مستونگ :موت کے اندر موت
29 ستمبر: کوئٹہ سے پچاس میل دور مستونگ میں خود کش دھماکے میں ساٹھ شہریوں کی شہادت، عین اسی وقت خیبر پختونخوا کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں نماز جمعہ کے وقت خود کش حملے میں پانچ عبادت گزاروں کی شہادت، اسی دوران افغانستان سے دراندازی کی کوشش میں چار پاکستانی جوانوں کی شہادت۔ 12 ربیع الاول کی تقدیس ان واقعات کو مزید خوفناک بنا دیتی ہے۔ موت کے اندر موت۔ دھماکے محض بارود کا سفر اور بارود کا پھیلاؤ نہیں ہوتے یہ اس جنون کا سفر بھی ہیں جس کا کوئی مذہب نہیں۔
حملے کے بعد مستونگ میں جائے وقوعہ پر جو صورتحال تھی وہ ظلم کی انتہا تھی۔ دہشت گردوں کی طرف سے ایک سخت پیغام۔ لاشیں ہی لاشیں ایک دوسرے کے اوپر پڑی ہوئی۔ نا مکمل لاشیں۔ کسی کا سر نہیں کسی کے ہاتھ پیر نہیں۔ لاشیں، آنسو اور ماحول کا فطری سناٹا اور رگوں میں خشک ہوتا ہوا خون۔ ایک گمنام انسان کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ آدمی کانپ اٹھتا ہے۔
برسوں سے ایسے واقعات ہمارے دو صوبوں میں ہر شے بہا کر لے جا رہے ہیں لیکن ریاست ہے کہ آئینہ کے سامنے بیٹھی تماشا کر رہی ہے۔ جنگ کو روکنا بہت مشکل، جنگ کی ہولناکیوں کو روکنا اس سے بھی زیادہ مشکل۔ محافظوں اور دعوے داروں کو خبر ہی نہیں لوگ ٹوٹ چکے ہیں۔ اپنے پیاروں کو الوداع کہتے کہتے ہاتھ سو کہ گئے ہیں۔ میر احمد میر کی نظم ”مستونگ کے شھداء کے نام“ ملاحظہ کیجیے :
گورکن تھک چکے ہیں۔ کھدالیں کم پڑ گئی ہیں۔ مستونگ کی مٹی اتنی سخت ہو گئی ہے۔ کہ بیلچے ٹوٹنے لگے ہیں۔ تابوتوں کا ریٹ ڈبل ہو گیا ہے۔ شہر سے قبرستان بڑھ گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر ۔ ریاضی دان گنتی بھول گئے ہیں۔ آسمان کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔ خون سے لت پت لاشوں کو ۔ غسل کی کیا ضرورت؟ الیکشن کی سرگرمیوں میں۔ کپڑا مارکیٹ سے ختم ہو گیا ہے۔ مائیں بہنیں بیویاں۔ اپنے پیاروں کو ۔ اپنی رداؤں کے کفن پہنا رہی ہیں۔
افسردہ ماحول میں۔ پنچھی اپنی بولیاں بھول چکے ہیں۔ درخت دھوپ اگل رہے ہیں۔ ندیوں سے آگ ابل رہی ہے۔ ہوا نیم پاگل کی طرح دیواروں سے سر ٹکرا رہی ہے۔ سمندر اپنی لہروں سے سینازنی کر رہا ہے۔ اور حاکم وقت ڈیموں کی چندہ مہم میں قومی ترانوں پہ محو رقصاں ہے۔ بلو٫ چوں نے رونا بند کر دیا ہے۔ وہ آنکھوں سے اب صرف۔ تعزیتیں وصول کر رہے ہیں۔ وہ اپنے سب جوانوں کے جنازے۔ پیدا ہوتے ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اب صرف انہیں تدفین کرنی ہوتی ہے۔ شہر کی گلیوں میں۔ اپنے پیاروں کے بے گناہ لوتھڑے۔ اکٹھا کرنے والوں کو ۔ کیا اب بھی آپ حب الوطنی کا درس دیں گے؟
ضلع مستونگ میں ہی پچھلے دنوں جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ پر حملہ ہوا تھا جس میں حافظ صاحب سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔ مستونگ کے علاقے کا نگ میں 2018 کے عام انتخابات سے پہلے بھی ایک بڑا دھماکہ ہوا تھا جس میں نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 125 سے زائد افراد شہید اور بہت بڑی تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔ مستونگ میں رونما ہونے والے واقعات کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں جب کہ بعض کی ذمہ داری مذہبی انتہاپسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں لیکن بارہ ربیع الاول کے دھماکوں کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے پر تیار نہیں۔
ان واقعات پر جمیعت علماء اسلام کا ردعمل سب سے زیادہ سخت تھا۔ یہ علاقے ان کے گڑھ اور سیاسی محور ہیں۔ پختونخوا میں اس برس جتنے حملے ہوئے ہیں نصف کا ہدف جمیعت علماء اسلام تھی۔
