استعداد کار اور تقسیمِ کار میں توازن کی ضرورت


بہی خواہوں کی مجلس میں سے ایک خیر اندیش بولا، ”کوئی بھی کام اتنا ’پرفیکٹ‘ نہ کریں کہ بعد میں وہ آپ کی ڈیوٹی بن جائے۔“

کہنے والے نے تو از راہ تفنن ہی کہا ہو گا جس پر شرکائے محفل نے دل کھول کر قہقہے لگائے البتہ، یہ حقیقت ہے کہ استحصالی عناصر جہاں بھی ہوں، اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے یا تو داب ناجائز کو استعمال میں لاتے ہیں یا پھر کام سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھنے والوں کو چکی کی مشقت کی طرح اتنا مصروف رکھتے ہیں کہ انجام کار ان کا حوصلہ ہی نہیں، وہ خود بھی ہار جاتے ہیں۔

استحصال کی ایک زندہ مثال ہمارے صوبے کے ایک انتظامی افسر کی ہے جسے کچھ عرصہ قبل ایسی ہی صورت حال کا سامنا رہا جو بعد ازاں اپنے بیوی بچوں سمیت کینیڈا منتقل ہو گئے۔ آخری خبریں آنے تک وہ دونوں میاں بیوی کینیڈا میں کامیاب ٹرک ڈرائیور بن چکے ہیں اور مل کر، زندگی کی گاڑی کے پہیوں کو گھما رہے ہیں۔

اس باصلاحیت و باکردار افسر کی دیانتداری اور پیشہ ورانہ طرز عمل کو ہی اس کے لیے وبال جان بنا دیا گیا۔ طاقت و سیاست کی مداخلت بے جا کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے گریز کا نتیجہ یہ نکلا کہ موصوف کو من گھڑت انکوائری کا سامنا کرنا پڑا جو پہلے سے طے شدہ انجام، یعنی سروس سے معطلی پر منتج ہوئی۔ مذکورہ افسر نے اس ناجائز اور ظالمانہ اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جہاں سے اسے حسب معمول، دیر سے ملا پر سروس کی بحالی کی صورت انصاف مل ہی گیا۔

شاید اس افسر کی انصاف کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں پنہاں مقصد، نظام اور نظام کے کارندوں کی قبیح حرکتوں کا پول کھولنا تھا اسی لیے مذکورہ افسر بحالی کے بعد اپنے سینئر مجاز افسر کے دفتر میں حاضر ہوا اور اس کی خدمت میں استعفیٰ پیش کر کے سروس، نظام اور بالآخر وطن کو بھی الوداع کہہ دیا۔ ایسی کئی مثالیں منظر سے اوجھل مگر تاریخ کا حصہ ہیں۔

آدمی کی صلاحیتوں میں نکھار اور فرائض منصبی کی بہترین انجام دہی کے لیے مناسب اور سازگار ماحول انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ یہ عین فطری تقاضا بھی ہے کیوں کہ انسان کی پیدائش، افزائش، پرورش اور تعلیم و تربیت کا اہتمام خاندان کے زیر انتظام ہوتا ہے جہاں اسے مادی ضروریات کی فراہمی کے ساتھ پیار، محبت، شفقت، سرپرستی، پذیرائی و حوصلہ افزائی جیسی احسن روایتوں میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ خاندان کی خوشحالی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ یہ اپنے افراد کو کس قدر توجہ، سہولیات اور اہمیت دیتا ہے۔

کسی بھی ادارے یا تنظیم کو اپنے مقاصد کی تکمیل اور اہداف کے حصول میں اپنے افراد کار کے ساتھ ان کی استعداد و استحقاق کے مطابق برتاؤ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذمہ داریوں کی تقسیم میں موزوں افراد کا ان کے حسب حال تقرر شرط اول ہے وگرنہ ہر شاخ پہ الو براجمان ہو جانے سے انجام گلستاں اک داستان حسرت ہو گی جہاں بلبل اقبال یوں شکوہ کناں ہو گی۔

قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں
پتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں
وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیں
قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی!

