ہم خود اپنے دُشمن ہیں

آپ کا کیا خیال ہے ریاستیں کوئی ایک دن میں ناکام ہوجاتی ہیں؟ کیا ریاستوں کی تباہی میں صرف حکمران اور پالیسی ساز ادارے ہی شامل ہوتے ہیں؟
جی نہیں اس میں عوام کا بھی کلیدی کردار ہوتا ہے بلکہ مُجھے کہنے دیں کہ جمہوری مُلکوں میں عوام ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ویسے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آپ مُجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن یقین کریں کہ یہاں تو اختلاف کی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں، اس لیے میں آپ سے یہ بھی نہیں کہوں گا کہ آپ مُجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ ہاں آپ کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ آپ مُجھ سے میرے اتنے بڑے دعوے کی کوئی دلیل مانگیں اور میں آپ کو دلیل دینا اپنے لیے فرض بھی سمجھتا ہوں۔
شروع حکومت سے کرتے ہیں۔
”پاکستان کو ہمیشہ کرپٹ حکمران ملے“
یہ میرا اور آپ کا ایسا جُملہ ہے جو ہم دن میں کئی بار دُہراتے ہیں، محفل جیسی بھی ہو اُس میں مُلکی حالات ضرور زیربحث آتے ہیں اور تبصرہ نگار کی تان اسی جُملے پر ٹُوٹتی ہے لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا، حُکمران منتخب کون کرتا ہے؟ جی ہاں میں اور آپ۔ چلیں تھوڑی دیر کے لیے یہ بھی مان لیتے ہیں کہ حُکمران بھی ادارے ہی چُنتے ہیں اور انتخابات میں دھاندلی ہوجاتی ہے تو بتائیں کتنے فیصد؟ چلیں بیس فیصد قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران دھاندلی سے آ جاتے ہوں گے لیکن اسی فیصد تو آپ ہی نے مُنتخب کیے ہیں۔ پھر آپ نے اپنا ووٹ کسی کرپٹ آدمی کو کیسے دے دیا؟ جی ہاں آپ کا جواب درست ہے آپ نے اپنا نمائندہ مُنتخب کرتے وقت اُس کا کردار، اُس کا ماضی، اُس کا ذریعہ معاش تو دیکھا ہی نہیں تھا، آپ نے صرف اپنی اُس سیاسی پارٹی کا ٹکٹ دیکھا تھا جو آپ کو بہت پسند ہے یا اُس پارٹی کا چیئرمین، صدر یا سربراہ پسند ہے، اگر پارٹی کا موجودہ سربراہ پسند نہ بھی ہو تو مُمکن ہے کہ آپ کو اُس پارٹی کا کوئی چالیس پچاس سال پہلے فوت ہونے والا سربراہ پسند ہو اور آپ اُسی کی وجہ سے مسلسل اُس پارٹی کے ہر امیدوار کو ووٹ دے رہے ہوں۔ اگر ایسا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے تو جناب پھر آپ کسی مرحوم سے تو پرفارمنس کا پوچھ ہی نہیں سکتے، اس لیے مُلک کا یہ حال ہے۔
میں ذاتی طور پر کئی افراد کو جانتا ہوں جو آج بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور اُن کا ماضی بھی ایسا ہی تھا لیکن اُن میں سے کئی آپ کے یونین، تحصیل، ضلع، صوبہ اور قومی سطح پر مُنتخب نمائندے ہیں۔ اب آپ ان جرائم پیشہ افراد سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپ کو ایک صاف شفاف نظام دیں گے اور ایسی قانون سازی کریں گے جس میں جرائم کا خاتمہ ہو اور آپ کے حقوق کا تحفظ ہو تو معاف کر دیں، آپ کسی بُہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔
آپ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہو کر اعلان کرتے ہیں کہ اگر فلاں سیاسی جماعت یا رہنما نے کھمبا بھی کھڑا کیا تو ہم اُسی کو ووٹ دیں گے اور مزے کی بات کہ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ شعور کی بلند ترین سطح ہے۔ معزز قارئین آج دن تک آپ کھمبوں کو ہی مُنتخب کرتے رہے ہیں، اس لیے ان کھمبوں نے اسمبلیوں میں جاکر آپ کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا بلکہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔ اگر آپ انسانوں کو مُنتخب کرتے تو حالات مُختلف ہوتے ہیں۔
