گھٹی ہوئی چیخ رکا ہوا آنسو


یہ سسکیاں سنائی دے رہی ہیں آپ کو ۔ یہ نازک ہڈیوں کے چٹخنے اور ٹوٹنے کی آوازیں آ رہی ہیں اپ کو یہ گھٹی ہوئی آوازیں یہ بکھرتی سانسیں یہ مضروب دل یہ دریدہ نیل زدہ بدن دکھائی دے رہے ہیں آپ کو ۔ ان ترستی حسرت بھری یاس زدہ آنکھوں کو دیکھ رہے ہیں نا آپ ان کے گالوں پر خشک آنسؤں کی لکیروں کے ساتھ ساتھ تھپڑوں کے نشان نظر آرہے ہیں آپ کو ۔ ہنسنے کو ترسے ہوئے خشک ہونٹ جو تھوڑے سوجے ہوئے بھی ہیں دیکھ رہے ہیں نا آپ دماغ کا کیڑا تو نظر نہیں آتا مگر زخموں میں رنگتے کیڑے تو نظر آ ہی جاتے ہیں۔

استری سے جلے یا الیکٹرک راڈ سے یا گرم پانی سے۔ جلنے کا زخم ایک سی تکلیف دیتا ہے مار جوتے سے پڑے یا ہینگر سے یا ڈنڈے سے روح اور جسم پر ایک سا گھاؤ پڑتا ہے پہچانیں ان کمسن بے کس ناتواں چہروں کو یہ میری بچیاں ہیں یہ میری بیٹیاں ہیں۔ نہیں یہ میرے چہرے ہیں مگر نہیں ان کی بگڑی شکلیں ٹوٹے ہوئے ہاتھ پیر اور پسلیاں نیل زدہ جسم بھلا کیسے پہچان سکیں گے اپ ان کمسن روحوں کو ۔ ان میں سے کچھ روحیں جسم کی قید سے آزاد ہو چکی ہیں اور کچھ زندہ ہیں مگر مر چکی ہیں۔

اب بھی نہیں پہچانا نا آپ نے۔ میں بتاتی ہوں یہ رضوانہ ہے یہ۔ طیبہ ہے یہ فاطمہ ہے یہ ہاجرہ ہے یہ زہرہ ہے یہ سیما ہے مگر نام سے کیا ہوتا ہے کتنے رضوانائیں کتنی فاطمائیں ایسی بھی ہیں جن کی کسی کو خبر ہی نہیں اور وہ زمین کا رزق بن گئی ہیں حالانکہ وہ تو اپنے گھر والوں کے لیے رزق کا ذریعہ بننے کی خاطر گھر سے نکلی تھیں یا شاید انہیں جبری بھیجا گیا تھا جہاں وہ کبھی اپنے ہم وزن چھوٹے بچوں کو سنبھالتی ہیں۔ گھروں میں صفائی کرتی ہیں۔

مالکن، وڈی سائین یا بیگم صاحبہ کے ہاتھ پیر دباتی ہیں اس کے صلے میں دو وقت کا بچا کچا کھانا پرانے کپڑے اور جوتے اور ساتھ ہی سیر شدہ نہ آسودہ عورتوں کا تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے مارپیٹ گالم گلوچ جسمانی تشدد سے بچ جائیں تو گھر کے پلے ہوئے مرد منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے جنسی تشدد کا نشانہ بنا لیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک ہلکی سی سسکی ایک گھٹی ہوئی چیخ ایک رکا ہوا آنسو پکے گھروں کی دیواروں اور حویلیوں کی فصیلوں سے باہر کیوں کر سنائی اور دکھائی دے سکتے ہیں۔

ہم جس عہد نارسائی میں زندہ ہیں یہاں ہر طرف جہالت پسماندگی ذہنی غلامی اور خونی مناظر ہیں ہم صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں مغموم دل کے ساتھ میڈیا پر خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مجرم کو سزا ملے مگر ساتھ ہی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور جیت جائے گا۔ مظلوم ہار جائے گا پھر کہیں بڑی رقوم کے عیوض معافی نامہ یا راضی نامہ تیار ہو جائے گا یا پھر مظلوم کو اتنا دھمکایا جائے گا کہ وہ کیس سے دستبردار ہو جائے۔

ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ کتا چاہے چار پاؤں والا ہو یا دو پیر والا پرانے اور باسی گوشت کے مقابلے میں ہمیشہ نرم اور تازہ گوشت پر جھپٹتا ہے تو پھر کیسے ماں باپ اور خصوصاً مائیں اپنی ننھی معصوم بچیوں کو ان اونچے مکانوں گھرانوں اور حویلیوں میں کام کاج کی غرض سے چھوڑ دیتی ہیں جب ان معصوم جانوں پر ظلم ہوتا ہے تو ماں کو کیوں محسوس نہیں ہوتا ماں تو میلوں دور اولاد کی تکلیف کو محسوس کر کے بے چین ہو جاتی ہے ان ماؤں کو رات میں کیسے نیند آجاتی ہے جب ان کی بیٹیاں میلوں دور چند ہزار روپے کے عوض کام کے نام پر کام آ رہی ہوتی ہیں ہر حادثے سانحے اور المیے کے بعد میڈیا کے سامنے والدین کا یہ کہنا کہ ہماری بچی پر ظلم ہوا ہے یا ہم مجرم کو معاف نہیں کریں گے یا ہم غریب ہیں اور غریب پر ظلم ہوا ہے جیسے جملے بولنے والے دراصل خود بھی ظالم ہیں۔

وہ بچیاں جنہوں نے ابھی اپنی ذات کو پہچانا بھی نہ ہو انہیں بے نشان کر دینے کے لیے چھوڑ دیا جائے وہ جنہیں ابھی حرف سے آشنائی حاصل نہ ہو انہیں تاریک راہوں میں مرنے یا سسکنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ جنہوں نے ابھی کھلونوں سے کھیلنا بھی نہ سیکھا ان کا بچپن چھین کر کھلونا بنا دیا جائے جنہوں نے تتلی پکڑنا نہ سیکھا ہو ان کی زندگیوں سے رنگ چرا لیے جائیں۔ جن کی آنکھیں پوری طرح مسکرائی بھی نہ ہو انہیں بے نور کر دیا جائے جنہیں صرف یہ سمجھ ہو کہ وہ لڑکی ہیں وہ اپنے نازک جسموں اور ننھی روحوں پر وحشت کے داغ لیے یا زمین میں دفن ہو جائیں یا زمین کے اوپر زندہ لاش کی صورت میں پھرتی رہیں تو کیا یہ ماں باپ کی سول سوسائٹی اور حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ ان کی حفاظت کریں پھر دوسری بات کہ زیادہ بچے ہیں تو خرچ پورا نہیں ہوتا بچوں کی تعداد پر تو غریب کا اختیار ہے!

ریاست ماں جیسی ہوتی ہے مگر ہمارے ریاست ماں تو ہے پر سوتیلی ماں ہے۔ کیا ہم مغموم دل کے ساتھ ان معصوم بچیوں کو کچلتا مسلتا اور مرتا دیکھتے رہیں رہیں گے ان کے نوحے پڑھتے رہیں گے کیونکہ یہ فاطمہ یا رضوانہ آخری کیس نہیں ہے یہ تو نہ ختم ہونے والے اس سلسلے کا تسلسل ہے۔ کیا ہم حکومتی اداروں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے رہیں گے؟ کیا سول سوسائٹی کے اکا دکا انصاف دو والی ریلیاں کافی ہیں یا ہم سب اجتماعی اور انفرادی طور پر اپنی ذمہ داری پوری کریں گے دیکھیں نظر ڈالیں نظر رکھیں اپ کے آس پاس دوست احباب یا رشتہ داروں کے گھر میں کوئی رضوانہ کوئی فاطمہ اپنے گھر والوں کے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال تو نہیں ہو رہی۔ اگر آواز رکھتے ہیں تو چائلڈ لیبر کے خلاف آواز بھی اٹھائیں ہم جانتے ہیں کہ بھوک بہت وزنی ہوتی ہے اس کے نیچے علم حکمت عقل فکر دانش سب دب کر مر جاتے ہیں مگر پھر بھی ذرا سوچیں اگر ان بچیوں نے اللہ پاک سے ہم سب کی شکایت کر دی تو کیا ہو گا بس یہی ایک خیال ہے پریشان مجھ میں

Facebook Comments HS