تبدیل ہوتی زندگی


ہمارے مزاج پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہمارا رہن سہن، ہمارے اردگرد کا ماحول، موسموں کی شدت بھی اور ہم جس طرح کے لوگوں میں رہتے ہیں وہ گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ مزاج کا تعلق ہماری خوشی اور دکھ سے بھی جڑا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا دکھ کڑواہٹ بن کر سوچ سے ہوتا ہوا ہماری زبان تک چلا آتا ہے۔ اس لمحے میں جو لوگ ہمیں دیکھتے یا سنتے ہیں وہ ہمیں بدمزاج سمجھتے ہیں۔ لیکن جب مسرت ہمارے اندر سے پھوٹتی ہے اور ہم اس سرشاری میں بیچ راہ میں ہی جھومنے لگتے ہیں تو دیکھنے والے بھی اس پل کو محسوس کرتے ہیں اور لطف اٹھاتے ہیں۔

آج کل کے دور میں ایک اور اہم چیز بھی ہمارے مزاج پر اس قدر تیزی سے اثر انداز ہو رہی ہے کہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہو پا رہا ہے اگر ہے بھی تو ہم اس کو شاید سمجھ نہیں پا رہے۔ چند سالوں میں ایک جال کی طرح ہمیں ایک ایسی دنیا نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے کہ ہم اس جال سے خود کو نکال ہی نہیں پا رہے اور شاید ہم نکلنا ہی نہیں چاہ رہے۔ حقیقی زندگی کے ساتھ ساتھ چلنے والی سوشل میڈیا کی پگڈنڈی ہی اب ہماری اصل دنیا کا رخ دھار چکی ہے۔

ہماری زندگی کی تمام رنگینیاں، پیار محبت، لڑائی جھگڑے، دوستیاں اب گلی محلوں سے نکل کر ہمارے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر آ گئی ہیں۔ ہم اس مصنوعی پن کو سمجھ نہیں رہے۔ یہ ایک زندگی کے نام پر بہروپ ہے حقیقت نہیں۔ میں نے ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کی دنیا میں ہی رہنا شروع کر دیا ہے۔ وہ اس قدر کے اس عادی ہو گئے ہیں کہ وہ اپنا ایک ایک پل اس پر جی رہے ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے غرض کہ اپنی فیملی کے ذاتی معاملات کو بھی اس کی زینت بنا دیا ہے۔

وہ جو ہزاروں افراد کے لائک سے خود کو آسمان پر سمجھنے لگتے ہیں حقیقت میں یہ سوائے پانی کے بلبلہ کے کچھ نہیں۔ بالکل ایسے جیسے ہمارے ملک کے ایک سابق صدر سوشل میڈیا پر مقبولیت کی بنا پر پاکستان لوٹ آئے تھے مگر زمینی حقائق کچھ اور تھے یہ وقت نے انہیں بتایا۔ یہ بات بہت بھیانک ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ہمارے مزاج کو صرف تبدیل ہی نہیں کر رہا بلکہ ہمارے مزاج کو تباہ و برباد بھی کر رہا ہے۔

اکتاہٹ اور بے زاری اب ہمارے عمومی رویے ہیں۔ ہم ایک چیز پر اب اپنی توجہ (فوکس) مرکوز نہیں کر پاتے۔ جلد ہی اپنے عمل سے اکتا جاتے ہیں۔ کتاب سے دور تو ہم بہت پہلے ہی ہوچکے ہیں لیکن اب کتاب پڑھنے والے بھی چند صفحات سے زیادہ نہیں پڑھ پاتے، جلد طبیعت اوب جاتی ہے۔ عدم برداشت کی وجہ سے شارٹ ٹیمپرڈ ہوچکے ہیں۔ موبائل پہ ہماری اسکرولنگ چند سیکنڈ سے زیادہ رک نہیں پاتے۔ شارٹ ویڈیو کو بھی ہماری سوچ کا حصہ بنایا گیا ہے یا ہمارے اس مزاج کو دیکھ کر حصہ بنایا جا رہا ہے۔ آنے والے وقت میں تو اور بھی ہمارا انحصار انٹرنیٹ پر ہونے والے ہے۔ آرٹیفیشل انٹلیجنس نے اپنے پر پھیلانے شروع کر دیے ہیں۔ جس نے تو ان کو بھی پریشان کر دیا ہے جو ہم پر اس کو مسلط کر رہے ہیں کہ اس کا مستقبل ہماری دنیا کو کہاں لے جائے گا

Facebook Comments HS