر سیاسی میدان کو اکھاڑے میں بدلتے ہوئے کھلواڑ کرتے نظر آتے ہیں۔ سیاست میں سرمایہ کاری کی یہ ریت اس لیے بھی انوکھی ہے کہ اس میدان کارزار میں بہتوں کو قبول عام حاصل ہو جاتا ہے جسے خصوصاً نووارد اپنی قیادت کا کرشمہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔

سیاست کو ’پارٹ ٹائم جاب‘ سمجھنا اس طبقے کی فاش غلطی ہوتی ہے جس کا خمیازہ بالآخر انہیں بھگتنا پڑتا ہے۔ ایسے افراد جلد از جلد اپنے صرف شدہ سرمائے کی منافع سمیت وصولی کے متمنی ہوتے ہیں اور اس عجلت میں اکثر مالی معاملات میں بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں جب کہ کئی دیگر بدعنوانی کے الزامات کا شکار ٹھہرتے ہیں۔

جمہوریت اور سیاست کے دامن پہ ایسے کردار بدنما داغ ہوتے ہیں۔ احتساب کے ”قومی ادارے“ سیاسی کرداروں کے دائرہ کار کے گرد حصار باندھے انہیں ’کن اکھیوں‘ سے تکتے رہتے ہیں۔ موزوں وقت اور اشارہ ملنے پر موت کے منتظر قیدی کی طرح مشکیں کس دی جاتی ہیں۔

زندگی کے دوسرے شعبوں کے ہیرو اور شہرت یافتہ افراد بھی اپنی آخری آرام گاہ میدان سیاست میں ہی تلاشتے نظر آتے ہیں۔ شہرت، پذیرائی اور مقبولیت جیسی خصوصیات کے حامل ایسے افراد پر ہی طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ’فیصلہ سازوں‘ کی نظر ٹھہرتی ہے جو خود سب سے بڑے سرمایہ کار اور اس ہنر میں یکتائے روزگار ہوتے ہیں۔ سیاسی میدان میں داخلے سے کامیابی کی ضمانت پاتے ہوئے یہ افراد فیصلہ سازوں کے سامنے جی حضوری کی نادر مثال بنتے ہیں۔ انہیں کامیابی کے بعد کا تناظر یا تو معلوم نہیں ہوتا (بوجہ غیر سیاسی/نان پروفیشنل ہونے کے ) یا پھر دانستہ طور پر یہ بجائے قومی مفاد و اعتماد پر پورا اترنے کے اپنے ذاتی مقاصد کے حصول اور ”سرمایہ کاروں“ کے سرمائے، کاروباری و سیاسی مفادات کو تحفظ اور دوام بخشنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

کھیلوں کا میدان ہو یا فلمی دنیا، کھلاڑیوں اور ادا کاروں کی منزل مقصود شہرت، ’ہیرو شپ‘ اور ہیجان برپا کرتے ہوئے اپنے دیوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ شہرت کا حصول دولت کے حصول سے بھی بڑھ کر جائز و ناجائز ذرائع استعمال کرنے پہ اکساتا ہے اس لیے ایسے افراد میدان سیاست کا رخ کرتے ہوئے ہر کس و ناکس سے کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ افراد سیاست جیسی سنجیدہ سرگرمی کو اپنے شعبوں کی طرح تفریح طبع کا ذریعہ سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ ایسے میں جمہوری سیاست کی آلودگی، تعفن کا منظر پیش کرتی ہے جس سے غیر جمہوری قوتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں آسانی میسر آتی ہے۔ جمہوریت کو بطور ایک سیاسی نظام کے قابل نفرت ثابت کرنے کی یہ ایک منظم کوشش اور مذموم حرکت ہوتی ہے۔

قوم وقتاً فوقتاً اپنے شکووں اور شکایتوں کا اظہار بصورت لعن طعن سیاسی کرداروں کے خلاف کرتی رہتی ہے۔ عوام اپنی تمام تر محرومیوں اور بد بختی کا سبب انہی نام نہاد سیاستدانوں کو سمجھتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔ یوں جمہوریت و سیاست کے خلاف عوام الناس میں عدم اعتماد بلکہ نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ شاذ ایسے بھی ہوتا ہے کہ پیشہ ور سیاسی قیادت کے عوام دوست فیصلوں کو ریاست کے خلاف اقدام قرار دیا جاتا ہے، عوام میں سیاست بچاؤ سے ریاست بچاؤ کا نعرہ اور حب الوطنی کا چرچا عام کر دیا جاتا ہے۔

سیاسی بساط بچھانے اور لپیٹنے والوں کے ہاں اقبال کے اس شعر کی گویائی، شنوائی اور پذیرائی رہتی ہے ؛
پرانی سیاست گری خوار ہے
زمین میر و سلطان سے بیزار ہے

زمین بیزار ہوتی ہے یا نہیں، یہ فیصلہ اہل زمیں کو ہی کرنے کا اختیار دیا جائے تو نتائج جمہور اور جمہوریت کے حق میں ہونے یقینی ہوتے ہیں لیکن ”تجربہ گاہ“ میں تجربات کی روایت کو برقرار رکھنا جملہ حقوق کی حفاظت کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

نئے کرداروں سے پرانے کار سازوں کا بوریا بستر گول کیا جاتا ہے اور نئے نویلوں کی نت نرالی سرگرمیاں اگر ”قومی مفاد“ کے برعکس اور ”طے شدہ“ حدود و قیود سے متجاوز ہوں تو پھر انہیں بھی ”باعزت“ رخصت کرنے کا بہترین بندوبست، انتظام، اہتمام و انصرام کر دیا جاتا ہے۔ سیاست اور قیادت کو اک تماشے کی صورت دیتے ہوئے اس شعر کا مصداق بنا دیا جاتا ہے ؛

گیا دور سرمایہ داری گیا
تماشا دکھا کر مداری گیا

اب کے پھر سے سرمایہ داری و سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے جب کہ ہتھکنڈے وہی روایتی مگر تجدیدی حربوں کے ساتھ اپنائے جاتے ہیں۔ عوام جو کہ اس ساری آہنی مشق کے نتیجے میں معاشی بد حالی کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں، ایک دفعہ پھر چکمہ کھا جاتے ہیں۔ یوں حالات بھی نہیں بدلتے، سیاست بھی نہیں بدلتی البتہ، قیادت کی الٹ پلٹ بقدر ضرورت ہوتی رہتی ہے۔

طاقت کے اس شیطانی چکر سے نجات کا دیرپا، پائیدار، مستقل حل و ذریعہ تعلیم کو عام کرتے ہوئے اجتماعی شعور کی بیداری و آبیاری ہی ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر تاریخی جبر و معاشی استبداد کے شکار، شعور سے بے بہرہ، خوف کے عفریت کے ستائے، ہیجانی کیفیت میں مبتلا عوام قوت فیصلہ کھو دیتے ہیں اور ہوا کے رخ پہ اپنی کشتیاں لیے ساحل پہ خرامے اترنے کی دعائیں ہی کرتے رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS