مستنصر حسین تارڑ کے ناول "بہاؤ” کا تہذیبی شعور

ناول ”بہاؤ“ مستنصر حسین تارڑ کا شاہکار ناول ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا یہ ناول کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح انھوں نے اس ناول میں قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کی تصویر پیش کی ہے شاید آج تک کوئی مصنف اس طرح جامع اور خوبصورت طریقے سے نہیں کر پایا۔
مستنصر حسین تارڑ کا تعارف
مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔ سعادت حسن منٹو ان کے پڑوس میں رہتے تھے۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ ایف۔ اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا۔ جہاں انھوں نے فلم تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھا اور پرکھا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر کے وطن واپس لوٹے۔
انھوں نے پی۔ ٹی۔ وی کے ڈراموں میں بھی کام کیا۔ متعدد سفر نامے بھی لکھے۔ بہاؤ کے علاوہ راکھ، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب جیسے شہرۂ آفاق ناول تحریر کیے۔ ان کے ڈراموں میں شہپر، ہزاروں راستے، سورج کے ساتھ ساتھ، ایک حقیقت افسانہ، کیلاش اور فریب شامل ہیں۔ ”میں بھناں دلی دے کنگرے“ ان کا پنجابی ناول ہے جو حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ ناول بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
ناول ”بہاؤ“ کا تعارف
ناول بہاؤ کا موضوع وادیٔ سندھ کی تہذیب ہے۔ اس ناول میں تارڑ نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی ہے۔ ”بہاؤ“ میں قدیم دریا اور ندی سرسوتی کے معدوم اور خشک ہو جانے کا بیان ہے۔ جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ میں اتر جاتی ہے۔
بہاؤ کے حوالے سے مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ دراصل مجھے رات میں اٹھ کر پانی پینے کی عادت ہے۔ میں رات کو سائیڈ ٹیبل پر پانی رکھ لیتا ہوں اور میں شیشے کا گلاس نہیں رکھتا بلکہ مٹی کا گلاس پانی کے لیے اپنے پاس رکھتا ہوں۔ وہ رات بہت گرم تھی جب میں نے نیم غنودگی میں اٹھ کر پانی پیا تو مجھے احساس ہوا کہ پانی کی مقدار کم ہوئی ہوئی ہے۔ یہ وہ پہلا خیال تھا، پہلا موقع تھا جب ”بہاؤ“ کا ابتدائی خیال میرے ذہن میں آیا۔
بہاؤ مستنصر حسین تارڑ کا پہلا شاہکار ناول ہے۔ اس ناول کا موضوع وادیٔ سندھ کی تہذیب ہے۔ اس ناول میں تارڑ نے تخیل کے زور پر ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہو جانے کو بیان کیا ہے۔ دریا آہستہ آہستہ اتنا خشک ہو جاتا ہے کہ زندگی تعطل کا شکار ہو جاتی ہے اور پانی جو زندگی کا اہم عنصر ہے مفقود ہو جاتا ہے۔ اس تباہی سے بہت سے حیوانات مر جاتے ہیں۔ کچھ دنیا سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں، مگر انسان واحد حیوان ہے جو محفوظ رہتا ہے۔ اس ناول کا دلچسپ عنصر یہ بھی ہے کہ انسان ایک ایسی عجیب و غریب چیز ہے جو ان تمام حادثات و واقعات اور تباہی کے بعد بھی بچ نکلنے میں کامیاب رہتی ہے۔ اس ناول میں حیران کن چیز مستنصر حسین تارڑ کا مضبوط تخیل ہے جو پانچ ہزار سال پہلے کی تہذیب ہماری آنکھوں کے سامنے لا کھڑی کرتا ہے۔
