”ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے“

ریاست اور اس کے اداروں کی تقدیس اور تعظیم گزشتہ کئی صدیوں سے ہماری جبلت میں شامل رہی ہے۔ رواں صدی کے آغاز میں لیکن سوشل میڈیا نے ہر فرد کو ”خودمختاری“ کے واہمے میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ اپنے دل میں آئی بات ہر شخص اب برجستہ بیان کردیتا ہے۔ وہ اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے تو دیکھنے والوں کی کماحقہ تعداد اس کے بیان کردہ خیالات کو شیئراور لائیک کے ذریعے سراہتی ہے۔ یہ عمل اسے یقین دلاتا ہے کہ معاشرے کے طاقت ور طبقات کے خلاف محض اس کے دل ہی میں غصہ نہیں ا±بل رہا۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی غالباً اسی طرح سوچتی ہے۔ ”مداحین“ کا گماں اسے مزید بے باک ہونے کو ا±کساتا ہے اور بالآخر ایک دن وہ گھر بیٹھے ہی چند ”باغیانہ“ ٹویٹس وغیرہ لکھنے کی وجہ سے ملک میں ”انتشار وفساد“ پھیلانے کے الزام میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ ایسے ”باغیوں“ میں سے چند بدنصیب گھروں سے اٹھائے جانے کے بعد ”گم شدہ“ بھی ہو جاتے ہیں۔ فیض احمدفیض نے ایسے ہی افراد کے بار ے میں ”ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے“ والی نظم لکھی تھی۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ایجاد اور فروغ سے قبل بھی معاشروں میں حکمران طبقات کے خلاف ا±کتاہٹ بالآخر چند حساس افراد کو کامل بغاوت کے لئے ا±کساتی رہی ہے۔ روسی زبان کے کئی ادیبوں نے انتہائی متاثر کن انداز میں اس عمل کو اجاگر کیا ہے۔ اس زبان کا شہرہ آفاق ناول نگار دوستو فسکی نوجوانی میں ایک باغیانہ گروہ کا سرگرم رکن ہونے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔ اسے موت کی سزا بھی سنادی گئی تھی۔ اس سے بچ گیا تو ساری زندگی ”جرم اور سزا“ جیسے عنوانات پر غور کرتا رہا۔ یورپ میں پھیلے ”جمہورپسند“ خیالات کے بجائے وہ روس کی ”اصل روح“ دریافت کرنے کی خاطر روحانیت اور صوفی نظریات کی گہرائیوں میں اترنا شروع ہو گیا۔
دوستو فسکی کے مقابلے میں ترگنیف تھا۔ وہ روس کی ”اصل روح“ سے خارکھاتا اور اس سے نفرت کو طنزیہ انداز میں بیان کردیتا۔ ”باپ اور بیٹے“ اس کا مشہور ترین ناول ہے۔ یہ ناول اپنے زمانے میں بہت مقبول ہوا تھا۔ ہمارے ہاں 1970 ءکی دہائی میں اس ناول کو ٹی وی کے لئے صفدر میر صاحب نے ڈرامائی شکل دی۔ ان کے لکھے سلسلہ وار ڈرامے کا نام ”قربتیں اور فاصلے“ تھا۔ راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی اسی ڈرامے کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے۔
مذکورہ ڈرامے میں روس کے اس عہد کا ذکر تھا جب اس کی پسماندگی اور لوگوں کی جبلت کا حصہ بنی ”جی حضوری“ سے ا±کتاکر کئی روسی نوجوانوں نے ایک ایسی تحریک میں شمولیت اختیار کرلی جسے ”نراجیت“ کا نام دیا گیا۔ یہ تحریک کسی باقاعدہ تنظیم سے محروم تھی۔ اس کا کوئی ”لیڈر“ بھی نہیں تھا۔ نوجوانوں کے مختلف شہروں میں موجود گروہ اپنے تئیں معاشرے کے طاقت ور لوگوں سے ناراض ہو کر ان کے نمائندہ افراد کو قتل کرنا شروع ہو گئے۔ ریاست کے چند نمائندوں کے قتل سے مگر ریاست کمزور نہیں ہوتی۔ مشتعل ہو کر بلکہ ”باغیوں“ کو سبق سکھانے کے بعد مزید جابرانہ ہوجاتی ہے۔
حالیہ تاریخ میں نام نہاد ”عرب بہار“ کا انجام بھی مزید آمریت کی صورت ہی برآمد ہوا ہے۔ برما میں فوجی حکومت مزید استبدادی رویے کے ساتھ واپس لوٹ آئی ہے۔ ایشیا اور افریقہ تو ہمیشہ ”جمہوری“ تناظر میں پسماندہ شمار ہوتے رہے ہیں۔ عوام میں بڑھتے ہیجان پر قابو پانے کے لئے گزشتہ چند برسوں سے مگر اب یورپ کے کئی ممالک میں بھی عوام کی بھاری اکثریت کے ووٹوں سے ”منتخب“ ہوئے رہ نما فوجی آمروں سے بھی بدترانداز میں اپنے مخالفین کی زبانیں گنگ کیے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہمسایے میں نریندر مودی کا چلن بھی ایسے ہی آمروں جیسا ہے جسے ان دنوں Autocrats ”“ Elected یعنی عوام کے منتخب کردہ ”سلطان“ پکارا جا رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے عمران خان بھی ”بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑنے“ کے نام پر ”سلطانی“ انداز ہی اختیار کرتے نظر آئے۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں ہٹادیا گیا تو اپنے وعد ے کے مطابق مزید ”خطرے ناک“ ہو گئے۔
عمران خان کو ”مزید خطرناک“ بنانے میں قمر جاوید باجوہ اور ان کے کارندوں نے میری دانست میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اقتدار کھودینے کے بعد عمران خان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اپنے خلاف آئی تحریک عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دیتے رہے۔ اس تناظر میں ”سائفرکہانی“ بھی ایجاد کرلی۔ مذکورہ کہانی کی بنیاد پر انہوں نے جو ”قوم پرستانہ“ آگ بھڑکائی اس نے انہیں عسکری قیادت کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرنے کی سہولت بھی فراہم کردی۔ ”غیر جانب داری“ کو انہوں نے ”جانور“ کے اختیار کردہ رویے کے برابر ٹھہرایا۔ جوش خطابت میں نواب سراج الدولہ کے ”میر جعفر“ کا ذکر بھی کرتے رہے۔
واضح الفاظ میں ”میر جعفر“ پکارے جانے کے باوجود قمر جاوید باجوہ صاحب عارف علوی کی معرفت عمران خان سے ملاقاتوں کے ذریعے انہیں رام کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ باجوہ صاحب نے جو ”صوفیانہ برداشت“ دکھائی اس کا اصل سبب بطور آرمی چیف اپنی میعاد ملازمت میں مزید توسیع کا حصول تھا۔ جس توسیع کے وہ خواہاں تھے بالآخر انہیں نصیب نہیں ہوئی مگر ”وکٹ کے دونوں جانب“ کھیلتے ہوئے موصوف نے عمران خان کو جو آسانیاں فراہم کیں انہوں نے ”مزید خطرے ناک“ ہوئے سابق وزیر اعظم کے بیانیے کو ”باغیانیہ“ بنا دیا۔ 9 مئی کے واقعات اس بیانیے ہی کا شاخسانہ تھے۔
9مئی کے بعد سے ریاست پاکستان اپنی تقدیس اور تعظیم کی بحالی کے لئے مسلسل جدوجہدکر رہی ہے۔ اس ضمن میں تاہم دلوں کو جیتنے کی خاطر متوازی بیانیے کی تشکیل پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ریاستی جبر کا استعمال کلیدی ہتھکنڈہ کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ذاتی طور پر میں اس سے اجتناب کا خواہش مند ہوں۔
بشکریہ نوائے وقت۔

