کیا ایک استاد جوہری ہتھیاروں سے زیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے؟


جب تک یہ مضمون شائع ہو گا پانچ اکتوبر کا دن گزر چکا ہو گا۔ اساتذہ اور بچوں کے درمیان ”ہیپی ٹیچرز ڈے“ جیسے رسمی جملوں اور بناوٹی سی مسکراہٹوں کا تبادلہ ہو چکا ہو گا۔

ہر سال کی طرح یہ پانچ اکتوبر بھی اپنے پیچھے درجنوں سوال چھوڑ جائے گا۔
سوچتا ہوں بھلا پسماندہ معاشروں میں بھی اساتذہ پائے جاتے ہوں گے؟
تعلیمی بندوبست میں صدیوں پیچھے رہ جانے والے سماج میں ایک استاد کی ذہنی سطح کیسی ہوگی؟
کیا ایک شاگرد کی ذہنی سطح اس قدر بلند ہوگی کہ وہ اپنے استاد سے نگاہیں ملا کر دو بدو مکالمہ کر سکے؟

بدقسمتی سے ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں عقیدت اور تقلید کو ایک طالب علم کے سر کا تاج سمجھا جاتا ہے اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ یہ پاٹھ بڑے جوش اور جذبے سے طلباء کے ذہنوں میں انڈیلتے رہتے ہیں ” کہ با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب“
حالانکہ دونوں باتوں کا تعلیمی بندوبست کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔

یہ جملے تو ایک طرح سے ”بلنکرز“ کا کام کرتے ہیں جو اساتذہ اپنے شاگردوں کی انکھوں پر چڑھا دیتے ہیں تاکہ وہ سوالات کی بوچھاڑ سے بچے رہیں۔

ہم ایسے پسماندہ معاشرے کے متعلق یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہاں استاد تو بہت کم ہیں مگر ڈھونگی بہت زیادہ ہیں۔

یہ استاد سے زیادہ خود کو مرشد کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ زندگی کی 41 بہاریں دیکھ لینے کے بعد یہ بات بڑے اچھے سے سمجھ میں آ گئی ہے ” کہ ہر بندہ استاد بننے کے اہل نہیں ہوتا اور نہ ہر شخص استاد ہوتا ہے“

ان روایتی جالوں کو کاٹنے میں ایک عمر بیت گئی جو ہمارے برائے نام اساتذہ نے ہمارے ذہنوں کے گرد بنے تھے، یقین مانیں آج 2023 میں بھی کچھ نہیں بدلا۔ سب کچھ وہیں کا وہیں ہے، اساتذہ اپنا مضمون پڑھانے کی بجائے اسلامیات پڑھا رہے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کے علاوہ اپنے روحانی مرشدین کا تعارف بھی بڑے دھڑلے سے کرواتے ہیں، مطلب پڑھانے کے نام پر ان ڈاکٹرینیش کا فریضہ سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔

اب اس قسم کے ماحول میں جینون طالب علم کیسے پیدا ہو سکتے ہیں؟
عقیدت کے ماحول میں تو چیلے ہی پیدا ہو سکتے ہیں تخلیق کار نہیں۔

جہاں سوال کو گستاخی اور کاؤنٹر آرگیومنٹ کو بدتہذیبی سمجھا جائے وہاں دولے شاہ کے چوہے تو پیدا ہو سکتے ہیں یووال حریری نہیں۔

اسی لیے ہمارے تعلیمی ادارے اس قسم کے جنونیوں سے بھرے ہوئے ہیں جو کچھ بھی ”مختلف یا ہٹ“ کے سننا ہی نہیں چاہتے۔ ان کو انسان سے زومبی بنانے میں ہمارے سماج کے اساتذہ کا پورا پورا کردار ہے، چونکہ ان کی خود کی ذہنی ساخت ہی رجعت پسندانہ ہوتی ہے اور ان کے ذہن کے نہاں خانوں میں کہیں نہ کہیں کوئی ” طارق جمیل، تقی عثمانی، احمد رفیق اختر، بابا اشفاق اور سرفراز شاہ“ جیسا چھپا بیٹھا ہوتا ہے وہ بھلا مختلف کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور آنے والی نسلوں کو نئے ڈھنگ سے سوچنا کیسے سکھا سکتے ہیں؟

اس نسل کو بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنے خول یا ببل سے نکلنے کے لیے اسی میں شگاف ڈالنا پڑتا ہے اور مزاحمت کر کے ہی نئے جہان دریافت کیے جا سکتے ہیں۔

عقیدت کے خول میں بند طالب علم کو کیا پتا کہ بغاوت کیا ہوتی ہے؟
با ادب کبھی بھی سوال کی چاشنی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا؟
آنکھیں بند کر کے یقین کر لینے والے کو کیا خبر کہ ”شک اور تشکیک“ کس چڑیا کا نام ہوتا ہے۔
پریقین دماغ بھلا کیا جانے گا کہ ”ڈاؤٹنگ تھامس“ کون ہوتا ہے؟
مطمئن اور قانع کیا جانے
کہ بے چینی کیا ہوتی ہے اور اس کا ماحصل کیا ہوتا ہے؟

ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ جوہری ہتھیار بھی وہ تباہی نہیں پھیلا سکتے جو ایک ٹیچر غلط قسم کی ذہن سازی کر کے پھیلا سکتا ہے۔

نرگسیت کا شکار معاشروں کے ”بڑے“ جن میں ٹیچرز بھی شامل ہیں مہان قسم کے نرگسیت زدہ ہوتے ہیں تو بھلا بچے مختلف کیسے ہو سکتے ہیں؟

ہماری نظر میں تو ٹیچر وہ ہوتا ہے جو بچوں کو سوچنا اور سوال کرنا سکھاتا ہے، قرب و جوار کوئی ایسا مل جائے تو اس سے بڑی نعمت بھلا کیا ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS