پاکستانی روپیہ


عالمی بینک کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستانی روپیہ پوری دنیا میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے بہترین کرنسی ثابت ہو رہا ہے۔ آپ کو یہ بات شاید مزاحیہ لگے مگر یہ انتہائی معتبر ادارے کی ایک سنجیدہ رپورٹ ہے جو دنیا کی دیگر کرنسیوں کو مدنظر رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ پاکستان میں روپے کی جس قدر تیزی سے تنزلی کا سفر جاری تھا اور قوم میں ایک ہیجانی کیفیت طاری ہو گئی تھی اس کا تقاضا تھا کہ ان وطن دشمن قوتوں کی بروقت سرکوبی کی جائے اس سلسلے میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے اصلاح احوال کی خاطر ملکی اعلٰی کاروباری حضرات سے صلاح مشورے کیے اور ان کی روشنی میں کرنسی کے اتار چڑھاؤ میں ملوث عناصر کی سرکوبی کا بیڑا اٹھایا یوں روپے کی ناقدری رکی اور صورتحال بہتری کی جانب دھیرے دھیرے رواں ہو گئی یوں اس تناظر میں یہ رپورٹ بلومبرگ نیوز کے ذریعے منظرعام پہ آئی ہے۔

امریکہ کے اندر ان کے اپنے بہت سے مسائل ہیں جن میں سب سے نمایاں شرح سود میں اضافہ ہے جس وجہ سے تھائی بھاٹ اور جنوبی کوریا کی کرنسیوں کی ڈالر کے مقابلے میں قدر خاصی گری ہے مگر پاک روپیہ میں 6 فیصد اضافہ ماہ ستمبر کے دوران ممکن ہوا۔ جمعرات 28، ستمبر 2023 کو 0.1 فیصد اضافے کے بعد 287.95 روپے پہ ڈالر کی فروخت رکی یاد رہے یہ اس ہفتہ کا آخری کاروباری دن تھا۔ مہینے کے اوائل میں اس کی قدر 307 روپے تک گر چکی تھی۔

ابھی اس سفر کا اختتام کہیں دور ہے۔ ہمارے ملک پہ غیر ملکی قرضوں کا انتہائی بھاری بوجھ موجود ہے جو مہنگائی کا سب سے بڑا موجب ہے۔ اشیائے خورد و نوش اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے لوگ اس وقت پرانے وقتوں کو یاد کرتے دکھائی دیتے ہیں اور سائیکل اور تانگے کی واپسی کا سوچ رہے ہیں مگر اب تانگہ سازی ایک مشکل اور مہنگا شوق ہی رہ گیا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں شرحِ غربت بھی بہت خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے جو کہ 39.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے مزید 12.5 ملین لوگ شرح غربت میں گر گئے ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس سلسلے میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق لوگوں کی زندگیوں کا معیار گر رہا ہے۔ معاشرے میں بدامنی اور بے یقینی بڑھ رہی ہے جو ایک خوفناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ اب روپے کی اگر قدر میں بہتری کا غور سے جائزہ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجموعی معاشی حالات میں بہتری کی نشوونما ہو رہی ہے۔ جیسے کی ستمبر کے اوائل میں افغانی 9 فیصد نمو کے ساتھ بہتر ہوئی تھی مگر بحیثیت مجموعی افغانستان کی معیشت کا سب کو بخوبی اندازہ ہے کہ وہ اپنی منزل سے کوسوں دور ہے۔

ہمارے ہاں وسائل کی کوئی کمی نہیں مگر ان کا درست استعمال نہیں ہے اور بیوروکریسی کی بدمستیاں اب ان حالات میں بھی جاری و ساری ہیں جس کو روک کر صحیح معنوں میں درست استعمال کیا جانا اشد ضروری ہے۔ عوامی پانی کی بوند کو ترس رہے ہوں اور حکمران طبقہ منرل واٹر انجوائے کر رہا ہو تو یہ مناسب نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مناسب جواب دہی کا عمل تیز تر کیا جائے۔ قوم کو ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ہی آگے بڑھنا ہو گا۔ خود انحصاری سے ہم اس دلدل سے نکل سکتے ہیں۔ طبقۂ خوشحالاں کو اللے تللے چھوڑنے ہوں گے۔ قومیں شاہراۂ ترقی پہ اکٹھے ہی رواں دواں اچھی لگتی ہیں اور یہی پائیدار ترقی اور مستقل خوشحالی کا مجرب علاج ہے۔

 

Facebook Comments HS