عوامی جمہوریہ چین کا آنکھوں دیکھا حال (2)


1987 ءمیں چینی حکومت نے فیصلہ کیا کہ سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن آف چائنہ (سی اے اے سی) کو تقسیم کیا جائے، 1988 ءمیں اس پر باقاعدہ عمل ہوا اور سی اے اے سی چھ ڈویژنز میں تقسیم ہوئی۔ ائر چائنہ، چائنہ ایسٹرن، چائنہ سدرن، چائنہ ناردرن، چائنہ ساؤتھ ویسٹ اور چائنہ نارتھ ویسٹ۔ ائر چائنہ کو سب سے اہم ذمہ داری ملی۔ یہ ذمہ داری بین الاقوامی پروازوں کی تھی۔ ائر چائنہ نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ اس کے آپریشنز اور آمدن میں اضافہ ہوتا رہا۔

بارہ برس گزرے تو سابقہ سی اے اے سی کی دس ائر لائنز نے ائر چائنہ کے ساتھ انضمام کر لیا یہ انضمام 2001 ءمیں ہوا جس کے ساتھ ہی 56 ارب یوآن کے اثاثوں اور 118 بڑے جہازوں کے بیڑے کے ساتھ ائر چائنہ نے نیا سفر شروع کیا۔ 2009 ءمیں ائر چائنہ نے اپنی ایک ا ور ذیلی کمپنی ائر مکاؤ میں بھی شیئرز حاصل کیے ساتھ ہی ساتھ اس نے کیتے پیسفک اور ہانگ کانگ میں بھی شیئرز بڑھائے۔ 2004 ءسے ائر چائنا ہانگ اور لندن اسٹاک ایکسچینج کا بھی حصہ ہے جلد ہی ائر چائنہ نے شینزن ائر لائن میں بھی اپنے شیئرز بڑھائے حتیٰ کہ 2010 ءسے وہ شینزن ائرلائنز کا کنٹرولنگ شیئر ہولڈر بن گیا۔

ہماری پرواز نے اسلام آباد سے اڑان بھری اور کراچی میں سٹاپ کیا۔ آدھ گھنٹے کے لگ بھگ سٹاپ میں ایک آدھ سواریوں کو اتار کر ( جن کی منزل کراچی تھی) کراچی سے بیجنگ جانے والے افراد کو بٹھا لیا گیا (جن کی اکثریت چائنیز تھی) سفر کافی اچھا رہا۔ کبھی غنودگی، کبھی نیند، تو کبھی خمار آلود آنکھوں سے آتی جاتی ائر ہوسٹسز اور سامنے بیٹھے نوجوان پاکستانی کو تکتے تکتے یہ سفر کٹا۔

یہ نوجوان صوبہ پشتونخوا کے کسی علاقے کا تھا اسلام آباد اور کراچی ائر پورٹ پر اس کی ویڈیو کال اور بلند آواز باتیں سبھی کو متوجہ کر رہی تھیں۔ مجھے البتہ اس لڑکے اور اپنے آپ میں کافی مشترکات نظر آئیں۔ ہم دونوں کا لباس ہماری ظاہری ہم آہنگی کا ثبوت تھا کہ جہاز میں بیٹھے سینکڑوں مسافروں میں میری طرح اس نے بھی شلوار قمیض پہنی تھی۔ زبان بھی پشتو تھی جو ایک اور مشترکہ خصوصیت تھی۔ تیسری مشترک بات یہ تھی کہ میری طرح وہ بھی سرو ہونے والے کھانے کو کھولنے سے پہلے بار بار الٹ پلٹ کر اپنے آپ کو اور ساتھ بیٹھے مسافروں کو اپنی باڈی لینگوئج سے یہ جتانے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ حلال و حرام دیکھ کر کھاتا ہے۔

