جادوگر نے رکابی ہتھیا لی: نجیب محفوظ کا افسانہ

عنوان: جادوگر نے رکابی ہتھیالی۔
افسانہ: نجیب محفوظ۔
ترجمہ: جاوید بسام۔
ایک دن ماں نے مجھ سے کہا۔ ”وقت آ گیا ہے کہ تم کام میں میرا ہاتھ بٹاؤ۔“
پھر جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے مزید کہا۔ ”یہ ایک پیاستر لو اور بازار سے کچھ پھلیاں خرید لاؤ، لیکن کھیل میں مت لگ جانا اور احتیاط کرنا کسی گاڑی سے ٹکرا نہ جاؤ۔“
میں نے رکابی لی، چپلیں پہنیں اور ایک دھن گنگناتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گیا۔ جس دکان پر پھلیاں فروخت ہوتی تھیں۔ اس کے سامنے لوگوں کا انبوہ تھا۔ مجھے کافی دیر تک قطار میں کھڑا رہنا پڑا۔ آخرکار میں سنگ مرمر کے کاؤنٹر تک جا پہنچا اور اپنی پتلی تیز آواز میں چلایا۔ ”جناب! مجھے ایک پیاستر کی پھلیاں دیں!“
دکاندار نے فوراً پوچھا۔ ”صرف پھلیاں؟ تیل کے ساتھ؟ یا مکھن کے ساتھ؟“
میں گم سم کھڑا رہا کیونکہ میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ بدتمیزی سے بولا۔ ”کاؤنٹر سے ہٹ جاؤ!“
میں خجالت سے پیچھے ہٹا اور گھر کی طرف لوٹ گیا۔ مجھے آتا دیکھ کر ماں نے کہا۔ ”شریر لڑکے! تم خالی رکابی لے کر آرہے ہو۔ کیا تم نے پھلیاں گرا دیں یا سکہ کھو دیا ہے؟“
”آپ نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ کون سی پھلیاں خریدنی ہیں، سادہ پھلیاں؟ تیل کے ساتھ؟ یا مکھن کے ساتھ؟“ میں نے شکایتی لہجے میں کہا۔
”احمق! میں ہر روز صبح تمہیں کیا کھلاتی ہوں؟“
”پتا نہیں۔“ میں نے کہا۔
”کیا حماقت ہے، جاؤ! اور اس سے کہو تیل کے ساتھ۔“
میں دوبارہ دکان کی طرف بھاگا۔ اس بار میں نے کہا۔ ”جناب! مجھے ایک پیاستر کی تیل والی پھلیاں دیں۔“
”کون سا تیل؟“ اس نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔ ”السی کا تیل، نباتاتی تیل یا زیتون کا تیل؟“
میں الجھن میں پڑ گیا۔ میں اب بھی نہیں جانتا تھا کہ کیا جواب دوں۔
وہ چلایا: ”کاؤنٹر سے ہٹ جاؤ! دوسرے لوگوں کو آنے دو!“
میں بددل ہو کر واپس گھر آیا۔ ماں حیرانی سے چیخی۔ ”تم پھر خالی ہاتھ واپس آئے ہو، نہ پھلیاں نہ تیل۔“
مجھے غصہ آ رہا تھا۔ میں نے کہا۔ ”آپ نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ کس قسم کا تیل، السی کا، نباتاتی یا زیتون؟“
”تیل کے ساتھ پھلیوں کا مطلب ہے، السی کے تیل کے ساتھ۔“
”مجھے کیا معلوم؟“ میں نے کہا۔
” تم ایک بے کار لڑکے ہو اور دکاندار بیزار کن آدمی۔“ ماں نے نتیجہ اخذ کیا اور مجھے پھلیوں کے لیے دوبارہ روانہ کر دیا۔
اس بار میں دکان کی دہلیز پر ہی چلایا۔ ”جناب! مجھے السی کے تیل والی کچھ پھلیاں چاہئیں!“
پھر میں سانس درست کرتے ہوئے سنگ مرمر کے کاؤنٹر کے پاس گیا، جس تک با مشکل میرا سر پہنچتا تھا اور فاتحانہ انداز میں دہرایا: ”جناب! السی کے تیل کے ساتھ!“
اس نے ڈوئی کو دیگچی میں اتارا اور بولا۔ ”رقم ادا کرو۔“
میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا، لیکن وہ خالی تھی۔ میں بے قراری سے سکہ ڈھونڈنے لگا، پوری جیب باہر نکال لی، لیکن پیاستر ندارد تھا۔