کسی عالم نے کیا خوب کہا تھا کہ پاکستان دُنیا میں حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر آتا ہے مگر آپ پورا لاہور شہر گھوم لیں آپ کو کسی دُکان سے خالص دودھ نہیں ملے گا، صرف لاہور شہر ہی کیا آپ پورا پاکستان گھوم لیں آپ کو کہیں سے خالص دودھ نہیں ملے گا حالانکہ ہر دُکان پر کم از کم ایک حاجی صاحب تو ضرور موجود ہوں گے۔ ہم نہ تو اچھے مسلمان ہیں، نہ ہی اچھے شہری اور نہ ہی اچھے انسان پھر ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ہمیں اچھے حکمران ملیں۔
ہمارے کئی مسائل ایسے ہیں جو صرف اپنا کام (ڈیوٹی) درست طریقے سے سرانجام دینے سے حل ہو سکتے ہیں، اُن مسائل کے حل کے لیے نہ کوئی بیرونی امداد درکار ہے، نہ ڈالر کی کمی آڑے آ سکتی ہے مگر بدقسمتی سے ہم اپنا کام دُرست نہ کرنے کی وجہ سے اُن مسائل کا خاتمہ بھی نہیں کر سکتے۔ آپ کراچی میں پانی کا مسئلہ ہی لے لیں، حب ڈیم اور کینجھر جھیل حالیہ بارشوں سے مکمل بھر گئی مگر کراچی کے لوگ آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں کیونکہ واٹر بورڈ اور بلدیہ کے اہلکار دونوں ٹینکر مافیا سے ملے ہوئے ہیں وہ پانی ٹینکر مافیا کو تو بیچ دیتے ہیں مگر پائپوں میں عوام کے لیے پانی نہیں کھولتے۔
صفائی ستھرائی کا نظام ہی دیکھ لیں، بلدیہ، ٹاؤن کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کے پاس عملہ بھی ہے، آلات بھی ہیں، گاڑیاں بھی ہیں مگر آپ کو کسی بھی شہر میں صفائی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ کوئی بھی اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرتا۔ صفائی کرنے والا سٹاف یا تو ڈیوٹی پر آتا ہی نہیں اور مُفت کی تنخواہیں وصول کرتا ہے یا پھر اگر آتا ہے تو اہم شاہراؤں اور کُچھ مخصوص جگہوں کا کچرا آگے پیچھے کر کے واپس گھر چلا جاتا ہے۔ تھوڑی سی ذمہ داری اور ایمانداری سے یہ مسئلہ ہم خُود حل کر سکتے ہیں مگر ہم کرنے کو تیار نہیں۔
ایران سے پٹرول اور ڈیزل اداروں کی ملی بھگت سے ہم عوام ہی لے کر آتے ہیں۔ ہم عوام ہی ڈالر خرید کر ذخیرہ کر لیتے ہیں اور مُلک میں ڈالر کی مصنوعی قلت اور اُس کی قدر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ہم عوام ہی چینی اسمگل کر دیتے ہیں۔ ہمارا تاجر ٹیکس بھی چوری کرتا ہے، بجلی بھی چوری کرتا ہے، دو نمبر اور اسمگل شدہ مال بھی فروخت کرتا ہے۔ صبح جلدی دُکان کھولنے اور جلدی بند کرنے پر راضی بھی نہیں لیکن اپنے اور عوام کے تمام مسائل کا ذمہ دار حکومت یا آئی ایم ایف کو سمجھتا ہے۔
گلی گلی منشیات فروخت ہو رہی ہیں، مقامی تھانے کے اہلکار ملے ہوتے ہیں مگر نہ عوام میں سے کوئی اُن منشیات فروشوں کو روکنے کی ہمت کرتا ہے اور نہ کوئی ادارہ۔ آپ کسی ایک چیز کی قیمت پوچھتے ہوئے صرف ایک ہی مارکیٹ کی چند دُکانیں گھوم لیں سب کا ریٹ جُدا ہو گا کیونکہ آپ کی پرائس کنٹرول کا ادارہ کام کرنے کو تیار نہیں۔
اگر کسی شہر میں حلال فوڈ اتھارٹی درست کام کرنا شروع کردے اور ملاوٹ شُدہ مال تلف کر کے ذمہ داران پر جُرمانے عائد کرنا شروع کر دے تو اُس شہر کے تاجر یکجا ہو جاتے ہیں اور بدقسمتی سے وہاں کے رپورٹر بھی تاجروں کی زبان بن جاتے ہیں اور فوڈ اتھارٹیوں کو کام کرنے سے روکنے کے خواہش مند ہو جاتے ہیں۔
آپ کسی شہر کے کسی بھی محکمے میں کسی کام کرنے والے افسر کو دیکھ لیں، تمام افسران، مقامی تاجر، مقامی رپورٹر اور کُچھ صحافی اُس افسر کے مخالف ہوں گے۔ ان حالات میں ہم، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا دُشمن آئی ایم ایف ہے یا کوئی حکومت۔ ہم سب خود اپنے دُشمن ہیں اور ہم خود ہی اپنے مُلک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

