سوشل میڈیا پر بچے: یہ بھی چائلڈ لیبر ہے
چند دن پہلے اخبار میں سندھ حکومت کے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے دیا گیا ایک اشتہار نظر سے گزرا۔ اشتہار کے مطابق بچوں سے جبری مشقت اور گھروں میں کام کاج کروانا تشدد کے زمرے میں آتا ہے اس لیے عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ بچوں پے تشدد کے واقعات کی فوری اطلاع دیں۔ بچوں سے مشقت کرانے کا تو رواج اس خطے میں ہی کیا دنیا بھر میں صدیوں پرانا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً تین کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں اور یقیناً ان میں سے اکثریت کہیں نا کہیں محنت مزدوری کر کے اپنے کنبے کی کفالت کا فریضہ انجام دے رہی ہو گی۔ ہمیں اپنے اردگرد بے شمار بچے گھروں دکانوں کارخانوں ہوٹلوں پیٹرول پمپس پے کام کرتے اور سڑکوں پے کچرا چنتے دکھائی دیتے ہیں انہیں ہم چائلڈ لیبر میں شامل کر لیتے ہیں ایک بڑی تعداد بھیک مانگنے والے بچوں کی ہے یہ بھی اپنے گھر کے کفیل ہوتے ہیں اور ہر وقت سڑکوں پے دکھائی دیتے ہیں انہیں تو کسی کے رپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کم از کم انہیں بھیک مانگنے سے روکنے کے لیے حکومتی مشینری کو خود حرکت میں آنا چاہیے مگر رونا تو اسی بات کا ہے کہ اگر ہماری حکومتیں اتنی متحرک اور ذمے دار ہوتیں تو ہمیں یہ دن نا دیکھنے پڑتے جو ہم اب دیکھ رہے ہیں۔
خیر اب زمانے کے انداز بدلے جا رہے تو اسی کے مطابق ساز اور راگ بھی بدلے جا رہے ہیں۔ ابھی تک تو صرف غریبوں کے بچے ہی محنت مشقت کر کے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے تھے مگر اب متوسط اور کھاتے پیتے گھرانوں کے افراد بھی اپنے بچوں سے جبری مشقت کروا کر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ غریب کا بچہ سڑکیں صاف کر کے روکھی سوکھی کما رہا ہے امیر کا بچہ سڑکوں پے ناچ کر سوشل میڈیا اسٹار بنا ہوا ہے گھر والوں کو لاکھوں کما کر دے رہا ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ ایک بچے کی معصومانہ باتوں اور حرکتوں کو اس کے لواحقین نے ٹک ٹاک وڈیوز کے ذریعے خوب کیش کیا یہاں تک کہ بچہ ٹی وی اسٹار بن کر پیسہ کمانے کی مشین بنا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا کے جس پلیٹ فارم پر نظر ڈالیے یو ٹیوب فیس بک ٹک ٹاک واٹس ایپ ہر جگہ لاتعداد ایسی وڈیوز دکھائی دیتی ہیں جن میں معصوم حتیٰ کہ نوزائیدہ بچوں کو انتہائی واہیات اور گھٹیا قسم کی تفریح فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان گھٹیا وڈیوز میں تفریح کا عنصر پیدا کرنے کے لیے کہیں تو زبردستی معصوم بچوں کو رلایا جاتا ہے کہیں خوف زدہ کیا جاتا ہے کہیں ہنسایا جاتا ہے اور کہیں تمام انسانی اور اخلاقی حدود عبور کرتے ہوئے بچے کو برہنہ تک کر دیا جاتا ہے۔ ان سب کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے کہ اس چیز سے لوگ خوش ہو جائیں وڈیوز لاکھوں کی تعداد میں دیکھی جائیں تاکہ کروڑوں کی تعداد میں پیسا کمایا جا سکے۔ اس سے زیادہ اخلاقی پستی کی کوئی مثال ہے تو بتائی جائے۔