دکاندار نے دیگچی میں سے ڈوئی واپس نکالتے ہوئے غضب ناک لہجے میں کہا: ”احمق لڑکے! تم نے پیاستر کھو دیا ہے۔ تم ابھی اس قابل نہیں ہو کہ تمھیں کوئی ذمہ داری دی جائے۔“
میں نے نظر نیچی کر کے فرش کا جائزہ لیا اور بڑبڑایا: ”میں نے نہیں کھویا۔ وہ تمام وقت میری جیب میں تھا۔“
”کاؤنٹر سے دور ہو جاؤ! مجھے پریشان مت کرو۔“
میں خالی رکابی لے کر ماں کے پاس واپس آیا۔ وہ اپنے حلق کی پوری طاقت سے چلائی۔ ”افسوس! تم بالکل کوڑھ مغز ہو!“
”وہ پیاستر۔“
”کیا پیاستر؟“
”وہ میری جیب میں نہیں ہے۔“
”مجھے لگتا ہے کہ تم نے اس سے ٹافیاں خرید لیں؟“
”نہیں، اللہ گواہ ہے!“
”تو وہ کہاں گیا؟“
”پتا نہیں۔“
”قرآن کی قسم کھاؤ کہ تم نے اسے خرچ نہیں کیا۔“
”میں قسم کھاتا ہوں!“
”تمھاری جیب میں سوراخ تو نہیں ہے؟“
”نہیں ماں!“
”شاید تم نے پہلے یا دوسرے پھیرے میں دکاندار کو دے دیا ہو؟“
”شاید ایسا ہوا ہو، مجھے یاد نہیں۔“
”کیا تم کو کچھ یاد بھی رہتا ہے؟“
”مجھے یاد ہے کہ میں کیا کھانا چاہتا ہوں۔“
ماں نے تنگ آ کر ہاتھ پر ہاتھ مارا۔ پھر بولی۔ ”اچھا، اب میں کیا کروں؟ ٹھیک ہے، یہ لو ایک اور پیاستر، لیکن میں یہ تمھارے گللک سے نکال لوں گی اور اگر تم دوبارہ خالی ہاتھ آئے تو تمھارا سر توڑ دوں گی۔“
۔
میں مزیدار ناشتے کا تصور لیے پھر بھاگ کھڑا ہوا۔ دکان سے کچھ پہلے موڑ پر میں نے بچوں کا انبوہ دیکھا اور ان کی خوشی سے چہکتی آوازیں سنیں تو میرا دل وہاں جانے کے لیے مچلنے لگا اور ٹانگیں اس طرف قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئیں۔ میں نے سوچا چلو ایک نظر ڈال لیں۔ بچوں کے ہجوم میں سے راستہ بناتے ہوئے میں آگے بڑھا تو جادوگر نظر آیا۔ ایک حیرت انگیز خوشی نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں خود سے بیگانہ ہو گیا۔ میں پورے وجود کے ساتھ خرگوشوں، انڈوں، سانپوں اور رسیوں کے حیرت انگیز کرتب دیکھنے لگا۔ میں دنیا کی ہر چیز کو بھول گیا تھا۔ پھر جب جادوگر کئی کرتب دکھانے کے بعد پیسے جمع کرنے کے لیے دائرے میں گھومتا میرے پاس آیا تو میں پیچھے ہٹ گیا اور بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ ”میرے پاس کچھ نہیں ہے۔“
یہ سن کر جادوگر وحشیانہ انداز میں میرے پیچھے بھاگا۔ میں بمشکل اس کے ہاتھ آنے سے بچا، مگر وہ پیچھے سے ایک ایسی زوردار ضرب لگانے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ مجھے لگا کہ میری کمر ٹوٹ گئی ہے، لیکن پھر بھی میں خود کو مسرت کی اونچی چوٹی پر محسوس کر رہا تھا۔ میں دوڑتا ہوا دکاندار کے پاس گیا اور کہا: ”السی کے ساتھ پھلیاں، جناب!“
اس نے بغیر حرکت کیے میری طرف دیکھا۔ میں نے دوبارہ بات دہرائی تو اس نے دانت پیس کر کہا: ”رکابی دو!“
رکابی! لیکن رکابی کہاں ہے؟ میں نے بے قرار ہو کر سوچا۔ پھر بولا۔ ”شاید جب میں بھاگ رہا تھا۔ وہ مجھ سے گر گئی ہے اور جادوگر نے اسے اٹھالیا ہے؟“