یہ حلال و حرام کا فلسفہ بھی عجیب ہے۔ ہمیں دین مبین نے صرف کھانے پینے ہی نہیں بلکہ اٹھنے بیٹھنے، رزق کی تلاش، معیشت اور معاشرت ہر معاملے میں حلال و حرام کا پابند کیا ہے مگر ہم ہیں کہ صرف کھانے پینے تک اس کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم بس یہ دیکھتے ہیں کہ منہ میں جو ڈال رہے ہیں اس کی ہیئت ترکیبی کیا ہے؟ یہ کس وسیلے اور کس طرح کمائے گئے پیسوں کی ہے اس پر ہم سوچتے بھی نہیں۔ حالانکہ مکروہات کوایک طرف رکھ کر اگر منطقی سوچیں تو میرے خیال میں آپ کے منہ میں سودی لین دین اور ناجائز منافع خوری سے جانے والے گندم کے نوالے اور حلال کی کمائی سے خریدے گئے اس چاکلیٹ کی ایک ہی حیثیت ہے جو سور کی چربی میں بنا ہے۔ بہرحال صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب جہاز کے عملے نے اعلان کیا کہ ”ہم کچھ ہی دیر میں بیجنگ انٹرنیشنل ائر پورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں“ تو رات بھر کی تھکن اور بے خوابی کے مارے مسافروں کے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔

امیگریشن کا عمل تقریباً خودکار تھا۔ جہاز سے اتر کر لاؤنج میں آئے تو سیکورٹی کے پہلے گیٹ کے بعد بڑے سے ہال میں درجنوں مشینیں ایستادہ تھیں۔ شدید تھکاوٹ کے باوجود میں نئی دنیا کا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہا تھا۔

اے ٹی ایم مشین طرز کی درجنوں ایستادہ مشینوں کے سامنے کھڑے ہوں۔ زبان کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد پاسپورٹ مشین پر رکھ دیں۔ چار سے پانچ سیکنڈ میں جیسے ہی پاسپورٹ سکین ہو گا آپ کی ”کنڈلی“ چائنیز امیگریشن کے سامنے کھل کر آجاتی ہے۔ مختصر سا اندراج ہے۔ کہاں سے آئے، کہاں جائیں گے اور جس ملک سے آئے ہیں وہاں کا کوئی رابطہ نمبر۔ اس کے بعد پرچی نکل آتی ہے۔ اگلا بیریئرمینول اندراج کا ہے۔ کا ؤنٹرز پر جا بجا مخصوص فارم کی کاپیاں پڑی ہوئی ہیں۔

کہاں سے آئے؟ کہاں جا رہے ہیں، وزٹ کس نوع کا ہے؟ واپسی کب ہوگی، آمد و اخراج کی تاریخ اور فلائیٹ کی تفصیلات۔ اس کے بعد حتمی مرحلہ۔ درجن بھر سے زائد کاؤنٹرز جن میں اس وقت جب ہم پہنچے تو چھ یا شاید سات کاؤنٹرز پر آنے والے مسافروں کا ڈیٹا چیک ہو رہا تھا۔ یہاں خاصی دیر لگ گئی اور قطار میں کھڑے ہو کر میں پاکستان کے روایتی ”قطار“ کو یاد کرتا رہا۔

ہم عجیب لوگ ہیں۔ ہمیں بچپن سے جن چیزوں کی تعلیم دی جاتی ہے ہم مرتے دم تک ان کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔

ہمیں ماں کی گود سے سکول، پھر کالج اور یونیورسٹی تک یہی تاکید کی جاتی ہے کہ جھوٹ نہ بولیں۔ ہم بولتے رہتے ہیں۔ ہم سکول، بینکوں، دفاتر، ڈاک خانوں پٹرول پمپس، پارک اور سینما کی ٹکٹوں کے حصول، حتیٰ کہ مسجد میں جانے اور واپس نکلنے تک ہر جگہ قطار سے نکل کر شارٹ کٹ لے رہے ہوتے ہیں اور میرے خیال میں یہ سب دیکھا دیکھی میں ہو رہا ہوتا ہے بیجنگ ائر پورٹ پر ”دیکھا دیکھی“ ہی کا اثر تھا کسی کی ”لائن میں لگو“ کی صداء نہیں آئی مگر سب قطار میں تھے۔ سو میں بھی قطار میں ”شریف“ بن کر کھڑا رہا۔

