ایک شام: محمود شام کے نام


پاکستان کے ادبی، شعری، صحافتی حلقوں میں محمود شام صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کا نام سنتے ہی ان کا سراپا یوں آنکھوں میں در آتا ہے جیسے گھر کے کسی بھی بزرگ اور قابل احترام ہستی کا آتا ہے۔

شام صاحب کا درجہ میری زندگی میں ایک استاد کا سا ہے۔ انھوں نے مجھے تختہ سیاہ کے آگے کھڑے ہو کر خبر بنانا، فیچر رائٹنگ، اخباری میک آپ، سرخیاں بنانا، خبر کے ادب آداب تو نہیں پڑھائے لیکن تعلیم کے دوران عملی صحافت کی تربیت کے دوران بہت کچھ سکھایا۔

شام جی کے بارے میں لب کشائی کرنے سے پہلے یا قلم کی نوک کو کاغذ پر سیدھا کرنے سے پہلے مجھے وقت کا پہیہ خاصا پیچھے کی طرف گھمانا پڑتا ہے۔ اتنا پیچھے کہ جب شام صاحب کا سر سیاہ بالوں سے بھرا اور داڑھی کا رنگ سیاہ تھا۔ اس وقت ناک پر دو عدد عدسے بھی ہر وقت براجمان رہتے تھے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ عدسے شام صاحب کی شخصیت کا اٹوٹ انگ تھے۔ ان کا لباس دھیمے رنگوں کے سفاری سوٹ ہوتے تھے۔

یہ 1973۔ 74 کا زمانہ تھا۔ شام جی کا نام صحافی اور سیاسی حلقوں میں سکہ رائج الوقت کی طرح بولتا اور چلتا تھا۔

گرمیوں کی ایک دوپہر کو ہم اپنے شعبہ کے استاد کے خط کے ساتھ شام جی، کے حضور کھڑے تھے۔ بڑی سی میز کی دوسری جانب بیٹھے شام جی نے خط لیا، پڑھا پھر عدسوں کے اوپر سے دیکھتے ہوں پوچھا ”واقعی کام کرنا ہے یا صرف سرٹیفکیٹ چاہیے“

اپنے ساتھ آئی دو اور لڑکیوں سے بازی لینے کے چکر میں جلدی سے کہا ”کام کرنا ہے“ ۔

شام صاحب نے کمرے میں موجود دیگر نفوس کو مسکراتے ہوئے دیکھا اور برابر کے کمرے میں بیٹھی خواتین عملے کی طرف بھیج دیا۔

ان کا کمرہ ان دنوں مرد و زن سے پور پور بھرا ہوتا تھا۔ بلکہ اکثر چار پانچ کھڑے بھی ہوتے تھے۔ ان دنوں وہ جس ہفت روزہ کے ایڈیٹر تھے وہ اس وقت کا ”فیس بک، واٹس اپ، انسٹاگرام، میسنجر، لنکن ان، فوٹو شاپ، یو ٹیوب، وی لاگ اور بہت کچھ تھا“۔ اس جریدے کے سرورق پر ہر ہفتے ایک نئی خاتون کا چہرہ مبارک چھپتا تھا۔ چہرہ چھپوانے کے شوق میں کمرے کی دہلیز پر کون، کون نہ کھڑا ہوتا تھا۔

اس سارے بیان میں اہم بات یہ ہے کہ وہ دن ہماری آگے بڑھنے کی جنونی عمر کا ایک یادگار دن تھا۔ عمر کے اس دور میں اہم، نامور شخصیات سے ملنا، بات کرنا، ان کی صحبت میں کچھ لمحے گزارنا، کیسا دل کو گرماتا اور دھڑکاتا تھا اسے آج میری عمر کے افراد ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اگلے کئی دن تک ہر ملنے والے کو یہ قصہ سناتے رہے کہ ہم شام صاحب سے ملے ہیں۔ اپنی تین ماہ کی تربیت کو ہم نے ایک سال تک کھینچا۔ امتحان ہوا، پاس ہوئے، ڈگری ملی، اور زندگی کے سمندر میں ہم نے بھی آڑے ترچھے چپو چلانے شروع کر دیے۔ کشتی ایک جزیرے پر کھڑی بھی ہو گئی لیکن دل خوش نہ تھا۔ جب ہی اڑتی اڑتی خبر ملی کہ شام جی اپنا ایک ہفت روزہ نکال رہے ہیں اور انھیں کام کرنے والے محنتی لوگوں کی تلاش ہے۔ یوں ہم ایک بار پھر شام جی سے جا ٹکرائے۔

