آسٹریلیا میں معاشرتی طرز زندگی


آسڑیلیا ایک ایسا ملک ہے۔ جس میں دنیا جہان میں موجود تمام رنگ و نسل اور مذاہب و عقائد کے لوگ موجود ہیں۔ بلکہ یہاں کرہ ارض پر موجود تمام نسلوں کے مجموعے سے بھی کہیں زیادہ نسلیں موجود ہیں۔ کیوں کہ یہاں پر موجود تمام رنگ و نسل کے لوگوں کے باہمی اختلاط سے نت نئی مخلوط نسلیں وجود میں آ رہی ہیں۔ یہاں کے باشندوں کے رسم و رواج مختلف ثقافت مختلف، مذاہب مختلف، زبانیں مختلف، رنگ مختلف قد بت مختلف غرض یہ کہ ان تمام خصائص میں کہیں بھی ہم رنگی اور یکسانیت دکھائی نہیں دیتی۔

مزید برآں آسٹریلیا کے اولین آباد کار وہ لوگ تھے۔ جنہیں برطانیہ میں مختلف جرائم کی پاداش میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ آج بھی ancestry۔ co۔ uk نامی ویب سائٹ پر ان ایک لاکھ ساٹھ ہزار مجرمین کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔ جنہیں مختلف جرائم کی پاداش میں سزائیں سنا کر آسٹریلیا میں بھیجا گیا اور یہی مجرم آسٹریلیا کے اولین آباد کار تھے۔ گویا کہ آسٹریلیا میں آبادکاری کی بنیاد رکھنے والے لوگوں میں اکثریت چور اچکوں ڈاکوؤں اور قاتلوں پر مشتمل تھی۔

کسی بھی ملک یا قوم کی بنیاد عام طور پر رنگ، نسل، زبان، ثقافت، رسم و رواج مذہب اور بعض اوقات اس کی جغرافیائی نوعیت پر ہوتی ہے۔ جب کہ آسٹریلیا میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں بھانت کے لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جن میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے۔ ان مختلف رنگوں، نسلوں اور زبانوں کے حامل لوگوں کو ایک آسٹریلیائی قوم کی وحدت کی رسی میں پرونے والی واحد چیز وہ اعتماد ہے اور انصاف ہے جو آسٹریلوی حکومت نے اپنے باشندوں کو دیا ہے۔

ہر شہری کو یقین ہے کہ ریاست اس کی خیر خواہ ہے اور ان کے دیے ہوئے ٹیکس کا ایک ایک پیسہ ان کی بھلائی اور فلاح و بہبود پر ہی خرچ کیا جاتا ہے اور دوسری بڑی چیز انصاف کا وہ مضبوط نظام ہے۔ جو ریاست میں بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب کے وضع کیا ہوا ہے۔ ہر شہری کو اس بات پر مکمل یقین ہے کہ ریاست نہ تو خود ہی اس پر کوئی ظلم یا زیادتی کرے گی اور نہ ہی کسی دوسرے طاقت ور فرد یا گروہ کو ایسا کرنے کی اجازت دے گی یقین اور اعتماد کا یہ رشتہ ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر ہر رنگ، نسل، مذہب، قوم اور ملک کے لوگوں کو ملا کر ایک نئی قوم کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔

ان سب لوگوں کے درمیان باہمی احترام کا ایک ایسا رشتہ موجود ہے۔ جس نے یہاں محبت رواداری برداشت اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دے کر ان سب کو ایک قوم میں ڈھال دیا ہے۔ یہاں پر ٹیکس کا ایک مربوط نظام موجود ہے۔ جس میں ہر آسٹریلین شہری اپنا اپنا حصہ ڈالتا بھی ہے اور وصول بھی کرتا ہے۔ 18200 آسٹریلین ڈالر تک سالانہ آمدنی ٹیکس فری ہے اور یہاں پر مزدور کی کم از کم اجرت 23.23 ڈالر فی گھنٹہ مقرر ہے۔ اگر ایک آسٹریلین شہری سال میں 100 دن بھی کام کرتا ہے۔

تو وہ ٹیکس نٹ میں شامل ہو جاتا ہے۔ 45000 ڈالر سالانہ آمدنی پر 21 فی صد اس سے زائد 120000 پر 34 فیصد 180000 پر 39 فیصد اور اس سے زائد آمدنی پر 47 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ 45000 ڈالر پر سالانہ آمدنی پر 5658 ڈالر ٹیکس 120000 کی آمدنی پر 31503 ڈالر ٹیکس 180000 ڈالر سالانہ آمدنی پر 54903 ڈالر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ دس فی صد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ انکم ٹیکس کی پہلی سلیب کو چھوڑ کر باقی ہر آسٹریلین شہری اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ انکم ٹیکس کی صورت میں حکومت کو باقاعدگی سے ادا کرتا ہے۔ اتنا بھاری ٹیکس دینے کے باوجود لوگ حکومتی اقدامات اور اس کے نتیجے میں انہیں حاصل ہونے والی سہولیات پر مطمئن نظر آتے ہیں۔ تعلیم اور صحت حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو وہ جس احسن طریقے سے نبھاتی ہے لوگ اس سے بڑی حد تک مطمئن نظر آتے ہیں۔