ان دنوں ایک بہت ہی پیاری اور معصوم بچی کی وڈیوز بھی فیس بک پے بہت دکھائی دے رہی ہیں۔ ان وڈیوز میں بچی کی باتوں سے تفریح پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اکثر اوقات والدین بچی کی باتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے اسے اشتعال دلاتے ہیں بچی غصے کا اظہار کرتی ہے۔ اکثر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگتی ہے۔ بچی کی حالت دیکھ کر والدین بہت خوش ہوتے ہیں۔ خوب قہقہے لگاتے ہیں۔ اپنی اولاد کو رلانا اسے روتے دیکھ کر خوش ہونا۔ یہ کیا مذاق ہے کون سی اخلاقیات اس کی اجازت دیتی ہیں؟ انہی وڈیوز میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچی کی والدہ اپنے شوہر کے سامنے بچی سے کہتی ہیں کہ وہ اپنے لیے دوسرا بے بی اور شوہر لے آئیں گی۔ یہ دیکھ کر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ یہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ جو کچھ بچوں کے سامنے غلطی سے بھی نہیں کہنا چاہیے کہ ان کے ذہن کچے ہوتے ہیں ان پے جو بات نقش ہو جائے اسے مٹانا مشکل ہوتا۔ ہے لوگ وہ باتیں بچوں سے مذاق میں کر رہے ہیں اور فخریہ دنیا کو دکھا بھی رہے ہیں۔
یہ وہ وڈیوز ہیں جنہیں دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے ان والدین کی تعلیم و تربیت پے ماتم کیا جائے۔ ایک طرف وہ غریب والدین ہیں جو دو وقت کی روٹی کی خاطر اپنے پھول جیسے معصوم بچوں کو حوادث زمانہ کے حوالے کر دیتے ہیں دوسری طرف وہ والدین ہیں جو سب کچھ ہوتے ہوئے صرف سستی شہرت کے حصول اور ذاتی نمود و نمائش کی خاطر اپنے بچوں کی معصومیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کیا فرق رہ گیا ان دونوں میں؟ ان پڑھ اور غریب والدین اپنی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی اولاد سے اس کا بچپن اور معصومیت چھین لیتے ہیں تو پڑھے لکھے اور صاحب حیثیت والدین بچوں کا سہارا لے کر اپنا اداکاری کا شوق بھی پورا کر رہے ہیں اور خوب دولت بھی کما رہے ہیں۔ محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ غریب شخص کو ہر کوئی تنقید کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ جسے موقع ملے وہ اسے بتائیں سنا دیتا ہے کہ تمہیں شرم نہیں آتی؟ اپنے بچوں سے کام کراتے ہو؟ خود ہٹے کٹے ہو کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اور امیر لوگوں کے ساتھ معاشرے کا یہ رویہ ہے کہ ان سوشل میڈیا اسٹارز کے والدین کو ٹی وی شوز میں مدعو کر کے ان کی مدح سرائی کی جاتی ہے۔ تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور ان والدین کو اتنا سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ چاند سے ہو کر آئے ہیں۔ حالانکہ کام ان کا بھی یہی ہے کہ وہ بھی بچوں کی کمائی کھا رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ غریب کا بچہ مزدور کہلاتا ہے اور امیر کا سوشل میڈیا اسٹار۔ اب کہہ کچھ بھی لیں بچے کا کام کرنا ہے چائلڈ لیبر ہی۔ غریب کے بچے کو کام سے روکنے کی اطلاع دینے کے لیے تو سندھ حکومت نے ہیلپ لائن بنا دی ہے جس پر کال کر کے بچوں سے جبری مشقت لینے کی اطلاع دی جا سکتی۔ ہے لیکن جن بچوں سے سوشل میڈیا پے جبری مشقت لی جا رہی ہے اس کا علاج کس کے پاس ہے؟ ہے کوئی جواب؟


