وہ اک تارا قسط نمبر 6
کچھ ہی دنوں بعد اینا اور ہیثم سائچیوفکا کے نفسیاتی اسپتال پہنچ گئے۔
وہی ہوا۔ وہاں ماریا جوفی سے دونوں کی ملاقات ہو گئی۔ وہ سٹالن کی نہیں خروشیف کے کسی معتمد رکن کے غصے کی بھینٹ چڑھی اور کئی سال جیل میں رہنے کے بعد اب اسپتال منتقل ہوئی تھی۔
اس نے ایسے ایسے دل خراش واقعات سنائے، وہ کانپ اٹھی تھی۔ عورتیں ان جیلوں میں کیسے کیسے طوائفیں بنیں؟
تفصیلات دہلانے والی تھیں۔ لیبر کیمپوں کی حالت زار، ٹھنڈ کا قہر اور روٹی کا قحط اس کی آنکھوں سے آنسو نہ خشک ہوتے تھے۔ واپس آ کر اس نے فیچر تیار کیا۔ ہیثم کو پڑھایا۔ کچھ کانٹ چھانٹ اس نے کی۔ اب اسے چھپوانے کا مسئلہ تھا۔ پروادا PARAVDA زمانوں پرانا اخبار تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار، سچ کا معنوی علمبردار ہی نہیں حقیقتاً تلخ سچ کا نمائندہ۔ جی چاہتا تھا کاش اس میں چھپے۔
”ارے اتنے بڑے اخبار نے ہرگز گھاس نہیں ڈالنی۔“ اس نے سوچا۔
اس نے تو آج تک سوائے اپنی اسائنمنٹوں کے کبھی ایک لفظ نہیں لکھا اور نہ وہ کہیں چھپا۔ نہ کوئی اسے جانتا ہے۔ اب وہ کسی اخبار تک پہنچے تو کیسے پہنچے؟
”چلو ابھی اسے سبنھالو۔ دیکھتے ہیں۔“ ہیثم نے کہا۔
پر اسے کب چین تھا؟ اگلے ہی دن وہ اکیلی تاور سکایا سٹریٹ پر ”ازولیستیا“ اخبار کے دفتر جانے کے لئے نکل کھڑی ہوئی۔ بے چینی، اضطراب اس کی ہر حرکت سے مترشح تھا۔ اس کی کیفیت کسی دور دراز گاؤں میں رہنے والی اس نوعمر لڑکی جیسے تھی جو یکایک ماسکو جیسے شہر میں آ گئی ہو۔
پشکن سکوائر پر اتری۔ پشکن کے مجسمے پر گئی۔ اسے دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں خود سے بولی۔
”سچ اور انصاف کا علم بلند کرنا چاہتی ہوں اور تم سے دعا کی طلب گار ہوں۔“
پھر کسی سے پوچھا۔ اس نے کہا۔
”روسیا سینما گھر کے ذرا بائیں طرف جاؤ۔ وہیں ہے۔“
تھرڈ فلور پر دو تین لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک اسسٹنٹ ایڈیٹر نے کہا۔
”مضمون دے جاؤ دیکھیں گے۔“
”نہیں۔“ وہ اپنے آپ سے بولی۔
دفعتاً شیشے کے ایک چھوٹے سے کیبن میں بیٹھے ایک انتہائی حسین چہرے نے اسے روک لیا۔ چند لمحے وہ کھڑی دیکھتی رہی۔ پھر دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔ یہ نینا گورباٹوف تھی۔ ازویستیا کی فیچر رائٹر۔ اتنی میٹھی سی۔ دلداری کے لفظوں سے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اسے خوشی ہوئی۔
اس کا حسن کاکیشیائی عورتوں جیسا تھا۔ جن کی جھیل جیسی گہری آنکھوں میں بندے کا دل بے اختیار ڈوبنے کو چاہے۔ اس کی پیشانی سے لے کر گردن تک ایسی جاذبیت تھی کہ جو نگاہوں کو ہٹنے نہیں دیتی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پوچھ بیٹھی۔
دھیمے سے لہجے میں اس نے کہا۔
”میں ناگورنا قرابخ کی آرمینیئن ہوں۔“
اس کے چہرے پر ناواقفیت کے رنگ دیکھتے ہوئے اس نے کہا۔
”یہ ریپبلک آذربائیجان کے اندر آرمینیائی لوگوں کا ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جو آرمینیا ریپبلک کی سرحدوں سے قریب تر ہے۔ ہم لوگ آرمینیا کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں مگر آذربائیجان کو یہ بات پسند نہیں۔“
بڑی دلچسپ گھلنے ملنے والی لڑکی تھی۔ اس سے کوئی دو تین سال بڑی ہوگی۔ اس کے وہاں بیٹھے بیٹھے اس نے مضمون پڑھ ڈالا اور پوچھا بھی کہ وہ کب سے لکھتی رہی ہے؟ اور یہ جان کر یہ اس کی پہلی تحریر ہے اس نے کہا تھا۔
”لگتا نہیں۔“
اینا نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”میں تو آپ پر عاشق ہو گئی ہوں۔ کوئی حوصلے بڑھا دے تو یہ بھی اس کی عین نوازش ہے۔“
ہیثم سے ملنے پر اس کے قصیدے ختم ہونے میں نہ آتے تھے۔
”یار بس بھی کرو۔ اس نینا کی جان چھوڑ دو اب۔“
”اللہ۔ ہیثم تم اس سے ملے نہیں۔ ملو گے تو پوچھوں گی۔“
تین دن بعد اس کا مضمون چھپ گیا۔ زمین پر ایڑی نہ لگتی تھی۔ ہیثم کو ڈھونڈتی رہی کہ ساتھ چلے اور شکریہ ادا ہو اور ملاقات بھی۔
ہیثم ملا نہیں۔ وہ خود ہی نکل پڑی۔ جب آفس پہنچی وہ کہیں جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔
”چلو گی۔“ اس نے پوچھا۔
”کہاں؟“
”بس سیر سپاٹے پر۔ مجھے بھی میرا ایک دوست لے کر جا رہا ہے۔“
وہ ابھی ہاں ”یا ناں“ میں کچھ کہنے بھی نہ پائی تھی کہ وہ خود ہی بول پڑی۔
”ارے چلو چلو۔ تھوڑی سی ایکٹویٹی ہی رہے گی۔ زندگی کا یہ رخ بھی دیکھو۔“
وہ حیرت زدہ سی کھڑی اس گاڑی اور گاڑی میں بیٹھے نوجوان کے انداز دیکھتی تھی۔ ایک تو گاڑی جہازی سائز کی، سیٹیں حد درجہ دبیز اور آرام دہ۔ ٹی وی، ٹیلی فون نصب۔
اور یہ الیامٹکوف کیا شے تھا؟ الجھے ہوئے بڑے بڑے بال، نشے سے مخمور آنکھیں، موٹے موٹے لٹکتے ہونٹ اور کمبخت امیر کتنا لگتا تھا۔ نینا کا دوست تھا۔
یہ خزاں کے دن تھے۔ ماسکو کی مصروف شاہراہوں سے باہر نکلتے ہی فطرت ننگی ہو کر دل میں اترنے لگی تھی۔ ماسکو کے شب و روز بہاروں میں مسکرانے اور گرمیوں میں ہنسنے کے بعد اب برف کے سفید اور دھندوں میں لپٹے دنوں میں اترنے والے تھے۔ آسمان گو اب اتنا نیلا اور شفاف نہیں رہا تھا پر ابھی بھورے رنگ بھی نہیں چڑھے تھے اس پر۔ دھوپ ہنوز خوبصورت تھی اور اتنی بد رنگی پر نہیں اتری تھی۔ برچ کے پیڑوں نے ٹنڈ منڈ ہونا شروع کر دیا تھا۔ درختوں کے پتوں کے سنہرے پیلے جامنی ہرے رنگوں کے حسن اپنی بہاریں دکھا کر اب اپنے آخری سفر پر تھے۔
بارشوں کے موسم سر پر منڈلا رہے ہیں۔ جنگل سیاہ پڑنے والے ہیں۔ ان کی سیاہی اسے ہمیشہ بہت ہانٹ کرتی تھی۔
وہ کہیں دور چلی گئی تھی۔ اپنے گھر، اپنے کھیتوں اور مانوس سے ماحول میں۔ سرجیو پوساد قصبے سے ذرا آگے صنوبر کے گھنے جنگلوں، شاہ بلوط کی گچھاؤں اور والگا کے نیلے پانیوں کے عکس مارتے پس منظر میں ایک عالیشان دو منزلہ مخروطی چھتوں والا چوبی گھر نظر آیا تھا۔ سیاہ تارکول کی سڑکیں دائیں بائیں راستے کاٹتی ڈرائیو وے کو جا ملتی تھیں۔
یہ الیامٹکوف فیملی کاڈا چا گھر تھا۔ ادھر ادھر بکھری انتہائی قیمتی بے شمار گاڑیاں یہ بتاتی تھیں کہ بہت سے لوگ یہاں موجود ہیں۔
حیرت زدہ سی وہ اتری۔ نینا اور الیا کے ساتھ اندر آئی۔ ڈاچاکی شان و شوکت کا اگر یہ عالم ہے کہ نگاہیں واپسی کا راستہ بھول جاتی ہیں۔
”ان کے گھر زاروں کے محلات سے کم نہیں زیادہ ہی شاندار ہوں گے۔“
اس نے سوچا تھا۔
امیر ترین خاندانوں کے بگڑے ہوئے لڑکے لڑکیوں کے والگا کے بے کراں پانیوں پر تماشوں سے لے کر رات گئے تک پینے پلانے، کھانے پینے، مستقبل کی باتیں کرنے اور عیاشیوں کے رنگ ڈھنگ اور اطوار کے جو جو اظہار اس کے سامنے آئے وہ اسے حیرت زدہ کرنے، اس کی خوبصورت آنکھیں پھاڑنے اور اس کا اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کے لئے کافی تھے کہ ان کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔ یہ فقط دنیا کو فضلہ دینے آئے ہیں۔
پر جلد ہی اسے یہاں آنے کی غرض و غایت معلوم ہو گئی اور یہ اس کے لئے ایک اور اچنبھا تھا۔ انتہائی امیر ترین لوگوں کی یہ اولادیں ماسکو میں ایک Millionaires club قائم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے تھے۔
تو اب علم دوست کلبوں کی بجائے لکھ پتی کلب بنانے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے۔ یہ سوشلسٹ حکومتیں ہیں جن کی اکثریت ماضی میں کمیونسٹ نظریات کی حامل بھی رہی ہیں۔
شب کے تیسرے پہر جسموں کی جو دھمکا چوکڑی مچی وہ بھی اس کے حسابوں کراہت آمیز تھی۔
اگلے دن شام کو واپسی ہوئی۔ گاڑی میں بیٹھنے سے قبل نینا نے پوچھا۔
”تمہارے علم میں یقیناً بہت اضافہ ہوا ہو گا؟“
وہ ہنس پڑی۔
”یقیناً ہو اہے۔“
ہیثم سے ملنے اور اس کے پوچھنے پر کہ وہ کل کہاں تھی؟ اس نے ایلس ان ونڈر لینڈ کی کہانی اسے سنا دی۔
”ہیثم ڈاچا ہالینڈ کے پھولوں سے سجا اور مہکا پڑا تھا جو بطور خاص ہوائی جہاز سے منگوائے گئے تھے۔ فرانس کی بہترین شمپین وہاں پانی کی طرح بہتی تھی۔ روس کے مشرق بعید کے ٹیگاؤں (جنگلوں ) کے پلے ہوئے بٹیروں کے بار بی کیو۔ فراوانی کا وہ عالم کہ ان کے کتے بھی یقیناً منہ نہ لگائیں۔ دنیا کا کون سا پھل وہاں موجود نہ تھا۔ مجھے تو ان کے نام بھی نہیں آتے تھے۔“
اس نے باتیں کرتے کرتے دفعتاً کلائی کی گھڑی کو دیکھا اور ہڑبڑا کر بولی۔
”ہیثم پیریڈ شروع ہونے والا ہے۔ چلو چلو بھاگو۔“
پر کوئی دو ہفتے بعد ایک دن جب وہ بالشوئی تھیٹر کے سامنے فوارے کے کنارے بیٹھے آبی موتیوں کی لڑیوں کو دیکھتے اور محظوظ ہوتے تھے۔ دفعتاً ہیثم نے ڈاچا میں گزاری ہوئی رات کے بارے میں ایک مبہم سا سوال کیا۔ اس کے ہونٹوں پر یہ اظہار دبا دبا سا تھا پر آنکھیں بڑی واضح تھیں۔
آنکھوں کی اس زبان نے اسے تلملا سا دیا۔
”سڈپڈ۔“
اس نے ایک دو ہتڑ اس کے شانے پر مارا۔ غصے سے تنتناتے ہوئے پہلے کھڑی ہوئی پھر بیٹھ گئی۔
”جانور نہیں ہوں میں۔ وہ ریوڑوں میں گھومتے پھرتے جب اور جس وقت اور جو سامنے آیا سے جت جاتے ہیں۔ یا وہ انسان جو جانوروں جیسی خصلتوں کے مالک ہوں۔ نفرت ہے مجھے ایسے لوگوں سے۔ تم نے مجھے اتنا بھی نہیں سمجھا۔ اپنے ماحول سے کتنی مختلف لڑکی ہوں میں۔“