یہ ناول تاریخی اور تہذیبی دونوں اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک طرف تو ہمیں پانچ ہزار سال پرانی وادیٔ سندھ کی تہذیب کا پتا دیتا ہے اور دوسری طرف تاریخ کے حوالے سے معلومات مہیا کرتا ہے کہ کیسے ہند آریائی یہاں آ کر بسے تھے۔
ناول کے بارے میں عبداللہ حسین لکھتے ہیں کہ ان چیزوں سے بالا تر اس ناول میں سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات اس کی حیرت انگیز زبان ہے۔ جہاں تک میرا علم ہے وادیٔ سندھ کی قدیم تاریخی تحریریں آج تک ڈی سائفر نہیں کی گئیں۔ اس ناول کی کہانی کا تانا بانا کہانی کو اس طور باہم کندھا دیتے ہیں کہ قاری کا ذہن اس بات کو تسلیم کر لیتا ہے کہ اس زمانے میں اس مقام پر یہی زبان بولی جاتی ہو گی۔ اپنا اعتبار قائم کرنا، یعنی (سسپن آف ڈس بی لیف ) فکشن کی مہم کا پہلا پڑاؤ ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فکشن کی اپنی ایک الگ حیثیت ہے جو واقعات کی ظاہری شکلوں سے زیادہ اصل اور سکہ بند ہوتی ہے۔
تہذیب کیا ہے؟
تہذیب کا لفظ کسی قوم کی طرز معاشرت، رسم و رواج اور طریق بود و باش کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک قوم کے خد و خال جو اسے دوسری قوموں سے ممتاز کریں۔
تہذیب عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ ”ہ، ذ، ب“ ہے۔ عربی اردو لغت ”المنجد“ میں تہذیب کا مطلب ہے : ”شاخ تراشی کرنا ’پاکیزہ کرنا‘ درست کرنا“ ڈاکٹر انوار ہاشمی تہذیب کی تعریف یوں کرتے ہیں : ”تہذیب ایک وسیع لفظ ہے ’اس میں انسان کی زندگی کے بنیادی تصورات، عقائد و افکار، زندگی کا نصب العین اور تمام ارادی افعال جن میں انسان کا چلنا پھرنا، انداز گفتگو، کردار اخلاق، آداب و اطوار، اس کے علمی، ادبی، سائنسی کارنامے، اس کی سیاست معاشرت اور معیشت سب شامل ہیں“
” بہاؤ“ کا تہذیبی شعور
ہر قوم کی ایک تہذیبی شخصیت ہوتی ہے۔ اس شخصیت کے بعض پہلو دوسری تہذیبوں سے ملتے جلتے ہیں، لیکن بعض ایسی انفرادی خصوصیت ہوتی ہیں جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیب سے الگ اور ممتاز کرتی ہیں۔ ہر قومی تہذیب اپنی انھیں انفرادی خصوصیات سے پہچانی جاتی ہیں۔
بہاؤ میں قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب دکھائی گئی ہے کہ کس طرح آج سے پانچ ہزار سال کے پہلے کے لوگ زندگی گزار رہے تھے کہ کس طرح ان کی خوراک تھی، ان کے رہن سہن کا طریقہ کیا تھا۔ کس طرح کی ان کی رسوم و رواج تھے، ان کا مذہب کیا تھا یا وہ کیسی زبان بولتے تھے۔ ان کا لباس کیا تھا ان کا پیشہ کیا تھا۔ یہ سب چیزیں تہذیب کا حصہ ہیں۔
زبان:
زبان کسی بھی تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی بھی معاشرے کی تہذیب دیکھنے کے لیے سب سے پہلے ہم ان کی زبان ہی کو دیکھتے ہیں۔ اس طرح کسی بھی معاشرے کی تہذیب میں زبان ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسی طرح اس ناول میں بھی وادیٔ سندھ کی تہذیب کی زبان سے ہمیں ان کی تہذیب کا اندازہ ہوتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ نے اس ناول میں ایسی زبان استعمال کی ہے جس سے ہمیں ان کی تہذیب کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر نیچے دیے گئے جملوں پر غور فرمائیے :
” پیپل کی شاخوں پر ون سونے دھاگے بندھے تھے“
