سنہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری، ون یونٹ کی جدید شکل


2023 کی حالیہ ڈیجیٹل مردم شماری کا نتیجہ اور اس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کی جدید حلقہ بندیوں کو دیکھ کے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا مطالبہ آج حقیقی طور پر درست اور جمہوریت کی روح کے عین مطابق سامنے آیا ہے۔ یعنی قوموں کی بنیاد پر ایسے نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ جس میں تقسیم در تقسیم پختون قوم کو ایک ہی متحدہ صوبے میں یکجا کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں آبادی کی بجائے سینٹ کی طرح تمام صوبوں کو برابری کی نمائندگی دی جائے اور سینٹ کو مالیاتی بل اور بجٹ کے اختیارات دیے جائیں اور ربڑ سٹیمپ کی بجائے حقیقی قانون سازی اور ملکی امور میں کردار ادا کرنے کا اختیار دیا جائے۔

پاکستان کے قیام کے چار سال بعد پہلی مردم شماری سال 1951 میں ہوئی دوسری 1961 میں تیسری 1971 میں ہونی تھی لیکن چونکہ ملک حالت جنگ میں تھا اس لیے اگلے سال 1972 کو ہوئی۔ تیسری سال 1991 میں ہوئی چوتھی سال 1998 میں قبل از وقت ہوئی پھر نامعلوم وجوہ کے باعث پانچویں مردم شماری 17 سال بعد 2017 میں ہوئی اور اب تک آخری مردم شماری قبل از وقت 2023 میں ہوئی جس کی بھی قبل از وقت کرانے کی وجہ اور مصلحت معلوم نہیں۔

پہلی اور دوسری مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی۔ اور وہ آبادی کی بنیاد پر بنیادی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مشرقی پاکستان یا بنگالیوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے سال 1954 میں ون یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مغربی پاکستان کے اس وقت کے تمام صوبوں پنجاب۔ بہاولپور۔ سند۔ صوبہ سرحد۔ سٹیٹس آف قلات اور برٹش کمشنریٹ (جو موجودہ بلوچستان کے علی الترتیب بلوچ اور پختون جدا جدا صوبہ جات تھے ) کو اکٹھے کر کے ایک یونٹ مغربی پاکستان اور دوسرا سارے مشرقی پاکستان کو ایک الگ یونٹ بنائے گئے۔ اس طرح مصنوعی طور پر بنگالیوں کی اکثریت اقلیت میں تبدیل کی گئی۔ جو بنگلہ دیش کے قیام کی دیگر کئی وجوہات اور محرومیوں میں ایک تھی۔

مغربی پاکستان کے تمام صوبوں بالخصوص قوم پرست سیاسی جماعتیں اس فیصلے سے ناراض ہوئیں اور ون یونٹ کے خلاف موثر اور مضبوط تحریک چلائی۔ اس دوران عام سیاسی کارکنان کے علاوہ تمام بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سال 1970 میں جنرل یحیی ’خان کے مارشل لاء کے بعد ون یونٹ ختم کیا گیا۔ اور قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اس تحریک کے ایسے قیدی تھے جو سب سے آخر میں رہا کیے گئے۔ یاد رہے کہ موصوف پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین جناب محمود خان اچکزئی کے والد گرامی تھے۔

ون یونٹ کے خاتمے سے اگرچہ بنگالیوں کی اکثریت تو پھر سے بحال ہوئی۔ لیکن پنجاب نے اب مغربی یونٹ میں دوسری قوموں کی اکثریت کم کرنے کے لیے یہاں پر بلا ضرورت صوبوں کی تقسیم کردی۔ اور صوبہ بہاولپور کو ختم کر کے ایک صوبہ پنجاب میں شامل کیا گیا۔ اسی طرح مزید حجم و قوت بڑھانے کی خاطر صوبہ سرحد موجودہ خیبر پختونخوا کے دو اضلاع اٹک اور میانوالی کو اس سے کاٹ کر پنجاب میں شامل کیا اور اس کو سب سے بڑا صوبہ بنا دیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ برٹش کمشنریٹ جو خالصتاً پختون آبادی پر مشتمل تھا بہاولپور کی طرح صوبہ سرحد میں ملا کے سارے پختونوں کو ایک صوبے میں متحد کیا جاتا لیکن پختونوں کی اکثریت کے خوف سے ان کو اور بلوچ سٹیٹس آف قلات کو غیر فطری طور پر یکجا کر کے صوبہ بلوچستان کا نام دیا گیا۔ اسی غیر فطری فیصلے سے پختونوں کی شناخت بھی ختم کی گئی۔ جبکہ ابتداء سے آج تک وہاں کے پختونوں اور بلوچوں کے مابین تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔ ایسے تمام اقدامات سے پنجاب ملک کا بڑا صوبہ بنا اور قومی اسمبلی میں قابل تصفیہ نمائندگی حاصل کرلی۔ جو دوسری قوموں اور صوبوں کے لیے قانون سازی کرانے میں رکاوٹ رہی ہے۔

حالیہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج ہی مضحکہ خیز ہیں۔ مثال کے طور پر سارے پاکستان اور دنیا بھر میں پختون زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے نہ صرف مشہور ہیں بلکہ ان پر پاکستانی اور خاص کر پنجابی انگریز دور کے پالیسی کو برقرار رکھ کے ان پر قسم قسم کے لطیفے کس رہے ہیں۔ اس مردم شماری میں پختونوں کی تعداد کم ہوئی۔ اور وہ جو کم ترقی یافتہ پختون پولیو ویکسین سے اس لیے انکار کیا کرتے تھے کہ ان کے بقول اس سے بچوں میں بانجھ پن پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں تو ان کی بات ہی کو تقویت مل گئی اور ایسا لگتا ہے کہ واقعی پختون بانجھ ہو رہے ہیں۔ جو ایک بین الاقوامی مسئلے کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔

اسی مردم شماری کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے جو نئی حلقہ بندیاں کیں ہیں۔ اس میں فاٹا کے انضمام سے قبل قومی اسمبلی کے بارہ نشستوں کو کم کر کے خیبر پختونخوا کے انضمام کے بعد چھ کر دی ہیں۔ اور آج انضمام کی حامی بھی سینے پیٹ اور بال نوچ رہے ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں جہاں نشستیں بڑھانی چاہیے تھی نہیں بڑھائی گئی۔ جبکہ کئی اضلاع میں دو دو اضلاع کے مشترکہ نشستیں بنائی گئیں۔ جبکہ جنوبی پختونخوا یعنی بلوچستان کے پختون آبادی کے نشستوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ البتہ حلقوں کی تقسیم اور قیام میں کئی غلطیاں کر دی گئی ہیں اس طرح پختونوں کی قومی اسمبلی میں نمائندگی کم رکھی گئی ہے۔

یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ ملک میں صوبوں کو ترقی اور دیگر منصوبوں کے لیے بلکہ وفاقی بجٹ میں حصہ آبادی کی بنیاد پر ملتا ہے اور قومی اسمبلی میں قانون سازی نمائندگی اور ووٹوں کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ پختون مالی و دیگر امور اور قانون سازی میں معکوس ترقی کر کے نسلی طور پر بھی ختم ہو رہے ہیں۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس مسئلے پر پہلے ہی سے سڑکوں پر ہے اور کیوں نہ ہو یہ مردم شماری تو مقاصد کے لحاظ سے ون یونٹ کی ہی ترقی یافتہ شکل ہے۔

Facebook Comments HS