ہمارا تشخص کیا ہے؟

کرہ ارض کا ایک ایسا انوکھا واقعہ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی جس میں ہزاروں انسانی جانوں کی قربانی اور خون آشوب دریا سے گزرنا، بچوں کو ہوا میں اچھال کر نیزوں سے قتل کرنا، عورتوں کی عصمت دری اور ایسے کئی واقعات جو تقسیم ہند کی تاریخ کا حصہ ہیں جنہیں بیان کرنا انسانی بس کی بات نہیں۔ جس میں ہندووں اور بعض سکھوں نے ظلم کی انتہاء کر دی لیکن پھر بھی ایک آزاد ملک معرض وجود میں آ گیا جو پاکستان کہلایا جانے لگا۔
آج 2023 ء میں اسے معرض وجود میں آئے 76 سال گز ر چکے ہیں۔ آئیے! آج ذرا اس بات پر غور کریں کہ اس کے معرض وجود میں آنے، اس کی آزادی کے بعد اس کا کیا تشخص ہے۔ وہی قومیں دنیا میں سرخرو ہوتی ہیں جنہیں اپنی تاریخ و تشخص سے دلچسپی ہوتی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد اس کے تشخص پر تبصرہ آرائی ایک معمول ہے۔ اپنی آزادی کے بعد ہم نے اس کے مستقبل کے لئے کن راہوں کا انتخاب کیا۔ یہ جاننا نہایت اہم ہے۔ ہم نے احسن طور دو قومی نظریہ کی ترویج کی اور اس کا ثمر آزادی کی صورت میں ملا۔
لیکن اس کے بعد ہم معاشرتی، اس کے اداروں کی تعمیر و ترقی اور قومی شناخت وضع نہ کرنے کے مجرم ٹھہرے۔ ہم آج بھی اس بات پر تبصرہ نگاری کرتے ہیں کہ پاکستان مذہب اسلام کی ترویج و ترقی کے لئے بنایا گیا تھا یا اس میں سیکولر نظام حکومت قائم کرنا تھا۔ بدقسمتی سے قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت اور وزیر اعظم لیاقت علی کی شہادت کے بعد ہما ری سیاست اقتدار و طاقت حاصل کرنے کی میوزیکل چئیر کے گرد گھومتی رہی جس میں بیورو کریسی، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور جاگیرداروں کا ایک ایسا گٹھ جوڑ بنا جس سے پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ہمارا ایک صوبہ ہم سے جدا ہوتے ہوئے بنگلہ دیش بن گیا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے جان بوجھ کر اپنے تشخص میں کوتاہی برتی ہے۔ اگر ہم ایک ملک و قوم کے تشخص کے لئے اپنی سعی کرتے جو جمہوریت میں ایک آئیڈیل صورت حال ہوتی ہے جس میں احسن معاشرے کے خد و خال کی تصویر سامنے آنی شروع ہوجاتی۔ اور انفرادی و اجتماعی ذمہ داری و حقوق کے بارے ہر فرد و ادارہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔ لیکن ہم کوتاہ اندیش ٹھہرے اور سنگین غلطی کے مرتکب ہوئے۔ ہم آج تک اس بحث میں پڑے ہوئے ہیں کہ قائداعظم محمد علی پاکستان کا تشخص اسلامی جمہوریہ یا سیکولر چاہتے تھے۔
بدقسمتی سے ہمارے عظیم لیڈر پاکستان بننے کے بعد جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور وہ اس نوزائیدہ ملک کے تشخص کے لئے راہ منتخب نہ کر سکے۔ ان کے بعد آنے والے اس تشخص کو واضح نہ کر سکے جس کا نتیجہ اب قوم بھگت رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ہم اپنے تشخص کے لئے سرگرداں ہیں اور جس کے نتیجے میں قومی اتفاق و اتحاد نظر نہیں آتا۔ ایسے مواقع بھی آئے جس میں ہماری نظریاتی سرحدوں پر وار کیا گیا اور ہم اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے لیکن پھر ہم اسی پرانی روش پر چل پڑے جس میں اتفاق و اتحاد نام کی کوئی شے نہیں۔
ہمارے معاشرے میں ہم آہنگی پنپ نہ سکی۔ جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے اور نہ ہی ہم اس بنیادی نقطہ کو سمجھ سکے کہ قومی تشخص میں انفرادی و اجتماعیت شے کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جس سے احساس ذمہ داری و حقوق واضح ہوتے ہیں۔ اگر ہماری تشخص کی ترجیحات واضح ہوتیں تو ہماری ثقافتی و سیاسی حدیں واضح ہو جاتیں۔ پھر یہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی طرف گامزن ہونا شروع ہوتیں جس میں شناخت و ثقافت ابھر کر سامنے آتیں۔ لیکن صد افسوس ایسا نہ ہو سکا۔