” اس ویہڑے کے آدھے حصے پر چھاؤں کے لیے چھپر پڑا ہوا تھا ”
اسی طرح زبان کسی بھی معاشرے کی تہذیب کا اہم جزو ہے۔ اس کی مدد سے ہم ہزاروں سالوں پرانی تہذیب کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
کھیتی باڑی:
کھیتی باڑی وادیٔ سندھ کی تہذیب کا اہم حصہ تھی جو آج بھی ہے اور آج سے ہزاروں سال پہلے بھی تھی اور اس کا آغاز بھی عورتوں نے کیا تھا۔ وہ دریا کے اطراف میں جو زرخیز زمین تھی اس میں مختلف فصلوں کے بیج بوتے اور پھر بارش اور دریا کے پانی سے وہ پک کر تیار ہوتی جس سے وہ اپنا پیٹ پالتے۔
مثال کے طور پر :
” پاروشنی کنک کا تھیلا کاندھے سے لٹکائے زمین پر بیٹھی کسی موٹی بھوکڑ کی طرح ہل ہل کر آگے ہوتی تھی اور کھودی ہوئی زمین میں کنک کے دانے گراتی جاتی تھی ”
اس طرح ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کھیتی باڑی کرتے تھے اور کنک (گندم) ، مٹری، جوار، باجرہ اور تل جیسی فصلیں اگاتے ہیں۔ اور اسی چیز کے ذریعے وہ لین دین کرتے تھے۔ جو لوگ فصلیں نہیں اگاتے تھے وہ ان سے کسی اور چیز کے بدلے انھیں کنک وغیرہ دیتے تھے اور اسی طرح وہ آپ میں لین دین کرتے تھے۔
مذہب:
چونکہ تہذیب میں مذہب کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے اور یہ تہذیب کا اہم جزو تصور کیا جاتا ہے اس لیے یہاں کا مذہب بتانا بھی مذکور ہے۔ ناول کو پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وادیٔ سندھ کہ لوگوں کا کوئی خاص مذہب نہ تھا۔ کوئی سورج کو پوجتا ہے تو کوئی پانی کو ماں سمجھتا ہے لیکن کچھ جگہوں پر ویدک کا ذکر ہوا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندو مت بھی ان کا مذہب ہو سکتا ہے مثال کے طور پر سرسوتی ہندو مذہب میں دیوی کو کہتے ہیں جو پانی پر حکمرانی کرتی ہے اور پانی پر اس کا راج چلتا ہے۔
مثال کے طور پر :
” سرسوتی جو پانیوں کی ماں ہے اور ساتویں ندی ہے
اس کے پانی آتے ہیں شاندار اور بلند آواز میں
چنگھاڑتے ہوئے ”
ہندو مذہب میں ویدک سے مراد وہ کلام ہے جس پر ان کی مذہبی کتابیں مشتمل ہیں اور وہ ان کو وید مقدس وغیرہ کہتے ہیں۔ وید کا ذکر بھی ناول میں کیا گیا ہے۔
ناول سے مثال ملاحظہ کیجیے :
”میں اپنی زمین کو تمہارے ویدوں سے زیادہ جانتا
ہوں۔ ”
ظروف سازی:
ظروف سازی ان کی تہذیب کا ایک بڑا حصہ تھی۔ اور اسی چیز کی بدولت انھوں نے اپنی تہذیب کی عکاسی کی ہے اور آج بھی اگر ہم موہنجوداڑو کے کھنڈرات پر جائیں تو مختلف قسم کے نقش و نگار والے برتن ہمیں نظر آئیں گے۔ اس ناول میں بھی پکلی نام کی خاتون خاص طور پر اس پیشے سے منسلک تھی جو مٹی کے برتنوں پر مختلف قسم کے نقش و نگار بنا کر انھیں پکاتی تھی اور یہ ان کی تہذیب کا بہت بڑا حصہ تھی اور انھی نقش و نگار کی مدد سے ہم ان کی تہذیب میں پائی جانے والی اور بھی بہت سی چیزوں کا پتا لگا سکتے ہیں۔
مثال ملاحظہ کیجیے :
” پکلی دونوں پاؤں جوڑے، گھٹنوں کے بیچ ایک گیلی
اور کچی جھجھر رکھے اس پر جھکی تھی۔ اس کی انگلیوں
میں ہاتھ بھر کی ایک ٹہنی تھی جس کا سرا کوٹ کر
نرم کیا گیا تھا۔ وہ اسے دائیں بازوں میں رکھے گیری
کے پیالے میں ڈبوتی اور جھجھر پر بوٹے الیک نے
لگتی۔ ”
