سفید مکھی، آشوب چشم اور ہومیوپیتھی


کسی ظالم نے کہہ دیا کہ میلے والی گلی میں فروٹ نسبتاً کم قیمت پہ مل جاتے ہیں۔ آدھا بازار تو کباڑیوں اور پرانی عمارتوں کا ملبہ خریدنے والوں نے ہتھیا لیا ہے۔ امرود پہ کالی مرچیں اور نمک چھڑک کے کھانا مجھے بہت پسند رہا ہے۔ انتہا درجہ کی مہنگائی اور ڈوبتے کو تنکے کا سہارا یعنی پھل تھوڑا سا سستے مل جائیں گے۔ بازار میں موٹر سائیکل لوڈرز پرانا سریا اور ٹی آرز لادے سپورٹس کار ریس سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ پھٹہ موٹر سائیکل رکشہ گھٹنے کو لگا۔

واپسی پہ لاری اڈہ سے تھوڑا آگے کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا تھا۔ ایک قبرستان کے پاس ایسی تنگ جگہ سے گزرنا پڑا جہاں کبھی سرکاری جگہ پارک کے لیے مختص تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سرکاری محکموں میں مالی کرپشن کو کنٹرول کرنے والے ایک ادارے کے ایک بڑے باوردی افسر کی نظر اس پہ پڑی اور وہاں مکانات بن گئے۔ قبرستان اور ان مکانوں کے درمیان گزرتی سڑک اس قدر تنگ ہو گئی کہ ٹریفک گزرنا مشکل اور حادثات ہونا آسان ہو گیا۔ قریب ہی کباڑیوں نے سڑک پہ تجاوزات کے ساتھ ساتھ قبرستان کی جگہ پہ بھی اپنا ”قانونی حق“ حاصل کر لیا۔

بھلا ہو ایک سابق وفاقی وزیر کا جس کے والد کی قبر اسی قبرستان میں ہے اور اس نے قبرستان پہ ”عوامی قبضے“ کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سرکاری فنڈز سے چاروں طرف دیوار بنوا کر لوہے کی گرل لگوا دی۔ خیر، اب تو کئی جگہوں سے اس دیوار کی اینٹیں اور لوہے کا جنگلہ بھی غائب ہوا پڑا ہے۔ کبھی وہ اپنے والد کی قبر پہ فاتحہ پڑھنے آئے تو دیکھے کہ اندر قبروں کے اوپر رہائشی کمروں کی تعمیر ہو چکی ہے اور چرس بڑی اعلٰی کوالٹی کی دستیاب ہے۔ قبرستان اور سرکاری پارک کے لیے مختص جگہ پہ بنے مکانات کے درمیان گزرنے والی سڑک پہ رات کو گزرنے والے افراد سے موٹر سائیکلز، موبائل فونز اور آن لائن کام کر کے واپس آنے والے لڑکوں سے لیپ ٹاپ بھی چھین لیے جاتے ہیں۔

صدر پلی چوک کے پاس سب کچھ سڑک پہ ہی بک رہا تھا اور سب کچھ سڑک پہ ہی موجود تھا۔ ایمرجنسی بریک لگا کے روڈ ایکسیڈنٹ سے بچنا پڑا۔ متحدہ ہائے امریکہ پہ جو ڈاکومنٹری ویڈیوز دیکھیں توان میں بتایا گیا کہ امریکہ میں شہروں کے اندر گزرنے والی سڑکوں پہ سڑک کے درمیان کی گرین بیلٹ کو کٹ یا یو ٹرن تھوڑا لمبے فاصلے کے بعد دیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ روڈ ایکسیڈنٹ کو روکا جا سکے۔

تاہم پاکستانی انجینئرز اور پلانزر اس ”حقیقت“ سے آگاہ ہیں کہ امریکی تھوڑا بے وقوف ہوتے ہیں اس لیے انھوں نے بہاول پور لاری اڈہ کے باہر ہر چند فٹ کے بعد یوٹرن بنا دیا ہے۔ سڑک کے دائیں بائیں سڑک کے اوپر ہی تجاوزات کی بھر مار۔ آپ موٹر سائیکل یا کار پہ جا رہے ہیں اور اچانک ہر چند فٹ کے بعد آنے والے یو ٹرن سے کوئی پھٹہ موٹر سائیکل لوڈر یا کوئی موٹر رکشہ سامنے آتا ہے اور آپ کو ایمرجنسی بریک لگا نا پڑتی ہے ورنہ بہاول وکٹوریہ ہسپتال کی زیارت فرمائیں۔ پاکستانی ”پلانرز“ واقعی بہت عظیم ہیں۔

راستے بھر سوچتا رہا جیسے مقتدرہ قوتیں فوجی افسروں کی مخصوص طرح کی ذہن سازی کرتی ہیں تاکہ ان کے اندر مالی کرپشن کی خواہش اور رجحان اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے اور جائیدادیں بنانے کی ہوس پیدا نہ ہو تو کیا وہ اسی طرح کی ذہنی تربیت ان سویلین افسران، عملہ اور محکموں کی نہیں کر دیتے جو براہ راست پبلک ڈیلنگ کے فرائض سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔

سڑک پہ حادثات سے بچنے کے لیے جگہ جگہ ایمرجنسی بریکیں لگاتے لگاتے تھکا ہارا ابرار جوگی کے ٹی اسٹال پہ پہنچ گیا۔ ایک کپ چائے تو پی لوں۔ ٹی اسٹال کے سامنے درخت پہ نظر پڑی تو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ’سفید مکھی‘ فضا میں محو پرواز تھی۔