انسانوں کی اجتماعیت اپنی اکائی، یعنی خاندان سے شروع ہو کر ریاست اور پھر بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں تک پھیلی ہوئی ہے۔ منصب کے لیے موزوں فرد کی دستیابی، تقرری اور اس کے ذمہ واجب الادا فرائض کی ادائیگی سے ہی ہر سطح کی تنظیم ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔ افراد ہی نظام ہائے سیاسی، سماجی و معاشی کے کل پرزے ہوتے ہیں جن کی ذمہ داریوں اور حقوق میں توازن، اعتدال اور تقسیم کار کے معقول و معروف اصولوں کی پابندی سے نظام کی مضبوطی، استحکام اور نتیجتاً کامیابی و کامرانی وابستہ ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے سماجی ڈھانچوں و معاشرتی اداروں میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیونکر عمومی طور پر ہمارے ہاں فرد خوش و مطمئن نہیں ہے ؛ خاندان مضبوط و مستحکم نہیں ہے ؛ تعلیم اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی، معاشرتی ترقی کے نکتہ نظر سے تسلی بخش نہیں ہے ؛ معیشت چھینا جھپٹی کی تصویر کشی کر رہی ہے ؛ مذہبی فکر، عملاً رہبانیت میں عافیت کی خواستگار ہے ؛ حکومت اور اس کے ذیلی ادارے فرائض کی ادائیگی اور مقاصد کے حصول میں ڈگمگائے ہوئے ہیں ؛ قانون پر طاقتوروں کی بالا دستی قائم ہے ؛ سیاست اور سیاسی جماعتیں باہم دست و گریباں ہیں ؛ ریاست کا وجود اندیشوں، وسوسوں، خطرات و افتاد سے ہمہ وقت دوچار رہتا ہے ؛ رہبر ہی رہزن ٹھہرتے ہیں، معاشرے میں بحیثیت مجموعی انتشار، تقسیم، عدم اطمینان، محرومیاں، ظلم و زیادتیاں عام ہیں ؛ الغرض، تہذیب کے کچھ ستون تو سرے سے مفقود و معدوم ہیں اور جو موجود ہیں، کیوں لرزہ بر اندام ہیں؟

کیا ہمیں مندرجہ بالا کثیر الجہتی اور طویل تر سوال کا جواب ایک نئے مگر یکجہت اور قدرے مختصر سوال کی صورت میں ملنے کے امکانات روشن نہیں لگتے؟ دعوت فکر کے لیے سوال یہ ہے ؛ کیا خاندان سے لے کر ریاستی سطح تک فرد کو اس کا جائز مقام نہ دینے، تقسیم کار کے فطری، عقلی اور عادلانہ اصولوں سے انحراف، حقوق و فرائض میں عدم توازن، منصب کے تقاضوں اور صاحب منصب کی استعداد و صلاحیت میں عدم مطابقت، فرد سے اس کی استعداد سے زیادہ کام لینے اور استحقاق سے کمتر بدل دینے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں ہے کہ سماجی نظام اپنی ہر سطح پہ توازن، استحکام اور انجام کار مقصدیت کھو دیتا ہے جس سے ترقی و خوشحالی کے ہر خواب کو ندامت، ملامت و شرمندگی کا سامنا رہتا ہے؟

اگر ہمیں سوال کا جواب سوال ہی کی صورت مل گیا ہے تو انفرادیت سے اجتماعیت اور پھر ترقی و خوش حالی کے سفر میں ہمارے لیے زاد راہ؛ توازن و اعتدال، استعداد کار و تقسیم کار کے قانونی، انسانی و اخلاقی، عدل و انصاف پر مبنی اصولوں کی پاسداری ہو گا۔ یوں ہم سماجی ڈھانچے کو روبہ زوال ہونے سے بچانے اور بکھرے ہوئے کی شیرازہ بندی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments