جرمنی کی مقننہ کا اپر ہاؤس

جرمنی میں، جرمن اتحاد، تین اکتوبر کا دن، تعطیل ہونے کے علاوہ نہایت شاندار طریقے سے منایا جاتا ہے ۔ (Bundesrat) کی خوبصورت روایت (قانون) کے مطابق، جس صوبے کا وزیراعلی، اپر ہاؤس کا صدر ہو گا اسی صوبے کے صوبائی دارالحکومت میں یہ تقریب منائی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جرمنی کے تمام سولہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، سالانہ کی بنیاد پر ، ایک دفعہ آٹومیٹکلی اپر ہاؤس کے صدور ضرور بنتے ہیں۔
اس سال جرمنی کا خوبصورت شہر ہیمبرگ اس تقریب کا میزبان تھا۔ صوبہ ہیمبرگ کو ، جرمنی کے دو دوسرے صوبوں، برلن اور بریمن کی طرح سٹی اسٹیٹس کہا جاتا ہے یعنی صوبہ اور شہر ہم نام ہوتے ہیں۔ ہیمبرگ کے مئیر، مسٹر پیٹر چینشر نے، پاپولزم اور پولرائزیشن کی بجائے باہمی یکجہتی اور قومی ذمہ داری پر زور دیا۔ اس کے لئے انفرادی طور پر ہر انسان کو سوچنا ہے کہ اس کا اجتماعی طور پر کیا رول ہے۔ عوام کی شمولیت کے بغیر جمہوری سیاست ممکن نہیں ہو سکتی۔ سابقہ مغربی جرمنی کے مقابلے میں سابقہ مشرقی جرمنی کے باشندے جمہوریت پر نسبتاً کم یقین رکھتے ہیں۔ جمہوریت پر شکوک و شبہات کے اثرات خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ تاریخ کی کڑوی ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ سابقہ مشرقی جرمنی کے باشندوں ہی نے 33 سال پہلے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے جد و جہد کی تھی۔
جرمنی کے صدر جناب فرانک والٹر سٹائین مایئر، جو اپنی دوسری صدارتی مدت میں سابقہ مشرقی جرمنی کے باشندوں کے لئے نسبتاً زیادہ نرم گوشہ رکھتے ہیں، نے اپنے صدارتی خطاب میں مشرقی اور مغربی جرمنی میں موجود، اگرچہ کافی حد تک کم ہوئے ہوئے، معاشی عدم مساوات کی نشان دہی کی۔ سٹائین مایئر کے مطابق حساسیت موجود ہے کہ ہم متحد ہیں لیکن عدم توازن ہے۔ سابقہ مشرقی جرمنی کے باشندوں کا خیال ہے کہ وہ زندگی کے بیشتر شعبوں میں ابھی بھی نظر انداز ہو رہے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں ایک مبینہ دھچکا، جس کی عکاسی اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ مشرقی جرمنی کی زندگی کی کہانیاں، مشترکہ جرمن تاریخ کا حصہ نہیں بن سکی ہیں۔ سابقہ مشرقی جرمنی کے باشندے سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ عہدوں کے لئے ان کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ ان شبہات کر دور کرنا معاشرے اور سیاست دانوں کا کام ہے۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ لوگوں کا جمہوریت سے بدظن ہونا، غیر ملکیوں اور مسلمانوں کی مخالف، اے ایف ڈی نامی سیاسی جماعت، کو سروے میں بہتر نتائج ملنے کی وجہ بنی ہے۔
انہوں نے آئینی عدالت کے صدر جناب سٹیفن ہاربارتھ کے الفاظ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو قابل عمل اور موثر ہونے، اور زندگی کے تمام شعبوں اور سطح پر بہتر، جلدی اور مسائل کے حل پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ریاست کو پیچیدگی میں کمی اور اپنے آپ کو محدود کرنا چاہیے۔ ہر وقت ایک جمہوری، آزاد آئینی ریاست کے فوائد بتانا کافی نہیں بلکہ عام آدمی کو یہ نظر بھی آنے چائیں۔ جب عوام یہ دیکھتی ہے کہ حکمران، پناہ گزینوں جیسے مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے تو ان کا ان پر اعتماد بھی کم ہوتا جاتا ہے۔

