شعری مجموعہ ”لمس“ میری نظر میں


”لمس“ ڈاکٹر عابد خورشید کا اولین شعری مجموعہ ہے۔ جو ان کی خاموش طبع، منکسرالمزاجی، کثیر المطالعہ اور متوازن شخصیت کے ساتھ ان کے زندگی کرنے کے فن کو آشکار کرتا ہے۔ لمس کا تعلق قوت لامسہ سے ہے یعنی محسوس کرنے سے ہے۔ لمس کی حدت اور شدت کو عابد خورشید اپنی ذات میں جذب کرتے ہیں۔ جس سے انھیں تخلیق کا اذن ملتا ہے۔ عابد خورشید تخلیق سے محبت کرتے ہیں۔ یہ محبت عشق میں ڈھلتی ہے اور پھر جنوں بن جاتی ہے۔ تخلیق عابد خورشید کا ذاتی مسئلہ ہے جو غزل کی صورت میں ان پر منکشف ہوتا ہے اور ان کو وفور جذبات سے ہم کنار کرتا ہے۔ عابد خورشید جذبات کی آمیزش سے اپنی غزل تشکیل دیتے ہیں۔ جس کی سطح پر قاری کو غم ہی غم نظر آتے ہیں لیکن عابد خورشید قاری کو اس مسرت تک لے جاتے ہیں جو غم کی تلخیوں اور کربناکیوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ چیز ہی ان کی غزل کا اصل سرمایہ ہے۔

اصل ہنر تو غم کو تہذیب یافتہ بنانا اور نوکیلے اور کھردرے جذبات کو مہذب کرنا ہے۔ جس پر عابد خورشید کامل دسترس رکھتے ہیں۔ عابد خورشید زندگی کو اس کی تمام تر تلخیوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور زندگی کی طرف سے ملنے والے رنج و الم کو خوب ہنڈاتے ہیں۔ جس سے ان کی غزل کا لفظ لفظ گنجان ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر وزیر آغا ”لمس“ کے فلیپ میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں :

”دکھ کی معیت بہت کم تخلیق
کاروں کے حصے میں آئی ہے عابد
خورشید قابل مبارک باد ہے کہ
ابتدا ہی میں اسے یہ سعادت
حاصل ہونے لگی۔ ”(وزیر آغا، فلیپ لمس)

عابد خورشید زندگی کی تلخیوں سے گھبراتے نہیں بلکہ انھیں زندگی کا خاصا سمجھتے ہیں۔ ان کو ضبط کرتے اور ان کا لمس اپنی ذات میں جذب کرنے کے بعد اپنی واردات کی صورت میں اس طرح سے پیش کرتے ہیں کہ اس کے دائرہ کار میں کل سماج آ جاتا ہے۔ جس سے ان کی غزل سماجی صورت حال کا مرقع بن جاتی ہے اور سماجی رشتوں اور رویوں میں پنپنے والی تلخیوں کا اظہار بڑی خوب صورتی سے کرتی ہے۔ لیکن یہ واضح رہے کہ عابد خورشید یہ شعوری طور پر نہیں کرتے بلکہ ان کا شعری رچاؤ ہی ایسا ہے کہ ان کی ذات سماج کا مرکز اور محور بن جاتی ہے جس کے ساتھ سماج کی وابستگی قائم ہو جاتی ہے۔ عابد خورشید تو اپنے لیے غزل کہتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری عام آدمی کی آواز بن جاتی ہے اور اس کا المیہ پیش کرتی ہے۔

بسا اوقات عابد خورشید کی غزل آنسو اور تبسم کے امتزاج سے ایسی کیفیت تخلیق کرتی ہے جس سے قاری حظ تو اٹھا سکتا لیکن اسے بیان نہیں کر سکتا۔ اس کے شعری رچاؤ کی طلسماتی تاثیر کا لمس قاری کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ اس طرح سے عابد خورشید کی غزل قاری کی توجہ حاصل کرتی ہے اور اس پر معنوی وسعت اور امکانات کو آشکار کرتی ہے۔