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ظروف سازی کتنا بڑا کام تھا اور اس کے ذریعے وہ اپنی تہذیب کو ان مٹی کے مٹکوں میں قید کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ وہ چھوٹے پتھروں کی مدد سے مختلف منکے اور مورتیاں وغیرہ بھی بناتے تھے۔ ناول کا کردار سمرو خاص طور پر اس کام سے وابستہ تھا۔
مثال کے طور پر :
”سمرو نے پتھر کے ایک ٹکڑے کو آگ پانی میں
ڈبویا اور منکے کے ایک کونے میں ایک شکل بنا دی ”
لباس:
لباس کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو لباس بھی اس دور کا کچھ مختلف تھا۔ دوپٹے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لنگی باندھی جاتی تھی اور دھڑ پر بھی اسی طرح کا کپڑا باندھا جاتا تھا۔
مثال ملاحظہ کیجیے :
” پاروشنی پکلی کے پاس پہنچی تو اس نے کس کر اپنی
لنگی باندھی اور پھر گھٹنوں سے اوپر کر کے پکلی کے
پاس بیٹھ گئی ”
ناول میں بہت جگہ ایسی چیزیں بیان کی گئی ہیں جس کے ذریعے ہم ان کے لباس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
زیورات:
زیورات پہننا بھی ان کی تہذیب کا حصہ تھا وہ بہت زیادہ کنگن پہنتی انہوں نے انہوں نے کہنیوں تک کنگن چڑھائے ہوتے، پاؤں میں کڑے پہنتی اور کانوں میں بھی بندے ڈالتی تھیں۔ اس طرح جب ہم موہنجوداڑو کی تہذیب کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ زیر زمین ان کی باقیات میں سے زیورات بھی کثیر تعداد میں دریافت ہوئے ہیں۔ اسی چیز کو مد نظر رکھ کر مصنف نے اس ناول میں بھی ان کے زیورات کا ذکر کیا ہے۔
مثال ملاحظہ کیجیے :
” جب پاروشنی اوکھلی میں کنک چھڑتی تو اس کے
ہاتھوں کے کنگن ایک خاص آواز پیدا کرتے، آخر
وہ انھیں اتار دیتی اور پھر ہولے بازوؤں سے وہ آرام
سے کنک پیستی۔ ”
اس طرح ناول کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس طرح کے زیورات پہنتی تھیں۔ جو آج بھی ہمیں موہنجوداڑو کی باقیات سے ثبوت کے طور پر ملتے ہیں۔
ایک اور مثال ملاحظہ کیجیے :
” اس کی کہنیوں پر چوڑیاں اور کنگن ہیں اس
نے مجھ پر وار کیا ہے۔ ”
توہم پرستی:
توہم پرستی جو آج کے دور میں بھی عام ہے، یہ بھی قدیم دور سے اور اس وقت کی تہذیب سے چلی آ رہی ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ہم وادیٔ سندھ کی بستیوں میں دیکھیں تو اس وقت کی تہذیب میں بھی ہمیں توہم پرستی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ناول سے مثال ملاحظہ کیجیے :
”اس نے اپنا سایہ دیکھتے ہی ڈر کے مارے
ہچکی لی آسے پاسے دیکھا اور فوراً اپنا مکھ موڑ
کر سورج پاسے کر لیا۔ ”
یعنی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کی طرف پیٹھ کرنا بد شگونی سمجھتے تھے اور سورج کی طرف پیٹھ کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ اس کے علاوہ جب وہ ان ٹیلوں سے گزرتے جن پر پیاس کی وجہ سے لوگ مر گئے تھے اور ان کی روحیں ریت کے اندر تھیں تو وہ وہاں پر پانی چھڑکتے، ان کا ماننا تھا جو وہاں سے گزرتے ہوئے پانی نہیں چھڑکتا اس کو روحیں پیچھے سے بلاتی ہیں۔
اس حوالے سے مثال ملاحظہ کیجیے :
” ان ٹیلوں کے نیچے وہ لوگ ہیں جو پانی پیئے بغیر
مر گئے اور اگر ان کے اوپر پانی نہ ڈالیں تو وہ پیچھے
سے پکارتے ہیں۔ ”
اسی طرح اور بھی بہت سی مثالیں مثلاً سرسوتی کا ناراض ہونا اور پھر دریا میں چیزیں ڈال کر اس کو منانا اور اپنی پیاری چیزیں دریا میں بہانا تا کہ سرسوتی راضی ہو جائے۔