کہا جا رہا ہے حال ہی میں ملک میں پھیلے آشوب چشم کی ایک وجہ یہ سفید مکھی بھی ہے۔ آپ چاہیں تو اس کے سدباب کے لیے کوئی ایلو پیتھک دوا یا ڈراپس استعمال کر لیں یا بڑی بوڑھیوں کے ٹوٹکے آزما لیں۔ تاہم اگر آپ ہومیوپیتھی سے بھی مستفید ہونا چاہتے ہیں تو چند سطریں پڑھ لیں۔

ہومیو پیتھی میں سوزش، انفیکشن اور زخم کو ابتدا میں روکنے اور کنٹرول کرنے کے لیے بڑی دوائیں جو دو سو سال سے زیادہ عرصہ سے چلی آ رہی ہیں، ایکونائٹ اور فیرم فاس ہیں (دونوں تیس پوٹینسی میں ) ۔ فیرم فاس ٹیبلٹ فارم میں لینا چاہیں تو چھ ایکس کی پوٹینسی میں لی جائے جوہر طرح کی انفیکشن بشمول زخم، گلے کی خرابی اور کھانسی وغیرہ کو ٹھیک کرنے میں بہترین نتائج کی حامل ہے۔ آشوب چشم کی وجہ سے آنکھوں میں درد ہو رہا ہو تو آرنیکا دوا تیس پوٹینسی میں دی جائے۔

آشوب چشم کو کنٹرول کرنے کے لیے ان کے بعد یوفریزیا اور بیلا ڈونا (دونوں دو سو پوٹینسی میں ) دی جائیں گی۔ تاہم اسلام آباد کے معروف ہومیوپیتھس آشوب چشم کو کنٹرول کرنے کے لیے یو فریزیا، فیرم فاس اور مرک سال (دو سو پوٹینسی میں ) ہر آدھے گھنٹے بعد استعمال کرا کے اچھے نتائج لے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ادویات پانی میں ڈال کر مریض کو پلانا ہیں، آنکھ میں نہیں ڈالنا۔

آنکھوں میں ڈالنے کے لیے آپ چاہیں تو ایلوپیتھک یا ہومیوپیتھک آئی ڈراپس لے لیں۔ مقامی ہومیوپیتھک فارما سوٹیکل کمپنیز یا فارمیسیز بھی معیاری آئی ڈراپس بنا چکی ہیں جو اچھے نتائج دے رہے ہیں۔ جرمن ساختہ آئی ڈراپس بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

اکبر شیخ اکبر اپنا ہومیوپیتھک پروٹوکول بھی یہاں لکھ دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس پروٹوکول کو پڑھ کر عام قاری تھوڑا ہنسے کہ چہرہ کے خد و خال دیکھ کر بھی کوئی دوا تجویز کی جاتی ہے؟ تاہم میڈیکل سائنس کا علم رکھنے والوں اور ہومیوپیتھ حضرات کے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

پروٹوکول یہ ہے کہ آشوب چشم میں مبتلا مریض اگر موٹے نین نقش اور گھنے بالوں کا مالک ہے تو ڈاکٹر پہلے اسے سلفر دوا کا ہائی پوٹینسی میں ایک قطرہ پانی میں ڈال کر پلائے گا۔ آدھے گھنٹے بعد سورائنم دوا کا ہائی پوٹینسی میں ایک قطرہ پانی میں۔ پھر آدھ گھنٹے کے وقفہ کے بعد اسے ایکونائٹ اور فیرم فاس یا یوفریزیا، بیلا ڈونا اور مرک سال دوائیں شروع کرا دے گا جو ہر گھنٹہ بعد دہرائی جائیں۔

مریض اگر بھرے ہوئے جسم کا مالک ہے یعنی جسیم اور پر خون ہے اور تھوڑا سا خوبصورت یا قابل قبول ہے تو پہلے اسے تھوجا دوا ہائی پوٹینسی میں ایک قطرہ پانی میں ڈال کر اور آدھے گھنٹہ بعد میڈورینم دوا ہائی پوٹینسی میں ایک قطرہ دی جائے گی اور پھر درج بالا دوائیاں دی جائیں گی۔

مریض انتہائی دبلا پتلا اور لاغر سا ہے اور اس کے گال پچکے ہوئے ہیں تو پہلے اسے ٹیوبر کولینم دوا ہائی پوٹینسی میں ایک قطرہ دی جائی گی اور پھر بعد میں دیگر دوائیں۔ مریض اگر پتلے نین نقش کا مالک ہے۔ رنگت سفیدی یا سرخی مائل ہے اور سر پہ بال تھوڑا کم ہیں تو پہلے سفلینم دوا ہائی پوٹینسی میں ایک قطرہ دی جائے گی۔

واضح رہے کہ سلفر، سورائنم، تھوجا، میڈورینم، ٹیوبر کولینم اور سفلینم دوائیں صرف ایک بار دی جائیں گی اور انھیں دہرایا نہیں جائے گا تاہم دیگر دوائیں دہرائی جائیں گی۔

مریض اپنی آنکھوں کو بار بار نہ مسلے۔ اپنے ہاتھوں کو دھوئے۔ صاف ستھرے ماحول میں رہے۔

گرم تاثیر والی غذا فی الحال روک دے اور سادہ غذا کھائے۔ چاول، چائے، گوشت، برگر، شوارما، اور پیزا کا استعمال چند دن کے لیے روک دے۔ باہر سے آنے والا جنک فوڈ بالکل نہ کھائے اور کیمیکلز مشروبات بھی نہیں پینا۔ ڈارک گلاسز استعمال کرے۔ اپنے قریبی ایلوپیتھک یا ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو وزٹ کرے۔

(ستمبر 2023 کے مہینے میں بارہ ربیع الاول کو لکھی گئی تحریر)

Facebook Comments HS