نمبر آنے پر آگے بڑھا تو کا ؤنٹر پر بیٹھی لڑکی بڑبڑانے لگی جب میں نے کوئی رد عمل نہیں دیا تو ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا کہ سامنے لگے کیمرے میں دیکھو اس کے ساتھ ہی میں کسی مستعد سکاؤٹ کی طرح ہوشیار باش ہو کر کیمرے کو تکتا رہا اس دوران مائیک پر انگریزی میں فنگر پرنٹس کی ہدایات پر عمل بھی کرتا رہا۔ چار سے پانچ منٹ لگے ہوں گے جس کے بعد ”ٹھک“ کر کے لڑکی نے ”ٹھپہ“ لگایا اور یوں مجھے ائر پورٹ سے نکلنے کا پروانہ مل گیا۔

باہر آ کر وفد کے ساتھ باجماعت سامان اٹھانے اور شٹل ٹرین میں بیٹھ کر ائر پورٹ سے باہر آنے میں مزید دس سے پندرہ منٹ لگ گئے۔

گیارہ افراد پر مشتمل ہمارا وفد دو دو تین تین کی ٹولیوں میں نکل آیا اور ابھی ایلیویٹر پر ہی تھا کہ ایک خاتون نے ہاتھ اٹھا کر سلام کیا پھر ہاتھ جوڑ کر بلند آواز میں ویلکم ان چائنہ کہا تو سمجھ گیا کہ میزبان پہنچے ہوئے ہیں۔

یہ میشل تھی جسے ہم مشعل کہہ کر پکارتے رہے۔ پورا نام ہے میشل منگ ایڈیٹر انٹرنیشنل کوآپریشن سینٹر چائنہ اکنامک نیٹ۔ کئی برس تک پاکستان میں بھی رہیں اور ڈیلی اکنامک کے لئے کام کیا۔ اسلام آباد، لاہور، پشاور میں مقیم رہیں۔ بلا کی ذہین اور میرا غالب گمان یہ کہ اردو بول نہیں پاتی لیکن سمجھ لیتی ہے۔ وفود کے شکل میں ہم چائنہ میں جہاں جہاں گئے میشل ساتھ رہیں گروپ کے تمام افراد کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتی رہیں۔

میشل کے ساتھ کیٹی تھیں۔ کیٹی کا پورا نام کیٹی وانگ ہے۔ کم گو لیکن اچھی انگریزی بولتی ہیں۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے انٹرنیشنل کوآپریشن سینٹر میں مترجم ہیں۔ ہمیں ائر پورٹ پر ریسیو کرنے سے لے کر ساتویں دن ہمیں ائر پورٹ پر پاکستان کے لئے رخصت کرنے تک ترجمانی کا فریضہ انتہائی بہترین طریقے سے نبھایا حتیٰ کہ میری لڑکھڑاتی انگریزی میں پوچھے گئے انتہائی بے تکے سوالات کا بھی کمال خوش اسلوبی سے جواب دیتی رہیں۔ ان دونوں خواتین کے ساتھ دو نوجوان بھی تھے۔ ایک وانگ کائی جوکیمرہ مین تھا دوسرے صاحب ژانگ پینگ تھے ہم جہاں بھی جاتے وانگ اور ژانگ تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے ساتھ ساتھ کھانے کے وقت ہماری بہتر سے بہتر خاطرداری میں بھی جتے رہتے۔

