ملکی مفادات پر کمپرومائز اور انتقام کا سلسلہ بند کریں
پاکستان کے ترقی کرنے کا ایک سادہ سا فارمولہ ہے۔ پاکستان اپنے مفادات پر کمپرومائز کرنا بند کردے۔ چاہے اس کی راہ میں کوئی بھی دوست ملک رکاوٹ کھڑے کرے۔ پاکستان میں اس وقت چندے ایک بڑے ایسے پروجیکٹس ہیں جو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ان میں سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، دیامر بھاشا ڈیم، کالاباغ ڈیم، پاک ایران گیس پائپ لائن، اکنامک ریوال پروجیکٹ شامل ہیں۔ اگر پاکستان اگلے دس سال تک پوری ایمانداری اور جذبہ حب الوطنی کے تحت ان پروجیکٹس پر کام جاری رکھے تو پاکستان میں بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی، زرمبادلہ کے ذخائر کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا، عالمی مالیاتی اداروں سے ایک ایک ارب ڈالر کے قرض سے بھی جان چھوٹ جائے گی، پاکستان کی تجارت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے اور زراعت کا سات دہائیوں سے جاری مسئلہ بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔
میں یہاں ان پروجیکٹس کی تفصیلات میں نہیں چاہتا کیونکہ آپ لوگوں ایک مدت سے ان پروجیکٹس سے واقف ہیں اور آپ کو بھی معلوم ہے ان پروجیکٹس کا پاکستان کو فائدہ ہی ہے نقصان ہرگز نہیں ہے۔ پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجوہات میں کمزور جمہوریت یا ڈکٹیٹرشپ نہیں بلکہ ہمارے فیصلہ سازوں کا بار بار ملکی مفادات پر کمپرومائز کرنا ہے۔ چاہے وہ حکومتیں گرانے کا ہو یا پسند نا پسند کا ہو۔ امریکہ، یورپ، مشرق وسطی کی خواہشات پر مسلسل اپنے مفادات پر سمجھوتے ارض پاک کو اس نہج تک لائے ہیں۔
اس میں کوئی ایک سیاستدان یا ادارہ شامل نہیں بلکہ سب نے باری باری اپنے وقت پر حصہ مطابق جثہ ڈالا۔ بدقسمتی سے اس کا ایندھن ہمیشہ پاکستان کے عوام بنتے آئے ہیں۔ بی اے میں ایک نظم ہے جس میں رائٹر کہتا ہے پبلک ہر آنے والے کو ویلکم کرتی اس کو پھولوں کے ہار پہناتی ہے جبکہ جانے والوں کو غدار کہتی اور پھانسی دینے تک مطالبے کرتی ہے۔ یہ نظم ایک انگریز رائٹررابرٹ براؤننگ نے اٹھارہویں صدی کے وسط میں لکھی تھی شاید یہ پاکستانیوں کے مجاز کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی تھی حالانکہ اس وقت پاکستان کا قیام بھی عمل میں نہیں آیا تھا۔
پاکستانی قوم کا بھی یہ المیہ ہے کہ ہر آنے والے کو ویلکم کہتی اور جانے والے کو بددعائیں دیتی ہے۔ لیکن خود بدلتی نہیں نہ ہی ایک قوم بنتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ہم سے بعد میں آزاد ہوئے یا انہوں نے ہم سے بعد پیسہ اور خوشحالی دیکھی لیکن آج وہ ہر لحاظ سے ہم سے کئی گنا آگے نکل چکے ہیں جبکہ ہم آج ان ممالک کی مثالیں دینا ہی ثواب سمجھتے ہیں۔ (اسکی ایک بڑی مثال پاکستان کی قومی ائر پائن پی آئی اے ہے دنیا کی کئی ائرلائنز پاکستان کے بعد متعارف گئی جن میں پی آئی اے کا مرکزی رول تھا۔ لیکن آج پی آئی اے بند ہونے والی ہے ۔ یورپ، امریکہ تو دور کی بات ہے جرمنی، جاپان، بھارت، بنگلادیش، پورا مشرق وسطی اور افریقہ ہم سے کئی گنا پیچھے تھے۔ بھارت ہمارے معاشی پلان کو کاپی کر کے 600 ارب ڈالر کی معیشت والا ملک بن گیا جبکہ ہمارے خزانے میں آج بھی ادھار کے ڈالر پڑے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدان، بیوروکریٹس اور فوجی افسران نالائق نہیں بلکہ انتہائی ذہین اور سمجھدار ہیں لیکن سب اپنے اپنے ذاتی مفادات کی حد تک سمجھدار ہیں ملکی مفاد کے لئے ان کی ذہانت اور سمجھداری کام کرنا بند کر دیتی ہے۔
پاکستان 75 سال کا ہو گیا ہے لیکن ابھی تک اپنی سمت کا تعین نہیں کر سکا۔ سب سے بڑا مسئلہ جو حکومت سویلین یا فوجی آتی رہی اس نے اپنی پالیسی لاگو کی کسی نے نیشنل پالیسی بنانے کی زحمت نہیں کی۔ صنعت، تعلیم، صحت، زراعت یا انفراسٹرکچر ہو کسی ایک شعبے میں بھی ہماری قوم پالیسی نہیں رہی پھر ملک ترقی کیسے کرتا؟ اب اگر جنرل عاصم منیر نے اکنامک ریوال پروجیکٹ شروع کیا جو شہباز حکومت کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے اگر اگلی حکومت نواز شریف کی آجاتی ہے جو کہ نظر آ رہا ہے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ نواز شریف فوجی افسر کی سربراہی میں چلنے والے پروجیکٹ کو سپورٹ کریں گے اور اون کریں گے۔ کیونکہ وہ تو فوجیوں کے دفاع کے علاوہ کسی اور شعبے میں مداخلت کو ناپسندیدہ سمجھتے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایک نئی ڈویلپمنٹ جو ہوئی وہ بہتر ہے۔ نواز شریف نے احتساب کے معاملے پر نرمی کا مظاہرہ کر دیا ہے اور وہ اس موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں کہ پہلے جنرل باجوہ، جنرل فیض، ثاقب نثار اور کھوسہ کا احتساب ہونا چاہیے۔ اب پاکستان کو انتقام نما احتساب کے چکر سے باہر نکلنا چاہیے۔ احتساب کرنا حکومتوں کا نہیں احتساب کے لئے بنائے اداروں کا کام ہونا چاہیے۔ جو بھی حکومت جاتی ہے نئی آنے والی حکومت اس کے خلاف کیسز بنانا شروع کر دیتی ہے۔ اس چیز نے بھی سب سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ اب انتقام، کمپرومائز اور جعلی احتساب کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند ہونا چاہیے۔ آگے بڑھیں ہم پہلے ہی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔


