کامریڈ منان: طبقاتی نظام سے آزاد سندھ کا خواب

سندھ میں سیاسی نقطہ نظر سے سب سے زیادہ دو نظریات پائے جاتے ہیں جن میں جی ایم سید اور رسول بخش پلیجو سرفہرست ہیں لیکن دونوں سیاسی نظریات کے دو مختلف پہلو ہیں جن پر پھر کبھی طویل مضمون لکھا جائے گا لیکن دونوں سیاسی رہنماؤں نے سندھ میں ترقی پسند، روشن خیال سیاست کو فروغ دیا جس سے کئی مقامی رہنما پیدا ہوئے جو سیاست میں ’رول ماڈل‘ بن گئے۔
جی ایم سید کا سیاسی نقطہ نظر سندھ کی علیحدگی سے منسلک ہے جبکہ رسول بخش پلیجو کی سیاست طبقاتی سوال سے منسلک ہے۔
کسی بحث میں جانے سے گریز کرتے ہوئے آج رسول بخش پلیجو کی سیاست سے منسلک ایک ایسے کسان رہنما پر لکھ رہے ہیں جنہوں نے بنیادی طور پر اسکول کی ابتدائی تعلیم میں 28 سبق پڑھے لیکن وہ ہزاروں کسانوں کے رہنما بنے اور سندھ کے ٹھوس قبائلی علاقے میں ایک ایسی سیاست کو اجاگر کیا جہاں زندگی کو کئی خطرات کا سامنا بھی رہا۔
وہ رہنما کامریڈ منان چانڈیو تھے، جن کی دوسری برسی یکم اکتوبر کے دن منائی گئی لیکن آج بھی ضلع قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل وارہ کے ہزاروں لوگ کامریڈ منان کو یاد کر کے اشکبار ہو جاتے ہیں۔
فیض کی سطریں ہیں کہ ’نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کے جہاں، چلی ہے رسم کے کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘
ایسے ہی تھے کامریڈ منان چانڈیو جنہوں نے قبائلی ضلع میں رہ کر مقامی جاگیرداروں اور طاقتور حلقوں کی فرسودہ سوچ و جبر کو چلینج کیا اور اپنے علاقے سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں کسان انہیں اپنا رہنما تسلیم کرنے لگے جس کی بنیادی وجہ سیاست میں ترقی پسند خیالات کو پیدا کرنا ہے۔
کامریڈ منان چانڈیو کا تعلق ایک کسان گھرانے سے تھا جنہوں نے مشکل سے ابتدائی تعلیم میں 28 سبق پڑھے جس کے بعد ان کے اسکول میں کبھی بھی کوئی استاد مقرر نہ ہو سکا اور یوں وہ تعلیم سے محروم رہے لیکن باوجود اس کے ان کی سیاسی تعلیم ان کے لیے کئی ڈگریوں سے اعلیٰ ثابت ہوئی اور وہ عملی طور پر سنجیدہ، پرعزم و مخلص سیاستدان بنے۔
کامریڈ منان چانڈیو 27 فروری 1960 میں تحصیل وارہ کے گاؤں گاڑھی جاگیر میں پیدا ہوئے اور یوں گاؤں میں روایتی زندگی کے بعد انہوں نے 20 برس کی عمر میں سیاسی عمل میں قدم پڑھایا اور رسول بخش پلیجو کے سیاسی نظریہ سے متاثر ہو کر ’عوامی تحریک‘ کے کسان محاذ ’ہاری تحریک‘ کے بنیادی رکن بنے اور یوں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔
کامریڈ منان چانڈیو نے سیاسی شعور کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو بہتر تعلیم سے آشنا کرنے کے لیے آبائی گاؤں سے وارہ شہر کا رخ کیا جہاں انہوں نے اس شہر کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا اور یوں یکم اکتوبر 2021 کو اس دنیا سے کوچ کرنے تک اسی جدوجہد میں سرگرم رہے۔
کامریڈ منان کی بیٹی مرک منان نے اپنے والد کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’کہیں بھی کسی بھی مظلوم پر ظلم ہوتا تھا تو اس کے خلاف بابا مجھے اور میری چھوٹی بہن (تانیہ) کو ساتھ لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاتے یا احتجاج کرتے تھے۔ ‘
مرک منان کے مطابق ’ہمارے قبیلے میں عورتوں کو باہر نکالنا روایتوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے لیکن میرے والد نے ان فرسودہ نظام کو چیلنج کرتے ہوئے نہ صرف ہمیں شخصی آزادی دی بلکہ ہمیں سیاسی طور پر بھی تربیت دی اور ہر آئے دن کسی نہ کسی مسئلے پر ہمیں ساتھ لے کر احتجاج کیا کرتے تھے۔ ‘
کامریڈ مرک نے ایک اور واقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک بار پانی کی قلت اور چوری کے تناظر میں عوامی کچہری منعقد کی گئی جہاں رکن قومی اسمبلی بھی موجود تھے، وہاں میرے والد نے رکن اسمبلی کو دو ٹوک کہا کہ پانی کی چوری، بیراج کی بندش میں سب سے بڑا ہاتھ تو آپ کے بھائی کا ہے، جس پر رکن اسمبلی شدید غصہ ہو گئے مگر میرے والد صاحب نے ان کی طاقت و اثر رسوخ کی پرواہ کیے بغیر انہیں مزید حق و سچ منہ پر کہہ دیا۔‘
