افغانستان کے بارے میں پالیسی


افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد میں وطن عزیز بد امنی کی لہر روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملک کے کسی علاقے سے دہشتگردانہ حملے یا پھر مغربی بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ کے واقعہ کی خبر نہ ملے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے سے قبل کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان میں غیر ملکی افواج سے تعاون کے ردعمل میں ہوتی ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان طالبان کے مطالبے پر حکومت پاکستان نے ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا، یہ معاہدہ بھی مگر ماضی کے معاہدوں کی طرح محض چند ماہ ہی چل سکا اور گزشتہ سال 28 نومبر کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں تنظیم کے کارکنوں کو ملک بھر میں حملے کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

اس کے بعد سے لے کر اب تک ایک دن بھی ٹی ٹی پی کو افغانستان میں حاصل ریاستی سرپرستی و وسائل میں کمی نہیں آئی۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور مذکورہ معاہدے کی ناکامی کے بعد ہمارے ہاں امن و امان کی روز بروز مخدوش ہوتی صورتحال سے یہ مفروضہ غلط ثابت ہو چکا ہے۔ جس وقت ہمارے وزیر اعظم افغانوں کو غلامی کی زنجیریں توڑنے پر مبارکباد پیش کر رہے تھے اور ایک طاقتور ریاستی ادارے کے چیف کابل جاکر فاتحانہ انداز میں چائے کا کپ تھام کر تصویر بنوا رہے تھے۔

اس وقت ہم نے سوال اٹھائے تھے کہ پچھلے کئی برسوں سے ہمارا ریاستی بیانیہ یہ رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان دراصل بھارت کی آلہ کار جماعت ہے اور افغان طالبان کا اس گروہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس تنظیم کو افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکومتیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتی ہیں جہاں سے پھر وہ ہمارے ہاں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتی ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والی اسی ہزار سے زائد شہادتوں اور تخریب کاری کی تمام وارداتوں کا ذمہ دار ہمیشہ ٹی ٹی پی اور اس کی سرپرست امریکا، بھارت اور افغان حکومتوں کو قرار دیا جاتا رہا۔

کئی مرتبہ اعلان ہوا کہ ہماری طرف سے ٹی ٹی پی کی اعلی قیادت کے خلاف افغان حکومت کو ثبوت فراہم کیے گئے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے لیکن ہماری متعدد درخواستوں کے باوجود افغان حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ کئی بار پاکستان نے ان دہشتگرد گروہوں کی کارروائیوں کے بارے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو آگاہ کیا اور ہندوستان کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت دنیا بھر کو ڈوزیئر کی صورت فراہم کیے ۔

کہا جاتا تھا کہ ہماری تمام تر کوشش اور واویلے کا اس لیے فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ افغانستان اور انڈیا کی سرپرست عالمی قوتیں بھی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار دیکھنے کی آرزو مند ہیں۔ اغیار کی ان سازشوں کے باوجود عوام کے تعاون اور سول اور ملٹری قیادت کے عزم کے سبب بڑی حد تک ہم دہشتگردی کے عفریت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تھے اور وطن عزیز میں امن بحال ہونا شروع ہو چکا تھا۔ عمران خان صاحب کے بقول افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں اور افغانستان بھی اب بدل چکا ہے۔ لہذا افغانستان سے امریکی انخلا اور ”دوست حکومت“ بننے کے بعد وطن عزیز کے بارے میں تخریبی جذبات رکھنے والی ہماری تمام دشمن ایجنسیاں اور ان کے آلہ کار بھی وہاں سے یقیناً فرار ہو چکے ہوں گے۔ اس وقت وہاں طالبان کی حکومت ہے جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مخالفت مول لے کر ہم نے جن کی حمایت کی اس موقع پر تو ہمارے اعتماد کا لیول ہر صورت بلند ہونا چاہیے تھا۔ افغانستان سے لیکن اس قسم کی خبریں کیوں آ رہی ہیں کہ وہاں کی جیلوں میں قید ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہ صرف رہائی ملی بلکہ وہاں کی سر زمین بھی ہمارے خلاف استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہو گئی۔

لہذا یہ سوال پیدا ہونا فطری بات تھی کہ یہ کیسی دوست حکومت ہے جس نے ہمارے تمام دشمنوں کو جیلوں سے رہائی دے دی ہے اور ہم سے بھی اصرار ہو رہا ہے کہ اپنے اسی ہزار بچوں کے قاتلوں کو بلا مشروط معاف کر دیا جائے۔ ہمیں تو بتایا جا رہا تھا کہ دشمن کو کچل دیا گیا ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ تحریک طالبان اس وقت اگر واقعی کمزور پوزیشن میں تھی اور افغانستان میں بھی ہماری دوست حکومت قائم ہو گئی تھی تو پھر آخر مذاکرات کی کیا جلدی تھی اور اتنی عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہا تھا۔

اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ کوئی بھی ریاست ہمیشہ حالت جنگ میں نہیں رہ سکتی اور ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہی ہوتا ہے۔ جب ان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت ہم نے لکھا تھا کہ تحریک طالبان اگر واقعی شدت پسندی چھوڑ کر ملکی آئین کے احترام کا حلف اٹھانا چاہتی ہے تو فبہا۔ اس صورت تحریک طالبان کو قومی دھارے میں لانے کے طریقہ کار پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے تھا کہ اس تنظیم کی مذموم کارروائیوں کی قیمت کسی ایک ادارے یا طبقے نے نہیں بلکہ پوری قوم نے ادا کی ہے لہذا اس متعلق کوئی بھی فیصلہ چند اشخاص کے بجائے قوم کی اجتماعی دانش کو بروئے کار لاکر یعنی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ہونا چاہیے تھا۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہونی چاہیے تھی کہ آج تک ٹی ٹی پی کے ساتھ جتنے معاہدے ہوئے، اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پہلے سے زیادہ قوت حاصل کرلی تھی۔ اس خدشے کے تحت ہی ہم نے سوال کیا تھا کہ معاہدے میں ایسی کیا ضمانت تھی جو ٹی ٹی پی کو دوبارہ اس قسم کی سرگرمی میں ملوث ہونے سے روکتی۔ اس پہلو پر غور و فکر کے بغیر اس وقت کی عسکری و سیاسی قیادت نے نہ صرف ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا بلکہ ملک سے فرار ہونے والے شر پسندوں کو واپسی کا محفوظ راستہ بھی فراہم کر دیا گیا۔

جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ ریاستی پالیسی پر کس کی اجارہ داری ہے یہ ہر کوئی جانتا ہے اور مزید کچھ کہنا شاید حد ادب سے تجاوز ہو۔ گستاخی کی پیشگی معذرت طلب کرتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکتے ہیں سیاسی، معاشی اور خارجی محاذ پر ستر سال کی ناکامیوں کے بعد ان معاملات پر کچھ وقت کے لیے قوم کی اجتماعی دانش کو آزما لینا چاہیے۔

Facebook Comments HS