”چوتھی واری فیر شیر“ سے پہلے


جہاں ججوں اور جرنیلوں کا معاملہ ہو ہمیں آئین، قانون اور استدلال کو آخر تک ملتوی کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ جج اور جرنیل تمام دلائل اور براہین سے زیادہ محترم ہیں۔ زندگی متحرک اور انقلاب آفریں ہے لیکن جہاں ججوں اور جرنیلوں کا معاملہ آئے وہاں ہر تحرک اور انقلاب سے دستبردار ہو کر صرف وہ استدلال اختیار کرنا چاہیے، وہ اصول پیش کرنا چاہییں جو ججوں اور جرنیلوں تک پہنچتے پہنچتے خشک اور بے جان ہو جائیں۔ کسی تجزیہ اور مباحثہ کا اس سے اچھا انجام نہیں ہو سکتا کہ پاکستان میں ججوں اور جرنیلوں کی بھوک کا انتظام ہر چیز پر فوقیت رکھتا ہے چا ہے اس سے کروڑوں بھوکیں مر جائیں۔ جج اور جرنیل جیتے جاگتے انسانوں سے زیادہ بڑی حقیقت ہیں۔

نواز شریف کئی برسوں سے انگلینڈ میں زندہ ہیں۔ یہ قیام پلیٹلٹس کے علاج سے زیادہ ان کی سیاست کی ضرورت ہے۔ وہ اس تجارت پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جس نے سیاست کو مسخر کر لیا ہے۔ جو شخص پانچ ضرب پانچ کو پچیس ہی نہیں پچیس ہزار کرنے کی اہلیت رکھتا ہو، زندگی کو سمجھنے اور اس پر قابو پانے کا تجربہ رکھتا ہوا چانک ناقابل فہم باتیں کرنے لگے تو عجیب سا لگتا ہے۔ پچھلے دنوں انھوں نے فرمایا ”جب تک سابق سپہ سالار اعظم جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید اور سابق منصف اعلی جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ کوایک منتخب حکومت کو برطرف کرنے کی سازش میں کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا ملک آگے بڑھ نہیں سکتا“ ۔

بہتر تو یہی تھا کہ یہ بیان دیتے وقت نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو ”آف دا سین“ رکھتے۔ جنھوں نے عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے تخلیق کردہ ہائبرڈ نظام کو قانونی اور آئینی صورت عطا کی لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ شہباز شریف کا بیانیہ اس باب میں زیادہ حقیقت سے قریب ہے کہ پاکستان میں اقتدار اور طاقت کا ایک ہی متعین مرکز ہے جس کی آشیر باد اور شراکت اقتدار کے بغیر انتخابات میں کامیابی ممکن نہیں۔ نواز شریف کا بیان ان خیالات کی حدت اور وزن کو توازن میں رکھنے کی ایک سیاسی کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔

نواز شریف کے اس بیان کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے واقعات کی ترتیب ذہن میں رکھنا ہوگی۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جاتے جاتے جس طرح نیب کے تن مردہ میں جان ڈالی، نیب ترامیم کو کالعدم کیا اس فیصلے کے بعد جن سیاسی جماعتوں کے دفتر (رجسٹر) کھلیں گے ان میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے 89 سابق ارکان پارلیمان، مسلم لیگ نون کے 62، تحریک انصاف کے 47، ایم کیو ایم کے آٹھ، پاکستان مسلم لیگ ق اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے 12، 12، اعجاز الحق کی جماعت، پختونخوا پارٹی وطن پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے 11 ارکان اسمبلی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ارکان اسمبلی شامل ہیں۔

حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران اور پرائیویٹ کاروباری اور سرمایہ کاروں کے خلاف تقریباً 1809 ریفرنسز اور انکوائریاں دوبارہ کھل رہی ہیں جب کہ 700 ارب روپے کے مبینہ کرپشن کیس اس فیصلے کے مطابق کھل گئے ہیں۔ سابق صدر مملکت، سات وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ، 78 وزرا اور 1170 ارکان صوبائی اسمبلی اور 114 افسران کے کیس بھی ازسرنو احتساب عدالتوں میں چلے گئے ہیں۔ تمام تفتیش، تحقیقات اور ریفرنسز، جن کو کالعدم شقوں کی بنیاد پر نمٹایا گیا تھا، کو 2022 کی ترامیم کے نفاذ سے قبل دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ نگران حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر نہیں کرے گی۔

اس بات پر یقین کرنے کے لئے حماقت کے بہت اعلی درجے پر فائز ہونے کی ضرورت ہے کہ عمر عطا بندیال نے اتنی بڑی کارروائی ازخود کی ہوگی یا وہ تنہا اس کے محرک تھے۔ دماغ میں موجود مادوں کی حرکت سے زیادہ اس فیصلے میں کسی اور کی حرکت پائی جاتی ہے۔ اس ”کسی اور کی حرکت“ جو قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد ایبڈو کی صورت ان سیاست دانوں کے خلاف صف آرا ہو گیا تھا جنھوں نے پاکستان کی تخلیق میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