یہاں پر خریدو فروخت اور وصولی و ادائیگی کے سارے کام آن لائن ہوتے ہیں۔ کرنسی کی شکل میں لین دین نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر خاندان کی ماہوار آمدنی اور اخراجات سے حکومت نہ صرف آگاہ رہتی ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں مناسب طور ہر فعال بھی رہتی ہے اور حسب ضرورت اور حسب قانون ان کے لیے سہو لت کاری بھی کرتی ہے۔ یہاں پر میں اپنے مشاہدے میں آنے والے دو واقعات بھی بیان کرتا چلوں۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔

کہ یہ ریاست واقعی ماں کے جیسی ہے اور ایک ماں کی طرح اپنے بچوں اپنے شہریوں کا خیال کرتی ہے۔ یہاں پر میری بیٹی اصفیٰ اور داماد تیمور دونوں ہی ملازمت کرتے ہیں۔ پچھلے سال قدرت نے انہیں زہرہ کی شکل میں پھول جیسی رحمت سے نوازا۔ پہلے تین ماہ تو اصفیٰ میڑنٹی لیو پر رہی۔ پھر اس نے تین چار ماہ بغیر تنخواہ کے چھٹی لی۔ اب اسے الجھن یہ تھی کہ وہ بچی کو بھی اکیلے گھر پر نہیں چھوڑ سکتی تھی اور نوکری اتنی اچھی تھی کہ اسے بھی چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔

اس کا حل یہ نکالا کہ اس نے ہفتے میں دو دن کے لئے اپنی جاب پر جانا شروع کر دیا اور یہ دو دن وہ زہرا کو جاتے ہوئے نرسری میں چھوڑ جاتی اور واپسی پر اسے بھی گھر لے آتی۔ جب نرسری کی طرف سے فیس واؤچر اسے وصول ہوا۔ تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ کہ زہرا کی فیس کی مد میں 80 فیصد ادائیگی حکومت نے پہلے ہی کر دی تھی۔ گویا کہ حکومت کو اس بات کا علم تھا۔ کہ اس خاندان کی آمدنی میں کمی ہو گئی ہے۔ تو انہوں نے فیس کی مد میں انہیں ریلیف فراہم کر دیا۔

پچھلے دنوں میں گھر سے باہر نکلا تو باہر پولیس بھاگ دوڑ کر رہی تھی۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ایک تیرہ چودہ سال کا لڑکا گم ہو گیا ہے۔ گم بھی نہیں بلکہ اپنے باپ سے لڑ کر گھر سے چلا گیا ہے۔ اور ابھی تک واپس نہیں آیا پولیس اسے تلاش کر رہی تھی۔ تین چار گھنٹوں کی تلاش کی کوشش میں ناکامی کے بعد انہوں نے اپنی مدد کے لیے ایک ہیلی کاپٹر منگوا لیا۔ اب پولیس زمین پر اور ہیلی کاپٹر فضا میں اس کی تلاش میں مدد کر رہا تھا۔

وہ رات بھر اس کوشش میں لگے رہے اور آخر کار اس گم شدہ لڑکے کو ڈھونڈ کر اس کے گھر پہنچا کر وہ واپس گئے۔ یہاں پر آباد یاں اس قدر خوبصورتی سے بنائی گئی ہیں۔ کہ آپ کسی طرف بھی نکل جائیں تو لگتا ہے کہ کسی پارک میں ٹہل رہے ہیں۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ ایک بہت بڑا پارک بنا کر آبادیوں کو اس پارک کے اندر فٹ کر دیا گیا ہے۔ تو بے جا نہ ہو گا۔ ہر گھر کے آگے پندرہ فٹ کی گرین بیلٹ موجود ہے۔ جس میں چھوٹے چھوٹے پھولدار پودے لگائے گئے ہیں۔

اس کے بعد چار فٹ کا ایک فٹ پاتھ ہے۔ اور فٹ پاتھ کے ساتھ ایک چھ سات فٹ کی پھر گرین بیلٹ چھوڑی گئی ہے۔ جس میں آسٹریلین گھاس اور درمیانے سائز کے درخت فاصلے پر لگائے ہوتے ہیں۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی سڑک کے دونوں اطراف دو دو گرین بیلٹ گویا کہ کل چار گرین بیلٹس چھوڑی ہوئی ہیں۔ سڑکوں پر پیدل چلنا منع ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف میں موجود دو گرین بیلٹس کے درمیان پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ بنایا گیا ہے اور یہی فٹ پاتھ جو گنگ ٹریک کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