رسم و رواج:
جس طرح ہماری آج کی تہذیب میں رسم و رواج ہیں اور ہم ان کی پابندی کرتے ہیں بالکل اسی طرح قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب میں بھی رسم و رواج تھے اور وقت آنے پر ان کی پاسداری کی جاتی تھی مثال کے طور پر جب شادی ہوتی تو کچھ اس طرح کی رسوم ہوتی تھیں :
” پاروشنی کی شادی ورچن کے ساتھ ہو رہی تھی
دیے جلائے گئے، بھیڑوں کا گوشت کاٹا گیا۔ ”
” ورچن میل لے کر پاروشنی کے گھر آیا“
” پکلی نے پاروشنی کا سر صندل کے پانی کے ساتھ
دھویا اور اس کے پورے جسم پر بیل بوٹے بنائے
بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنے برتنوں پر بناتی
تھی۔ ”
اس کے علاوہ جب ان میں سے کوئی مر جاتا تو وہ اسے ایک مرتبان میں ڈال کر اسے بند کر دیتے اور اس پر مٹی ڈال دیتے اور اوپر گھاس اگ جاتی جب گھاگری مری تب بھی پاروشنی اور پورن نے مل کر اسے مرتبان میں ڈال کر بند کر کے اوپر مٹی ڈال دی جب پا روشنی کا بچہ مرا ہوا پیدا ہوا تو اس نے کچھ اس طرح پکلی سے کہا:
” پکلی اس کے لیے ایک مرتبان بنا اور اتنا بڑا
کہ میں بھی اس کے اندر بند ہو جاؤں۔ ”
موہنجو دڑو کی بستی میں جب کوئی مہمان آتا تو واپس جاتے ہوئی وہاں کے لوگ اسے کچھ سوغات دیتے اور ساتھ کوئی پرندہ تحفے کے طور پر دیتے۔ جب ورچن، پورن کے ساتھ اس کی بستی میں گیا تو واپس آتے ہوئے اس نے ورچن کو کچھ سوغات اور ایک طوطا یاد کے طور پر دیا۔
” پورن میں اس طوطے کا کیا کروں گا؟
’ یہ تمہیں ساتھ لے جانا ہو گا کیونکہ ہم
ہر مہمان کو جاتے وقت کوئی نہ کوئی سوغات
یا تحفہ دیتے ہیں ’ ”
منت ماننا:
منت ماننا بھی ان کی تہذیب کا حصہ تھا۔ جو کہ آج ہمارے ہاں ہماری تہذیب میں بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ کئی ہزار سال پہلے سے چلا آ رہا ہے وادیٔ سندھ کی قدیم بستیوں میں منت ماننے کا رواج تھا اور عورتیں اکثر اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے منتیں مانگتی تھی۔
مثال کے طور پر :
”جب وہ بانجھ عورتوں کے رکھ کے قریب ہوئی تو
پل بھر کے لیے رکی، پیپل کی شاخوں اور خاص طور
پر اس کے موٹے اور اوپر اٹھتے ہوئے تنے کے گر دبے
انت ون سونے دھاگے بندھے ہوئے تھے۔ ہر دھاگہ
ایسی عورت نے باندھا تھا جو خشک تھی اور پھل چاہتی
تھی۔ ”
چکی پیسنا اور اوکھلی چھڑنا:
چکی پیسنا اور اوکھلی چھڑنا بھی ان کی تہذیب کا حصہ تھا۔ سندھو بستی کی عورتیں اوکھلی میں کنک پیستی تھی اور موہنجو دوڑو کی تہذیب میں چکی پیسی جاتی تھی۔
مثال ملاحظہ کیجیے :
” ورچن موہنجو کی تنگ اور پختہ گلیوں میں سے
گزرتا چکیوں کی آواز سنتا اور گھروں میں سے آٹے
کا دھواں اٹھتے ہوئے دیکھتا۔ ”
دوسری طرف:
” پاروشنی کی اوکھلی کی آواز بستی کے باہر ڈوبو مٹی
کے دوسری طرف والے درختوں میں سنائی دیتی
دھم۔ ہوؤ۔ دھم۔ ہوؤ۔ ”
اس طرح اس ناول سے ہمیں وادی سندھ کی تہذیب کا اندازہ ہوتا ہے۔ کس طرح انہوں نے اپنی تہذیب کو محفوظ کیا اور ہم تک پہنچایا۔ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو اج بھی ہماری تہذیب میں پائی جاتی ہیں اور کچھ ناپید ہو چکی ہیں۔
بہاؤ ناول پانی کے بہاؤ پر لکھا گیا ہے کہ کس طرح ان بستیوں میں پانی کا بہاؤ کم ہوا اور وہ فنا کے گھاٹ میں اتر گئی۔