آخر میں رکابی تلاش کرنے کے لیے واپس پلٹ گیا۔ جادوگر پہلے جس جگہ تھا۔ وہاں اب کوئی نہیں تھا، لیکن اگلی گلی سے بچوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں ہجوم کے قریب پہنچا اور اس کے گرد چکر لگایا۔ جادوگر نے مجھے دیکھ کر خوفناک آواز میں کہا: ”سکہ دو یا یہاں سے نکل جاؤ!“
”میری رکابی!“ میں مایوسی سے بولا۔
”شیطان کی اولاد! کیسی رکابی؟“ وہ چلایا۔
”مجھے رکابی دو!“
”بھاگ جاؤ! ورنہ میں تم پر سانپ چھوڑ دوں گا۔“
یہ واضح تھا کہ اس نے رکابی ہتھیالی ہے، لیکن میں اس کے غیض و غضب سے خوفزدہ ہو کر آگے بڑھ گیا اور شدت غم سے رونے لگا۔ جب راہگیروں نے پوچھا کہ میں کیوں رو رہا ہوں تو میں نے جواب دیا: ”جادوگر نے میری رکابی ہتھیالی ہے۔“
پھر جیسے ہی میں نے ایک بلند آواز سنی۔ میری اداسی دور ہو گئی۔ کوئی کہہ رہا تھا: ”ارے آؤ آؤ! یہ دیکھو!“
میں نے سر گھمایا تو قریب ہی جادوئی تصویروں والی ایک ڈبہ نما ہاتھ گاڑی نظر آئی۔ جس میں کچھ کچھ فاصلے پر گول روزن تھے۔ وہاں فوراً ہی درجنوں بچے دوڑے چلے آئے اور یکے بعد دیگرے روزنوں پر چہرے ٹکائے اندر دیکھنے لگے۔ مالک تصویروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ”یہاں ایک بہادر سورما اور ایک زینت البنات ہے جو شہزادیوں میں سب سے خوب صورت ہے اور ہاں ایک بھیانک عفریت بھی ہے۔“
میرے آنسو فوراً خشک ہو گئے۔ میں جادوگر اور رکابی کو بھول کر خوشی خوشی ڈبے کی طرف بڑھا۔ میں تماشے کا شوقین تھا اور اپنی خواہش کو رد نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے فوراً پیاستر ادا کیا اور اس روزن سے چپک گیا۔ جس کے ساتھ والی روزن سے ایک لڑکی نظارہ کر رہی تھی۔ دلفریب تصویروں کا ایک سلسلہ میری آنکھوں کے سامنے سے گزرا۔ جب میں آسمان سے زمین پر اترا تو میرے پاس کوئی پیاستر یا رکابی نہیں تھی اور نہ ہی جادوگر کا کوئی نام و نشان تھا، لیکن جو کچھ کھو گیا تھا اس پر مجھے افسوس نہیں تھا۔ میں سورما کی بہادری، ہمت اور رومانی تصویروں کے سحر میں اپنی بھوک کو بھول گیا تھا اور ان خوف اور خدشات کو بھی جو گھر میں میرے منتظر تھے۔
آخر ایک طرف ہٹ کر میں نے ایک خستہ حال مکان کی دیوار سے ٹیک لگا لی۔ جہاں کبھی خزانہ موجود تھا اور ساتھ ہی قاضی صاحب کی رہائش گاہ بھی تھی۔ کافی دیر تک میں چشم تصور میں سورما کی بہادری، زینت البنات اور عفریت کے خواب دیکھتا رہا۔ میں نے خواب میں اونچی آواز میں باتیں کیں اور اشاروں سے اپنے الفاظ کو معنی دیتے ہوئے دشمن کو ایک خیالی نیزہ مارا اور کہا۔ ”لے عفریت! سیدھا دل پر!“
پھر میں نے سب سے حسین شہزادی کو اٹھایا اور اسے اپنے پیچھے کاٹھی پر بٹھا لیا۔
اچانک مجھے قریب سے ایک ہلکی سی آواز سنائی دی۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہی لڑکی موجود تھی جو میرے ساتھ جادوئی ڈبے میں تصویریں دیکھ رہی تھی۔ اس کا لباس میلا اور پیروں میں رنگین سینڈل تھے۔ ایک ہاتھ سے وہ اپنی لمبی چوٹی کو انگلی سے بل دے رہی تھی اور دوسرے ہاتھ میں لال اور سفید کینڈی تھی جو وہ دھیرے دھیرے چوس رہی تھی۔ جوں ہی ہماری نظروں کا تصادم ہوا۔ وہ مجھے اچھی لگی۔
