نواز شریف اپنا بھرم برقرار رکھیں

منیر نیازی کی ایک پنجابی نظم ہے۔اسے پڑھتے ہوئے میں ہمیشہ حیران ہو جاتا ہوں۔ ’وقت‘ اور اس کی بے ثباتی کو اس نظم سے بہتر انداز میں بیان کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ نظم کا عنوان ہے:’ویلے تو وڈی کوئی حقیقت‘ یعنی وقت سے بڑھ کر بھی ا یک حقیقت۔ بنیادی پیغام اس نظم کا یہ ہے کہ ہر وقت کا اپنا ’سچ‘ ہوتا ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ’سچ‘ بھی بدلتا رہتا ہے اور اس کی حمایت میں نئے دلائل ایجاد کرنا ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ تلخ ترین حقیقت یہ بھی ہے کہ ’آون والی کل دی راتیں اے بتی نئیں جلنی‘۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ جو سوچ ہمیں آج راستہ دکھاتی روشنی کی طرح محسوس ہورہی ہے آنے والے دنوں میں بجھ چکی ہو گی۔
وقت کے ساتھ بدلتی حقیقتوں کے بارے میں تواتر اور تسلسل سے غور کرنے کو اس موضوع کی وجہ سے مجبور ہورہا ہوں جو ان دنوں ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔جی ہاں وہی موضوع جو نواز شریف کی 21 اکتوبر کے دن وطن واپسی کو زیر بحث لائے چلاجارہا ہے۔ اس موضوع پر آگے بڑھنے سے قبل التجا کروں گا کہ اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھیں کہ 2019ء کے آخری مہینے میں جب نواز شریف کو علاج کی خاطر لاہور کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا تو وہ اس وقت ایک ’سزا یافتہ قیدی‘ کے طورپر جیل میں مقیم تھے۔انھیں جس انداز میں بدعنوانی کا مجرم ٹھہراکر سزا سنائی گئی تھی میں ذاتی طورپر اسے ’انصاف‘کا مظہر تصور نہیں کرتا۔میری رائے مگر اس قانونی حقیقت کو بدل نہیں سکتی کہ اگر 21اکتوبر کو نواز شریف صاحب وطن لوٹتے ہیںتو ایئرپورٹ اترتے ہی انھیں اپنے گھر نہیں بلکہ جیل جانا ہوگا جہاں سے پہلے وہ ہسپتال اور بعدازاں لندن’بھجوائے‘ گئے تھے۔ ’بھجوائے‘ کا لفظ میں نے برجستہ نہیں لکھا ہے۔
’بھجوائے‘ جانے کے عمل میں کلیدی کردار ان دنوں کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ادا کیا تھا۔ قمر جاوید باجوہ کو یقین تھا کہ اپنی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کے علاج کی خاطر 2018ء کے انتخابات سے چند ماہ قبل لندن گئے نواز شریف وطن نہیں لوٹیں گے۔ ان کی عدم موجودگی میں تاہم سابق وزیر اعظم اور ان کی دختر کے خلاف احتساب عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت جاری رہی۔ اس کے اختتام پر دونوں باپ بیٹی کو ان کی عدم موجودگی میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت سزا سنادی گئی۔ سزائیں سنادی گئیں تو ہماری ریاست کے چند دائمی اداروں کی سرپرستی میں ’پانچویں پشت کی ابلاغی جنگ‘ کے لیے تیار ہوئے ’ذہن سازوں‘ نے یہ ثابت کرنے کو بھی ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیا کہ محترمہ کلثوم نواز کو کوئی موذی مرض لاحق نہیں ہے۔ وہ لندن میں ’ہسپتال نما‘ ایک ایسی عمارت میں رہائش پذیر ہیں جسے بیماروں کا ’ریسٹ ہاﺅس‘کہا جا سکتا ہے۔ شریف خاندان کو ’جھوٹا‘ ثابت کرنے کے لیے لندن میں مقیم تحریک انصاف کے کئی جنونی حامی مذکورہ ’ہسپتال نما‘ عمارت میں گھس کر سچ کو بے نقاب کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف رہتے۔ ان کی سفاکی شریف خاندان سے اندھی نفرت میں حیران کن فراخ دلی سے برداشت کرلی گئی۔
بہرحال 25 جولائی 2018ء کا دن انتخاب کے لیے طے ہوگیا تو اس کے انعقاد سے چند روز قبل نواز شریف اپنی شریک حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز سمیت لاہورآ گئے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ لاہور لوٹتے ہوئے نواز شریف کو ہرگز یہ امید نہیں تھی کہ ان کے استقبال کے لیے جمع ہوا ہجوم اپنی تعداد اور جذبے سے ریاست کو دہلاکرر کھ دے گا۔وہ انھیں ایئرپورٹ سے گرفتار کرنے کی ہمت نہیں دکھائے گی۔ ملکی سیاست کے دیرینہ کھلاڑی ہوتے ہوئے وہ جبلی طورپر جانتے تھے کہ 2018ء کے انتخابات سے قبل وہ لاہور ایئرپورٹ اترکر اپنی بیٹی سمیت جیل نہ گئے تو تحریک انصاف دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اس کے چند ہی برس بعد مسلم لیگ (ن) ویسے ہی بھلادی جائے گی جیسے قیوم خان اور ممتاز دولتانہ کی قیادت میں قائم مسلم لیگ ماضی میں بھلا دی گئی تھیں۔