کامریڈ منان چانڈیو کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے عزیز و دوست فقیر محمد تنیو نے کہا کہ ’ایک مرتبہ ہم پانی کی قلت کے خلاف شہر میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، اسی دوران مقامی رکن اسمبلی اور با اثر جاگیر ہمارے پاس آئے، وہاں کامریڈ منان نے اس با اثر جاگیردار سے جس لہجہ میں بات کی اور انہیں ہر ظلم و ستم کا ذمہ دار قرار دیا تو با اثر شخص کے محافظوں نے بندوق کے ٹرگر بھی لوڈ کر دیے۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ شہر میں کسی بھی شخص میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ مقامی با اثر لوگوں کے خلاف بات کریں، لیکن وہ با اثر کامریڈ منان کے قبیلے سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی ان کی تنقید اور منہ پر سچ بولنے سے بچ نہ سکے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی کامریڈ منان چانڈیو کو ہر چھوٹا بڑا شخص یاد کرتا ہے۔
یہاں یہ واضح کرنا لازم ہے کہ پاکستان بالخصوص سندھ میں معروف سیاسی رہنماؤں اور سیاسی مفکرین پر متعدد مضمون اور بلاگز لکھے جا چکے ہیں لیکن کامریڈ منان چانڈیو جیسے حقیقی رہنماؤں کے بارے میں بہت ہی کم لکھا گیا ہے جو کہ ہر جبر برداشت کر کے بھی سیاسی میدان کو تنہا نہیں چھوڑتے۔
کامریڈ منان چانڈیو اپنے علاقے میں قائم ’قاضی غفار لائبریری‘ کے سربراہ بھی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا بلکہ دیگر رشتہ داروں کے بچوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا اور خود ان کی نگرانی کیا کرتے تھے۔
کامریڈ منان چانڈیو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب سندھ میں 2010 کا سیلاب آیا اور سیلاب متاثرین کے لیے امداد دی گئی تو اس میں کرپشن کے خلاف وہ اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور گلی کوچوں میں امدادی سامان میں کرپشن کے خلاف سخت نعرے بلند کیے۔
حال ہی میں سندھ کے شہروں بالخصوص کندھ کوٹ اور گھوٹکی سے ڈاکوؤں کے ہاتھوں کئی شہری اغوا ہوئے جن میں زیادہ تر ’ہندو‘ شامل تھے تو اس کے خلاف کراچی کے علاقے تین تلوار پر دھرنا دیا گیا جہاں کامریڈ منان چانڈیو کی بیٹی مرک منان نے اپنے والد کی سیاست پر چلتے ہوئے جب و ظلم کے خلاف سخت نعرے بلند کیے اور احتجاج کی قیادت کی۔
اس دوران جب سندھ کے نگران وزیر داخلہ اور دیگر وہاں بات چیت کے لیے پہنچے تو بھی مرک منان نے ان سے اسی لہجہ میں بات کی جس طرح ان کے والد مقامی با اثر لوگوں سے کیا کرتے تھے۔
کامریڈ منان چانڈیو کا سب سے بڑا کارنامہ اپنی بچیوں کو سیاسی شعور دے کر خودمختار بنانا ہے جس کی وجہ سے آج وہ قبائلی نظام میں رول ماڈل بنی ہوئی ہیں۔
نہ صرف سیاسی طور پر وہ متحرک رہے بلکہ ادبی لحاظ سے بھی انہوں نے خوب نام کمایا جہاں انہوں نے کم تعلیم کے باوجود بھی ہر ظلم و ستم پر سندھی زبان میں سیکڑوں مضامین و آرٹیکل لکھے جو کئی سندھی اخباروں میں شائع ہوئے۔
کامریڈ منان چانڈیو کی زندگی کا عظیم مقصد طباقی نظام سے آزاد سندھ کا قیام تھا جس کے لیے انہوں نے تمام زندگی وقف کردی۔
کامریڈ منان چانڈیو کا خواب ترقی پسند، روشن خیال اور طبقاتی تفریق سے ’آزاد سندھ‘ کا قیام تھا اور ان کے لواحقین بالخصوص بیٹا (عرفان) اور بیٹی مرک اسی راہ پر قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔
کامریڈ منان چانڈیو کے لیے اگر فیض احمد فیض کی یہ سطریں لکھی جائیں تو کوئی بڑھاوا نہیں ہو گا:
” قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہطل بسے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہانگیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے ”
کامریڈ منان چانڈیو کو یکم اکتوبر 2021 کو سپرد خاک کیا گیا تھا جہاں پر سال ان کی برسی منائی جاتی ہے لیکن آج بھی شہر کے ’فاضل راہو چوک‘ پر ان کی سیاسی جدوجہد کے چرچے ہیں اور ہر عام و خاص کی زبان پر ان کی سیاسی پختگی، عزم اور سنجیدگی کا ذکر رہتا ہے۔