”چلو کچھ دیر بیٹھتے ہیں۔“ میں نے کہا۔
اس نے سر ہلایا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، ہم خستہ حال دیوار کے دروازے سے گزرے اور سیڑھیوں پر بیٹھ گئے جو اب کہیں نہیں جاتی تھی۔ بس کچھ اوپر ایک چبوترہ تھا۔ جس سے پرے نیلا آسمان، بلند و بالا مینار اور گول گنبد نظر آرہے تھے۔ ہم خاموشی سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھے تھے ہم نہیں جانتے تھے کہ کیا بات کریں۔ میں عجیب، نامعلوم احساسات سے مغلوب تھا۔ میں نے لڑکی کے چہرے کی طرف جھک کر اس کے بالوں کی مہک کو محسوس کیا، جس میں زمین اور سانسوں کی خوشبو کے ساتھ کینڈی کی میٹھی خوشبو بھی ملی ہوئی تھی۔
پھر میں نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور میرا منہ بھی میٹھا ہو گیا۔ میں نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر گلے لگایا۔ وہ خاموش رہی۔ میں نے دوبارہ اس کے گال پر اور بند ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ آخرکار وہ کینڈی چوستے ہوئے فیصلہ کن انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں نے جوشیلے انداز میں اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”تھوڑی دیر اور بیٹھو۔“
”نہیں، میں جاؤں گی۔“ اس نے سادگی سے جواب دیا۔
”کہاں؟“
”دائی ام علی کے پاس۔“
پھر اس نے اس گھر کی طرف اشارہ کیا جہاں نچلی منزل پر استری کی چھوٹی سی دکان تھی۔
”کس لیے؟“
”ماں کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ اس نے کہا ہے کہ بھاگ کر ام علی کے پاس جاؤ اور کہو کہ جلدی آئے۔“
”اس کے بعد تم دوبارہ آؤں گی؟“
وہ اثبات میں سر ہلا کر چلی گئی۔
۔ ۔
دفعتاً مجھے اپنی ماں یاد آئی۔ میرا دل ڈوب گیا۔ میں تھکے تھکے قدموں سے اٹھا اور زور زور سے روتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔ یہ سزا سے بچنے کا آزمودہ نسخہ تھا۔ بس مجھے یہ ڈر تھا کہ ماں میری چال کو سمجھ نہ جائے، لیکن وہ گھر پر نہیں تھی۔ میں نے مطبخ میں دیکھا، پھر خواب گاہ میں، مگر گھر خالی تھا۔ وہ کہاں گئی؟ کب واپس آئے گی؟ میں نے بے چینی محسوس کی۔ پھر مجھے خود کو بچانے کا خیال آیا۔ میں نے مطبخ سے پلیٹ لی، اپنے گللک سے ایک پیاستر نکالا اور دکاندار کے پاس واپس چلا گیا۔ وہ کاؤنٹر کے سامنے ایک بینچ پر اپنے چہرے کو ہاتھ سے ڈھانپے سو رہا تھا۔ پھلیوں کی دیگچیاں غائب ہو چکی تھیں، تیل کی بوتلیں شیلف پر قطار میں لگی ہوئی تھیں اور ماربل کاؤنٹر کو صاف کر دیا گیا تھا۔
میں نے سرگوشی کی۔ ”جناب۔“
جواب میں صرف خراٹے سنائی دیے۔ میں نے دکاندار کے کندھے پر ہلکے سے ہاتھ لگایا۔ وہ بے چینی سے کلبلایا اور نیند سے سرخ آنکھیں کھولیں۔
”جناب۔“ میں نے پھر پکارا۔
آخرکار وہ اٹھ بیٹھا اور مجھے پہچان کر ناراضی سے بولا: ”کیا چاہتے ہو؟“
