سردیاں


خدا خدا کر کے گرمیاں ختم ہوئیں۔ سوائے آموں کے ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ عذاب ہیں۔ ان کا تذکرہ بھی گناہ ہے۔ سال کا بہترین موسم شروع ہوا چاہتا ہے۔ خزاں کی سرد سرد ہوائیں چلنا شروع ہو چکی ہیں۔ سردیاں دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ سردی کے موسم کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ زندگی جینے کا مزہ سردیوں میں ہے۔ انسان اپنی مرضی کے کپڑے پہن سکتا ہے۔ اپنی مرضی سے جس وقت مرضی کہیں بھی جاسکتا ہے۔ انجوائے کر سکتا ہے۔ باہر نکلنے سے خوف نہیں آتا۔

جھلسنے کا کوئی ڈر نہیں۔ پارٹیاں کرنے کا جی چاہنے لگتا ہے۔ کھانے پینے کا مزہ آنے لگتا ہے۔ لذتیں اور وزن بڑھنے لگتے ہیں۔ عقل مند لوگ موخرالذکر کی لگامیں تھامے رکھتے ہیں۔ کام کوئی بھی ہو سردیوں میں کرنے کا لطف ہی دوبالا ہے۔ باتیں اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں۔ نیندیں پرسکون ہوجاتی ہیں۔ گرم پانیوں میں نہانے کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے۔ ہرچند کہ سائنس غذاؤں کی گرم اور ٹھنڈی تاثیر کو نہیں مانتی مگر ہماری جنتا سائنس کو نہیں مانتی۔ ہمارے ہاں سائنس کے ماننے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے؟ یہاں تو وہی ہوتا ہے جو ہم مانتے ہیں۔ لہذا سردیوں میں مزے مزے کی نعمتیں جی بھر کر کھاؤ۔ کوئی نہیں کہے گا کہ یہ زیادہ نہ کھاؤ گرم ہوتی ہے۔

البتہ ٹھنڈی چیزیں کھانے پر اپنے دیسی لوگ پھر وہی راگ الاپنے لگتے ہیں۔ جاڑوں میں سوائے ناک کے پورا جسم انجوائے کرتا ہے۔ آپ لوگوں کا پتہ نہیں میری ناک کا پھیپھڑوں سے رابطہ منقطع رہتا ہے۔ اس کے باوجود مجھے سردیاں اچھی لگتی ہیں۔ بچپن اور لڑکپن میں امی ابو سر پر گرم ٹوپا زبردستی پہناتے تھے۔ مگر اس وقت بال ایسے گھنے اور سٹائل میں پرانے والے اجے دیوگن کے ہم پلہ تھے لہذا ان کے کہنے کے باوجود بالکل نہیں پہنتے تھے۔ اب جب فارغ البال ہو گئے ہیں تو ساری سردیاں ٹوپا چڑھا کر رکھتے ہیں۔ انسان کو عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ والدین کی باتیں سمجھ آجاتی ہیں۔ سمجھ تو خیر والدین کو بھی آجاتی ہیں لیکن منصب والدینی پر فائز ہونے کے باعث ان کا کوا ہمیشہ چٹا ہی رہتا ہے۔

ماضی کیسا ہی کیوں نہ رہا ہو انسان کو ایک عجیب سا لطف و سرور بخشتا رہتا ہے۔ انسان اس کو یاد کرتا رہتا ہے۔ آج سے تیس برس ادھر سردیوں کے موسم کی کیا ہی بات تھی۔ اس وقت آج سے کم و بیش دوگنی سردی پڑا کرتی تھی۔ ستمبر کے آخری عشرے سے موسم سرد ہونا جو شروع ہوا تو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک اچھا خاصا جاڑا آ جاتا تھا۔ رضائیاں خالص روئی کی ہوا کرتی تھیں۔ پولیسٹر والا کام نہیں آیا تھا۔ ہر گھر میں چوپالیں سجا کرتی تھیں۔

انگیٹھی کے کنارے بیٹھ کر مونگ پھلیوں، قصوں کہانیوں اور قہقہوں کا دور چلتا تھا اور رات گئے تک چلتا رہتا۔ خوب گنے چوسے جاتے تھے۔ اکثر و بیشتر یہی محافل رشتے داروں کے گھروں پر بھی منعقد کی جاتی تھیں۔ پہلے ایک گھر سرسوں کا ساگ اور چلڑے (چاولوں کے آٹے کے پراٹھے ) پکاتا اور دوسروں کی دعوت کرتا۔ اگلے ہفتے دوسرا پہلے کی دعوت کرتا۔ یوں یہ سلسلہ مزید گھروں تک چلتا تھا۔ ساگ میں خالص مکھن کی ٹکیا اور دیسی گھی میں چپڑی ہوئی روٹی ہوتی تھی۔ کھاتے پیتے گھروں میں چلغوزے اور ڈرائی فروٹ بھی چلتے تھے۔ ہیٹر کا رواج فقط شہروں میں ہی تھا۔ گاؤں دیہات انگیٹھیوں پر ہی چلتے تھے۔ اس وقت سردیاں فروری کے آخر تک رہتی تھیں۔

اب تو سردیاں سکڑ کر دس دن کی رہ گئی ہیں۔ لے دے کر آخری پانچ دن دسمبر کے اور پانچ دن جنوری کے شروع کے ہی اصل موسم سرما ہوتا ہے۔ باقی تو بس نام کی سردی ہوتی ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں زندگی کچھ اس قدر تیزی سے تبدیل ہوئی ہے کہ لوگ اب کسی بھی چیز کو انجوائے کرنے سے محروم ہو گئے ہیں لہذا وہ سردیوں کی شاموں میں اداس پھرنے لگتے ہیں۔ دسمبر آتے ہی ہر کس و ناکس کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ خدا جانے سبھوں کو کیا ہوجاتا ہے۔ ان کے بارے میں شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

تھوڑی سردی ذرا سا نزلہ ہے
شاعری کا مزاج پتلا ہے۔

Facebook Comments HS