جب قومی تشخص، جس میں ثقافت، زبان، سیاست، وابستگی ہم آہنگ ہونا شروع ہو جائے تو پھر ایک قوم کا تشخص ابھرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ معرض وجود میں آتا ہے۔ جس میں سٹیٹ اور فرد کے درمیان ہم آہنگی پنپتی ہے۔ عوامی شعور جاگتا ہے، اچھے برے کی تمیز افراد کے نزدیک واضح ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ اپنا کردار ایمانداری کے ساتھ نبھاتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے سٹیٹ مضبوط ہوتی ہے اور پھر اس کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آسان کام نہیں ہوتا۔
ہمارا تشخص جذباتی نعروں اور پروپیگنڈا کے زیر اثر رہا اور کوئی عملی قدم ہم نہ اٹھا سکے۔ ہمارا دستور اور دستور ساز اسمبلی دونوں کی بنیاد مذہب اسلام پر ہے۔ جس کے تحت ہماری تاریخ، بولی جانے والی زبانیں، ثقافت، ہماری اقلیتیں سب کے حقوق واضح ہیں۔ ہم آزادی سے لے کر آج تک مہاجر و نان مہاجر کی تفریق میں الجھے ہوئے ہیں۔ مملکت اسلامیہ کے سب لوگ کیوں اپنے آپ کو ایک تشخص دینے میں ناکام رہے۔ ایک ایسا سوال جس کی کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔
ہم کیوں آزادی کے بعد اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو قومی درجہ دینے میں ناکام رہے۔ وہ کیا وجوہات اور اسباب تھے۔ کہ ہم ایک احسن فیصلہ کرنے سے قاصر رہے جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں بنگلہ بولی جانے والی کمیونٹی کے دلوں میں دراڑ پیدا ہو گئی۔ ہمارے ملک کی سیاسی ارتقاء حقیقی طور جمہوری روایات کی حامل نہیں۔ آزادی کے ابتدائی گیارہ سالوں میں ہمارے ہاں الیکشن نام کی کوئی شے ظہور پذیر نہ ہو سکی۔ اس کے علاوہ ہم معاشرتی و طبقاتی اونچ نیچ کو ختم کر نے میں ناکام رہے۔
جس نے ہمارے تشخص کو صحیح سمت طے کرنے نہ دیا۔ ہمارا وجود تو اس بنیاد پر قائم ہوا تھا کہ ہم اور ہندو دو علیحدہ قومیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتیں، ہمارا رہن سہن سب کچھ جداگانہ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم ایک اکائی بنتے نظر نہیں آتے۔ ہم میں طبقاتی زہر بھر دیا گیا ہے۔ ہم اپنی پہچان اپنے علاقے و قبیلے کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ کہیں بھی پاکستانی تشخص ابھرتا نظر نہیں آ رہا۔ عمیق نگاہوں سے پاکستانی تشخص کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہم اپنے تشخص کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے میں سخت کوتاہی کا شکار ہوئے ہیں۔
جذباتی نعروں اور پروٹوکول نے ہمارے معاشرے کی شکل بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ یہ جمہوریت کے لئے سم قاتل ہے۔ مغربی جمہوریت میں پروٹوکول بہت کم افراد کو حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے سیاست دان بھولی عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ عوام کے شعور کو اجاگر کرنے، انہیں ان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ان کے جمہوری حقوق بارے کوئی پروگرام دیکھنے کو نہیں ملتا۔ طبقاتی و نسلی تفرقات و تنازعات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔
اس کا حل بلدیاتی نظام کو اس کی اصلی صورت میں لاگو کرنا اور مقامی سطح تک اختیارات کا لوگوں کو حاصل ہونا اشد ضروری ہے۔ قوم کیا ہوتی ہے؟ اگر اسے سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہ اپنی مملکت میں کسی آئیڈیالوجی کے زیر اثر پنپتے ہوئے، اپنی راہیں متعین کرتے، اپنا تشخص بناتے ہوئے ایک خود مختار ملک قائم کرنے اور اپنے لئے ترقی کی راہیں ہموار کرنے کا نام ہے۔ ان کی اپنی شناخت ہو جو انہیں دوسرے ممالک سے ممیز کرے۔ اس کے عوام اکٹھے ہو کر سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں اور تمام چیلنجوں کا مقابلہ کریں۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم جمہوری سیاست سے کوسوں دور ہیں۔