”ایک پیاستر کی پھلیاں۔“
”کیا؟“
”یہ پیاستر اور یہ رکابی ہے۔“
وہ یک دم غضب ناک ہو گیا اور چلایا۔ ”لڑکے! تم پاگل ہو؟ دفع ہو جاؤ! اس سے پہلے کہ میں تمہارا سر توڑ دوں!“
لیکن میں نے حرکت نہیں کی۔ آخر اس نے مجھے اتنی زور سے دھکا دیا کہ میں اپنے پیروں پر کھڑا نہ رہ سکا اور پیچھے گر گیا۔ بلا آخر میں اپنی آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو بمشکل روکتے ہوئے کھڑا ہوا۔ میں ابھی تک ایک ہاتھ میں رکابی اور دوسرے ہاتھ میں پیاستر پکڑے ہوئے تھا۔ میں نے نفرت سے دکاندار کی طرف دیکھا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑا۔ پھر اچانک مجھے وہ تصویریں یاد آئیں جن میں سورما کے کمالات کی عکاسی کی گئی تھی۔ میں فوراً نئے عزم و ہمت سے لبریز ہو گیا اور پوری طاقت سے رکابی دکاندار کی طرف پھینکی۔ رکابی اس کے سر پر لگی۔ میں پیچھے دیکھے بغیر بھاگ کھڑا ہوا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں نے اسے اسی طرح مارا ہے۔ جیسے سورما نے عفریت کو مارا تھا۔
آخر میں پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ پرانی دیوار پر رک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کوئی تعاقب میں تو نہیں ہے۔ پھر گہری سانس لیتے ہوئے خود سے پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ یہ جانتے ہوئے کہ مجھے گھر میں لامحالہ مار پڑے گی۔ میں دوسری رکابی کے بغیر گھر لوٹنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ میں صرف اس وقت میں تاخیر کرنے کے لیے سڑکوں پر بے مقصد گھومنے لگا۔ میری مٹھی میں ایک پیاستر دبا ہوا تھا اور ماں کو جواب دہی سے پہلے میں کچھ اور تفریح کر سکتا تھا۔
میں نے اپنی غلطی کے بارے میں نہ سوچنے کا فیصلہ کیا، لیکن جادوگر کہاں ہے؟ جادوئی تصویروں کا ڈبہ کہاں ہے؟ میں نے ان کو ہر جگہ تلاش کیا۔ پھر اس بے سود تلاش سے تھک کر میں اس تباہ حال سیڑھی پر واپس چلا آیا۔ جہاں میری ملاقات طے تھی اور وہیں بیٹھ کر ایک خوشگوار ملاقات کا انتظار کرنے لگا۔ میں لڑکی کے ہونٹوں کا بوسہ لینا چاہتا تھا، جو سرخ سفید کینڈی سے میٹھے تھے۔ میں نے دل ہی دل میں تسلیم کیا کہ اس لڑکی نے میرے اندر ایسے حیرت انگیز جذبات بیدار کر دیے ہیں۔ جن کا میں نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا۔ جب میں انتظار کر رہا تھا اور دن میں خواب دیکھ رہا تھا۔ کہیں کھنڈر سے ایک آہٹ میرے کانوں تک پہنچی۔ میں احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپری چبوترے پر گیا اور منہ کے بل لیٹ گیا۔ پھر دھیان سے کہ کوئی مجھے دیکھ نہ لے نیچے جھانکا۔
اونچی دیوار کے پیچھے کھنڈرات نظر آرہے تھے جو کچھ حصہ سابقہ خزانے اور قاضی صاحب کی رہائش گاہ کا رہ گیا تھا۔ وہاں ایک مرد اور ایک عورت سیڑھیوں کے نیچے بیٹھے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ آدمی آوارہ گرد لگتا تھا اور عورت خانہ بدوش بکریاں پالنے والی نظر آتی تھی۔