عابد خورشید نے زندگی کے نشیب و فراز کو بڑے قریب سے دیکھا۔ وہ ضبط آشنا شاعر ہیں۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ آنسو آنکھ سے نہ گرے تو سینہ چاک کر دیتا ہے۔ تخلیقی قوت مہیا کرتا ہے۔ اسی لیے تو عابد خورشید نے اپنی آنسو کو سنبھال کے رکھا ہے اور گرنے سے بچایا ہے۔ ان کے نزدیک یہ انمول موتی ہیں۔ جن سے وہ تخلیقی قوت کشید کرتے ہیں :

بچا سکا ہوں فقط آنسوؤں کو گرنے سے
وجود غم کہیں دیوار سے لگا ہو گا
زمین ڈوب گئی، آسمان ڈوب گیا
میں سوچتا ہوں کہ آنسو کا کیا ہو گا
جب کہیں ابر کے لب سوکھتے دیکھے خورشید
اس گئے وقت میں آنکھوں سے بہا ہوں میں بھی

عابد خورشید کے اندرون میں جو ہلچل ہے یا اضطراب ہے یہ ضبط آشنائی ہی کی دین ہے۔ عابد خورشید کی غزل میں حزن وملال پر مسرت اور رنگین نظر آتا ہے۔ اس کا شعری رچاؤ غم سے مزین ہونے کے باوجود زیرلب تبسم بھی پیدا کرتا ہے۔ اس سے امید کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ جنہیں عابد خورشید آنکھ دریچوں میں بند کر لیتے ہیں اور ان کی بدولت خواب دیکھتے ہیں۔ جس سے ان کی غزل میں حیرتوں کا جہاں آباد ہو جاتا ہے۔

مجموعی طور پر دکھا جائے تو عابد خورشید کی غزل میں وہ سب کچھ ہے جس سے زندگی تعبیر ہوتی ہے۔ یعنی اس میں بہار بھی ہے اور خزاں بھی، ہجر بھی ہے وصل بھی، غم بھی ہے مسرت بھی، خواب بھی ہے رت جگے بھی امید بھی ہے اور حیرت بھی۔

عابد خورشید کی غزل معاصر غزل سے منفرد ہے۔ اس میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جن کی بنیاد پر غزل اس قابل ہوتی ہے کہ وہ آنے والے ادوار میں نئے معنوی امکانات کے ساتھ جلوہ گر ہو۔ عابد خورشید نے غزل کہنے کے لیے جس شعر رچاؤ کو اپنایا ہے وہ منفرد قابل داد و تحسین ہے

منتخب اشعار
نیند بھی نہیں رکھی اور نہ خواب رکھا ہے
ہم نے اپنی آنکھوں میں شہر آب رکھا ہے
تم عدم میں رہتے ہوں، کیا تمھیں بتائیں ہم
سانس کے تسلسل میں کیا عذاب رکھا ہے
تمام رنگ سبھی منظروں سے بہ نکلے
ترا خیال تخیل نے چھو لیا ہو گا
گر خدا وقت ہے، میں اس کی قسم کھاتا ہوں
رک گیا ہے یہ جہاں ساتھ رکا ہوں میں بھی
وابستہ مرے ساتھ بڑی دیر تک رہا
لیکن دیے کا درد دھواں جانتا نہ تھا
خاموشیوں کا لمس رگوں میں اتار کر
وہ خود بھی اپنے آپ کو پہچانتا نہ تھا
چاند جب ڈوبنے پہ آئے گا
میری آنکھوں میں ڈوب جائے گا
اس سے رشتہ تو ہے مگر خورشید
سانس ٹوٹا تو ٹوٹ جائے گا
میری پوروں نے زخم پہنے ہیں
درد ورنہ ستار میں کب ہے
میری آنکھوں میں بند ہے خورشید
روشنی اب مدار میں کب ہے
ایک لمحے کو بھی اپنا سر ہلا سکتا نہیں
اتنی تلواریں ہیں عابد اپنے سر کے آس پاس
دلوں کو چیر دیتا ہے وہ عابد
جو آنسو آنکھ سے گرتا نہیں
ذکر گل، ذکر رنگ و بو بھی تو ہو
سارے منظر میں ایک تو بھی تو ہو
دھوپ، پانی، ہوا تو ہے خورشید
شاخ میں خواہش نمو بھی تو ہو

Facebook Comments HS