25 جولائی 2018ء کے دن نواز شریف کا جرا¿ت سے وطن لوٹنا درست فیصلہ ثابت ہوا۔ان کی جماعت اکثریت تو حاصل نہ کر پائی مگر ’آر ٹی ایس بیٹھ‘ جانے کے باوجود وسطی پنجاب میں اس کا ’ووٹ بینک‘پوری قوت سے موجود دکھائی دیا۔اس روز آئے نتائج نے ان دنوں کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو بوکھلادیا تھا۔ جنرل فیض حمید ان کے کلیدی ’سیاسی انجینئر‘ تھے۔26جولائی کو انھیں طلب کرکے باجوہ صاحب نے نہایت درشت الفاظ میں اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ اپنے دفاع میں فیض حمید مصررہے کہ نواز شریف کی گرفتاری نے ’متوقع نتائج‘ فراہم کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔عمران خان کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھانے سے قبل ہی لہٰذا فیصلہ ہو گیا تھا کہ نواز شریف کو جیل سے باہر نکال کر لندن بھیجنے کی کوئی صورت نکالی جائے۔ سوچا گیا کہ اس کا حصول شہباز شریف کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ نواز شریف کے چھوٹے اور میری دانست میں پرخلوص بھائی ہوتے ہوئے وہ یقینا اپنے بھائی کی زندگی آسان کرنا چاہ رہے تھے۔ باجوہ کی لگائی گیم میں حصہ ڈالنے کو لہٰذا تیار ہو گئے۔
نواز شریف کی ایک ’ڈیل‘ کے تحت لندن روانگی نے ان کے ووٹ بینک اور سیاست کو ہرگز نقصا ن نہیں پہنچایا تھا۔ تحریک انصاف انھیں ’بھگوڑا‘ ہونے کے طعنے دیتی رہی مگر عمران حکومت کے دوران جو ضمنی انتخابات ہوئے پنجاب میں انھیں مسلم لیگ (ن) مریم نواز کی قیادت میں چلائی مہم کی بدولت جیتتی رہی۔حتیٰ کہ پرویز خٹک کے آبائی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست بھی مسلم لیگ (ن) نے جیت لی۔
وقت مگر اب بدل چکا ہے۔ بقول منیر نیازی اس ’ویلے دی اپنی حقیقت‘ یہ ہے کہ چند ماہ بعد جو انتخابات ہونا ہیں ان سے قبل نواز شریف یا ان کی جماعت کے سرکردہ رہ نما نہیں بلکہ عمران خان اور ان کے چند ثابت قدم ساتھی جیل میں ہیں۔ جیل میں ہونے کی وجہ سے کسی سیاستدان کو ’ہمدردی‘ کا جو ووٹ ملتا ہے وہ اب کی بار تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدواروں کے کام آئے گا۔ گزشتہ پانچ ہفتوں سے میں روزانہ کی بنیاد پر بازاروں میں عام افراد سے گپ شپ لگارہا ہوں۔ میرا ’ون مین سروے‘ مجھے بتارہا ہے کہ شہباز حکومت کی قیادت میں اپریل 2022ءمیںجو حکومت قائم ہوئی تھی اسے دورِ حاضر کی ناقابل برداشت مہنگائی کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ہمارے غریب اور نچلے متوسط طبقے کی اکثریت اس حکومت سے نفرت کی وجہ سے ’بلے‘ کے نشان پر مہر لگانے کو بے تاب ہے۔
ایسے حالات میں نواز شریف اگر وطن لوٹے۔ ان کے وطن آنے سے قبل ’حفاظتی ضمانت‘ کا ’بندوبست‘ بھی ہو گیا تو پیغام یہ جائے گا کہ ’مقتدر‘ کہلاتی قوتیں اب کی بار نوازشریف کی جماعت کو برسراقتدار لانا چاہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر میں نے ’نواز شریف‘ نہیں ’نواز شریف کی جماعت‘ کا لفظ برجستہ نہیں بلکہ سوچ بچار کے بعد لکھا ہے وجہ اس کی ایک بار پھر قانونی مشکلات ہیں کیونکہ ’حفاظتی ضمانت‘ کا بندوبست ہوجانے کے باوجود فی الوقت یہ بات یقینی نہیں ہے کہ ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ کے سپریم کورٹ کے ہاتھوں عوامی عہدوں کے لیے نااہل ٹھہرائے نواز شریف کو قومی اسمبلی کے کسی حلقے سے بطور امیدوار کھڑے ہونے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔مطلوبہ اجازت نہ ملی تو نواز شریف محض اپنی جماعت کی انتخابی مہم کی قیادت ہی کرسکیں گے اور اس وقت کی فضا میں ان کی قیادت میں چلائی انتخابی مہم مسلم لیگ (ن) کو وا ضح اکثریت نہیں دلواپائے گی۔اسی باعث نہایت دیانتداری سے میں اصرار کروں گا کہ اپنا ’بھرم‘ برقرار رکھنے کی خاطر نوازشریف 21 اکتوبر کے دن وطن آنے سے گریز کریں۔
(بشکریہ نوائے وقت)

