ڈرامہ سیریل ”ورکنگ ویمن“
دو نازک سے کاندھوں پر تم
کِتنا بوجھ اُٹھاتی ہو
گھر کی چھت کا
کمر توڑ مہنگائی، بھاری ٹیکسوں کا
دفتر کی ذمہ داری کا
تیز کسیلی باتوں، میلی نظروں کا
انگ انگ پر چلتی پھرتی آنکھوں کا
گلی میں بیٹھے وزنی فقروں
آنے والی کل کی بوجھل فکروں کا
کتنے بھاری پتھر ہیں!
بیتی یادوں
بیتی محبتوں کے وعدوں کا
گھنی گھنیری زلفوں کا!
دو ننھے سے کاندھوں پر تم اِتنا بوجھ اُٹھاتی ہو
صنفِ نازک کہلاتی ہو!
شہزاد نیر نے اپنی اس نظم میں ”ورکنگ وومن“ کی زندگی کی تصویر کشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ورکنگ وومن ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جو بظاہر مضبوط اعصاب رکھتی ہیں لیکن سب سے زیادہ استحصال بھی ان کا ہی کیا جاتا ہے۔ جاب اور گھر دونوں کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے یہ اکثر اپنی ذات کو بھی بُھلا دیتی ہیں لیکن مردوں کے حکمران معاشرے میں یہ پھر بھی ناقابلِ قبول ہیں۔ کبھی جذباتی استحصال اور کبھی مالی اور جسمانی ٹارچر کو برداشت کرتی ہیں لیکن آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کا عزم ان کو ہر روز نیا حوصلہ دیتا ہے۔ گرین انٹرٹینمنٹ سے نشر کیا جانے والا ڈرامہ ”ورکنگ ویمن“ چھ خواتین کے اسی عزم اور حوصلے کی کہانی ہے۔
یاسرہ رضوی کی ہدایت کاری میں بننے والا یہ ڈرامہ ایسی خواتین کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی پہچان بنانے کی خاطر ہر سماجی مشکلات کا بہادری سے سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس میں مرکزی کردار ماریہ واسطی، انوشے عباسی، سرہا اصغر، فائزہ گیلانی، اِلسا حریم اور جیناں حسین کر رہی ہیں۔ ماریہ واسطی (نصرت عرف لوسی) ایک انجیئنر ہے اور رئیل اسٹیٹ کامیاب بزنس کرتی ہے لیکن تنہا ہے۔ نصرت کے دوست اکثر و بیشتر اس بات کا احساس دلاتے رہتے ہیں کہ اُس نے شادی نہیں کی اِس لیے وہ گھریلو ذمہ داریوں کو اور فیملی کے مسائل کو نہیں سمجھ سکتی۔ وہ بظاہر بہت مضبوط لیکن دردِ دل رکھنے والی عورت ہے۔
انوشے عباسی (سعدیہ ) کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ سوشل میڈیا کی اسیر ہے اور اسی کو سچ سمجھتی ہے۔ وہ اپنا بیوٹی پارلر چلاتی ہے اور ایک مشہور ماڈل اور اداکار بننا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت وہ گھر سے نکلتی ہے لیکن مقبول نامی ایجنٹ اُس کو دھوکا دیتا ہے۔ روزگار اور رہائش کی خاطر وہ نصرت کے گھر آجاتی ہے۔
سرہا عباسی (امبر) ایک اخبار کے دفتر میں کام کرتی ہے اُس کی والدہ امیر آدمی سے دوسری شادی کرتی ہے۔ دولت کے نشے اور اپنی مصروفیات میں وہ اپنی بیٹی سے دور ہوجاتی ہے۔ اسی لیے امبر ایک غلط شخص سے محبت کر بیٹھتی ہے جو اس کا استعمال کر کے اُسے دھوکہ دیتا ہے۔ امبر کی خود سری سے تنگ آ کے اُسے گھر سے چلے جانے پر مجبور کرتی ہے۔ غلط پتہ دے کر گھر سے بھیج دیتی ہے۔ وہاں امبر کی ملاقات نصرت سے ہوتی ہے اور وہ اُسے اپنے گھر لے جاتی ہے۔
جینان حسین ( روضی) ایک نرس ہے۔ ایسی خواتین کی نمائندہ ہے جو گھر کا معاشی بوجھ بھی اٹھاتی ہیں اور گھریلو استحصال کا شکار بھی ہوتی ہیں اور اسی طرح ان کے اندر بغاوت جنم لیتی ہے اور گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ فائزہ گیلانی ( حشمت) گارمنٹس فیکٹری میں سپروائزر ہے اور کارکنوں کے حقوق کے لیے لڑتی ہے۔ السا حریم نے ایک کم عمر لڑکی ہے جو اپنی شادی کے موقعے پر گھر سے بھاگ جاتی ہے اور نصرت کے ہاں پناہ لیتی ہے۔ کہانی انہی چھ خواتین کی محنت اور کوششوں پر مبنی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ خواتین ہو پائیں گی اپنے مقاصد میں کامیاب؟ کیا معاشرہ ان کو کامیابیوں کو سراہے گا یا بن جائیں گی ناقابلِ قبول؟ امید ہے کہ ناظرین کو محبت کی روایتی کہانیوں سے ہٹ کر معاشرتی موضوع پر مبنی ایک بہترین ڈرامہ دیکھنے کو ملے گا۔