لوکل کونسل کے ملازمین بڑی باقاعدگی کے ساتھ ٹریک کے دونوں اطراف موجود گرین بیلٹس کی صفائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلا تفریق رنگ و نسل سبھی لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ میرے نواسے ولی کا سکول گھر سے قریب ہی ہے۔ میں اکثر اوقات اسے لینے یا چھوڑنے سکول جاتا ہوں۔ تو وہاں پر ہر رنگ اور ہر نسل کے بچے نظر آتے ہیں۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ گھلے ملے ہوتے ہیں۔ سکول کے اطراف میں موجود تمام سڑکوں پر چھٹی کے وقت دور دور تک گاڑیاں ہی گاڑیاں کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مگر مجال ہے کہ ٹریفک جام ہو جائے۔ ہر ایک نے اپنی گاڑی ایسے کھڑی کرنی ہے کہ وہ دوسرے کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔ اسی لیے یہاں پر سبھی لوگ اپنی اپنی باری پر دوسروں کو ڈسٹرب کیے بغیر آسانی اور سہولت سے جا رہے ہوتے ہیں۔

یہاں پر جب ایک بچہ شکم مادر سے تولد ہو کر آسٹریلیا کی آزاد فضاؤں میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ ایک اکائی کی حیثیت سے اس معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔ اس بچے کو جب ہسپتال سے گھر لایا جاتا ہے۔ تو وہ ماں کی گود میں بیٹھ کر نہیں آتا بلکہ گاڑی میں اپنی الگ سیٹ پر بیلٹ باندھ کر بیٹھتا ہے۔ اس کی ننھی منی سیٹ کو گاڑی کی پچھلی کے ساتھ باندھا جاتا ہے اور نومولود بچے کو اس سیٹ پر بیٹھا کر سیٹ بیلٹ باندھی جاتی ہے۔ اور اس طرح یہ نومولود ہسپتال سے گھر تک کا زندگی کا پہلا سفر اپنی الگ سیٹ پر اکیلے بیٹھ کر اور سیٹ بیلٹ باندھ کر طے کرتا ہے۔

اور آٹھ سال کی عمر تک گاڑی کی پچھلی سیٹ کے ساتھ اس کی چھوٹی سیٹ کلپ کر کے اسے اس پر بٹھایا جاتا ہے اور آٹھ سال کی عمر کے بعد وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ تو پھر وہ باقی بڑے افراد کی طرح گاڑی کی سیٹ پر بیٹھتا ہے۔ آٹھ سال کی عمر تک اس کے ماں باپ کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے۔ کہ وہ بچے کو اپنی گود میں بٹھا کراس کی سیٹ پر قابض ہو سکیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ آسٹریلین بچے بہت چھوٹی عمر میں ہی خود انحصاری اور خود مختاری کے مختلف مراحل میں سے گزرتے ہوئے نہایت اعتماد سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔

یہاں پر والدین بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں بالکل بھی پریشان نہیں ہوتے۔ بچہ جانے اور اس کا سکول جانے۔ والدین کو عموماً اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ بچہ کیا پڑھ رہا ہے۔ کتنے نمبر آئے ہیں۔ کیا پوزیشن حاصل کی ہے۔ سکول کے بعد ہوم ورک کا یا گھر میں آ کر پڑھنے کا تصور بھی نہیں ہے۔ پانچ سال کی عمر سے پہلے بچے کو سکول میں داخل نہیں کیا جاتا اس لیے یہ بچے اپنا بچپن بھرپور طریقے سے انجوائے کرتے ہیں۔ ابتدائی سالوں میں بچے کو معاشرتی اقدار سکھانے پر زور دیا جاتا ہے۔

محنت میں عظمت ہے اور کام تو انسان کے کرم ہوتے ہیں۔ جیسے ہماری زبان کے محاورے یہاں پر حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ برتن دھونا، صفائی کرنا، بال کاٹنا اور ایسے ہی دوسرے بہت سے چھوٹے موٹے کام کرنے سے یہاں کسی کی توہین یا تذلیل نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کا معقول معاوضہ ملتا ہے اور یہ سب لوگ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے پانچ سات کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے سٹورز پر جانا پڑتا ہے۔

گلی محلوں میں جگہ جگہ دکانوں کا رواج نہیں ہے۔ یہاں پر بازاروں میں اور سڑکوں کے اطراف ریڑھیاں اور ٹھیلے نہیں لگائے جاتے۔ بلکہ ان کے لیے الگ سے کھلی جگہیں مختص کی جاتی ہیں۔ جہاں ہفتے اور اتوار کے دن یہ ریڑھیاں اور ٹھیلے لگتے ہیں اور یہاں پر مقابلتاً چیزیں سستی ہوتی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک بڑے سٹور پر 20 ڈالر میں ملنے والی کوئی چیز آپ کو یہاں پر پانچ سات ڈالر میں مل جائے۔ یہاں پر قیمتوں پر تھوڑی بہت سودے بازی کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS