مدارس میں بڑھتی تشدد کی لہر اور علت مشائخ


کیا خدائی قربت انسان کو بے رحم بنا دیتی ہے؟
کیا نماز واقعی بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے؟
جس کے سینے میں قرآن کریم کے 30 پارے محفوظ ہوں کیا اس پر بھی شیطان حاوی ہو سکتا ہے؟
کیا شیطان ایک شیخ الحدیث پر بھاری پڑ سکتا ہے؟
جو سینہ ایمان و یقین سے منور ہو کیا شیطان اس دل میں بھی نقب لگا سکتا ہے؟

جن کا ٹھکانہ ہی محراب و منبر حتی کہ گھر تک بھی مسجد میں ہی ہو بھلا اس پر شیطان کیسے حاوی ہو سکتا ہے؟

خدائی قربت کا دعوی رکھنے والے اگر شیطان کے شر سے محفوظ نہیں تو پھر کون محفوظ ہوں گے؟
بھلا خانہ خدا میں شیطان کو گھسنے کی جرات کیسے ہو سکتی ہے؟
کیا قرآن کریم کی موجودگی میں بھی شیطان وارد ہو سکتا ہے؟

آخر وہی لوگ جن کے اسمائے گرامی سے پہلے مقدس صیغے لگے ہوتے ہیں مکروہ و شرمناک سرگرمیوں میں ملوث کیوں پائے جاتے ہیں؟

جنہیں ایمان و یقین اور ہر طرح کی عبادت برائیوں سے نہیں بچا سکتی پھر کون سا بندوبست انہیں مکروہات سے بچا پائے گا؟

یہ وہ بنیادی ترین سوالات ہیں جو ہم ایسے گناہ گاروں کے ذہنوں میں اکثر نمودار ہوتے رہتے ہیں مگر ان سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل پاتا۔

سوچا کیوں نہ ان سوالات کو پبلک کر دیا جائے ہو سکتا ہے کوئی درد دل رکھنے والا دین کا مخلص عالم ان سوالات کو پڑھ لے اور جواب دینے کی زحمت گوارا کر لے۔ نجانے کتنوں کا بھلا ہو جائے جو بیچارے ڈر اور خوف کی وجہ سے اس قسم کے سوالات کسی سے پوچھ ہی نہیں پاتے۔

ممکن ہے سوالات ذرا سے تلخ ہوں اور آپ کو ایسا لگے کہ گمراہ کن قسم کے سوالات ہیں مگر یقین رکھیں کہ دل اور نیت بالکل صاف ہے کیونکہ دعویٰ کرنے والوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

دعویٰ کرنے والوں کو نتائج کی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال ارض مقدس جو کہ ہمارے لیے بہت قابل احترام ہے اور روحانی انوار کا مرکز ہے میں حج کی نیت سے جمع ہوتے ہیں، دیگر عبادات کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان شیطان مردود پر کنکریاں برساتے ہیں۔ اور یاد رہے کہ یہ عمل نجانے کب سے دہرایا جا رہا ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ شیطان مردود ہمارا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا بلکہ یوں کہیے کہ ہاتھ دھو کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

اس وقت ہم زیادہ حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں جب ایسے لوگوں کو قبیح قسم کی حرکات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جن کے نام کے ساتھ ” حافظ، مولانا، شیخ الحدیث یا الحاج“ لگا ہوا ہوتا ہے آخر ایسا کیا ماجرا ہے کہ انہی لوگوں پر سب سے زیادہ شیطان حاوی رہتا ہے جن کے ماہ و سال ہی اس مردود کو قابو کرنے کی جدوجہد میں عبادات و تسبیحات اور استغفار کی صورت میں بسر ہوتے ہیں؟ کیا یہ واقعی اتنا طاقتور ہے جو مقدس عماموں کی پرواہ بھی نہیں کرتا اور بڑے بڑے زاہدوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے اور بڑے آرام سے ایمان و یقین سے منور دلوں میں بھی نقب لگانے میں کامیاب ہو جاتا ہے؟

ہم تو بطور مسلمان شروع دن سے سنتے آئے ہیں ”کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے“۔ اگر ایسا ہے تو پھر وہی لوگ جنس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کے نجس حرکات کیوں کرنے لگتے ہیں جن کا زیادہ تر وقت ہی مساجد میں گزرتا ہے؟

آخر کیا وجہ ہے کہ ان لوگوں کا ایمان یا خوف اس وقت کہاں رخصت ہو جاتا ہے جب قرآن مجید ان کے سامنے رحل پر کھلا پڑا ہوتا ہے اور یہ اپنی جنسی بھوک مٹانے میں مگن ہوتے ہیں؟ ان کا خوف خدا اس وقت کہاں ستو پی کے سو جاتا ہے جب یہ چھوٹے بچوں پر ذہنی و جسمانی تشدد کر رہے ہوتے ہیں؟ ابھی حال ہی میں لاہور کے ایک علاقہ میں ایک مسجد کے قاری نے 13 سالہ بچے انس پر جسمانی تشدد کیا جس کے نتیجے میں بچہ دم توڑ گیا، وجہ صرف اتنی سی تھی کہ بچہ بارش کے باعث مدرسے سے چھٹی کر بیٹھا جس کی سزا قاری نے بچے کو اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخنے کی صورت میں دی، جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔

دوسرا واقعہ اس سے بھی ظالمانہ ہے، سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے قاری نے بچے کی زبان پر کیل رکھ کر ظالمانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں کیل اس کے حلق میں چلی گئی۔

تف ہے ایسے والدین پر جو اپنی جنت پکی کرنے کے چکروں میں اپنے جگر گوشوں کو یہ کہہ کر قاری کے حوالے کر دیتے ہیں

” کہ جسم کا گوشت تمہارا ہوا اور ہڈیاں ہماری“
بس اسے کسی طرح سے حافظ بنا دو۔

مدرسین بھی پھر والدین کی بات کا پالن کرتے ہیں اور اپنے مقدس ہونے کا فائدہ بچوں کا جنسی، ذہنی اور جسمانی استحصال کر کے اٹھاتے ہیں۔ کبھی سوچا یہ مدرسین کہاں سے آتے ہیں؟

یہ وہی تو ہوتے ہیں جنہیں والدین اپنی جنت پکی کرنے کے چکروں میں مدرسہ کلچر کا حصہ بناتے ہیں، بعد میں یہی مدرسین بنتے ہیں اور اپنے اوپر ہونے والی ہر طرح کی زیادتیوں کا تاوان اسی معاشرے کے بچوں سے وصولتے ہیں۔

مثل مشہور ہے کہ ” ایک قاری ہر مدرسے میں بمشکل چند روز ہی ٹکتا تھا اور بار بار نکالے جانے کی وجہ صرف ایک ہی تھی کہ موصوف لت مشائخ میں مبتلا تھے۔ آخر تنگ آ کر کے اس نے ایک جملے کو اپنی زندگی کا منشور بنا لیا۔ جب کبھی بھی وہ کسی نئی جگہ پر جاتا تو انتظامیہ کو اپنی ترجیحات سے پیشگی آگاہ کر دیا کرتا تھا

یہ کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے، والدین کی مقدس خواہش ہمارے بچوں کو بہت مہنگی پڑتی ہے۔ نجانے کتنے انمٹ زخم ان کی روح اور جسم پر لگتے ہیں جنہیں وہ کسی کو دکھا بھی نہیں سکتے، نفسیاتی عارضوں کو تو رہنے دیجیے جن کے تدارک کا اس سماج میں کوئی بندوبست ہی نہیں ہے، سوائے دم درود اور تعویز کے۔ بیچاروں کو انہی ذہنی چوٹوں کے ساتھ اپنی بچی کھچی سی زندگی کو گھسیٹنا پڑتا ہے۔

ہمارے علاقہ میں ایک صوفی صاحب ہوا کرتے تھے جنہیں ”صوفی کامل“ کہا جاتا تھا ان کے ہزاروں مریدین تھے۔ ایک بار ہمیں بھی انہی صوفی کامل کے ہاں جانے کا شرف حاصل ہوا جو لڑکا میرے ساتھ تھا وہ کافی خوبرو تھا۔ صوفی صاحب نے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ میاں جاؤ خوشی سویٹ والوں سے برفی تو لاؤ۔

ہم دونوں جانے لگے تو صوفی صاحب نے میرے ساتھ جو خوبرو نوجوان تھا اسے اپنے پاس رکنے کا اشارہ کیا اور مجھے مٹھائی لانے کے لیے روانہ کر دیا۔ واپسی پر اس لڑکے کا منہ اترا ہوا تھا اور آنکھوں میں آنسو تھے، میرے پوچھنے پر بتایا کہ تمہارے جانے کے بعد صوفی صاحب نے مجھے سینے سے چمٹا لیا اور بوس و کنار کرتے رہے۔

قصہ مختصر ہم نے صوفی صاحب سے پوچھا کہ آپ نے یہ حرکت کیوں کی؟

آپ کے ہزاروں مریدین ہیں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں ہوئی، ان کا جواب سنیے اور ان کے اسی جواب میں عقل والوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔

”فرمانے لگے کہ مجھ پر شیطان حاوی ہو گیا تھا اور شیطان مردود ہمیشہ وہاں ہاتھ صاف کرتا ہے جہاں مال ہوتا ہے، ہم نے پلٹ کر پوچھا آپ کے پاس کون سا مال ہو سکتا ہے؟ آپ تو دنیا بیزار اور آخرت کے کھوجی ہیں، سوچ کر کہنے لگے کہ میرے پاس ذکر اذکار، عبادت و ریاضت کی صورت میں بہت سارا مال ہے اسی لیے تو شیطان مردود بہکانے پہنچ جاتا ہے، سوچتا ہوں اگر شیطان نہ ہوتا تو ہمارا کیا بنتا؟

اگر ذکر اذکار والے بھی شیطان کو لگام نہیں ڈال سکتے تو پھر کون ڈال سکتا ہے؟ ایک عاجزانہ سوال اور بھی ہے کہ آخر مذہبی لوگوں میں ہی سب سے زیادہ جنسی گھٹن کیوں ہوتی ہے اور یہ لوگ اپنی عبادات و ریاضت کے ذریعے سے اس مکروہ رویے کو زیر کیوں نہیں کر پاتے؟

حال ہی میں مشہور زمانہ پشاوری تکے کے مالک نے غیر ملکی خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ سب سوشل میڈیا کا حصہ بن چکا ہے، تھوڑا کریدنے پر پتا لگا کہ موصوف کے نام کے ساتھ ”حاجی“ کا صیغہ بھی لگا ہوا ہے اور سر پر ہر وقت ٹوپی اوڑھے رکھتا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جتنا بھی کوئی مذہب کے معاملے میں ببانگ دہل ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ٹھرکی اور جنسی مریض ہوتا ہے۔

علماء کرام کو سوچنا چاہیے کہ ان کی مذہبی تعلیمات رائیگاں کیوں جا رہی ہیں؟ مختلف مذہبی اجتماعات کی مساعی مفید ثابت کیوں نہیں ہو پا رہی؟ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان حجاج کے درجے پر فائز ہوتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی تلافی کے بعد نئے عزم کے ساتھ پھر سے زندگی کا آغاز کرتے ہیں مگر پھر بھی کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہیں ہو پا رہی ہے اس کی آخرکار کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

ہم ایسے گناہ گاران کو تو چھوڑ دیں ہماری کیا اوقات؟ اب تو مختلف فرقوں کے لوگ ہی ایک دوسرے کے خلاف توہین مذہب کے پرچے درج کروانے لگے ہیں۔ کیا کبھی ہمارے محترم و مکرم علمائے کرام نے یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا کی کہ ہمارے ہاں مکروہ قسم کی جنسی علتیں کیوں پروان چڑھ رہی ہیں؟ ہم نے تو آج تک نہیں دیکھا کہ کبھی مختلف فرقوں کے علماء نے علت مشائخ پر کبھی آواز بلند کی ہو یا اس مکروہ عمل کے سدباب کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی ہو۔

Facebook Comments HS