گداگری کی روک تھام

صدیوں سے گداگری کی روک تھام کے لیے بہت سارے طریقے آزمائے جا چکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ عجیب و غریب طریقہ، فرانسیسی شاعر چارلس باؤڈیلیئر نے اپنایا۔ اپنے مضمون ”بیٹ دی پوور“ نامی نظم میں اس نے لکھا ہے کہ وہ بھکاریوں کو ، جب وہ بھیک کے لیے اپنے ہاتھ آگے بڑھاتے تھے، وہ ان کو مکا مارتا۔ اور اس وقت تک مارتا۔ جب تک بھکاری جوابی مکا نہ مارتا۔ جوابی مکہ لینے میں، شاعر کو نہ صرف غصہ محسوس ہوتا، بلکہ درحقیقت تسلی بھی محسوس ہوتی کیونکہ اسے یقین ہو جاتا تھا کہ وہ اپنے مقصد تک پہنچ گیا ہے : بھکاری کی خود اعتمادی کو بحال کرنا۔
روسی لکھاری ’سکا وارٹسو‘ کا بھی طریقہ یہ تھا کہ وہ بھکاری سے لکڑیاں کٹواتا اور بعد میں بھیک دیتا تھا۔ تاکہ اس کی خود اعتمادی بحال ہو جائے۔ دونوں کے طریقہ کار پر بحث کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی ہے : خود اعتمادی بحال کرنا۔ وہ اعتماد جو ایک گداگر کو واپس کمانے والا ہاتھ دیں۔ کچھ دن پہلے پاکستان میں 16 افراد پر مشتمل گروہ جس میں 11 خواتین گداگر بھی تھیں، ائرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جو عمرہ ادا کرنے کے بہانے بھیک ماننے مکہ جا رہے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے بعد اکثر لوگوں نے ملکی معاشی بحران سے اس کا تعلق جوڑا۔ بعض نے سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ٹھہرایا۔ لیکن اگر اس ناسور کی عالمگیریت کو دیکھا جائے تو پوری دنیا میں گداگر پائے جاتے ہیں۔ ’اکنامک آبزرور‘ کے ایک رپورٹ کے مطابق ایک مغربی گورا شخص ’شنزن‘ کے سٹیشن پر روز بھیک مانتا ہے۔ ایک او رپورٹ کے مطابق جو ’چائنا لائف‘ میں چھپی کے ایک ولایتی شخص اپنی سات آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ ’چانگشا‘ میں لوگوں سے پیسے مانگتا ہے۔
چین جو عنقریب سپر پاور بن جائے گا، آج بھی گداگری میں بدنام زمانہ ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے اتنی ترقی کی ہیں۔ کیا یہاں آپ کو بھکاری بھی بھیک مانتے ہوئے کیو آر کوڈ دکھا کر بولتے ہیں، بھائی کچھ دو ۔ پاکستانی ٹیپیکل ’معاف کردو کھلا نہیں ہے ’والا جواب بھی یہاں نہیں چلتا۔ سیدھا‘ وی چیٹ ’یا‘ علی پے ’والا کیو آر کوڈ سامنے رکھتا ہے۔ کہ اس میں ٹرانسفر کر دو ۔
ایک چیز جو پاکستانی بھکاریوں سے چینی بھکاریوں کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں بھیک مانتے ہوئے وہ گلے نہیں پڑ جاتے۔ نہ لینے کا اصرار نہ پیچھا کرنے کی عادت۔ ہوشیاری کا یہ عالم ہے کہ سیاحتی مقامات پر جاتے ہیں جہاں بیرونی سیاحوں سے خوب پیسے بٹورتے ہیں۔
ورلڈ بینک کے حالیہ شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چالیس فیصد پاکستانی غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس سال ایک کروڑ پچیس لاکھ افراد کے اضافے کے ساتھ یہ تعداد لگ بھگ نو کروڑ افراد ہو چکی ہے۔ پاکستان کا معاشی نظام خطرناک حد تک سنگین ہو گیا ہے۔
غربت کی لکیر سے نیچے لوگ وہ ہیں جو روزانہ کے بنیاد پر 2 ڈالر نہیں کما سکتے۔ اب اگر غربت کو جواز بنا کر بھیک مانگنے کو جائز مانا جائے۔ یا گداگری کی وجہ قرار دیا جائے۔ تو پھر9 کروڑ لوگوں کو سڑک پر بھیک مانگتے دیکھا جانا چاہے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ خود اعتمادی ہی انسان کو افضل بناتا ہے۔ سفید پوش لوگ ہرگز ہمت کا دامن نہیں چھوڑتے۔ وہ بیشک کم کما رہے ہو۔ لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ فرنچ شاعر سے بس اتنا اختلاف رکھنے کی جسارت کروں گا کہ اس نے گداگر کو مارنے کا مشورہ دیا تھا۔ اور میں گداگری کا ۔ سکا واٹسو کا طریقہ کار اگر جدید طرز زندگی کے تقاضوں کی بنیاد پر حکومتی سرپرستی میں سر انجام دیا جائے تو بہت حد تک اس ناسور سے چھٹکارا حاصل جیا جا سکتا ہے۔