شام جی، کے ساتھ گزرے وہ ماہ و سال زندگی کا نہ صرف اثاثہ ہیں ہماری زندگی کی مشعل راہ بھی ہیں۔ ان برسوں میں ہم نے کیا، کیا نہ دیکھا اور سیکھا۔

اگر میں یہ کہوں کہ شام جی پاکستان کی اردو صحافت کا وہ قدآور اور تناور برگد ہیں جو جیسے جیسے بوڑھا ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ اس کی داڑھیاں اوپر سے نیچے کی طرف لٹکتی جاتی ہیں جو نہ صرف اس کو سہارا دیتی ہیں مضبوط بھی بناتی ہیں۔ تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

شام جی، پاکستان کی دم توڑتی اخباری صحافت کا وہ ہی برگد ہیں جنھوں نے اس عمر میں بھی قلم سے ناتا قائم کیا ہوا ہے۔ وہ آج بھی ایک روزنامہ میں کالم لکھتے ہیں۔ اپنا ماہنامہ نکالتے ہیں نہ صرف نکالتے ہیں اس کے لئے باقاعدہ جدوجہد بھی کرتے ہیں۔

شام صاحب نے صحافت کے اس اڑن کھٹولے پر زندگی کے ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزارا ہے۔ ایوب خان سے لے کر آج تک اقتدار کے ایوانوں میں انگنت اتار چڑھاؤ کے گواہ اور امین ہیں۔ انھوں نے ایوانوں میں آنکھیں بدلنے سے لے کر رنگ بدلنے تک کے سب موسم دیکھے اور سہے ہیں۔ جیل گئے، پرچے بند ہوئے، ڈیکلریشن منسوخ ہوئے، کورٹ کچہری کی صعوبتیں برداشت کیں۔

یہ شام!

شام جی کے تازہ ترین ناول ”انجام بخیر“ کے سلسلے میں منعقد ہوئی تھی۔ ان کا ناول سیاسی بھی ہے اور غیر سیاسی بھی، اس میں ایک ہلکا پھلکا سا رومان بھی پرورش پا رہا ہے۔ دراصل ناول آج کی چینل والی صحافت، اس کی سیاست اور اس سیاست سے جڑی ملکی سیاست، کرداروں، سازشوں، مذہبی جماعتوں کی اندرون خانہ کہانیوں اور ان سے جڑی بین الاقوامی دلچسپیوں کی ایک بہت ہی مربوط اور مضبوط ترجمانی ہے۔ اس ناول کی کہانی اور کرداروں میں شام صاحب کی دوربینی کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ناول اور شام صاحب کے بارے میں گفتگو کرنے والوں میں پاکستان آئی بینک کے روح رواں قاضی ساجد، مجاہد بریلوی، سابق بیورو کریٹ شفیق پراچہ، جعفر احمد اور شام صاحب کی شریک حیات سمیت ان کے صاحبزادے مع اہل و عیال شامل تھے۔

شام جی کے لئے اس شام کا انعقاد پاکستان کے پہلے آئی بینک نے اپنے ہسپتال کی عمارت میں کیا تھا۔ پاکستان آئی بینک کا سفر بھی تقریباً پانچ دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ آج ان کے پاس اپنی عمارت، جدید مشینیں اور ماہر ڈاکٹروں کی ایک پوری ٹیم ہے۔ ہمارے ملک میں اور بہت ساری اچھی باتوں کے فقدان کی طرح اعضاء کے عطیات دینے کا بھی قحط الرجال ہے۔ ہم دوسروں کا خون لینے اور پینے سے لے کر کسی بھی مفت ہاتھ آئی چیز کو لینے سے انکار نہیں کرتے۔ آج بھی ہمارے ملک میں نابینا افراد کو روشنی پڑوسی ملک سری لنکا سے آئے عطیات ہی کی بدولت ملتی ہے۔

ہمیں اپنے جسمانی اعضاء کیڑوں کو کھلانا تو منظور ہیں لیکن کسی کو عطیہ کرنا نہیں۔ بات عطیات کی چلی تو پرنسس ڈیانا کی زندگی کے آخری لمحوں میں کی گئی وصیت کا تذکرہ بھی ہوا کہ ان کی دونوں آنکھیں، دونوں گردے، لبلبہ، جگر، ایک پھیپھڑا، اور کھال کے کچھ حصے آج بھی کرۂ ارض کے مختلف ملکوں میں، مختلف افراد کے اندر زندہ ہیں اور زندگی کا مزا لوٹ رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments