انفرادیت
ذہن کو خدا کے عطا کردہ خوبصورت مظاہر میں سے ایک اور پیچیدہ ترین کہا جانا کسی گھاٹے کا سودا نہ ہو گا۔ کروڑوں ذہن مگر سب الگ، سب جُدا، سب مُنفرد اور انفرادیت پر مُشتمل ہیں۔ جب ہنسنا رونا ایک ہے تو سوچ کیونکر مختلف ہے؟ آخر وہ کون سا محرک ہے جو اِس خانہ خرابی کا ذمہ وار ہے؟ دنیا میں موجود بہت سے نظام و ضبط کے شعبے اِس پیچیدگی کو سلجھانے کے کوشش کرتے آئے ہیں مگر اب نفسیات اس میں ایک اہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ انسانی ذہن ایک ایسی نفسیات ہے جو ہر وقت بدلتے ہوئے ایک تغیر کے مترادف نہیں بلکہ بالکل یہی ہے۔ نہ اِسے پکڑا جا سکتا ہے نہ ہی کسی ٹھوس مورت میں اتارا جا سکتا ہے۔ صدا کا قحط پڑے گا تو ہم ہی بولیں گے کہ مُصداق، کون کیا سوچتا ہے، کس بات کا ادراک کیسے کرتا ہے کوئی نہیں جان سکتا۔ میرے رونے کی ترجمانی کسی کے ذہن میں خوشی کے تصور میں بھی پنپ سکتی ہے۔ لہٰذا ذہن اور الفاظ ایسے بدبخت قیدی ہیں جو صدیوں سے آزاد ہو کر بھی قفس میں ہی رہے۔ نفسیات بھی انسانوں ہی کی مگر انسانوں کے درمیاں ہی کہیں کھوکھلی ہو کر رہ گئی ہے۔
جو سر بھی کشیدہ ہو اُسے دار کرے ہے
اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے
مان لیجیے کہ آپ کا ایک انتہائی غضب ناک دُشمن آپ ہی کے پہلُو میں بیٹھا ہے۔ اور آپ تمام تر آزاد ہونے کے باوجود اُس کی گرفت سے خود کو نکال نہیں پا رہے۔ وہ آپ کو رُلاتا ہے، وہ آپ کے لیے پھول لاتا ہے مگر محض کانٹوں سے ہمکنار کروانے کے لیے۔ وہ آپ کے گلے میں رسی باندھ کر کُتوں کی مانند آپ کو سڑکوں، گلیوں، چوراہوں، شاہراہوں پر گھسیٹتا ہے۔ کڑی دُھوپ میں آپ سے ننگے پاؤں چلنے کے لیے کہتا ہے۔ آپ کا زرہ زرہ نوچ کھاتا ہے۔ ذرا رُکیے۔ اِس سے بھی بُرا کیا ہو گا؟ حضور ہو گا بالکل ہو گا۔ جب بظاہر جسم کو ایک کھرونچ نہ ہوگی مگر ذہن چھلنی چھلنی ہو گا۔ بِنا کسی لشکر کے، بِنا کسی انعام کے، بِنا کسی دام کے جب ذہن میں تلواروں کا شور ہو گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کِسی مسافر کے گھڑوں کے سِموں کی آواز ہمہ تن گُونجتی رہتی ہے۔ اور اپنی ہی بازگشت کہیں کھو جاتی ہے۔ آپ کو لگتا ہے مسافر ابھی چلا جائے گا مگر وہ تو لال جوتے پہنے ناچتا ہے اور آپ کو بھی نچاتا ہے۔ آخر یہ کیسا غنیم ہے جِس کا کوئی وجود نہیں مگر میری اپنی ہی ذات کے سِوا۔ یہ آئینے میں کِس کا عکس بنتا ہے؟ یہ میں ہوں یا وہ جو میرا ذہن مُجھے دِکھاتا ہے؟ لیکن ان تاریکیوں کے نہاں خانوں میں اِس جنگ میں بہتا ہوا میرا لہُو جو میں نے اپنے لبوں سے سینچا ہے، مُجھے اُس پر فخر ہے۔ میرے کندھے کو تھپکی دیتی، میرے کھِنچے ہوئے اعصاب پر مرہم لگاتی میری ذات پر مُجھے فخر ہے۔
میرے تَن کے زخم نہ گِن ابھی میری آنکھ میں ابھی نُور ہے
میرے بازوؤں پر نگاہ کر جو غرور تھا وہ غرور ہے