جس کے بعد یہ محترم قائدین تو کرپٹ قرار پاکر قومی مجرم ٹھہرے اور جرنیلوں اور ججوں کی لاٹری نکل آئی۔ وہ اور ان کی اولادیں ”جائز طور پر“ اربوں پتی بن گئیں۔ نواز شریف کا ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کا بیان جوابی بیانیہ ہے کہ اب صرف سیاست دانوں کا احتساب نہیں ہو گا بلکہ ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہو گا۔ اگر ججوں اور جرنیلوں کی طرف سے سیاست دانوں کا احتساب کیا جائے گا تو اہل سیاست بھی ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کا قوی عزم رکھتے ہیں۔ نواز شریف میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اس نعرے کو عوامی آواز اور عوام کا نعرہ بنا سکتے ہیں۔

چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے سے پہلے یہ بیان نواز شریف کا دفاعی اقدام بھی کہا جاسکتا ہے۔ وہ تین مرتبہ وزیراعظم بن چکے ہیں اور اپنی مدت اقتدار پوری نہ کرسکے۔ پہلی مرتبہ وہ صدر غلام اسحق کی رقابت کا شکار ہو گئے۔ دوسری مرتبہ محترمہ بے نظیر کی مدد سے 58۔ 2 B کا خاتمہ کر کے صدر کے اختیارات کو ختم کر کے انھوں نے خود کو اس انجام سے بچانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جنرل پرویز مشرف نے ”جائز طور پر“ آئین توڑ کر انھیں ہائی جیکنگ کا مجرم قرار دے کر ہتھکڑیاں لگا دیں۔

تیسری مرتبہ جنرل راحیل شریف بڑے حصے کے طلب گار بن گئے۔ ان سے جان چھڑاکر قمر جاوید باجوہ کو لایا گیا تووہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کا مشن بھی اپنے ساتھ لے کر آئے اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ساتھ سازش کر کے نواز شریف کو نکالنے میں جت گئے۔ نواز شریف اگلی مرتبہ ججوں اور جرنیلوں کی سازشوں کا شکار ہونا نہیں چاہتے۔ اس مرتبہ وہ پانچ سال پورا کرنا چاہتے ہیں جو کہ ججوں اور جرنیلوں کی سازشوں کو روکنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

ججوں اور جرنیلوں کے جوابی احتساب کے نواز شریف کے بیان سے اوروں کو تو چھوڑیں خود مسلم لیگی رہنماؤں مین تھر تھلی مچ گئی۔ ”میاں صاحب نے فیر ایک واری مروا دیتا اے“ ۔ میاں صاحب کو پرویز مشرف کی مثال دی گئی جن کا احتساب کرنے کے چکر میں زمین ان پر تنگ کردی گئی اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ جرنیلوں سے بگاڑ کی صورت میں انھیں اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا حساب دینا پڑا۔ نہ فوج اپنے جرنیلوں کا احتساب گوارا کر سکتی ہے اور نہ جج۔

بہتر ہے اس خیال سے توبہ کی جائے اور فوج کی شراکت داری کے جس نظام کو شہباز شریف نے قانونی اور آئینی شکل دی ہے کمتر حیثیت میں اسی کا حصہ بن کر کام نکالا جائے۔ پچھتر برس تو گزر گئے فوج اور عدلیہ کی سپریمیسی میں اللہ نے چاہا تو دو چار سو برس بعد ہمارے اہل سیاست ضرور اس قابل ہو سکیں گے کہ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب کرسکیں۔ وہ درست وقت ہو گا ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کا۔ اس سے پہلے تو یہ خیال ہے محال ہے اور جنوں۔

ایک ترکیب اس سے بہتر ہے وہ یہ کہ ہمارے آئین اور قانون میں لکھ دیا جائے کہ اس ملک میں ججوں اور جرنیلوں کا احتساب نہیں ہو سکتا ۔ جج اور جرنیل آئین اور قانون سے بالاتر ہیں۔ وہ ملک توڑ دیں، آئین توڑ دیں، ملک بیچ دیں، اربوں کی کرپشن کر لیں ان کا احتساب نہیں ہو سکتا ۔ پاکستان میں صرف سیاست دان ہی بدکردار ہیں، بدعنوان ہیں، راشی ہیں، ہیرا پھیری کرتے ہیں، اقربا پروری کرتے ہیں، بیرون ملک اثاثے رکھتے ہیں، اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ہاں ہائی جیکر ہیں جب کہ جج اور جرنیل ”دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں“ ایسے اعلی و ارفع لوگوں کا احتساب کیسے ممکن ہے۔ سنا ہے نواز شریف کو اس حقیقت کا ادراک ہو گیا ہے ۔ شہباز شریف، ان کی بیٹی اور دیگر ساتھیوں کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ کچھ پکی یقین دہانیاں بھی کرا دی گئی ہیں۔ چوتھی واری فیر شیر۔

Facebook Comments HS