میں نے اپنی کسی خاص جبلت سے اندازہ لگایا کہ وہ ان کی خفیہ ملاقات ہے۔ جیسے میں نے بھی یہاں طے کی ہوئی تھی۔ ان کا طرز عمل اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ اس طرح کے کاموں میں بہت زیادہ تجربہ کار ہیں اور وہ عمل کر رہے ہیں جن کا میں نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔ میری نگاہیں تجسس، حیرت، خوشی اور ایک خاص حد تک بے چینی سے ان پر جمی تھیں۔
آخر کار وہ ایک دوسرے سے الگ ہو کر بیٹھ ہو گئے۔
تھوڑی دیر بعد آدمی نے کہا۔ ”رقم!“
”تم کبھی مطمئن نہیں ہوتے،“ وہ غصے سے بولی۔
آدمی نے زمین پر تھوکتے ہوئے کہا۔ ”تم پاگل ہو“ ۔
”تم چور ہو۔“ عورت بولی۔
آدمی نے اسے اپنے ہاتھ کی پشت سے زور سے تھپڑ مارا۔ عورت نے زمین سے مٹی اٹھا کر اس کی آنکھوں میں پھینک دی۔ مرد کا چہرہ نفرت سے مسخ ہو گیا، وہ تیزی سے اس کے پاس آیا اور اس کا گلا دبوچ لیا۔ ان میں زبردست لڑائی چھڑ گئی تھی۔ عورت اپنی گردن پر جمی انگلیاں ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کے حلق سے خرخراہٹ کی آواز نکل رہی تھی، آنکھیں حلقوں سے باہر نکل آئی تھیں اور جسم تکلیف سے اینٹھ گیا تھا۔ میں یہ سب دیکھ کر خوف سے ساکت ہو گیا، لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس کی ناک سے خون نکل رہا ہے تو میں زور سے چیخا اور اس سے پہلے کہ آدمی اپنا سر اٹھا پاتا۔ میں سیڑھیوں سے نیچے کود گیا اور دو چھلانگوں میں دروازے تک جا پہنچا۔ کچھ دیر بعد میں منہ اٹھائے نامعلوم سمت میں سڑک پر بھاگا جا رہا تھا۔ میں اس وقت تک دوڑتا رہا جب تک بے دم نہ ہو گیا۔
میں نے ادھر ادھر دیکھا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ میں ایک چوراہے پر ایک اونچی محراب کے نیچے کھڑا ہوں۔ میں پہلے کبھی وہاں نہیں آیا تھا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا گھر کس طرف ہے۔ محراب کے دونوں طرف نابینا فقیر بیٹھے تھے اور راہگیر بے حسی سے ان کے پاس سے گزر رہے تھے۔
میں نے اس حقیقت کو خوف کے ساتھ محسوس کیا کہ میں کھو گیا ہوں اور گھر جانے سے پہلے لاتعداد خطرات میرے منتظر ہیں۔ میں سوچ رہا تھا، ہو سکتا ہے کہ میں جس پہلے شخص سے راستہ پوچھوں۔ وہ وہی پھلیوں کا دکاندار یا آوارہ گرد نکلے۔ جسے میں نے کھنڈرات کے درمیان دیکھا تھا۔ پھر کیا ہو گا؟ اور اگر کوئی معجزہ ہو جائے اور میں اپنی ماں کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھوں تو میں کتنی خوشی سے اس کے پاس جاؤں گا۔ کیا مجھے اپنا راستہ خود تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاآنکہ مجھے کوئی ایسا جان پہچان والا مل جائے جو درست راستے کی طرف نشان دہی کردے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ مجھے پرعزم ہونا چاہیے اور فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ دن ڈھلنے لگا ہے اور رات اپنا ٹھکانہ چھوڑ کر زمین پر اترنے والی ہے۔ جلد ہی پراسرار اندھیرا چھا جائے گا۔
ختم شد۔