میشل، کیٹی، وانگ اور ژانگ کے علاوہ ایک پانچویں بھی میزبان رکن تھی۔ ہنس مکھ، جب دیکھو، زیر لب ہنسی اور چھوٹی سی روشن آنکھیں، کم گو لیکن انتہائی سنجیدہ اور فہمیدہ۔ یہ تھیں ین یانان، چائنہ اکنامک نیٹ کے انٹرنیشنل کوآپریشن سینٹر کی ڈائریکٹر۔

ین یانان ائر پورٹ تو نہیں آئیں لیکن ائر پورٹ سے سیدھا ہم جس ہوٹل پر کھانے کے لئے گئے یہ ہوٹل کے باہر کھڑی ہمارا انتظار کر رہی تھیں اور تب سے لے کر بیجنگ اور چنگ ڈاؤ واپس بیجنگ سے ہمیں اسلام آباد رخصت کرنے کے لئے ائر پورٹ تک ساتھ رہیں۔ ہم پاکستانی وفد کے اراکین جب بھی بیٹھ کر چائنہ اور پاکستان کے مختلف شعبوں کا تقابل کرتے میں یا کوئی بھی دوسرا رکن ین یانان کی مثال ضرور دیتا۔ وہ یوں کہ پہلے روز جب ہم ریستوران سے ہوٹل پہنچے تو یہ اپنی بڑی سی گاڑی میں آئی واپسی پر سڑک کنارے پارک کی گئی چھوٹی سی سکوٹی نکال کر سٹارٹ کی اور چلتی بنیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس وقت کمپنی کی گاڑی تھی جسے اس نے اسی وقت رخصت کر دیا اور واپسی پر چونکہ اب اس نے اپنے گھر جانا ہے تو اس نے کرائے کی بائیک لی ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ہم ین یانان کا تقابل اپنی پی آئی ڈی کے کسی بھی ڈائریکٹر یا کم سے کم ڈی جی پی آر سے کر سکتے ہیں۔ اب بتائیں کہ کیا ہمارا ڈی جی پی آر صاحب بائیک یا سائیکل پر جانے کی زحمت کرے گا۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ ایک گاڑی صاحب کو لانے لے جانے کے لئے ہوتی ہے ایک گاڑی صاحب کے بچوں کو سکول اور اکیڈمی لے جانے کے لئے الگ سے ہوتی ہے۔ تعلقات عامہ کے شعبے میں تو صاحب بہادر بھلے وہ کوئی انفارمیشن افسر حتیٰ کہ کوئی ڈپٹی یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہی کیوں نہ ہو سرکاری گاڑی اور فیول کے ساتھ ساتھ اس کے لئے اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان کی گاڑیاں بھی قطار میں کھڑی ہوتی ہیں۔

ائر پورٹ پر چند منٹ کے انتظار کے بعد کوسٹر آ گئی جس میں بیٹھ کر ہم ریستوران میں پہنچے۔ غالباً منیوآن نام کا ریسٹورنٹ جسے چائنہ کے نیشنل ریسٹورنٹ اینڈ ہوٹل رینکنگ کمیٹی نے ”ٰفائیوڈائمنڈ“ کی جو سند دی تھی اسے بڑے سے فریم میں بند کر کے استقبالیہ کے قریب دیوار پر آویزاں کیا گیا۔ کھانے میں روایتی چائنیز کھانے جو ہمارے پاکستان میں بھی بڑے شہروں حتیٰ کہ کوئٹہ میں بھی بہ آسانی مل جاتے ہیں کے ساتھ ساتھ، مٹن تکہ، بیف چانپ، بیف کباب اور دیگر پاکستانی کھانوں کا بندوبست تھا۔ کھانے کے بعد کوسٹر میں بیٹھ کر سیدھا ہوٹل پہنچے۔ جو یہاں سے بہت قریب ہی تھا۔ ہماری رہائش ہوٹل ہوابن انٹرنیشنل میں تھی۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS