کیا ہم مہاجرین کو واپس بھیجنے میں سنجیدہ ہیں؟


ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں، نیکی اور بھلائی پر اتر آئے تو چالیس سال تک چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو سر آنکھوں پر بٹھائے رکھتے ہیں۔ ان کو گھروں کے لئے جگہیں دیتے ہیں۔ انہیں حساس سے حساس مقامات پر رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، ان سے رشتے کرواتے، انہیں قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دلاتے ہیں۔ انہیں مساجد میں امام بنوا کر اپنے کروڑوں لوگوں کو ان کے پیرو کار بناتے ہیں اور آج ان کی تیسری چوتھی نسل جوان ہو کر صاحب اولاد ہو رہی ہے۔ مگر جب کسی کو گرانے اور نظر انداز کرنے پر اتر آئے تو پھر آج انہی لاڈلوں کو کسی منصوبہ بندی کے بغیر لاٹھی سے ہانک رہے ہیں جگہ جگہ ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کو ملک بدر کیا جائے گا۔

میری ناقص رائے میں، ہماری پہلی پالیسی بھی غلط تھی اور آج اس سے بھی زیادہ غلط ہے۔ دنیا میں پاکستان پہلا ملک نہیں جس نے غیر ملکی پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے۔ قدرتی اور انسانی آفات اور جنگوں سے ہٹ کر بھی یورپ امریکہ و برطانیہ ہر سال لاکھوں غیر ملکی پناہ گزینوں کو نہ صرف پناہ دیتے ہیں بلکہ ان میں سے زیادہ تر کو اپنے اپنے نرم قوانین کے مطابق شہریت دے کر اپنے کارآمد شہری بنا رہے ہیں۔ اور جو لوگ ان قوانین اور لوازمات کو پورا نہیں کرتے انہیں کسی مصلحت کے بغیر اپنے اپنے ملک واپس بھجوا دیتے ہیں۔

اس میں نہ صدر اور وزیر اعظم کو احکامات دینے کی ضرورت ہوتی ہے نہ آرمی چیف ڈنڈا لے کر جگہ جگہ گھومتا ہے کہ یہ کیا جائے اور یہ نہ کیا جائے بلکہ یہ اس مقصد کے لئے قائم محکموں اور اداروں کا کام ہوتا ہے۔ اور وہ کسی سیاسی اور ذاتی مفادات کی بجائے ملکی مفادات کے لئے اپنی ملکی قوانین پر عملدرآمد کروا کر مصروف عمل ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تو ہر کام نرالا ہوتا ہے، پہلے تو خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھی ہے خاص کر افغان انڈیا اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے اس میں کسی سیاسی حکومت کی مداخلت برداشت نہیں کرتے، جب چاہے افغانوں کو بھائی بنا دے اور جب چاہے دشمن۔ بقول حسرت موہانی۔

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

لیکن مقام افسوس اس لئے ہے کہ جب بھائی بنتے ہیں تو بھی قیمت عوام کو چکانا پڑتی ہے۔ کیونکہ 40 لاکھ لوگ 40 سال تک انہی صحت تعلیم سمیت قومی اداروں سے مستفید ہوئے جو پاکستانیوں کے لئے محدود تعداد میں بنائی گئیں تھیں۔ انھوں نے وہی وسائل استعمال کیے جو پاکستانیوں پر صرف ہونے تھے اور اب جبکہ دشمن بنیں گے تو بھی نفرت کا نشانہ پورا پاکستان اور اس کے عوام بنیں گے۔ اگر اس میں کسی سیاسی حکمران کو مداخلت کی اجازت ہوتی تو عمران خان کو اپنی پالسی سٹیٹمنٹ سے پیچھے نہ ہٹنا پڑتا۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے ہم پہلے بھی اپنے کالموں میں عرض کر چکے ہیں کہ ہمیں اپنی شہریت کی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان تمام غیر ملکیوں کو شہریت دینی کی ضرورت ہے جو ایک خاص مقدار میں پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور چند لوگوں کو روزگار دینے اور پر امن شہری کے طور پر رہنے کے آرزو مند ہے۔ تاکہ نہ صرف ملک میں سرمایہ اور روزگار آ جائے بلکہ یہ سب دستاویزی ہو اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر اور ملک و قوم پر بوجھ بننے والوں کی تعداد بھی کم ہو سکے۔ اس کے علاوہ ایسے تمام خواتین و حضرات افغانوں کو بھی شہریت دینے کی ضرورت ہے جن کی شادی پاکستانی مرد/ خاتون سے ہوئی ہے۔ تاکہ ان لوگوں کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے اور غیر قانونی اور کرپشن کے ذریعے قومی دستاویزات بنانے کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ان سفارشات پر عمران خان عمل کرنا چاہتے تھے انھوں نے قوم کے سامنے اعلان بھی کر دیا مگر مقتدر قوتوں نے انہیں اپنے بیان سے روگردانی پر مجبور کر دیا۔ اور آج وہی لوگ غیر قانونی مہاجرین کو ڈنڈے کے زور پر ہانکنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے نہ کوئی مناسب ہوم ورک کیا گیا ہے نہ اس کو اس انداز سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن ہے۔ اس لئے مکرر عرض ہے کہ پہلے ان میں سے ملک و قوم کے لئے فائدہ مند لوگوں کو شہریت دی جائے۔

اس کے بعد اقوام متحدہ، یو این ایچ سی آر اور دوسرے عالمی اداروں کے ساتھ مذاکرات کر کے انہیں اپنی مجبوریاں بتائی جائے تاکہ وہ ان میں زیادہ تر افراد کو واپس بھیج دیں۔ تیسرے قدم کے طور پر افغان حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ مراعات دے کر اپنے لوگوں کو واپس بلا لیں۔ چوتھے قدم کے طور پر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو دو سے تین مہینے کا الٹی میٹم دیا جائے کہ وہ خود رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس چلے جائے۔

درجہ بالا اقدامات سے 11 لاکھ غیر قانونی لوگوں میں سے واضح کمی آ جائے گی اور عالمی برادری سمیت افغان حکومت کو بھی احساس ہو گا کہ اب غیر قانونی لوگوں کو واپس بھیجنا پاکستان کی مجبوری ہے اس لئے عالمی برادری اور افغانستان دونوں زیادہ ناراض نہیں ہوں گے ۔ درجہ بالا تمام مراحل کے باوجود اگر کوئی پاکستان چھوڑ کر نہیں جاتا ہے تو پھر ان کو گرفتار کر کے ملک بدر کرنا ناگزیر ہو گا۔ مگر انسانی حقوق کی اکیسویں صدی میں کسی مناسب منصوبہ بندی اور واضح پالسی کے بغیر ڈنڈے کے زور پر 11 لاکھ لوگوں کو ملک بدر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اب بھی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ افغان حکومت یا شاید عالمی برادری پر دباؤ ڈال کر کچھ منوانا چاہتے ہیں۔ ایک بات اور بھی عرض کردوں کہ اس ”گرفتار کرو اور سرحد پار کرو“ کی پالسی سے پولیس والوں کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ جو لوگ پولیس کی مٹھی گرم سکتے ہیں وہ رہا ہو کر ادھر ہی رہیں گے اور جو خالی ہاتھ ہو گا وہ سرحد پار ہو گا۔ اس سے نفرتیں بڑھے گی۔ اور دوریاں پیدا ہوگی۔ اس لئے اگر واقعی ان کو واپس بھیجنا ہے تو مناسب ہوم ورک کر کے لانگ ٹرم کی واضح پالیسی بنائی جائے۔ اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

Facebook Comments HS