دہشت گردی کے خاتمے کے باب میں ریاست کی ہر فکر، جستجو، شعور اور بیانیہ کا حاصل انتشار رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، آپریشن لانچ کیے گئے، ایکشن پلان ترتیب دیے گئے جن کا بڑا شہرہ بھی رہا لیکن نتائج کے اعتبار سے وہ ناکافی رہے۔ طالبان کے باب میں مختلف اوقات میں ہم نے جو بھی بیانیے ترتیب دیے وہ محض مفروضے ثابت ہوئے۔ نئی افغان حکومت سے بھی ہمارے تعلقات مثالی نہیں جن کا دعوی کیا جاتا تھا۔ را، موساد، بلیک واٹر، ٹی ٹی پی جو بھی ان واقعات میں ملوث ہیں لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے ان کے سامنے بے بس ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی پورے طور پر سر اٹھا چکی ہے۔ پختونخوا اور بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں۔ چونکہ یہ حالات پوری طرح رپورٹ نہیں کیے جاتے اس لئے ان پر اس قدر تشویش نہیں پائی جاتی جتنی پائی جانی چاہیے۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور فوج تو باہم محاذ آرا ہیں ہی لیکن ٹارگٹ کلنگ کا بھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لوگوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے جن میں بیشتر سیاسی کارکن ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے روزانہ درجنوں واقعات ہو رہے ہیں جو میڈیا پر قرار واقعی کوریج سے محروم رہتے ہیں۔
الیکشن کے انعقاد کا سب کو انتظار ہے جب کہ عملی صورتحال یہ ہے کہ پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے امیدواروں کے لئے انتخابی مہم چلانا نا ممکن بنا دیا ہے۔ ٹی ٹی پی واضح طور پر الیکشن کے التوا کو ممکن بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ امکان یہی ہے کہ وہ انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنائیں گے۔ کون ووٹ مانگنے کے لئے باہر نکلے گا اور کون ووٹ دینے کے لئے، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ الیکشن کے نتائج تو جیسے نکلنے ہیں وہ نکلنے ہیں انتخابی مہم چلانا ہی ان صوبوں میں جان ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف بنا دی گئی ہے۔
ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کی پچھلے ماہ کے اواخر کی ایک رپورٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 0.3 فیصد رہی جس کے آئندہ برس 1.9 فیصد تک پہنچنے کے امکان ہوسکتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم معاشی ترقی ورقی پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ ہم مانگنے پر یقین رکھتے ہیں۔ محترم نگران وزیراعظم نے پچھلے ہفتے ہی نیویارک میں فرمایا ہے کہ پاکستان چین کا اسرائیل ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چین کے درکا گدا ہے۔
کسی باوقار قوم کے لئے یہ بات شرمندگی کا باعث ہونی چاہیے لیکن ہم باوقار قوم ہیں کب؟ مسئلہ یہ ہے کہ چین اپنا یار تو ہے لیکن آج کل وہ بھی کچھ ناراض ہے۔ لہذا ہمیں بیرونی سرمایہ کاری جیسی ”ذلتوں“ میں نجات کی راہ ڈھونڈنی پڑ رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لئے جو سیاسی استحکام اور امن وامان درکار ہے وہ ہمارے دو صوبوں میں مفقود ہے۔ پختونخوا میں صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی پراجیکٹ پر اس وقت تک کام کرنا ممکن نہیں جب تک ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر کو دس فیصد ادا نہ کر دیا جائے۔ کام ٹی ٹی پی کی مرضی اور اجازت سے مشروط ہے۔
یہ تشویشناک صورتحال معاشی سرگرمیوں اور الیکشن کو مسترد کرتی ہے۔ اگر ہمیں معاشی سرگرمیوں پر اصرار ہے، ہم الیکشن سے محبت کا طربیہ گیت تحریر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ماحول کی ضرورت ہے جو ہمارے دو صوبوں میں موجود نہیں۔ افغانستان میں جنگ ختم ہو گئی ہے لیکن وہاں سے جنگجو گروپ ختم نہیں ہوئے جو ہمارے ان دو صوبوں میں سرگرم ہونا نہیں چاہتے بلکہ سرگرم ہیں۔ ہم افغان حکومت کے تعاون سے ہی ان گروپوں سے نمٹ سکتے ہیں۔ ہم نئی افغان حکومت سے بگڑتے تعلقات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
ہم ایک گھر کے نزدیک سے گزرتے ہیں تو اس کی گرتی دیواریں ہمیں متوجہ کر لیتی ہیں۔ نہ جانے یہ گھر ہمیں کیوں پاکستان کی تمثیل معلوم ہوتا ہے؟

